مانگے برائے اصلاح

محمد بلال اعظم نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 24, 2012

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    احمد فراز صاحب کی زمین کا قافیہ بدل کے ایک غزل۔ برائے اصلاح

    ایک جگنو کہ مقدر ہے بھٹکنا جس کا​
    ایک تتلی کہ جو جگنو سے اجالے مانگے​
    ایک ساحل کہ تڑپتا رہے موجوں کے لئے​
    اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگے​
    کون جانے بھلا معیار کیا ہے اس کا​
    وہ مسافر جو اندھیروں سے اجالے مانگے​
    جانے کس دور میں زمیں پر اترا ہوں میں کہ آج​
    زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے​
    میری تصویر میں ٹوٹے ہوئے کردار ہیں سب​
    اور مرا یار تو شہکار نرالے مانگے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
  3. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  4. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے​
    ایک تتلی ہے کہ جگنو سے اُجالے مانگے ​

    مقدر بھٹکتا ہے یا جگنو خود مقدر، منزل کی تلاش میں ہے، مفہوم قریب ہی ہے، اس لیے ذرا سی تبدیلی کے ساتھ مطلع ہو سکتا ہے۔

    ایک محشر ہے کہ دل میں بپا رہتا ہے​
    اور دل ہے کہ زباں پر بھی یہ تالے مانگے​

    ساحل اگر موجوں کے لیے تڑپتا ہے تو اس کا دل اور پھر زباں پر تالے لاگانے سے کیا تعلق ؟ ایک تجویز ہے جو کہ شعر کا مفہوم واضح کر سکتی ہے۔


    کیسے پائے گا وہ منزل کا پتا سوچو تو!​
    وہ مسافر جو اندھیروں سے اُجالے مانگے​

    معیار کا تعلق مصرعہِ ثانی سے کچھ واضح نہیں ہے، اگر یوں کر لیں تو؟

    جانے کس دور میں پہنچے ہیں یہ انساں کہ جہاں​
    زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے​

    ہم اکیلے ہی اس دور میں نہیں اُتارے گئے ہیں ہمارے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ ہیں، ہاں اگر آپ "مس فٹ" ثابت کرنا چاہتے ہیں تو بات اور ہے۔

    میری تصویر کے سب رنگ شکستہ ہوئے​
    اور مرا یار کہ شہکار نرالے مانگے​

    شاہد شاہنواز بھائی نے درست فرمایا، شاہکار کا تعلق تخلیق سے ہی ہوتا ہے اس لیے ایک تجویز حاضر ہے۔

    پیرِ سُخنفراز صاحب کی زمین ہو اور اسد قریشی خاموش رہ جائیں ایسا ممکن نہیں ۔لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ جوشِ جذبات میں کچھ زیادہ بول گئے ہوں جس کے لیے معاف چاہتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    شاہد شاہنواز صاحب اور اسد قریشی صاحب​
    بہت بہت شکریہ آپ کا۔​
    باقی اشعار کو بھی دیکھتا ہوں۔ فی الوقت تو بس ایک مشورہ​
    اگر اس شعر کو ایسے کر دیا جائے​
    جانے کس دور میں زمیں پر اترا ہوں میں بلال​
    زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے​
    ویسے "مس فٹ" کیا چیز ہوتی ہے؟​
    اس کی کوئی تفصیل بتائیں۔​
     
  6. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    اسد قریشی صاحب نے تو جو کچھ لکھا ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن آپ کا یہ خیال:
    پہلا مصرع پھر مس فٹ ہے۔ یہاں مس فٹ سے مراد بے وزن ہونا ہے کیونکہ میں اس کو تحت اللفظ نہیں پڑھ سکتا۔ تقطیع اچھی طرح کرلیجئے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic

    واہ واہ
    بہت خوشی ہوئی آپ کی فراز صاحب سے اتنی عقیدت دیکھ کر۔
     
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    8,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اسد قریشی بھائی ! شاید ٹائیپو ہے اس شعر میں ۔ اگر اسے یوں کردیں تو؟
    ایک محشر ہے جو اِ س دِل میں بپا رہتا ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,274
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلے شعر کی اصلاح اسد کی بہت عمدہ ہے، قبول کر لو۔
    دوسرے شعر کی صورت میرے نزدیک یوں بہتر ہے؛

    ایک وہ حشر ہے جو دل میں بپا رہتا ہے​
    اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگے​
    تیسرا شعر سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہنا چاہتے ہو، اسد کی اصلاح میں تو مفہوم ہی بدل جاتا ہے۔​
    اس شعر کو ذرا سی تبدیلی سے یوں کر دیں تو وزن میں درست آ جائے:​
    جانے کس دور میں دھرتی پہ میں اترا ہوں بلال
    زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے
    آخری شعر کی اصلاح اسد کی درست تو ہے لیکن بے وزن۔ اس کو یوں کر دو:
    میری تصویر کے سب رنگ زوال آمادہ
    اور مرا یار کہ شہکار نرالے مانگے
     
    • زبردست زبردست × 3
  10. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    فی الحال تو غزل اس طرح بنی ہے (جن میں سے آدھے مصرع آپ کے ہیں اور باقی آدھے بھی آپ کے ہی ہیں)

    ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے​
    ایک تتلی ہے کہ جگنو سے اُجالے مانگے​
    ایک وہ حشر ہے جو دل میں بپا رہتا ہے​
    اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگے​
    میری تصویر کے سب رنگ زوال آمادہ​
    اور مرا یار کہ شہکار نرالے مانگے​
    جانے کس دور میں دھرتی پہ میں اترا ہوں بلال​
    زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے​
    اب ایک دو اشعار اور ہو جائیں تو غزل کی کوئی صورت نکل ہے۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  11. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    دو شعر

    وہ حسیں شکل بھی تھی، وصل کی رُت بھی تھی، مگر
    دل نے مانگے بھی تو بس خوں کے پیالے مانگے

    اوپر والے کا مجھے پتہ نہیں لیکن یہ شعر مجھے تو بالکل بھی رواںمحسوس نہیں ہوا
    قسمتِ قیس کی اب دربدری ختم ہوئی
    آج تو لیلیٰ نے بھی دیس نکالے مانگے
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,274
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلا شعر دو لخت ہے، دوبوں مصرعوں میں بطاہر ربط نہیں۔
    قسمتِ قیس کی اب دربدری ختم ہوئی​
    آج تو لیلیٰ نے بھی دیس نکالے مانگے​
    قسمتِ قیس؟​
    صرف یوں بہتر ہوگا​
    قیس کی آخرش اب دربدری ختم ہوئی​
    آج تو لیلیٰ نے بھی دیس نکالے مانگے​
     
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اب شعر زبردست ہو گیا ہے۔

    دل نے مانگے بھی تو بس خوں کے پیالے مانگے​
    یہ مصرع ذاتی طور پہ اچھا لگا ہے، اس لئے کوشش کرتا ہوں شاید اس کی کوئی صورت نکل آئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    استادِ محترم اگر شعر ایسے کر لیا جائے:

    رسم ہی اب کے کچھ ایسی چلی جاناں کہ مرے،
    دل نے مانگے بھی تو بس خوں کے پیالے مانگے
     
  15. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    کون سی رسم ؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,274
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    رسم تو یہی کہ دل خون پینا چاہ رہا ہے!!
    لیکن شعر میں ’جاناں‘ جیسے بھرتی کے الفاظ مجھے پسند نہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  17. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    استادِ محترم الف عین صاحب اب دیکھیں

    رسم کچھ ایسی چلی موسمِ گُل میں بھی کہ، اِس
    دل نے مانگے بھی تو بس خوں کے پیالے مانگے
     
  18. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    اس اور دل نے کو جدا کرنا آپ کا ہمیں تو اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔
     
  19. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اس طرح کی ایک مثال میں نے احمد فراز کی ایک نظم "اب کس کا جشن مناتے ہو!" میں دیکھی تھی:

    اُن معصوموں کا جن کے لہو
    سے تم نے فروزاں راتیں کی
    یا ان مظلوموں کا جن سے
    خنجر کی زباں میں باتیں کی

    ویسے اچھا تو مجھے بھی نہیں لگا لیکن میں نے سوچا کہ باقی محفل پہ پتہ چل جائے گا۔
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,274
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    فراز کی نظم کا معاملہ دوسرا ہے، وہاں ممکن ہے کہ دو ٹکڑوں کو ملا کر ایک طویل مصرع کیا گیا ہو۔
    یہ مصرع بہتر ہے مفہوم کے لحاظ سے، لیکن ’دل نے مانگے بھی تو‘ سے بات بگڑ جاتی ہے۔
    رسم کچھ ایسی چلی موسم گل میں کہ یہاں
    سب نے مانگے بھی تو بس خون کے پیالے÷ خوں کے پیالے مانگے
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر