لَو چراغوں کی بہت کم ہے خدا خیر کرے

مکرمی جناب ظہیر صاحب، آداب!

ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی کشش آپ کا کلاسیکی روایت کی پاسداری کرنا ہے، ایسا آہنگ آج کل کم کم ہی دیکھنے پڑھنے کو ملتا ہے۔ بہت خوب۔ میرے خیال سے آپ کو سنجیدگی سے اپنے کلام کی اشاعت پر توجہ دینی چاہیئے، اگر تو یہ کام اب تک نہیں ہوا ہے۔

دعاگو،
راحلؔ
 
بہت خوب جناب
واقعی آج کل کے حالات کی عکاسی لگ رہی ہے
اسے اپنی بدقسمتی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔ بس وہ تابش بھائی جو اکثر دلاور فگارؔ کا مصرع دہراتےرہتے ہیں کہ: حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہوگئے
واہ واہ!
بہت خوبصورت غزل۔ عمدہ اشعار۔
بہت شکریہ ! نوازش!
آداب عرفان بھائی!
اب کچھ تازہ کلام بھی عطا ہو حضرت!
کیوں نہیں خلیل بھائی ! ایک نہیں بلکہ دو تازہ غزلیں ہیں ۔ اس ہفتے میں سب اشعار جمع کرکے ان شاء اللہ پوسٹ کرتا ہوں ۔
مکرمی جناب ظہیر صاحب، آداب!
ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی کشش آپ کا کلاسیکی روایت کی پاسداری کرنا ہے، ایسا آہنگ آج کل کم کم ہی دیکھنے پڑھنے کو ملتا ہے۔ بہت خوب۔ میرے خیال سے آپ کو سنجیدگی سے اپنے کلام کی اشاعت پر توجہ دینی چاہیئے، اگر تو یہ کام اب تک نہیں ہوا ہے۔
دعاگو،
راحلؔ
بہت شکریہ راحلؔ! بہت نوازش! اللہ آپ کوخوش رکھے! بس ٹوٹاپھوٹا کچھ گھڑلیتا ہوں ۔ آپ احباب قدرافزائی کرتے ہیں ، اللہ آپ کو شاد آباد رکھے ۔ کلام کی "اشاعت" یہیں اردومحفل پر ہورہی ہے۔ ای بک بنانے کا بھی پرگرام ہے ۔ دیکھئے کیا ہوتا ہے ۔
بہت شکریہ بخاری صاحب!
 
کیوں نہیں خلیل بھائی ! ایک نہیں بلکہ دو تازہ غزلیں ہیں ۔ اس ہفتے میں سب اشعار جمع کرکے ان شاء اللہ پوسٹ کرتا ہوں ۔
درخواست ہے کہ تازہ غزلیں محفل میں ابھی نہ پیش فرمائیے بلکہ ہمیں ان باکس کردیں تاکہ انہیں اردو محفل کے آن لائن جریدے میں شائع کیاجاسکے۔
 

اکمل زیدی

محفلین
نکتہ ور صاحب۔۔۔میری بساط تو یہاں کے اساتذہ نہیں بلکہ طفل مکتب کے شاگردوں جیسی ہی مگر بہرحال میری بھی ایک رائے ہے کہ ردیف اور قافیوں اور اظہار خیال کے انداز پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے تو کوئی ردیف کے پہلے سے استعمال پر بعد کے شعراء کا ان کے استعمال کرتے ہوئے اپنے پیرائے میں اظہار خیال کرنا کسی بھی طرح معیوب نہیں۔۔۔خدا سے خیر ہر بندہ مانگ سکتا ہے اپنے اپنے طور پر۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
جانے اغیار کی سازش ہے یا اپنوں کا ستم
شہر ِ یاراں کا جو عالَم ہے خدا خیر کرے

کوئے قاتل کی رہی ہے جو کبھی خاک ظہیر
وہ مرے زخم کا مرہم ہے خدا خیر کرے
ماشاء اللّہ ماشاء اللّہ
ظہیر بھائی
بے حد کمال بہت عمدہ غزل ،ڈھیر ساری دعائیں ۔۔
 
ماشاء اللہ۔ بہت خوب۔ کیا کہنے۔
خوبصورت غزل!
ہمیشہ کی طرح عمدہ کلام!
حیرت ہے کہ میں نے کافی عرصے بعد پڑھی یہ غزل! :)
لذّتِ دردِ نہاں سے نہیں واقف جو ذرا
وہ مرا چارہ گرِ غم ہے خدا خیر کرے

بہت خوب محترم !بہت خوب !!ماشاء اللہ!!!​
مزید یہ کہ اس نہج کاشعر چاروں مٹالوں میں نہیں ملا۔۔۔۔
ماشاء اللّہ ماشاء اللّہ
ظہیر بھائی
بے حد کمال بہت عمدہ غزل ،ڈھیر ساری دعائیں ۔۔
خدا خیر کرے، پھر سے پڑھی اور پھر سے ایک نیا لطف۔۔۔ ایک نیا درد۔:)

بہت نوازش ہے آپ سب کی! اشعار پسند کرنے پر آپ تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ! آپ کی محبتوں کا مقروض ہوں ۔ اللہ آپ سب کو خوش رکھے، فلاحِ دارین عطا فرمائے ۔
 
اس دھاگے میں قدم رنجہ فرمانے کے لئے بہت شکریہ جناب نکتہ ور بھائی ۔ یہ تو نہیں معلوم کہ غزل آپ کو پسند آئی یا نہیں لیکن بدقسمتی سے میں آپ کے مراسلے کا مطلب نہیں سمجھ سکا ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیے گا ۔ :)
 

نکتہ ور

محفلین
نکتہ ور صاحب۔۔۔میری بساط تو یہاں کے اساتذہ نہیں بلکہ طفل مکتب کے شاگردوں جیسی ہی مگر بہرحال میری بھی ایک رائے ہے کہ ردیف اور قافیوں اور اظہار خیال کے انداز پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے تو کوئی ردیف کے پہلے سے استعمال پر بعد کے شعراء کا ان کے استعمال کرتے ہوئے اپنے پیرائے میں اظہار خیال کرنا کسی بھی طرح معیوب نہیں۔۔۔خدا سے خیر ہر بندہ مانگ سکتا ہے اپنے اپنے طور پر۔۔۔
مزید یہ کہ اس نہج کاشعر چاروں مٹالوں میں نہیں ملا۔۔۔۔

کیا یہ نکتہ اعتراض ہے؟

اس دھاگے میں قدم رنجہ فرمانے کے لئے بہت شکریہ جناب نکتہ ور بھائی ۔ یہ تو نہیں معلوم کہ غزل آپ کو پسند آئی یا نہیں لیکن بدقسمتی سے میں آپ کے مراسلے کا مطلب نہیں سمجھ سکا ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیے گا ۔ :)
میں نے تو ازراہ تفنن کہا تھا کہ سب خیر مانگ رہے ہیں تو خدا کرے کہ خیر ہی ہو۔:):):)
 

شرمین ناز

محفلین
لَو چراغوں کی بہت کم ہے خدا خیر کرے
بادِ صرصر بڑی برہم ہے خدا خیر کرے

سرِ تکیہ کوئی ہمدم بھی نہیں آج کی شب
آج تو درد بھی پیہم ہے خدا خیر کرے

لذّتِ دردِ نہاں سے نہیں واقف جو ذرا
وہ مرا چارہ گرِ غم ہے خدا خیر کرے

خوئے لغزش بھی نہیں جاتی مرے رہبر کی
جادہء راہ بھی پُرخم ہے خدا خیر کرے

جانے اغیار کی سازش ہے یا اپنوں کا ستم
شہر ِ یاراں کا جو عالَم ہے خدا خیر کرے

کوئے قاتل کی رہی ہے جو کبھی خاک ظہیر
وہ مرے زخم کا مرہم ہے خدا خیر کرے

ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۱۹۹۵
:best:
 
Top