لفظ "اعلی" اور "زکوۃ" میں کھڑا زبر کس حرف پر لگانا چاہیے؟

اس بات کا تعلق عربی رسم الخط کے ارتقا سے ہے جو اپنی جگہ خود ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ چونکہ مصحفِ عثمانی میں الرحمٰن اور العٰلمین وغیرہ کا املا اولین دور میں الف مقصورہ کے ساتھ لکھا گیا تھا اس لئے مزید تفرقات سے بچنے کی خاطر انہیں قرآن مجید کے نسخوں میں یونہی برقرار رکھا گیا ہے ۔ اور یہ املا اب صرف قرآن کریم اور قدیم مذہبی کتب تک محدود ہے ۔ عام عربی میں الرحمان اور العالمین ہی لکھا جاتا ہے ۔ اردو میں یہ الفاظ جس طرح تین چار سو سال پہلے آگئے اسی طرح ان کا رواج پڑ گیا ۔ اس مسئلے پر املا کمیٹی کی سفارشات یہاں ملاحظہ کیجئے۔

بہت شکریہ ظہیر صاحب! :)
 

الف عین

لائبریرین
مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات کیونکہ عربی سے زیادہ واقف ہوتے ہیں، اس لئے وہ عربی کے قاعدے کے مطابق ہی ی سے پہلے الف مقصورہ ٹائپ کرتے ہیں جسے میں اردو میں علط مانتا ہوں حالانکہ دیکھنے میں دونوں صورتوں میں یہ ی پر ہی نظر آتا ہے۔ یعنی میں یہ تصحیح کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ 'کس حرف پر' کی جگہ 'کس حرف کے بعد' اصطلاح استعمال کرنا بہتر ہے کہ یہ ڈجیٹل کتابت کا دور یے۔ البتہ الف تنوین الف کے بعد لگائی جائے یا اس سے پہلے( زیادہ درست، ٹائپ کی جائے)، تو دونوں کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ اردو میں ظاہر ہے کہ الف کے بعد ہی درست ہے۔
 

زوجہ اظہر

محفلین
چونکہ عربی میں امالا نہیں ہوتا
جی
اور ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآں میں صرف ایک جگہ امالا ہے
اس کو امالا والی رے کہا جاتا ہے
بطور سفر کی دعا ہم اس کو پڑھتے ہیں
حضرت نوح علیہ السلام کی دعا
بسم اللہ مجرھا و مرساھا۔۔۔
مجرھا کی رے امالا ہے
 
جی
بسم اللہ مجرھا و مرساھا۔۔۔
مجرھا کی رے امالا ہے
ہم عجمی لوگ عموماََ قران کریم کی ایک ہی روایتی قرأت میں پڑھنا سیکھتے ہیں (جو شایدحفص بن عاصم) کہلاتی ہے ،
اس کے علاوہ بھی قران مجید کی قرأت کئی روایتیں اور لہجات موجود ہیں جن میں ایسی آوازیں عام ہیں ۔ یہ روایتیں ورش عن نافع قالون عن نافع وغیرہ ہیں ۔
 

زوجہ اظہر

محفلین
ہم عجمی لوگ عموماََ قران کریم کی ایک ہی روایتی قرأت میں پڑھنا سیکھتے ہیں (جو شایدحفص بن عاصم) کہلاتی ہے ،
اس کے علاوہ بھی قران مجید کی قرأت کئی روایتیں اور لہجات موجود ہیں جن میں ایسی آوازیں عام ہیں ۔ یہ روایتیں ورش عن نافع قالون عن نافع وغیرہ ہیں ۔
جی
کسی دوسری قرات میں اس کی ادائیگی کس طرح ہوگی لا علم ہوں
کوئی بتا سکے تو یقینا معلوماتی ہوگا
 
ہم عجمی لوگ عموماََ قران کریم کی ایک ہی روایتی قرأت میں پڑھنا سیکھتے ہیں (جو شایدحفص بن عاصم) کہلاتی ہے ،
اس کے علاوہ بھی قران مجید کی قرأت کئی روایتیں اور لہجات موجود ہیں جن میں ایسی آوازیں عام ہیں ۔ یہ روایتیں ورش عن نافع قالون عن نافع وغیرہ ہیں ۔
مغرب کے اکثر ممالک میں قرات ورش رائج رہی ۔۔۔ تاہم گزشتہ صدی میں سعودی حکومت کی قرآن مجید کے بڑے پیمانے پر نشر و اشاعت کی کوششوں کے وجہ سے اب ان ممالک میں بھی قرات حفص رائج ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔ گو کہ سعودی ادارہ قرات ورش پر بھی مصاحف چھاپتا ہے ۔۔۔ مگر حرمین میں ایسے نسخے عموما برصغیر والے رسم الخط کے نسخوں سے بھی زیادہ نایاب ہوتے ہیں۔ سننے میں یہ آیا ہے کہ اب زیادہ تر دور دراز کے علاقوں میں ہی قرات ورش کا زیادہ رجحان باقی ہے۔
 
جی
کسی دوسری قرات میں اس کی ادائیگی کس طرح ہوگی لا علم ہوں
کوئی بتا سکے تو یقینا معلوماتی ہوگا
صرف امالہ ہی نہیں ۔۔۔ بلکہ کچھ مقامات پر تلفظ کا بھی فرق ہوتا ہے ۔۔۔ جس کی سب سے مشہور مثال سورۃ الفاتحہ کی آیت ’’مالکِ یوم الدین‘‘ ہے، جسے قرات ورش میں ’’مَلِکِ یوم الدین‘‘ پڑھا جاتا ہے۔
بہرحال ۔۔۔ چونکہ یہ قراتیں ہمارے علاقوں میں رائج نہیں اسی لیے ان کی تعلیم کے لیے اساتذہ مناسب تعداد میں میسر نہیں ۔۔۔ مدارس میں ان کی بابت پڑھایا جاتا ہے تاہم عوام کو ایسی علمی ابحاث میں الجھانے سے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ویسے بھی ابھی تو حال یہ ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت قرات حفص پر ہی درست تلاوت نہیں کر پاتی، بلکہ زیادہ تر لوگ تو اب بھی قرآن کو مجہول پڑھتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

زوجہ اظہر

محفلین
جی
اور ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآں میں صرف ایک جگہ امالا ہے
اس کو امالا والی رے کہا جاتا ہے
بطور سفر کی دعا ہم اس کو پڑھتے ہیں
حضرت نوح علیہ السلام کی دعا
بسم اللہ مجرھا و مرساھا۔۔۔
مجرھا کی رے امالا ہے
بالکل ٹھیک ۔ قرأت حفص بن عاصم میں یہی ایک جگہ ہے جہاں کسی قرآنی لفظ میں امالہ کیا جاتا ہے ۔ اسے "مجرے ہا" پڑھتے ہیں ۔
 
Top