مجذوب مجذوب: ستاروں کو یہ حسرت ہے کہ ہوتے وہ مرے آنسو

محمد عظیم الدین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 23, 2017

  1. محمد عظیم الدین

    محمد عظیم الدین محفلین

    مراسلے:
    853
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جو صورت گیرحسن وعشق کی دنیا کہیں ہوتی
    ترے ضو کا فلک بنتا مرے ظل کی زمیں ہوتی
    تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ کوئی کہیں ہوتی
    اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دل نشیں ہوتی
    وہاں رہتے جہاں دودو فغاں کا آسماں ہوتا
    وہاں بستے جہاں خاکسترِ دل کی زمیں ہوتی
    پتہ چلتا کہ غم میں زندگی کیونکر گذرتی ہے
    ترے قالب میں کچھ دن کو مری جانِ حزیں ہوتی
    ستاروں کو یہ حسرت ہے کہ ہوتے وہ مرے آنسو
    تمنا کہکشاں کو ہے وہ میری آستیں ہوتی
    دِکھادیتےمزہ پھر تم کو ہم اپنے تڑپنے کا
    جو عالم بے فلک ہوتا جو دنیا بے زمیں ہوتی
    نہیں کرتے ہیں وعدہ دید کا وہ حشر سے پہلے
    دلِ بے تاب کی ضد ہے ابھی ہوتی یہیں ہوتی
    جو میخانہ میں ہے ام الخبائث حضرتِ واعظ
    پہنچ جاتی جو حجرہ میں شراب الصالحیں ہوتی
    ذرا دیکھو تو تم انصاف سے مجذوب کی ہیئت
    محبت کے ریاکاروں کی یہ صورت نہیں ہوتی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر