1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

ماں کا ساتھ نہ ہو تو ۔۔۔۔۔

عبدالقدیر 786 نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 24, 2021

  1. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,545
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    وسیم ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا وسیم کے ساتھ اُس کی ماں اور باپ اور اُس کی تین بہنیں رہتے تھے وسیم کے والد ایک گورنمنٹ ملازم تھے وسیم کے گھر والے اپنی خالا کے گھر پر رہتے تھے وسیم کے تایا بہت ہی شفیق انسان تھے ۔ اور وہ یہ ہی چاہتے تھے کہ جب تک میں زندہ ہوں میرے سارے بھائی میرے ساتھ رہیں وسیم کو اپنے حالات دیکھ کر بہت ہی دُکھ ہوتا تھا کیونکہ وسیم کے تایا اور کے حالات بہت اچھے تھے اُن کا اپنا گھر بھی تھا ۔

    اور وہ لوگ اچھا کھانا پینا کھاتے تھے پر اِن سب میں ایک اچھی بات تھی کہ جب بھی کوئی چیز بناتے تو سارے ایک دوسرے کے گھرمیں دیتے سارے بچے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بڑے ہی پیار سے رہتے تھے ۔

    وسیم کے ماں باپ کو خواہش تھی کے وسیم کا ایک بھائی اور ہو ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دِن بھی آگیا اُس زمانے میں الٹراساونڈ وغیرہ نہیں ہوتے تھے وسیم کی والداور والدہ سمجھے کہ اِس دفعہ تو بیٹا ہی ہوگا دائی نے بھی کچھ ایسے ہی اشارات دئیے تھے ۔ پر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔وسیم کی ماں کے ایک اور لڑکی کی پیدائش ہوئی یہ صدمہ وسیم کی ماں برداشت نہ کرپائی اور اتنا ناراض تھی کہ اُس بچی کی شکل بھی نہ دیکھی وسیم کی ماں نے وسیم کو بُلا کر کہا بیٹا میرا وقت آگیا ہے میں جارہی ہوں اب تم اپنی بہنوں کا خیال رکھنا اور اُن سے لڑائی وغیرہ نہ کرنا ۔

    وسیم کی عمر اُس وقت پندرہ برس تھی وسیم اِن سب باتوں کو اتنا سنجیدہ نہیں لے رہا تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا سب کچھ پہلے جیسا ہی ہوجائے گا ۔وسیم کی ماں نے وسیم سے کہا بیٹا اپنے والد کو بُلا کر لاو مجھے اُن سے ملنا ہے وسیم اپنے والد کو بُلا کر لایا ۔ وسیم کے والد نے وسیم کو سمجھایا کہ وسیم مجھے لگتا ہے تمہاری والدہ کا آخری وقت آگیا ہے ۔ وسیم کے والد سے کچھ باتیں وسیم کی والدہ نے کیں اور پھر بچی کی طرف سے منہ پھیر لیا وسیم کی والدہ نے بچی کا منہ نہیں دیکھا ۔

    وسیم کی والدہ کی طبیعیت زیادہ خراب ہونے لگی تو وسیم کی والدہ نے اپنی بڑی بہن جو اُن کے ساتھ رہتی تھیں اُنھیں کہا کہ میرے بچوں کا خیال رکھنا میں اب جارہی ہوں ۔

    اتنے میں وسیم کے والد ٹیکسی لے آئے کہ وسیم کی والدہ کو ہاسپٹل لے جائیں جیسے ہی وسیم کی والدہ کو پتا لگا کہ ٹیکسی آگئی ہے اور مجھے ہاسپٹل لے کر جائیں گے تو ذور ذور سے رونے لگ گئیں مجھے نہیں لے کر جاو میں صحیح ہوں شاید اُنہیں اپنی موت کا علم ہو چکا تھا۔

    جب موت آتی ہے تو وہ اپنے مقام پر لے جاتی ہےٹیکسی تھوڑی ہی دور گئی تو وسیم کی خالا کو لگا کہ وسیم کی والدہ منہ ہی منہ میں کلمہ پڑھ رہی ہیں ۔ پر اُنہیں ہاسپٹل لے کر گئے ہاسپٹل والوں نے کہا کہ اِن کا انتقال ہوئے کم سے کم آدھا گھنٹہ ہوچکا ہے ۔ آپ لوگ دیر سے لے کر آئے ہو وسیم کے والد اپنی مرحومہ بیوی کو ساتھ لئے گھر آگئے گھر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ صرف وسیم کی والدہ کا غم ہی نہیں سہنا تھا وسیم کے والد کو بلکہ اِن چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی اب پالنا تھا۔ وسیم کے والد اُس وقت تو نہیں روئے ۔

    لیکن جب بچوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو وہ برداشت نہ کرپائے اور اپنے آپے سے باہر ہوگئے ۔ پورے گھر میں ایک کہرام کا سما ہوچکا تھا وسیم کی والدہ اور والد کا خاندان بہت بڑا تھا سب لوگ آگئے اوردلاسے دینے لگے لیکن اب وسیم کی باری تھی والدہ کے جانے کے بعد پہلا وارمحلے والوں کی طرف سے ایک خاتون نے کیا اور وسیم کو کہا کہ بس بس رونے کے ڈرامے نہ کرو ۔ وسیم کی عمر اُس وقت پندرہ برس تھی اور اب وہ سمجھ چکا تھا کہ میرے اوپر جو ایک اللہ پاک نے سایہ رکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے محلے والے اور رشتے دار سب لوگ میری عزت کرتے تھے آج میں مسکین ہوچکا ہوں وسیم اُس کے گھر والے سارے گہرے صدمے میں تھے کیونکہ وسیم کے گھر میں سے پہلے کوئی اتنا قریب کا رشتے دار کا انتقال نہیں ہوا تھا ۔




    جاری ہے
     
    آخری تدوین: ‏فروری 24, 2021
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,545
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    قسط نمبر 2

    ابھی تو یہ شروعات ہوئی تھی وسیم کی مشکلوں کی وسیم نے آگے آگے اور کیا کیا دیکھنا ہے یہ وسیم کو خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ وسیم کے گھر میں اب کوئی کھانا پکانے والا نہیں تھا سب بچے چھوٹے تھے تو وسیم کی خالہ نے اپنی بیٹی جس کی عمر تھوڑی ٹھیک تھی اور وہ کھانا وغیرہ بنانا جانتی تھی اُس کو بھیج دیاکرتی تھیں کیونکہ وسیم کے گھر والے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے ۔ لیکن یہ ترکیب بھی زیادہ دن نہ چل سکی وہ بھی کچھ نہ کچھ بہانہ بنا کر چلتی بنی پھر اُس کی جگہ وسیم کی بوڑھی دادی اماں نے لی اور وسیم کے گھر والوں کو تھوڑا بہت کھانا وغیرہ بنا کردینے لگیں۔ وسیم کے گھر میں یہ رسم تھی کہ مہمان جس کے بھی گھر میں موت ہوتی تو چالیسویں تک کا کھانا موت جس کے گھر میں ہوتی (میزبان) تو وہ ہی کرتے اِس کام میں وسیم کی خالہ نے بڑا ساتھ دیا وسیم کے والد سمجھے یہ بہت ہی نیک ہیں جو اتنا خرچ ہمارے لئے کر رہی ہیں ۔ پر جیسے ہی چالیسواں ختم ہوا ایک بڑی پرچی وسیم کے والد کے ہاتھ میں تھما دی اور کہا یہ ہمارا خرچہ ہوا ہے ۔ میں یہ نہیں بول رہی کہ ابھی دو دے دینا ایک دو ماہ میں وسیم کے والد نے وہ پیسے اُس ہی وقت دے دئیے ۔ جیسے ہی چالیسواں گذرا وسیم کے والد اپنی والدہ کو کہنے لگے کہ اماں میرے لئے کوئی رشتہ دیکھو کیونکہ اُس وقت وسیم کے والد کی عمر بھی پینتیس برس تھی تو خاندان والوں نے کہا کہ کرلینی چاھئیے کوئی عار کی بات نہیں ہے پر اِس بات سے وسیم کو شدید صدمہ پہنچا اور یہ وہ پل تھا جو وہ برداشت نہ کرسکتا تھا پر تقدیر اور قسمت کا جو لکھا ہوتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے۔

    جاری ہے
     
    آخری تدوین: ‏فروری 28, 2021
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر