لاہور میں بک سٹریٹ بنے گی

نبیل نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 4, 2007

  1. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,771
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    آج جیو نیوز میں ایک خوشگوار خبر سننے کو ملی کہ لاہور میں تھارنٹن روڈ، جو کہ مال روڈ کی ایک سائیڈ لین ہے، پر ایک بک سٹریٹ کھولنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جہاں پر عوام اور خاص طور پر سٹوڈنٹس کو کم قیمت کتابیں مل سکیں گی۔ اس ربط پر اس سے متعلق کچھ تفصیل بھی موجود ہے۔ مجھے کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ اس طرح پورے شہر میں موجود کتابوں کی جمبو سیلز اور سیکنڈ ہینڈ بک ڈیلرز کو کاروبار کی ایک مرکزی جگہ فراہم کی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھی پیشرفت ہے۔ لاہور میں جہاں جگہ جگہ فوڈ سٹریٹس کھلنے رواج شروع ہوا ہوا ہے، وہاں بک سٹریٹ کا شروع ہونا ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ارے واہ، کیا اچھی خبر سنائی ہے نبیل بھیا۔

    مال، پرانی انار کلی اور اسطرح کی دوسری 'فٹ پاتھ' شاپس سے میں کوئی پچھلے بارہ تیرہ سال سے کتابیں خرید رہا ہوں، خاص طور پر اتوار اور چھٹی والے دن تو مال پر کتابوں کا میلہ لگا ہوتا ہے اور مجھے بہت سی نایاب کتب ملیں ہیں وہاں سے۔ اور ہاں ان پرانی کتابیں بیچنے والوں سے کم قیمتوں پر کتابیں حاصل کرنا بھی ایک فن ہے۔

    بہر حال اس سٹریٹ کے بن جانے سے واقعی طالب علموں، اور 'اونچی دکانوں' کے ڈسے ہوؤں کو ایک ہی جگہ مناسب قیمت پر کتابیں حاصل کرنے کا موقع مل جائے گا۔

    اور شاید وہیں کہیں سے 'طلسم ہوشربا' بھی مل جائے کہ بقول عمار کے نئے سیٹ کی قیمت ساڑھے چار ہزار ہے۔ ;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,771
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    وارث، اورینٹل کالج اور اولڈ کیمپس کے سامنے پرانی کتابوں کی فروخت تو تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ آپ کچھ معلومات فراہم کریں کہ آپ کو کون کون سی کتابیں یہاں سے ملی ہیں۔ طلسم ہوشربا کا تو یہاں سے ملنا مشکل ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. عبدالقدوس

    عبدالقدوس محفلین

    مراسلے:
    110
    ویسے اس خبر کو میں‌ بچپن سے سن رھا ہوں
     
  5. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    17,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بہت اچھی خبر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. arshadmm

    arshadmm محفلین

    مراسلے:
    308
    او جی اللہ لاہوریوں‌ کو ہمیشہ خوش رکھے، سوہنے کام ہی کرتے ہیں۔۔۔ اب دیکھتے جائے کیسے سارے شہروں میں بک سٹریٹس کھلتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ ہمارے شہر بے وفا میں بھی
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
     
  8. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    اب تو لاہور کے کتب فروشی کے کاروبار سے منسلک لوگوں نے پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی پارکوں اور دیگر کھلی جگہوں پر شامیانے وغیرہ لگا کر کتابیں بیچنے کا کاروبار شروع کر دیا ہے جن کے نرخ بہرحال شہر کے بک سٹالوں پر موجود کتابوں سے کم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں، بالخصوص نوجوان طبقے میں کتابیں پڑھنے کے شوق کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کمپیوٹر یا آن لائن لائبریریوں کا آغاز اپنی جگہ ، روایتی کتابیں پٕھنے کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی۔
     
  9. arshadmm

    arshadmm محفلین

    مراسلے:
    308
    واقعی سردیوں کی راتوں میں‌ گرم بستر میں‌گھس کر داستانیں پڑھنے کا اپنا مزہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گو کہ اس وقت میں اس مشین سے سر کھپا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور مشین تو مشین ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے محبت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ بے حس گو کہ سارے کام کرتی ہے حسوں‌ والے مگر پھر بھی مشین ہی لگتی ہے۔۔۔۔۔۔ اور کتاب ایک ساتھی کی طرح‌ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب کبھی کتاب لانی اسے سینت سینت کر رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھولوں سے بھرا ہوا کور چڑھانا۔۔۔۔۔۔ پھر ایسی جگہ رکھنا جہاں محفوظ رہے۔۔۔۔۔۔ محبت سے اٹھانا اور بستر میں‌ گھس کر چپکے چپکے پڑھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اچانک ماں کا دیکھ لینا کہ امتحان کے دنوں‌ میں یہ کیسی پڑھائی ہو رہی ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بلا مبالغہ میں نے وہاں سے سینکڑوں کتابیں خریدی ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک کتب فروش کہنے لگا کہ آپ بہت دنوں بعد چکر لگاتے ہیں یوں کرتے ہیں کہ ہم اپنی کتابیں لیکر آپ کے گھر سیالکوٹ آ جاتے ہیں۔ اب میں اسے کیا بتاتا کہ وہ گھر میں گھستے تو مجھے بھی ان کے ساتھ ہی واپس جانا پڑتا۔ :)

    وہاں کے کتب فروش بھی اپنی اپنی فیلڈ کے ماہر ہیں مثلاً کسی کے پاس صرف فلسفے یا انگلش کی کتب ہونگی، کسی کے پاس صرف اردو کی وغیرہ وغیرہ۔

