لسانیات

محمد وارث

لائبریرین
میرے خیال میں کتاب پڑھنی درست ہونا چاہیے کیونکہ کتاب مونث ہے جیسے اخبار مذکر ہے سو اخبار پڑھنا درست ہے یا آج کا اخبار پڑھنا وغیرہ۔ یوں تو اردو میں مذکر مونث کا گمبھیر مسئلہ رہا ہے لیکن کتاب کو مذکر باندھنے کی سند چاہیے ہوگی ، کسی لغت میں دیکھنا پڑے گا :)
 
روایتی طور پر اہلِ لکھنؤ فعل کو ہمیشہ مذکر لاتے ہیں اور اہلِ دہلی ایسے جملوں میں مفعول کی جنس کا لحاظ فصیح سمجھتے ہیں۔ بالترتیب امراؤ جان ادا اور اردوئے معلیٰ میں ہر دو کے نظائر بکثرت مل جائیں گے۔
 
اگرچہ تاریخی طور پر دونوں طرح استعمال کرنا درست ہے لیکن معاصر اردو پر دبستانِ دہلی کا اثر کہیں زیادہ نمایاں ہے ۔ میری رائے میں مفعول کی تجنیس کا لحاظ رکھنا صحیح تر اور مقبول تر ہوگا ۔ مجھے" تصویر بنانی ہے" زیادہ فطری محسوس ہوتا ہے "تصویر بنانا ہے" کی نسبت ۔ ویسے یہ میرا ذاتی میلان بھی ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
 

عظیم

محفلین
میری ایک غزل میں قافیہ کی مجبوری کے تحت میں ایک مصرع یوں باندھا ہے ۔۔۔

اپنی دستار بہر طور بچانا ہے مجھے

میرے خیال میں اگر 'دستار' کے بعد کسی طرح 'کو' استعمال کر لیا جائے تو 'بچانا' درست ہو جائے گا ۔ جیسے …

÷اپنی دستار کو ہر طور بچانا ہے مجھے
یا
÷اپنی پگڑی کو بہر طور بچانا ہے مجھے
وغیرہ ۔
 
شیخ سعدی کی مشہور رباعی بلغ العلیٰ بکمالہ کے افاعیل کیا ہیں۔۔۔۔ رہنمائی فرمایے گا
راحیل فاروق صاحب
محمد ریحان قریشی صاحب
یہ درحقیقت رباعی نہیں قطعہ ہے. بحر ہے کامل مثمن سالم متفاعلن چار بار. دوسرے مصرع کے تیسرے رکن پر تسکین اوسط کا زحاف لگا کر مستفعلن کیا گیا ہے.
 
آخری تدوین:

نوید ناظم

محفلین
Top