لڑکی / عورت کی شادی میں ’ولی‘ کی اہمیت ؟

باذوق

محفلین
پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت ، سپريم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کوئی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو اپنےخاندان کے کسی ولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
صحیح بخاری کی کتاب النکاح کا ایک باب کا عنوان یہ ہے ‫:
باب من قال لا نكاح إلا بولي‏.‏ لقول الله تعالى ‏{‏فلا تعضلوهن‏}‏ فدخل فيه الثيب وكذلك البكر‏.‏ وقال ‏{‏ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا‏}‏ وقال ‏{‏وأنكحوا الأيامى منكم‏}‏‏۔
یعنی ‫:
ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں ارشاد فرماتا ہے ‫:
جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو (عورتوں کے اولیاء) تم کو ان کا روک رکھنا درست نہیں ۔۔۔ ۔(سورہ : 2 ، آیت : 232 )۔
اس میں ثیبہ اور باکرہ سب قسم کی عورتیں آ گئیں اور اللہ تعالیٰ نے اسی سورت میں فرمایا ‫:
‫( عورتوں کے اولیاء) تم عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو ۔۔۔ (سورہ : 2 ، آیت : 221 )۔
جو عورتیں خاوند نہیں رکھتیں ان کا نکاح کر دو ۔۔۔ (سورہ : 24 ، آیت : 32 )۔

صحیح بخاری کی کتاب النکاح کے ایک باب کے عنوان ہی سے امام بخاری رحمہ اللہ وضاحت کرتے ہیں کہ : ان دونوں آیتوں میں اللہ نے اولیاء کی طرف خطاب کیا کہ ’نکاح نہ کرو‘ یا ’نکاح کر دو‘ ۔ تو معلوم ہوا کہ نکاح کرنا ولی کے اختیار میں ہے ۔

مسلم ، ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث ہے کہ ‫:
بیوہ کو اپنے نفس پر ولی سے زیادہ اختیار حاصل ہے ۔
۔( صحیح مسلم ، کتاب النکاح ، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق والبكر بالسكوت ، حدیث : 3542 )۔
لہذا اس حدیث کی بنیاد پر بعض علماء نے ثیبہ یعنی بیوہ کو قرآن کی مذکورہ بالا آیات کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے ۔

جس عورت کا کوئی ولی زندہ نہ ہو تو حاکم یا بادشاہ اس کا ولی ہوتا ہے ۔
اس کی دلیل میں جو صحیح احادیث ہیں وہ ابو داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور ابن حبان میں وارد ہیں ۔

ابو داؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ کی حدیث یوں ہے کہ : نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتا ۔
ابن ماجہ کی ایک حدیث یوں ہے کہ : کوئی عورت اپنا نکاح آپ نہ کرے اور کوئی عورت دوسری عورت کا نکاح نہ کرے ۔
ترمذی کی ایک حدیث یوں ہے : جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے ، اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
جی باذوق بھائی، لیکن کوئی ایک حدیث ایسی بھی نہیں‌ ملتی جو ولی کو یہ اختیار دے کہ عورت یا لڑکی کو گائے بھینس کی طرح‌جہاں‌ چاہے باندھ دے۔ ولی کی طرف سے ہونے والے نکاح‌کے لئے لڑکی کی رضامندی ضروری ہے۔ کیا اس بارے کچھ احادیث بیان کریں‌گے؟

آپ کے اقتباس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایویں ای بیٹھے بٹھائے ایک فیصلہ دے دیا ہے۔ یعنی نہ کوئی مقدمہ، نہ کوئی مدعی اور نہ کوئی دیگر لوازمات
 

باذوق

محفلین
قیصرانی نے کہا:
جی باذوق بھائی، لیکن کوئی ایک حدیث ایسی بھی نہیں‌ ملتی جو ولی کو یہ اختیار دے کہ عورت یا لڑکی کو گائے بھینس کی طرح‌جہاں‌ چاہے باندھ دے۔ ولی کی طرف سے ہونے والے نکاح‌کے لئے لڑکی کی رضامندی ضروری ہے۔ کیا اس بارے کچھ احادیث بیان کریں‌گے؟
ولی کہتے ہیں اختیار رکھنے والے فرد کو ۔
اگر لڑکی اپنی مرضی چلا سکے اور ولی اس کو روکنے کا اختیار ہی نہ رکھ سکے تو اس معاملے میں ’ولی‘ کی بحث ہی کھڑی نہ ہوگی ۔
بات اگر ’صرف‘ لڑکی کی ’مرضی‘ ہی کی ہوتی تو قرآن و حدیث میں اتنے اہتمام سے ’ولی‘ کے ذکر کا کوئی مقصد ہی نہیں رہ جاتا ۔

نکاح کے معاملے میں لڑکی کو کسی حد تک اختیار ہے لیکن ’ کلی اختیار‘ نہیں ہے ۔
محدثین اور محققین کے نزدیک ۔۔۔ جب لڑکی بالغ (کنواری یا باکرہ) ہو یا بیوہ ہو تو لڑکی کا ’اذن‘ لینا بھی ’ضروری‘ ہے ۔
کنواری کا ’خاموش رہنا‘ اس کا اذن ہے ۔
اور بیوہ کو ’زبان‘ سے اذن دینا چاہئے ۔

اس ضمن میں ایک حدیث کا مکمل حوالہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے جس کا مفہوم ہے کہ : ایک کنواری لڑکی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئی ۔ اس کے باپ نے اس کا نکاح جبراََ ایک ایسے شخص سے کر دیا تھا جسے وہ ناپسند کرتی تھی تو رسول اللہ (ص) نے اس کو اختیار دیا کہ چاہے تو وہ اپنا نکاح باقی رکھے یا چاہے تو فسخ کر دے ۔
 

باذوق

محفلین
عورت کا اذن

درج ذیل حدیث ان لوگوں (لڑکی کے ولی) کے خلاف مضبوط دلیل ہے جو لڑکی / عورت کی اپنی رضامندی کے خلاف جبراََ اس کی شادی رچا دیتے ہیں ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے ۔ اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے ۔
صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کنواری عورت اذن کیوں کر دے گی ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے ۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی ۔
صحيح بخاري ، كتاب النکاح ، باب : لا ينكح الاب وغيره البكر والثيب الا برضاها ، حدیث : 5191
 

پاکستانی

محفلین
عورت کا اذن

باذوق نے کہا:
درج ذیل حدیث ان لوگوں (لڑکی کے ولی) کے خلاف مضبوط دلیل ہے جو لڑکی / عورت کی اپنی رضامندی کے خلاف جبراََ اس کی شادی رچا دیتے ہیں ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے ۔ اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے ۔
صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کنواری عورت اذن کیوں کر دے گی ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے ۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی ۔
صحيح بخاري ، كتاب النکاح ، باب : لا ينكح الاب وغيره البكر والثيب الا برضاها ، حدیث : 5191

یہ اذن یا خاموشی کس صورت میں ہوتی ہے؟
ایسا تو ہوتا نہیں کہ اچانک نکاح خواں ظاہر ہو اور پوچھنا شروع کر دے کہ فلان ابن فلاں تمہیں قبول ہے۔
ہمیشہ لڑکی کو پہلے سے بتا دیا جاتا ہے یا اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی شادی فلاں شخص سے ہونے جا رہی ہے، لڑکی اس شخص کو ذہنی طور پر قبول کر لیتی ہے اس لئے نکاح کے وقت وہ لڑکی خاموش رہتی ہے جسے اس کا اذن سمجھا جاتا ہے آسان لفظوں میں اس کی رضا مندی۔

میں کوئی عالم فاضل نہیں بس ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے کیا یہ خاموشی یا اذن اسے ہی کہا جائے گا یا؟؟؟
 

باذوق

محفلین
عورت کا اذن

پاکستانی نے کہا:
یہ اذن یا خاموشی کس صورت میں ہوتی ہے؟
ایسا تو ہوتا نہیں کہ اچانک نکاح خواں ظاہر ہو اور پوچھنا شروع کر دے کہ فلان ابن فلاں تمہیں قبول ہے۔
ہمیشہ لڑکی کو پہلے سے بتا دیا جاتا ہے یا اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کی شادی فلاں شخص سے ہونے جا رہی ہے، لڑکی اس شخص کو ذہنی طور پر قبول کر لیتی ہے اس لئے نکاح کے وقت وہ لڑکی خاموش رہتی ہے جسے اس کا اذن سمجھا جاتا ہے آسان لفظوں میں اس کی رضا مندی۔

میں کوئی عالم فاضل نہیں بس ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے کیا یہ خاموشی یا اذن اسے ہی کہا جائے گا یا؟؟؟
اذن یا خاموشی تو وہی ہے جو عمومی طور پر مسلم معاشرے میں معروف ہے اور جس کی طرف آپ بھی اشارہ کر رہے ہیں ۔
یہ تو غیر عقلی اور غیر منطقی سی بات ہے کہ لڑکی کا ولی ، لڑکی کو کچھ بھی نہ بتائے کہ اس کی شادی کس سے ہونے جا رہی ہے اور نکاح نامے پر دستخط کے بہانے عین وقت پر اس کے پاس پہنچے اور پوچھے کہ فلاں ابن فلاں تمہیں قبول ہے ۔۔۔ اور لڑکی ہکا بکا اپنے ولی کو دیکھتی رہ جائے تو ولی اس کی اچانک یوں خاموشی کو دوسروں کے سامنے ، لڑکی کی رضامندی باور کرائے ۔
یہ تو گویا دھوکہ دہی کا معاملہ ہو جائے گا۔
 

پاکستانی

محفلین
درست!

اب دوسری بات
رشتہ طے ہونے پر اگر لڑکی اس رشتے سے انکاری ہو تو پھر کیا کہا جائے گا؟

رشتہ طے ہونے پر لڑکی سے پوچھنا بہتر ہے یا نہیں؟
اگر ہاں تو جب کسی کی رضا مندی لی جاتی ہے تو اس کی بات ماننی بھی پڑتی ہے۔
اگر نہیں تو پھر خاموشی اس کا اذن (رضامندی) کیسے تصور ہو گی۔
 

مہوش علی

لائبریرین
میری ناقص رائے میں پاکستان سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی دیا ہو گا۔
اس سلسلے میں مجھے بس ایک بار اتفاق ہوا تھا کہ مفتی منیب الرحمان کو پی ٹی وی پر سن سکوں اور وہ بھی بہت مختصر۔


\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

مزید یہ کہ باذوق، آپ نے لکھا ہے:

ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں ارشاد فرماتا ہے ‫:
جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو عورتوں کے اولیاء تم کو ان کا روک رکھنا درست نہیں ۔۔۔ ۔(سورہ : 2 ، آیت : 232 )۔
باذوق،

کیا آپ نے یہ آیت بطور استدلال پیش کرنے سے قبل خود پڑھی تھی؟

وجہ یہ ہے کہ میں نے بھی اس آیت کو پڑھا ہے اور مجھے اس آیتِ مبارکہ کا موضوع سے براہ راست کوئی تعلق نظر نہیں آ رہا۔ بلکہ یہ آیت دو طلاقوں کے بعد (اور تیسری طلاق سے پہلے) عورت کا اپنے شوہر کے طرف پلٹ جانے کا ذکر کر رہی ہے۔

اور دوسرا یہ کہ آیت کے ترجمے میں "اولیاء" کے اضافی الفاظ قرانی آیت میں موجود نہیں۔ اگر تشریح کے طور پر اضافی الفاظ لانا ضروری بھی ہوں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ انہیں بریکٹز کے درمیان لکھا جائے۔


وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ {232}

[eng:f881795dd7][align=left:f881795dd7][Shakir 2:232] And when you have divorced women and they have ended-- their term (of waiting), then do not prevent them from marrying their husbands when they agree among themselves in a lawful manner; with this is admonished he among you who believes in Allah and the last day, this is more profitable and purer for you; and Allah knows while you do not know.
[Yusufali 2:232] When ye divorce women, and they fulfil the term of their ('Iddat), do not prevent them from marrying their (former) husbands, if they mutually agree on equitable terms. This instruction is for all amongst you, who believe in Allah and the Last Day. That is (the course Making for) most virtue and purity amongst you and Allah knows, and ye know not.
[Pickthal 2:232] And when ye have divorced women and they reach their term, place not difficulties in the way of their marrying their husbands if it is agreed between them in kindness. This is an admonition for him among you who believeth in Allah and the Last Day. That is more virtuous for you, and cleaner. Allah knoweth; ye know not.

Commentry:

After the first or second Talaq, if both the husband and wife agree to be reunited, in a lawful manner, they are allowed to do so. The woman has a right to take her own decision. The soceity is warned not to prevent her in any way from exercising her rights. Similarly, relatives of Husband could also not put any kind of pressure on him. Even though the period of waiting may elapse, the husband can marry the divorced wife, if the third irrevocable Talaq has not been pronounced. [/eng:f881795dd7]
[/align:f881795dd7]

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

اسی طرح دوسری اور تیسری آیت جو آپ نے نقل فرمائی ہے،مجھے اُن کا بھی براہ راست تعلق اس مسئلے سے نظر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی قولِ رسول ان آیات کے متعلق ہے بلکہ قیاس کی بنیاد پر انکا تعلق اس مسئلے سے جوڑا گیا ہے جس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
باذوق بھائی، پاکستانی یا مسلمان معاشرے کی صورتحال کو دیکھ کر سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل بہترین ہے

آپ کا اولیاء کے لفظ کا ترجمے میں اضافہ ایک علمی خیانت شمار ہوتی ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے کے اقتباس لیتے وقت سیاق و سباق نہ دینا آپ جیسے عالم انسان کو دیکھا جائے تو غلطی ماننے کو دل نہیں‌ کرتا۔ اور جو دیگر صورت بچتی ہے، اس کو میں کہنا نہیں‌ چاہتا
 

خرم

محفلین
جہاں تک میرا خیال اور علم‌ ہے نکاح فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ ولی اور گواہ اس کی قانونی حیثیت کو مستحکم بنانے کے لئیے ہیں۔ لڑکی کیونکہ خود بیرونی معاملات طے نہیں کر سکتی اس لئے وہ ایک ولی مقرر کرتی ہے اور ولی وہ ہوتا ہے جسے لڑکی مقرر کرے جیسا کہ ہر قانونی معاملہ میں ہوتا ہے۔ ولی کی شرط بھی صرف باکرہ پر ہے، طلاق یافتہ یا بیوہ میرے ناقص علم کے مطابق اس حکم سے خارج ہیں وجہ غالبا ً یہ ہوتی ہے کہ کنواری لڑکی عمومی طور پر شرمیلی ہوتی ہے اور اسی لئے اس کی سہولت کے لئے اسے ولی منتخب کرنے کا اختیار کیا گیا ہے۔ باقی ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اپنی بچی کا رشتہ اس کی مرضی کے مطابق کسی مسلمان سے طے کر دیں نا کہ اپنی مرضی کے مطابق اسے کسی کے سر تھوپ دیں۔ ایک واقعہ کے مطابق ایک خاتون بارگاہِ رسالت صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ “یا رسول اللہ میں نے اپنے آپ کو آپ صل اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں دیا“۔ اس پر آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم نے موجود صحابہ سے استفسار فرمایا کہ کوئی ہے جو ان سے عقد کرے گا؟ آگے کے واقعات سے قطع نظر اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ولی وہی ہوتا ہے جسے خاتون اپنی مرضی سے اپنا ولی مقرر کریں۔
 

باذوق

محفلین
قیصرانی نے کہا:
باذوق بھائی، پاکستانی یا مسلمان معاشرے کی صورتحال کو دیکھ کر سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل بہترین ہے

آپ کا اولیاء کے لفظ کا ترجمے میں اضافہ ایک علمی خیانت شمار ہوتی ہے

سپریم کورٹ کے فیصلے کے اقتباس لیتے وقت سیاق و سباق نہ دینا آپ جیسے عالم انسان کو دیکھا جائے تو غلطی ماننے کو دل نہیں‌ کرتا۔ اور جو دیگر صورت بچتی ہے، اس کو میں کہنا نہیں‌ چاہتا
پہلی بات تو یہ کہ اس معاملے پر بحث میرے ایک دوست نے ایک دوسرے فورم پر شروع کی تھی ۔ میں نے اس کو یہاں اس لیے کاپی کیا کہ اردو محفل پر بھی یہ معاملہ ریکارڈ میں رہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بی۔بی۔سی۔ والی خبر اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے ۔

ہاں ترجمہ میں بریکٹ والی بات غلطی تو ہے لیکن اس کو علمی خیانت باور کرانے سے قبل خاکسار سے بھی پوچھ لیا جانا چاہئے ۔ ( دوسری اہم بات یہ کہ : سورہ بقرہ کی آیت 221 کے ترجمہ میں بریکٹ استعمال کیے گئے ہیں )۔
بات اعتماد کی ہے ، ایمان کی نہیں اور حق بات بات ظاہر ہونے پر اعتماد کو ترک بھی کیا جا سکتا ہے ۔ میں نے صحیح بخاری کے مولانا داؤد راز والے ترجمہ و تشریح سے AS IT IS کاپی کیا ہے (اعتماد کی بنا پر) جس میں بریکٹ نہیں ہیں ۔ جبکہ مولانا جونا گڑھی ، فتح محمد جالندھری اور ڈاکٹر طاہر القادری کے تراجم میں "عورتوں کے اولیاء" والے الفاظ نہیں ہیں ۔ (حالانکہ آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ یہاں "عورتوں کے اولیاء" ہی مخاطب ہیں)۔
لیکن الفاظ کو بریکٹ میں نہ لکھنا بےشک غلطی ہے اور میں نے ابھی ابھی بذریعے ای۔میل متعلقہ ادارے اور ربوہ جالیات ، ریاض ( جہاں سے صحیح بخاری اردو ترجمہ و شرح مفت نیٹ پر دستیابی کے لیے رکھی گئی ہے) کو اس جانب توجہ دلا دی ہے ۔ اور اپنی طرف سے میں آپ تمام سے معذرت چاہتا ہوں ۔ اس دھاگے کی پہلی پوسٹ میں تصحیح کر دی گئی ہے ۔
اس جانب توجہ دلانے کے لیے مہوش علی کا شکریہ ۔
----
سسٹر مہوش علی ۔۔۔ آپ کی اتنی بات سے تو اتفاق ہے :
یہ آیت دو طلاقوں کے بعد (اور تیسری طلاق سے پہلے) عورت کا اپنے شوہر کے طرف پلٹ جانے کا ذکر کر رہی ہے۔
لیکن درج ذیل آپ کی پہلی بات سے اتفاق نہیں !
مجھے اس آیتِ مبارکہ کا موضوع سے براہ راست کوئی تعلق نظر نہیں آ رہا۔

۔۔۔۔

وضاحت کے لیے براہ مہربانی تھوڑا سا انتظار ۔۔۔۔
 

باذوق

محفلین
حقِ ولایت

ابن کثیر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ آیت حضرت معقل بن یسار (رض) اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر یوں بیان ہے :
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے آیت " فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ " کی تفسیر میں بیان کیا کہ :
مجھ سے معقل بن یسار (رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا ۔ اس نے اسے طلاق دے دی ۔ لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس (اپنی بہن) کا نکاح کیا ۔ اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دے دی اور اب پھر تم اس سے نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو ۔ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! اب میں اسے تمہیں کبھی نہیں دوں گا ۔ وہ شخص کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ " تم عورتوں کو مت روکو " ۔
میں نے عرض کیا کہ : یا رسول اللہ ! اب میں کر دوں گا ۔
پھر انہوں (معقل بن یسار رضی اللہ عنہ) نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا ۔
صحيح بخاري ، كتاب النکاح ، باب : من قال لا نكاح الا بولي‏.‏ لقول الله تعالى ‏{‏فلا تعضلوهن‏}‏ فدخل فيه الثيب وكذلك البكر‏.‏ وقال ‏{‏ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا‏}‏ وقال ‏{‏وانكحوا الايامى منكم‏}‏‏. ، حدیث : 5185

اس حدیث کے بیان کے بعد ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معقل نے اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کر دیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا ۔ ان کی بہن کا نام جمیل بنت یسار تھا اور ان کے بہنوئی کا نام ابوالبداح تھا ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں شروع میں یوں بھی تحریر کیا ہے :
اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے ، پھر میاں بیوی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں ۔
اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی اور نکاح ولی کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔
چنانچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ :
عورت ، عورت کا نکاح نہیں کر سکتی ۔ نہ عورت اپنا نکاح آپ کر سکتی ہے ۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کر لیں ۔
دوسری حدیث میں ہے کہ :
بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے ، نکاح نہیں ہوتا ۔ ( ابن ماجہ )۔

===
اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری کی حدیث ہے (جسے تفسیر ابن کثیر میں بیان کیا گیا ہے )۔
پھر تفسیر ابن جریر میں بھی اسی آیت کے تحت یہی بخاری والی حدیث پیش کی گئی ہے ۔ اور جامع ترمذی کی کتاب التفسیر میں اس آیت کی تفسیر میں یہی معقل بن یسار والی حدیث بیان ہوئی ہے ۔
قرآن کی تفسیر کا پہلا اصول تفسیر القرآن بالقرآن ہے اس کے بعد تفسیر القرآن بالحدیث ۔
کیا بخاری اور ترمذی کی یہ دو صحیح و صریح احادیث سورہ البقرہ کی آیت 232 کی واضح ترین تشریح نہیں ہیں ؟
ہم کیسے مان لیں کہ اس حدیث سے ولی کی اہمیت واضح نہیں ہوتی ؟
خود آیت کا مفہوم صاف ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ولیوں کو اپنا حقِ ولایت غلط طریقے سے استعمال کرنے سے روک رہا ہے ۔ آیت میں حقِ ولایت کے غلط طریقے کی نفی کی گئی ہے ، حقِ ولایت کا انکار نہیں کیا گیا ہے ۔

اسی ضمن میں دو اور احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
 

باذوق

محفلین
شریعت ۔۔۔ ؟؟

پاکستان کی اعلی ترین عدالت ، سپريم کورٹ کہتی ہے کہ
کوئی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو اپنےخاندان کے کسی ولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
اور حضرت امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح الجامع کی کتاب النکاح کے ایک باب کا عنوان ہی یوں رکھتے ہیں :
باب من قال لا نكاح الا بولي‏ ( باب بغیر ولی کے نکاح نہیں )

بےشک شرعی امور میں نہ کسی ملک کے سپریم کورٹ کو مداخلت کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی امام کو ۔ شریعت کو گھڑا نہیں جا سکتا ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ : امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب کا عنوان اپنی مرضی سے نہیں لگایا ہے بلکہ ایک دوسری صحیح اور صریح حدیث کو بنیاد بنایا ہے جو یوں ہے :
لا نكاح الا بولي [ بغیر ولی (کی اجازت) کے نکاح نہیں ]
بحوالہ : رواہ الخمسۃ الا النسائی ارواء الغلیل ، ج 6 ص 235 ، علامہ البانی اور دیگر محدثین نے صحیح کہا ۔
یہ حدیث جامع ترمذی میں بھی یہاں ہے ، جس پر امام ترمذی نے لمبی بحث کی ہے ۔

جامع ترمذی کی ایک دوسری حدیث ہے :
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل ۔۔۔
جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا پس اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔۔۔
بحوالہ : جامع ترمذی ، کتاب النکاح ، باب ما جاء لا نكاح إلا بولي ، حدیث : 1125
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ حسن کہتے ہیں ۔

خلاصۂ کلام :
بےشک دین میں اقوالِ رجال یا کسی سپریم کورٹ کے فیصلے حجت نہیں ہیں ۔
لیکن صحیح حدیث ضرور بالضرور حجت ہے ۔
یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرامین
1۔ لا نكاح الا بولي [ بغیر ولی (کی اجازت) کے نکاح نہیں ]
2۔ جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا پس اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔۔۔ (بہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا)

کو محدثین کی تحقیق کے ذریعے جھوٹ ثابت کر دینا چاہئے یا ان احادیث کی صداقت کو قبول کر کے پاکستان کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردّ کر دینا چاہئے ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
بہت ہی محترم اور پیارے بھائی باذوق، بی بی سی کی سائٹ کا جو لنک آپ نے دیا ہے، اس کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ بیان دیا ہے

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی شرعی عدالت کا وہ فیصلہ جس میں اس نے قرار دیا تھا کہ کوئی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو اپنے خاندان کے کسی مرد کی رضامندی کی محتاج نہیں ہے درست ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی ہائی کورٹ یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شرعی مسلئے پر،وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو رد کرے۔

یعنی یہ لائن غور طلب ہے کہ

سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی ہائی کورٹ یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شرعی مسلئے پر،وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو رد کرے۔

اگر آپ نے کوئی بحث شروع کرنی ہے براہ کرم، بہت احترام کے ساتھ، بہت ہی مؤدبانہ انداز میں گزارش کرتا ہوں، کہ براہ کرم پہلے یہ فرمائیں کہ کیا آپ کو وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ قبول ہے اور اعتراض صرف سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہے؟ اگر ایسا نہیں تو براہ کرم اپنی گفتگو میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا تذکرہ ضرور کیجئے تاکہ یہ بحث کسی غلط فہمی کی طرف نہ لے جائے۔ اور یہ بھی واضح کیجئے گا کہ جب وفاقی شرعی عدالت نے یہ فیصلہ جاری کیا تو اس کے سیاق و سباق کیا تھے اور اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحب کون تھے۔ ہو سکتا ہے کہ شاید میری یہ درخواست بے محل لگے، لیکن یہ میں اپنا نکتہ ان تفصیلات کے بعد بیان کروں گا
 

باذوق

محفلین
ولی ؟

خرم نے کہا:
وہ ایک ولی مقرر کرتی ہے اور ولی وہ ہوتا ہے جسے لڑکی مقرر کرے جیسا کہ ہر قانونی معاملہ میں ہوتا ہے۔ ولی کی شرط بھی صرف باکرہ پر ہے، طلاق یافتہ یا بیوہ میرے ناقص علم کے مطابق اس حکم سے خارج ہیں
۔
ہم ایک دینی معاملے پر بحث کر رہے ہیں ۔ لہذا احتیاط بہت ضروری ہے ۔
آپ نے لکھا :
ولی وہ ہوتا ہے جسے لڑکی مقرر کرے
امید کہ اس قول کی دلیل میں کوئی صحیح حدیث پیش فرمائیں گے ۔

ولی کی شرط بھی صرف باکرہ پر ہے، طلاق یافتہ یا بیوہ میرے ناقص علم کے مطابق اس حکم سے خارج ہیں
اوپر کی ایک پوسٹ میں صحیح بخاری کی حضرت معقل (رض) کی حدیث دیکھ لیں ۔ طلاق یافتہ کے لیے بھی ولی کی اہمیت اس حدیث سے ظاہر ہے ۔
 

باذوق

محفلین
احتیاط ؟

قیصرانی نے کہا:
بہت ہی محترم اور پیارے بھائی باذوق، بی بی سی کی سائٹ کا جو لنک آپ نے دیا ہے، اس کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ بیان دیا ہے
اگر آپ نے کوئی بحث شروع کرنی ہے براہ کرم، بہت احترام کے ساتھ، بہت ہی مؤدبانہ انداز میں گزارش کرتا ہوں،
ٹھیک ہے اور میری جانب سے معذرت قبول فرمائیں اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو ۔
میں نے ابھی اپنی پچھلی پوسٹ میں یہی احتیاط برتنے کا مشورہ محفل کے ایک دوسرے معزز رکن کو بھی دیا ہے ۔

دیکھئے بھائی ۔۔۔ ضروری نہیں کہ ہر کوئی کسی معاملے پر مکمل authorised ہونے کے بعد ہی اپنی گفتگو شروع کرے ۔ ہاں اعتراض اس وقت ضرور کیا جا سکتا ہے جب ہم کسی دینی معاملے میں عقلی یا قیاسی فیصلے صادر کریں ۔
میری دلچسپی احادیث سے متعلق ہے ۔۔۔ لہذا میری سرچ کا دائرہ اسی سمت گھومتا ہے ۔ میں نے اس معاملے سے متعلق تقریباََ تمام صحیح احادیث محنت سے سرچ کر کے ۔۔۔ ولی کے معاملے سے متعلق ایک موقف کو یہاں سامنے لایا ہے ۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی گفتگو محفل کے بجائے زکریا کی طرح اپنے اپنے بلاگ پر کی جانی چاہئے تو وضاحت کر دیں ۔ انشاءاللہ آئیندہ سے آپ مجھے محفل کے قوانین کا تابعدار ہی دیکھیں گے ۔
 

باذوق

محفلین
قیصرانی بھائی ۔۔۔ معذرت کہ موضوع سے ہٹ کر ایک بات کر رہا ہوں ۔
بی۔بی۔سی کی متذکرہ خبر میں‌ این جی اوز کی سرگرم خاتون عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے خبر کے اس حصہ پر بھی ضرور غور کیجئے گا :
اگر یہ دلیل مان لی گی کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی بالغ عورت اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے لیکن روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ولی کی رضامندی کے بغیر شادی نہیں کرنی چاہیے تو پھر ایک دن کوئی عدالت غیرت کے نام پر قتل ، اور قرآن سے جوان عورتوں کی شادی کو جائز قرار دےدے گی ۔۔۔
یہ ہے منکرینِ حدیث کا وہ پروپگنڈا ۔۔۔ جس کا مقابلہ احادیث کو حجیتِ دین کا حصہ قرار دینے والے ہر موڑ پر کرتے رہتے ہیں ۔
معاشرے میں پھیلی من گھڑت رواج اور روایات ایک الگ مسئلہ ہے اور صحیح حدیث ایک علحدہ معاملہ ہے ۔
مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ ۔۔۔ صحیح احادیث بھی بعینہ وہی معاشرتی ثقافتی روایات ہیں جو صدیوں سے چلی آ رہی ہیں ۔ جبکہ ایک مسلمان کے لیے اللہ کا کلام (قرآن) اور رسول (ص) کا قول (حدیث ، بشرطیکہ صحیح ثابت ہو جائے) دونوں حجت ہونا چاہئے ۔ باقی ہر تیسری چیز ردّ یا قبول کیے جانے کے لیے آزاد ہے ۔
 

خرم

محفلین
باذوق بھائی ایک حدیث کا حوالہ تو میں نے دیا تھا جس میں ایک صحابیہ نے آ کر سرکارِ دوعالم صل اللہ علیہ وسلم کو اپنا ولی مقرر کیا تھا۔ دوسری آپ نے جو احادیث بیان فرمائی ہیں ان میں بھی یہی صراحت سے کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی مرد گواہ نہ ہو تب تک نکاح باطل ہے۔ تو بات گواہی کی یعنی ایک قانونی معاہدہ کے قرار پانے کی شرائط کی ہے۔ اسی طرح جو واقعہ آپ نے بیان فرمایا ہے اس میں بھی منع کیا گیا ہے عورتوں کے وارثوں کو کہ وہ اپنی بیٹیوں بہنوں کو شادی سے روکیں جب کہ وہ کسی سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تو پھر اختلاف کس بات پر؟ ہم ایک ہی بات تو کر رہے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
احتیاط ؟

باذوق نے کہا:
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی گفتگو محفل کے بجائے زکریا کی طرح اپنے اپنے بلاگ پر کی جانی چاہئے تو وضاحت کر دیں ۔ انشاءاللہ آئیندہ سے آپ مجھے محفل کے قوانین کا تابعدار ہی دیکھیں گے ۔
پیارے بھائی، میں‌ کسی کو روک نہیں‌ سکتا۔ صرف ان کو مشکلات سے بچانے کی کوشش کر سکتا ہوں۔ آج آپ نے قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ پیش کیا، جو کہ ایک غلطی سموئے ہوئے تھا۔ اسی طرح کوئی بھی ممبر کیا اب آپ کے ماخذ پر غور کرے گا؟ کیونکہ جہاں‌ سے آپ نے قرآن پاک کا ترجمہ کاپی کیا، انہوں‌ نے اس کام میں‌کوئی توجہ نہ دی، آپ نے اس کو تلاش کیا، کوٹ کیا لیکن آپ نے اس پر توجہ نہیں دی؟ وضاحت کرتے ہوئے آپ کی باتوں کے سیاق و سباق سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ ولی کے لفظ کے نہ ہونے سے زیادہ آپ اس کے ہونے کا تذکرہ کر رہے ہیں

اس طرح کی غلطیا‌ں میرے جیسا بندہ جو دین کے علم سے بے بہرہ ہے، وہ تو کرے شاید اس کے پاس کوئی جواز ہو۔ آپ جیسا عالم بندہ ایسی غلطی کرے، تو اس کا اثر بہت دور تک جاتا ہے

قوانین کی جہاں تک بات ہے، تو میں اس محفل کے قوانین نہیں‌ بنا سکتا۔ قوانین پہلے سے بنے ہوئے ہیں۔ اور آپ کو کوئی بھی محفل پر اس طرح‌کی بحث سے روک بھی نہیں‌ سکتا
 
Top