    مجھے جو وہاں سے نایاب کتب ملیں ان برٹینیکا سمیت پانچ چھ انسائیکلوپیڈیاز، ہسٹری اور سوئیلائزیشن کی کتابیں، رسل کی کتابیں، ول ڈیورانٹ کی کتابیں بشمول گیارہ جلدوں پر مشتمل ہسٹری آف سوئیلائزیشن، فلسفے کی بے شمار کتابیں وغیرہ۔

    فرہنگ آصفیہ مکمل چار جلدوں میں (جو کہ اردو لغات کی سب سے مستند لغت ہے)، امیر اللغات، سیرتِ رسول کی کتب، نقوش اور فنون کے کئی پرانے شمارے، باغ و بہار، فسانۂ عجائب، رتن ناتھ سرشار کی 'فسانہ آزاد' کلیات سعدی (نظم و نثر) مطبوعہ تہران اور فارسی کی دیگر کتب، غالبیات کی کئی کتب، شبلی نعمانی کی کتب بشمول شعر العجم، حالی اور دیگر کلاسیکی مصنفین کی کتب۔

    کیا بتاؤں، بس جتنے پروفیسر یا ذاتی لائبرریوں کے مالک مرتے ہیں ان سب کی کتب انکے بچے وہاں بیچ جاتے ہیں ابھی چھ مہینے پہلے گوجرانوالہ کے کسی مرحوم صاحبِ ذوق کی کولیکشن وہاں آئی تھی، کم و بیش پانچ چھ سو کتابیں تو ہونگی اور ایک سے بڑھ کر ایک۔ مجھے بھی اپنی کتابوں کا انجام یہی نظر آتا ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  11. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,771
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ وارث۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی دریافتوں کی تفصیل پڑھ کر جویریہ نے لاہور کی فلائٹ بک کرا لی ہوگی۔ :)

    آپ نے صاحبان ذوق کی کتابوں کے فروخت ہونے کا جو ذکر کیا ہے وہ تلخ حقیقت ہے۔ ایک لائبریری بنانے میں پوری عمر لگ جاتی ہے اور آدمی کے گزر جانے کے بعد یہی کتابیں کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دی جاتی ہیں۔ کئی لوگ اسی وجہ سے اپنی کتابوں کی کلیکشن کسی لائبریری کو ڈونیٹ کر دیتے ہیں جو شاید بہتر راستہ بھی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed

    اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو، ہاں
    شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہیئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed


    لیکن کتابیں بیچنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہم جیسوں کو اچھی اور سستی کتابیں مل جاتی ہیں۔

    ڈونیٹ کرنے والی بات بہت اچھی ہے نبیل۔ میرے پیارے پیارے شہر میں ایک ہی پبلک لائبریری ہے، کوئی پندرہ سولہ سال پہلے کی بات ہے میں کالج میں پڑھتا تھا، 'اداس نسلیں' ہاتھ میں تھی کہ لائبریری چلا گیا۔ لائبررین نے میرے پاس 'اداس نسلیں' دیکھی تو کہنے لگا یار بہت سارے لوگ یہ کتاب مانگتے ہیں، ہمارے پاس نہیں ہے دے دو۔ بہانہ بنا کر میرا وہاں سے نکل لیا اور پھر شاید ہی کبھی ادھر کا رخ کیا ہو۔ لیکن اب اس بارے میں سوچوں گا کہ میرے بچوں میں سے شاید ہی کوئی میری کتابوں کا 'وارث' بنے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,082
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    نبیل بھائی یقین کریں کہ میں بھی لاہور کے ان فٹ پاتھ پر بکنے والے ان سستی کتابوں سے مستفید ہو چکی ہوں۔
    انارکلی بازار میں ایک بابے سے نہایت ہی قیمتی اور ضخیم کتاب بالکل درست حالت میں ملی تھی جس کا نام ہے۔Reader Digest's Encyclopedic Dictionary ۔ مجھے صرف 120 روپے میں ملی تھی۔ یہ کوئی 3 سال پہلے کی بات ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. حماد

    حماد محفلین

    مراسلے:
    550
    موڈ:
    Brooding
    بک سٹریٹ کے منصوبے کا کیا بنا ؟ فوڈ سٹریٹس تو کافی کھل چکی ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    کتابوں سے شغف رکھنے والے کافی لوگوں کا یہ المیہ ہے۔ لیکن میرے خیال میں کسی بندے کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بہت خوش نصیب ہوتا ہے وہ جو اس کی اولاد یا پیاروں میں سے خوش ذوق نکل آئے اور مرحوم ی امرحومہ کی محنت سے بنائی ہوئی اس لائبریری سے خود فائدہ اٹھائے یا پھر کم از کم اتنا ضرور کرے کہ اس خزانے کو ردی میں فروخت کرنے کی بجائے کسی ایسے ادارے کو عطیہ کردے جہاں سے پڑھنے والے ان کتابوں سے مستفیذ ہو سکیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    کچھ عرصہ ہوا مجھے بولنے ےسے کم اور پڑھنے سے زیادہ دلچسپی ہوئی ہے تو کافی اچھی اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ کراچی سے متعلق کسی نے بتایا تھا کہ "فرئیر ہال" میریٹ ہوٹل کے سامنے پرانی کتابوں کا بازار پھر سے شروع ہو گیا علاوہ اس کے اگر کسی کو کراچی میں اس طرح کی سرگرمیوں کی اطلاع ہو تو ضرور بتائیں ، لاہور جانا (خصوصا ریلوے کی موجودہ حالت کے سبب) خاص اس مقصد کے لئے قدرے دشوار ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر