متفرق ترکی ابیات و اشعار

حسان خان

لائبریرین
یا سن‌گه یۉق رحم، یا پَیغامیم أیتورده صبا
قیلمه‌دی ظاهر مېنینگ حالیم‌نی، ای دل‌بر، سن‌گه
(سُلطان حُسَین بایقرا 'حُسَینی')


اے دِل‌بر! یا تو تم میں رحم نہیں ہے، یا پھر [شاید] میرا پَیغام کہتے وقت بادِ صبا نے میرا حال تم پر ظاہِر نہیں کیا [ہے]۔۔۔

Yo sanga yo'q rahm, yo payg'omim ayturda sabo
Qilmadi zohir mening holimni, ey dilbar, sanga.
(Sulton Husayn Boyqaro)
 

حسان خان

لائبریرین
غایتِ شَوقیمی گؤر یاره که هنگامِ وِداع
رشک‌دن من دئیه بیلمه‌م که خُدا یار اۏلسون
(سیِّد عظیم شیروانی)


یار کے لیے میرے عِشق و اِشتِیاق کی اِنتِہا دیکھو کہ وِداع کے وقت رشک کے باعث مَیں [اُس سے یہ بھی] نہیں کہہ سکتا کہ "خُدا [تمہارا] یار ہو!"

Qayəti-şövqimi gör yarə ki, həngami-vida
Rəşkdən mən deyə bilməm ki, Xuda yar olsun.
(Seyid Əzim Şirvani)
 

حسان خان

لائبریرین
«سیِّد عظیم شیروانی» ایک تُرکی بَیت میں اُن کے محبوب کو جفا سِکھانے والے مُعَلِّم کے لیے بددُعا کرتے ہوئے کہتے ہیں:

حبیبیم حددن آشدې عاشقِ مِسکینه بیدادېن
جفانې کیم‌دن اؤیره‌ندین، اِلاهی! اؤلسۆن اُستادېن!
(سیِّد عظیم شیروانی)


اے میرے حبیب! عاشِقِ مِسکین پر تمہارا ظُلم و سِتم حد سے افزُوں ہو گیا ہے۔۔۔ تم نے جفا کو [آخِر] کِس سے سِیکھا ہے؟۔۔۔ خُدا کرے کہ تمہارا اُستاد مر جائے!

Həbibim, həddən aşdı aşiqi-miskinə bidadın,
Cəfanı kimdən öyrəndin, ilahi, ölsün ustadın!
(Seyid Əzim Şirvani)
 

حسان خان

لائبریرین
یاردین أیرو تیریک‌لیک ایسته‌مه‌س‌مېن ساقیا
هجر زهری‌دین مېنینگ جامیم‌غه بۉل‌غیل جُرعه‌رېز
(سُلطان حُسَین بایقرا 'حُسَینی')


اے ساقی! مَیں یار سے جُدا و دُور، زِندگی نہیں چاہتا۔۔۔ [لہٰذا] میرے جام میں زہرِ ہجر کا جُرعہ (گُھونٹ) اُنڈیل دو! (یعنی یار سے جُدائی میں مجھ کو زِندگی کی خواہش نہیں ہے، لہٰذا مجھ کو شراب کی بجائے زہر پِلا کر میری زِندگی ختم کر دو!)

Yordin ayru tiriklik istamasmen, soqiyo,
Hajr zahridin mening jomimgʻa boʻlgʻil jurʼarez.
(Sulton Husayn Boyqaro)
 

حسان خان

لائبریرین
مۆنه‌ججیم‌له‌ر ره‌صه‌دده اولدوزلارې سایارکه‌ن،
مه‌ن ده یاتان یارېمېن کیپریک‌له‌رین سایاردېم!
(حبیب ساهِر)


مُنَجِّمان رصَدگاہ میں [آسمان کے] سِتارے گِنتے تھے، جبکہ میں اُس وقت اپنے سوئے ہوئے یار کی پلکوں کے بال گِنتا تھا!۔۔۔

Münəccimlər rəsəddə ulduzları sayarkən,
Mən də yatan yarımın kipriklərin sayardım!
(Həbib Sahir)
 

حسان خان

لائبریرین
نېچوک آسایش أیله‌ی ای کۉنگول آرامی کیم سېن‌سیز
بۉلوب بارور جهان کۉزیم‌غه تار آهسته آهسته

(ذاکِرجان فُرقت)

اے آرامِ دِل! میں کیسے آسائش و راحت کروں؟ کہ تمہارے بغیر جہان میری نظروں میں آہِستہ آہِستہ تاریک ہوتا جاتا ہے۔۔۔

Nechuk osoyish aylay, ey ko'ngul oromikim, sensiz
Bo'lub borur jahon ko'zimg'a tor ohista-ohista.

(Zokirjon Furqat)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجانی شاعر «حبیب ساهِر» کی ایک تُرکی نظم «آرزو» کا بندِ اوّل:

ظۆلمه‌تین تۏزونو سه‌حه‌ر اه‌لی‌له،
اۆره‌ک آیناسېن‌دان ره‌فع ائده بیلسه‌م!
وه‌حشی گؤیه‌رچین ته‌ک قانادلاناراق،
اوزاق اۆفۆق‌له‌ره آه، گئده بیلسه‌م!
(حبیب ساهِر)


[اے کاش کہ] مَیں تاریکی کی گَرد کو، صُبح کے دست کے ذریعے سے، آئینۂ دِل سے برطرف کر سکوں!۔۔۔

آہ! [کاش] مَیں وحشی کبوتر کی طرح پَر کھولتے اور پرواز کرتے ہوئے دُور اُفُقوں تک جا سکوں!۔۔۔

Zülmətin tozunu səhər əlilə,
Ürək aynasından rəf' edə bilsəm!
Vəhşi göyərçin tək qanadlanaraq,
Uzaq üfüqlərə ah, gedə bilsəm!
(Həbib Sahir)
 

حسان خان

لائبریرین
بیر ته‌به‌سسۆم اۏلسام دۏداق‌لارېندا،
سۏلغون یاناق‌لارېن قېزېل گۆل ائتسه‌م!
بیر داملا یاش کیمی، آخېب گؤزۆنده‌ن:
اه‌طله‌س اه‌ته‌یینده اه‌ریییب گئتسه‌م...
(حبیب ساهِر)


[اے کاش] مَیں اُس (یار) کے لبوں پر اِک تبسُّم بن جاؤں، [اور] اُس کے زرد و پژمُردہ رُخساروں کو گُلِ سُرخ [میں تبدیل] کر دوں!۔۔۔

[اے کاش!] میں ایک قطرہ اشک کی طرح اُس کی چشم سے بہہ کر اُس کے دامنِ اَطلَسِیں میں محلول و جذْب ہو کر [ہستی سے] چلا جاؤں!...

Bir təbəssüm olsam dodaqlarında,
Solğun yanaqların qızıl gül etsəm!
Bir damla yaş kimi, axıb gözündən:
Ətləs ətəyində əriyib getsəm...
(Həbib Sahir)
 

حسان خان

لائبریرین
میں نے چند روز قبل اِس بارے میں ایک مُراسلہ لِکھا تھا کہ ہمارے اکثر شُعَراء کو اپنی زندگی میں اپنے دِیاروں میں عِزّت و احترام نہ مِل سکا، اور وہ یہی خواہش کرتے نظر آئے کہ کاش وہ اُس دیار کی بجائے کسی دیگر دِیار کُوچ کر جاتے یا اُن کا وطن کوئی شہرِ دیگر ہوتا۔ اُس مُراسلے میں مَیں نے «حافظِ شیرازی» اور «فُضولیِ بغدادی» کی ابیات سے مِثالیں دے کر واضح کیا تھا کہ کیسے وہ خود کی شاعری میں بِالترتیب «شیراز» اور «بغداد» سے کِسی دیگر شہر ہِجرت کر جانے کی خواہش ظاہر کرتے رہے، لیکن اُن کی خواہش برآوردہ نہ ہوئی۔

«ماوراءالنّہر» اور «وادیِ فرغانہ» کے شہر «خوقَند» کے ایک تُرکی شاعر «محمد امین‌خواجه میرزا‌خواجه اۉغلی 'مُقیمی'» (سالِ وفاتش: ۱۹۰۳ء) کی شاعری میں بھی مجھ کو چند دقیقوں قبل اِس المیے کی ایک مِثال نظر آئی ہے۔ وہ ایک غزل کے مقطع میں یہ شِکایت کر رہے ہیں کہ وہ اگر وادیِ فرغانہ میں مشہور و مقبول و مُحترم و باآبرو نہ ہو سکے تو اُس کا بُنیادی سبب یہ ہے کہ وہ فرغانہ ہی کے ہیں، اور مرسوم رہا ہے کہ شاعر ایّامِ زندگی میں خود کے وطن میں احترام نہیں پاتا۔ ورنہ اگر وہ فرغانہ میں کسی دیگر دِیار سے آئے ہوتے تو شاید وہ بھی مُحترَم و مَورِدِ پسند واقع ہو جاتے۔۔۔


مُلکِ هِند و مرودین کېلسه‌م تاپه‌ردیم اعتبار
شول اېرور عَیبیم، مُقیمی، مردُمِ فرغانه‌من
(مُقیمی)


اگر مَیں ممالکِ «ہِند» و «مَرْو» سے آتا تو آبرو و احترام پا لیتا۔۔۔ اے «مُقیمی»! میرا عَیب یہ ہے کہ میں مردُمِ «فرغانہ» [میں سے] ہوں (اور اِسی باعث میں یہاں بے‌آبرو ہوں۔)

Mulki Hindu Marvdin kelsam topardim e'tibor,
Shul erur aybim, Muqimiy, mardumi Farg'onaman.
(Muqimiy)
 

حسان خان

لائبریرین
ہماری فارسی شعری روایت میں مُلکِ «کشمیر» کے «کشمیریوں/کاشُروں» کی زیبائی ضرب‌المثَل رہی ہے، اور فارسی و تُرکی زبانوں میں کئی شاعروں نے «مردُمِ کشمیر» کا سِتائش کے ساتھ ذِکر کیا ہے۔۔۔ حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ «ماوراءالنّہر» کے ایک تُرکی شاعر «ذاکِرجان مُلّا خال‌محمد اۉغلی 'فُرقت'» (سالِ وفاتش: ۱۹۰۹ء) نے ایک کُل غزل کِسی دُخترِ کشمیر اور اُس کی زیبائی کی مدح و سِتائش میں کہی تھی جو اُن کی مشہورتر غزلوں میں سے ایک ہے، اور غزل کے کلِمات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا شاعر نے خود اپنی چشموں سے مُلکِ کشمیر میں اُس محبوبِ جمیل کو دیکھا تھا اور اُس کے فریفتہ و شیفتہ ہو گئے تھے۔۔۔ اِن شاء اللہ، مِلّتِ محبوسِ کاشُر سے محبّت و احترام میں اُن کے لیے ہدیَتاً زُود اِس کُل غزل کا ترجمہ کروں گا، لیکن الحال اُس غزلِ مذکور کا مطلع دیکھیے، اور «کاشُروں» اور اُن کے اِحتِلال‌شُدہ مِلّی وطن «کشمیر» پر سلام بھیجیے!

بیر قمَرسیمانی کۉردوم بلدهٔ کشمیرده
کۉزلری مسحور و یوز جادو اېرور تسحیرده
(ذاکِرجان فُرقت)


میں نے مُلکِ کشمیر میں ایک قمَرصُورت [محبوب] دیکھا، جس کی چشمیں سِحرزدہ اور [جس کا] چہرہ مسحور کرنے میں جادوگر تھا۔۔۔

Bir qamarsiymoni ko'rdum baldai Kashmirda,
Ko'zlari mashuru yuz jodu erur tashirda.
(Zokirjon Furqat)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خوب‌لرنینگ مِهری بۉلدی پېشه‌م، عاشِق‌لیغ فنیم
کیم که قه‌یته‌رسه بو ایش‌لردین اۉشه‌ل‌دور دُشمَنیم
(مُقیمی)


خُوبوں [اور زیباؤں] کی محبّت میرا پیشہ، اور عاشِقی میرا فن ہو گئی ہے۔۔۔ جو شخص [مجھ کو] اِن کاموں سے پلٹائے، وہ میرا دُشمن ہے۔

Xublarning mehri bo'ldi pesham, oshiqlig' fanim,
Kimki qaytarsa bu ishlardin o'shaldur dushmanim.
(Muqimiy)
 

حسان خان

لائبریرین
«ماوراءالنّہر» کے ایک تُرکی شاعر «ذاکِرجان مُلّا خال‌محمد اۉغلی 'فُرقت'» (سالِ وفاتش: ۱۹۰۹ء) نے ایک کُل غزل کِسی خُوب‌رُوئے مُلکِ کشمیر اور اُس کی زیبائی کی مدح و سِتائش میں کہی تھی، اور قبلاً میں نے اُس غزل کا مطلع اِرسال کیا تھا۔۔۔۔ اُس غزل میں سے ایک بیتِ دیگر دیکھیے:

أیدیم: "ای جان آفتی، زُلفینگ‌گه بۉلمیش‌مه‌ن اسیر!"
أیدی: "بو سَودانی قۉی، عُمرینگ اۉته‌ر زنجیرده!"

(ذاکِرجان فُرقت)

میں نے [اُس زیبائے کشمیر سے] کہا: "اے آفتِ جان! میں تمہاری زُلف کا اسیر ہو گیا ہوں!"۔۔۔ اُس نے کہا: "اِس عِشق و جُنون کو تَرک کر دو، [ورنہ] تمہاری عُمر زنجیر میں گُذر جائے گی!"۔۔۔

چرخِ گردُوں کی گردشِ شُوم اور بخت و حال کی تغئیرِ منحوس دیکھیے کہ جو خُوبانِ کشمیر اشخاصِ اقوامِ دیگر کو اپنی زُلفِ نیکو کے عِشق کی زنجیر میں اسیر کِیا کرتے تھے، خود وہ اِس وقت اغیار و اجانِب کی اسارت کی زنجیروں میں پابستہ ہیں!

Aydim: «Ey jon ofati, zulfingga bo'lmishman asir!»
Aydi: «Bu savdoni qo'y, umring o'tar zanjirda!»

(Zokirjon Furqat)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خاک بۉلسون اول تنې کیم عشق اۉتی‌ده کویمه‌سه
زیرِ پا بۉلسون سرې کیم ان‌ده سَودا بۉلمه‌سه
(ذاکِرجان فُرقت)


[خُدا کرے کہ] وہ تن خاک ہو جائے کہ جو آتشِ عشق میں نہ جلے!۔۔۔ [خُدا کرے کہ] وہ سر زیرِ پا آ‌ جائے کہ جِس میں عِشق و جُنون نہ ہو!

Xok bo'lsun ul tanekim, ishq o'tida kuymasa,
Zeripo bo'lsun sarekim, anda savdo bo'lmasa.
(Zokirjon Furqat)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
«شبِ یلدا» کے ثقافتی جشن کو برادرانِ تُرکمَن بھی مناتے ہیں۔۔۔ تُرکمَنانِ افغانستان میں سے میرے ایک فیس‌بُکی دوست «حاجی محمد یوسف 'مایل'» کی ایک تُرکمَنی نظم «یلدا گیجه‌سی» (شبِ یلدا) سے چند ابیات دیکھیے جو اُنہوں نے شبِ یلدا کی شادمانی میں لِکھی تھی:

گیجانینگ اوزاغی یارینگ غوجاغی
عاشقا خوش گچر یلدا گیجه سی


شب کی طویلی، [اور] یار کی آغوش۔۔۔ عاشق پر شبِ یلدا خُوب گُذرے گی!۔۔۔

==========

قره زلفینگ سایه سینده دینج آلسام
یوراک باغ ، باغ بؤلر یلدا گیجه سی


[اے یار!] اگر میں تمہاری زُلفِ سیاہ کے سائے میں استراحت پا لوں تو شبِ یلدا [میرا] دل باغ باغ ہو جائے گا۔

==========

قرانگقی نی حؤسنینگ أتسه منور
گوز دان اویخی اؤچار یلدا گیجه سی


اگر تمہارا حُسن تاریکی کو مُنوّر کر دے تو شبِ یلدا [میری] چشم سے نیند اُڑ جائے گی!

==========

یاغین بؤلیب یاغسه مهرینگ اوستیمه
یوراک لاریم جوشر یلدا گیجه سی


اگر تمہاری محبّت باران بن کر مجھ پر برسے تو شبِ یلدا میرا دل جوش میں آ جائے گا۔

==========

لبینگدان بال لاری نوش اتسه مایل
آب حیات إیچر یلدا گیجه سی


اگر «مایل» تمہارے لب سے شہد نوش کر لے تو وہ شبِ یلدا آبِ حیات پِیے گا۔

==========

یہ کُل نظم سات ابیات پر مشتمل ہے، لیکن میں نے پانچ ابیات کو ترجمہ کیا ہے، کیونکہ میں تُرکمَنی زبان زیادہ نہیں جانتا اور لہٰذا وہ دیگر دو ابیات مَیں کامِلاً فہم نہ کر سکا۔۔۔ میں نے تُرکمَنی زبان کبھی براہِ راست نہیں سیکھی ہے، اور میں جِتنی تُرکمَنی جانتا ہوں وہ اِستانبولی و‌ آذربائجانی تُرکی اور اُزبَکی زبانوں کا ذرا عِلم رکھنے کے باعث جانتا ہوں کیونکہ وہ زبانیں تُرکمَنی سے بِسیار قُربت رکھتی ہیں، اور اُسی باعث اُس تُرکمَنی نظم میں سے پانچ ابیات بِالکُل آسانی سے فہم میں آ گئیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
(مصرع)
تینگله پَندیم، ای کۉنگیل، بۉلمه وفاسیزلرگه یار
(محمد غازی)

اے دل! میری نصیحت سُنو: بے‌وفاؤں کے یار مت ہوؤ!

Tingla pandim, ey ko'ngil, bo'lma vafosizlarga yor
 

حسان خان

لائبریرین
میں یہ چیز کئی بار بتا چُکا ہوں، لیکن یہ چیز ہے ہی ایسی مزہ‌دار کہ اِس کو بار بار بتانے پر بھی اِس چیز کی چاشنی میں کمی نہیں آتی، کہ زبانِ شیرینِ تُرکی میری اور آپ کی محبوب‌ترین زبان فارسی کی رِضاعی دُختر ہے، اور وہ اپنے زمانۂ طِفلی میں زبانِ فارسی کے پُرمِہر دامنِ عاطِفت کے زیر میں آ گئی تھی، اور اُسی کے سائے میں اُس کی پرورِش و تربیت ہوئی، اُسی کے شِیر سے اُس کا تَغذِیہ ہوا، اور اُسی کی انگُشت پکڑ کر اُس نے قدم چلانے کا آغاز کیا، اور اُسی کی رہنمائی میں وہ جوان ہو کر ایک ایسی دُخترِ نازَنین میں تبدیل ہو گئی کہ جس کے ایک ہی غمزۂ عقل‌سوز نے تمام بِینَندوں کو مجنون اور جس کی ایک ہی نوائے خوش‌صدا نے تمام شُنَوَندوں کو مفتون کر دیا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے دس سال قبل اِس زبانِ بہشتی‌رُو کو اُس کی مادرِ مہربان و پری‌چہر فارسی کے ہمراہ خِرام کرتے ہوئے دیکھا تھا تو میں دل پر قابو نہ رکھ سکا تھا اور زبانِ فارسی ہی کی مانند اِس زبان کی لیلیٰ‌صِفتَ زیبائی کا اسیر، اور ادبیاتِ فارسی ہی کی مانند ادبیاتِ تُرکی کی لطافت و خوش‌اندامی کا دل‌باختہ ہو گیا تھا، اور اُس وقت سے لے کر اب تک کوئی لحظہ ایسا نہیں گُذرا کہ میرا دل اِن دو زبانوں کے خیال سے خالی رہا ہو، اور اُس وقت سے اِن زبانوں کی محبّت نے میرے دل کی وُسعتوں کو اِس طرح مُسخّر کر رکھا ہے کہ کسی دیگر زبان کی محبّت کو میرے دل میں آنے کی جا نہیں مِل پاتی۔۔۔۔

جب اسلام کی چوتھی صدی میں وسطی ایشیا کے تُرکی‌گویوں نے اسلام قبول کیا تھا تو اِسلام اُن کی جانب فارسی‌گویوں کے توسُّط سے پُہنچا تھا، اور یہ وہی زمانہ تھا کہ جب عبّاسی خلافت اور سرزمین‌ہائے اِسلام کے مشرقی حِصّوں میں زبانِ فارسی ایک بین‌الاقوامی ادبی و تمدُّنی زبان کے طور پر رائج ہونا اور غالب ہونا شروع ہو گئی تھی، نتیجتاً تُرکی‌گویوں نے دل و جان سے زبانِ فارسی کو خود کی زبانِ دُوُم کے طور پر اپنا لیا، اور زبانِ فارسی فارسی‌گویوں سے زیادہ تُرکی‌گویوں کی درباری و سرکاری و تمدُّنی زبان بن گئی، اور تُرکی‌گویان ہی ماوراءالنّہر و خُراسان کی زبان فارسیِ دَری کو اور اُس کی ثقافت و روایات کو اپنی شمشیرِ آب‌دار کی قُوّت سے بوسنیا سے بنگال تک لے گئے، اور اِس کو غیرعرَب مُسلمان اقوام اور اسلامی تاریخ و تمدُّن کی مُشتَرَک زبانِ دُوُم بنا گئے۔۔۔ اِسی لیے زبان و تمدُّنِ فارسی کے گیارہ سو سالہ طُولِ تاریخ میں یہ زبان اپنی ترویج و ترقّی و گُستَرِش کے لیے تُرکی‌گو پادشاہوں سے افزُوں‌تر کسی بھی دیگر گروہ کی مِنّت‌دار نہیں ہے اور تُرک پادشاہوں وَ حاکِموں سے زیادہ کسی نے بھی فارسی زبان کی سرپرستی و پُشتیبانی نہیں کی ہے۔۔۔ میری زبانِ فارسی کے لیے یہ تاریخی خِدمات انجام دینے والے تمام تُرکوں اور تُرک پادشاہوں وَ امیروں پر ہزار سلام ہو!۔۔۔۔

بہر حال، ایک دو قرنوں بعد جب تُرکوں نے رغبت کے ساتھ تُرکی زبان میں ادبیاتِ عالیہ لِکھنا شروع کیا تو اُنہوں نے فارسی ہی کے زیرِ اثر اور فارسی ہی کی پیروی کرتے ہوئے لکھنا شروع کیا۔ لہٰذا وی فارسی زبان و ادبیات و تمدُّن و ثقافت کی تمام تشبیہات، تمام استعارات، تمام روایات، تمام رُسومات، تمام اِشارات، تمام الفاظ و ترکیبات کو مِن و عَن اپنی تُرکی زبان میں لے آئے، اور اُن کی مدد سے تُرکی میں زُود ہی ایسا ادبیاتِ نفیس و رفیع وُجود میں لے آئے جو اپنی مادر فارسی کے ادبیات کے ساتھ رقابت و ہم‌چشمی کرنے کا اہل تھا اور جس کو دیکھ کر فارسی کو اِفتِخار ہوتا تھا اور شفقت کے ساتھ زبانِ تُرکی کو شاد و آباد رہنے کی دُعائیں دیتی تھی۔۔۔

اِس تمہید کو پڑھ کر آپ کے لیے وہ چیز سمجھنا آسان ہو گیا ہو گا جو اب میں لِکھنے جا رہا ہوں۔۔۔ «شبِ یلدا» اور «نَوروز» فارسی تمدُّن کے دو ثقافتی جشن ہیں، اور زبانِ فارسی جِس دیار میں بھی گئی، وہاں وہ اپنے ساتھ یہ شب و روز بھی لے کر گئی، جو فارسی زبان کو اپنی مُشتَرَک زبان سمجھنے والی تمام اقوام کے ثقافتی و ادبی حِافظے کا جُزء بن گئی۔۔۔ نتیجتاً، ادبیاتِ فارسی کی مانند ادبیاتِ تُرکی بھی «شبِ یلدا» اور «نَوروز» کے ذِکر سے پُر ہے۔۔۔ قرنِ چہاردہُمِ عیسیوی کے ایک اناطولیائی شاعر «تاج‌الدین ابراهیم 'احمدی'» (سالِ وفاتش: ۱۴۱۳/۱۴۱۴ء) کی ایک تُرکی بَیت دیکھیے کہ کیسے وہ زبان و شعرِ فارسی کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور کیسے اُس میں مذکورہ دو فارسی جشنوں کا ذِکر آیا ہے:

ساچوڭ‌دورور شبِ یلدا و یاڭاغوڭ نَوروز
قاشوڭ هِلالِ مُعَنبَر تنۆڭ‌دورور مه‌تاب
(احمدی)


تمہاری زُلف شبِ یلدا ہے، اور تمہارا رُخسار نَوروز۔۔۔ تمہارا ابرو ہِلالِ عنبَریں اور تمہارا تن تابشِ ماہ (یا ماہِ تمام) ہے۔۔۔

Saçuñ-durur şeb-i yeldâ vü yañaguñ nev-rûz
Kaşuñ hilâl-i muanber tenüñ-durur meh-tâb
(Ahmedî)
 

حسان خان

لائبریرین
جمہوریۂ آذربائجان کے میرے ایک شاعر دوست «محمد نوری» نے «شبِ یلدا» کے موقع پر تُرکی میں ایک بَیت کہی تھی۔ وہ تُرکی بَیت اُردو ترجمے کے ساتھ دیکھیے:

ائی کؤنۆل، ائل ایل‌ده بیر یۏل ائیله‌یه‌ر یئلدانی قئید
زۆلفی قئیدین‌ده اۏ ماهین هر گئجه یئلدا سانا
(محمد نوری)


اے دل! مردُم سال میں ایک بار «شبِ یلدا» مناتے ہیں، [لیکن] اُس ماہ [جیسے محبوب] کی زُلف کی قَید میں ہر شب تمہارے لیے یلدا ہے۔۔۔
(شبِ یلدا = سال کی طویل‌ترین شب)

Ey könül, el ildə bir yol eyləyər yeldani qeyd,
Zülfi qeydində o mahin hər gecə yelda sana.
(Məhəmməd Nuri)
 

حسان خان

لائبریرین
قاشوڭ محرابېنا جان‌دان قېلورام سجده کۏلمېش‌دور
قاپوڭ کعبه یۆزۆڭ قبله ساچوڭ مشعر لبۆڭ زمزم
(احمدی)


میں تمہارے ابرو کی مِحراب کو جان و دل سے سجدہ کرتا ہوں کیونکہ تمہارا در کعبہ، تمہارا چہرہ قِبلہ، تمہاری زُلف مَشعَر، اور تمہارا لب زَمزَم ہو گیا ہے۔۔۔ (مَشعَر = مکّہ میں مناسکِ حج کو اِجرا کرنے اور قُربانیِ حج کرنے کی جگہ)

Kaşuñ mihrabına cândan kıluram secde k'olmışdur
Kapuñ Ka'be yüzüñ kıble saçuñ Meş'ar lebüñ Zemzem
(Ahmedî)
 

حسان خان

لائبریرین
میں ایک تُرکِیَوی تُرکی نغمہ تین چار روز سے سُن رہا ہوں، اور اُس میں مجھ کو یہ سطر شعری لحاظ سے پسند آئی ہے:

هه‌ر گیدیشین سېرتېم‌دا بیر قېرباچ


[اے یار!] تمہارا ہر [مجھ سے دُور] جانا میری پُشت پر اِک تازیانہ ہے۔۔۔ (یعنی اے یار! تم جب بھی میرے نزد سے جاتے ہو، مجھے اِس طرح اذیّت ہوتی ہے کہ جیسے میری پُشت پر کسی نے تازیانے کی ضرب مار دی ہو۔)

Her gidişin sırtımda bir kırbaç
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی اِستانبول کے ایک تُرکی شاعر «احمد ندیم» (سالِ وفاتش: ۱۷۳۰ء) کی ایک ایسی غزل سے دو ابیات دیکھیے جس کی ردیف میں «ای گؤنۆل» (یعنی: اے دِل) ہے اور جس میں شاعر نے اپنے دِل کو مُخاطَب کر کے ابیات کہی ہیں:

آیینه اۏلدو بیر نِگهِ حَیرتین‌له آب

بِالله نه سخت آتشِ سوزان‌سېن ای گؤنۆل
حج یۏل‌لارېن‌دا مَشعَلهٔ کاربان گیبی
اربابِ عشق ایچین‌ده نُمایان‌سېن ای گؤنۆل
(ندیم)

اے دِل! آئینہ تمہاری ایک نِگاہِ حَیرت سے آب ہو گیا۔۔۔ بِاللہ! تم کِس قدر شدید آتشِ سوزاں ہو!۔۔۔

اے دل! اہلِ عشق کے درمِیان تم [اُسی طرح] نُمایاں و آشکار ہو کہ جس طرح حج کی راہوں میں کاروان کی مَشعَل [نُمایاں و آشکار ہوتی ہے]۔۔۔

Âyîne oldu bir nigeh-i hayretinle âb
Bi'llâh ne saht âteş-i sûzânsın ey gönül
Hac yollarında meş'ale-i kârbân gibi
Erbâb-ı 'aşk içinde nümâyânsın ey gönül
(Nedîm)
 
آخری تدوین:
Top