راج پال لاہور کا ایک کتب فروش تھا‘ یہ ہندوئوں کی متعصب جماعت آریہ سماج کا ممبر تھا‘ آریہ سماج 1875ء میں بمبئی میں بنی‘ اس کا بانی سوامی دیا نند سرسوتی تھا۔
یہ قدیم ویدیوں کو دنیا کے تمام مذاہب کا ماخذ قرار دیتا تھا‘ اس کا نعرہ تھا ’’ ہندوستان صرف ہندوئوں کا‘‘ چنانچہ یہ عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کو ہندوستان سے نکالنا چاہتا تھا‘ اس نے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں بھی شروع کر دیں‘ یہ اس کوشش کو ’’شدھی‘‘ کہتا تھا‘ دیانند اور اس کے شاگردوں نے مسلم علماء سے مناظروں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس نے ہندوستان کی سماجی زندگی میں ابال پیدا کر دیا۔
آریہ سماج ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی لاہور پہنچی اور دیانند نے اس شہر کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا‘ پنجاب مسلم اکثریت کا صوبہ تھا‘ اس صوبے کے دارالحکومت میں آریہ سماج کے قیام سے لاہور میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو گیا‘ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ہونے لگے ‘ انگریز انتظامیہ کو یہ فسادات روکنے کے لیے بڑے جتن کرنا پڑتے تھے‘ دیانند سرسوتی نے ’’ سیتارتھ پرکاش‘‘ کے نام سے ایک متنازعہ کتاب بھی لکھی۔
اس کتاب کا چودھواں باب عیسائیت اور اسلام کے خلاف تھا‘ آج کا لبرل سے لبرل مسلمان بھی یہ باب پڑھتے ہوئے اپنے جذبات قابو میں نہیں رکھ سکتا‘ راج پال اس متعصب تنظیم کا فعال رکن تھا‘ یہ لاہور میں کتابیں بیچتا تھا لیکن اس کا زیادہ تر وقت مسلمانوں کے خلاف شرانگیزی میں گزرتا تھا‘ 1925-26ء میں اس کے ذہن میں شیطانی خیال آیا‘ اس نے متنازعہ اسلامی کتب سے مختلف واقعات اور ضعیف احادیث جمع کیں۔
ان میں اضافہ اور کمی کی‘ ان کو ان کے پس منظر سے الگ کیا‘ انھیں کتابی شکل دی اور 1928ء میں رنگیلا رسول (نعوذباللہ) کے نام سے انتہائی واہیات اور گستاخانہ کتاب شایع کر دی‘ آریہ سماج کے کارکنوں نے یہ کتاب چند دن میں ہندوستان بھر میں پھیلا دی‘ مسلمانوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا‘ ہندوئوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا اور یوں فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا ظفر علی خان ؒ سمیت اس وقت کے عظیم سیاسی اور مذہبی رہنمائوں نے راج پال کے خلاف جلسے اور جلوس شروع کر دیے‘ لاہور کی فضا مکدر ہو گئی چنانچہ پولیس نے راج پال کو گرفتار کر لیا‘ انگریز سماجی لحاظ سے توہین رسالت‘ توہین مذہب اور توہین خدا کا قائل نہیں چنانچہ یہ مذہبی توہینوں کے خلاف قانون نہیں بناتا۔
یہ مذہب کو ذاتی فعل سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے انسان کو ہر قسم کی مذہبی آزادی ہونی چاہیے لیکن انگریز ہمیشہ یہ بھول جاتا ہے مذہب کا دائرہ واحد ایسا دائرہ ہے جس میں غیر مذہب کا پائوں آنے پر انسان انسان کو قتل کردیتا ہے اور مسلمان اللہ تعالیٰ‘ نبی اکرمؐ اور قرآن مجید کی حرمت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں‘ مسلمان ہربات‘ ہر چیز پر سمجھوتہ کر لے گا لیکن برے سے برا مسلمان بھی نبی رسالتؐ کی حرمت پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا‘ عشق رسولؐ مسلمان کی وہ دکھتی رگ ہے جسے چھیڑنے والے کو یہ کبھی معاف نہیں کرتا‘ ہم 1926ء میں واپس آتے ہیں۔
پولیس نے نقص امن کے جرم میں راج پال کو گرفتار کر لیا لیکن مقدمہ عدالت میں پہنچا تو معلوم ہوا انڈین ایکٹ میں مذہبی جذبات کی توہین کے بارے میں کوئی دفعہ ہی نہیں ہے چنانچہ راج پال کے وکیل نے دلائل دیے اور جج نے راج پال کی رہائی کا حکم دے دیا‘ راج پال کی رہائی لاہور کے مسلمانوں کے زخمی دلوں پر نمک کی بارش ثابت ہوئی اور یہ سسکیاں لے لے کر رونے لگے جب کہ ہندوئوں نے خوشی کے شادیانے بجانا شروع کر دیے۔
ہندوئوں کا خیال تھا‘ یہ فیصلہ ہندوستان میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو گا اور ہندو اب کھل کر نبی رسالتؐ کے خلاف گستاخی کر سکیں گے اور کوئی قانون اب انھیں روک نہیں سکے گا کیونکہ ان کے پاس عدالت کا حکم نامہ موجود ہے‘ اس ساری صورتحال نے ایک غریب ترکھان کو عالم اسلام کی عظیم شخصیت بنا دیا‘ اس شخص کا نام علم دین تھا‘ یہ دھیاڑی دار ترکھان تھا‘ یہ اوزار لے کر روز گھر سے نکلتا تھا۔
دن کو ایک آدھ روپے کی مزدوری مل جاتی تھی تو کر لیتا تھا ورنہ دوسری صورت میں خالی ہاتھ گھر واپس چلا جاتا تھا‘ یہ 6ستمبر 1929 ء کو مزدوری کے لیے گھر سے نکلا‘ راستے میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان راجپال کی گستاخانہ حرکت کے خلاف تقریر کر رہے تھے‘ علم دین تقریر سننے کے لیے رک گیا‘ خطاب کے چند فقروں نے اس کی ذات میں طلاطم برپا کر دیا‘ اس نے اسی وقت بازار سے چاقو خریدا‘ سیدھا راج پال کی دکان پر گیا‘ راج پال کو اطمینان سے قتل کیا اور خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غازی علم دین شہید کے نام سے روشن ہو گیا۔
غازی علم دین شہید کے خلاف مقدمہ چلا اور انھیں 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی‘ غازی علم دین شہید پھانسی پا گئے لیکن عشق رسولؐ آج تک زندہ ہے اور یہ قیامت تک زندہ رہے گا۔
ہم اگر آج 2012ء میں بیٹھ کر اس واقعے کا تجزیہ کریں تو تین چیزیں سامنے آتی ہیں۔ اول‘ راجہ پال 1929ء کا جنونی‘ شدت پسند اور دہشت گرد تھا‘ اس کی متعصبانہ‘ جنونیت سے بھرپور اور دہشت گردانہ سوچ نے پورے ہندوستان میں فسادات شروع کرا دیے اور ان فسادات میں اس سمیت بے شمار لوگ مارے گئے۔ دوم‘ انگریز سرکار نے توہین رسالت‘ مذہبی توہین اور نظریاتی چھیڑ چھاڑ کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا تھا۔
قانون کی اس کمی نے راج پال جیسے لوگوں کو شہ دی‘ اس نے کتاب لکھی‘ گرفتار ہوا اور بعد ازاں قانون کی کمی کی وجہ سے رہا ہو گیا‘ راج پال کی رہائی نے جلتی پر تیل کا کام کیا‘ انگریز حکومت اگر اس مسئلے کو حقیقی مسئلہ سمجھتی‘ یہ توہین رسالت کے خلاف سخت قانون بناتی اور اس پر سختی سے عمل کرواتی تو راج پال کو ایسی کتاب لکھنے کی جرأت ہوتی‘ یہ جیل سے رہا ہوتا اور نہ ہی یہ عبرت ناک انجام کو پہنچتا اور سوم‘ رسول اللہ ﷺ ایسی بابرکت ذات ہیں جن کے بارے میں توہین اسلامی دنیا کا عام سا مزدور بھی برداشت نہیں کرتا اور یہ توہین اسے چند لمحوں میں غازی علم دین شہید بنا دیتی ہے۔
نبی اکرمؐ کی ذات بابرکت پر جان دینے اور جان لینے کے لیے کسی مسلمان کا عالم‘ حافظ یا پرہیز گار ہونا ضروری نہیں‘ لبرل سے لبرل‘ ماڈرن سے ماڈرن‘ پڑھے لکھے سے پڑھا لکھا اور گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی توہین رسالت پر تڑپ اٹھتا ہے اور یہ یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور جاپان جیسے ماڈرن ممالک میں رہنے کے باوجود گستاخوں کو قتل کرنے کے لیے گھر سے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس کے بعد سلمان رشدی ہو‘سام باسیل یا پھر ٹیری جونز ہو‘ ان لوگوں کو جان بچانے کے لیے حلیہ بھی بدلنا پڑتا ہے‘ مکان اور شہر بھی تبدیل کرنا پڑتے ہیں اور اپنا نام بھی چینج کرنا پڑتا ہے۔
یورپ اور امریکا کے دانشور ہمیشہ یہ سوال کرتے ہیں اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری جیسے ماڈرن‘ تعلیم یافتہ اور شہزادے عالمی دہشت گرد کیسے بن جاتے ہیں‘ یہ آج تک اس بات پر بھی حیران ہیں کہ نائن الیون میں شامل 19 نوجوانوں میں سے کسی کی داڑھی نہیں تھی‘ ان میں سے کوئی شخص کسی اسلامی مدرسے سے فارغ التحصیل نہیں تھا‘ یہ تمام نوجوان جدید تعلیم یافتہ تھے اور ان میں سے چند کے بارے میں یہ اطلاعات بھی ملی تھیں کہ یہ شراب خانوں میں بھی دکھائی دیتے تھے اور ڈسکوز میں بھی لیکن دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کا ذریعہ بن گئے۔
یورپ اور امریکا کے دانشور دہائیوں سے وہ جذبہ‘ وہ چیز تلاش کر رہے ہیں جو عام سے مسلمان کو غازی علم دین شہید اور سعودی شہزادے کو اسامہ بن لادن بنا دیتی ہے‘ وہ چیز‘ وہ جذبہ نبی اکرمؐ کی ذات سے محبت ہے‘ یہ محبت وہ عمل انگیز ہے جو عام گنہگار مسلمان کو غازی اور شہید کے مرتبے پر فائز کر دیتی ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ’’ انو سینس آف مسلمز‘‘ جیسی متنازعہ اور بدبودار فلم کے چند ٹریلرز کے بعد پوری دنیا میں ہونے والے واقعات کی فلم دیکھ لیں‘ بن غازی سے لے کر قاہرہ اور کینیڈا سے لے کر کراچی تک کیا ہو رہا ہے؟
مسلمان سڑکوں پر کیوں ہیں اور امریکا اپنے سفارتکاروں کی حفاظت کے لیے مسلم ممالک میں فوج کیوں بھجوا رہا ہے؟ اور آپ احتجاج میں شامل لوگوں کو بھی دیکھئے‘ آپ کو ان میں مدارس کے بچے کم اور لبرل مسلمان زیادہ ملیں گے‘ یہ تمام لوگ غازی علم دین شہید ہیں اور یہ اس بدبودار فلم کے خالق ماڈرن راج پال کو تلاش کر رہے ہیں۔
یہ لوگ جس دن اس راج پال تک پہنچ گئے یہ اس کا وہی حشر کریں گے جو غازی علم دین شہید نے 1929ء میں راج پال کا کیا تھا چنانچہ آپ اگر مستقبل میں نائن الیون اور نئے اسامہ بن لادن سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے اپنے راج پالوں کے خلاف قانون سازی کر لیں ورنہ دوسری صورت میں صلیبی جنگوں کا ایک ایسا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کا ہر دن نائن الیون ہو گا اور ہر سپاہی غازی علم دین شہید اور اسامہ بن لادن
 

فرحت کیانی

لائبریرین
اچھا لکھا جاوید چودھری نے لیکن غازی علم الدین شہید اور اسامہ بن لادن کو ایک ہی لائن میں کیسے کھڑا کیا جا سکتا ہے؟ اسامہ کے حامی جو بھی کہیں لیکن اس کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی زندگیاں برباد ہوئیں وہ کس کھاتے میں جائیں گی؟
برسبیلِ تذکرہ غازی علم الدین شہید کے بارے میں کبھی پڑھا تھا کہ قائدِ اعظم نے علامہ اقبال کی درخواست پر ان کا مقدمہ لڑا تھا اور اقبال نے ہی انگریز حکومت سے ان کی میت واپس لینے اور باقاعدہ جنازہ پڑھنے کے لئے جدوجہد کی تھی۔ بلکہ ان کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔
 

نیلم

محفلین
ظاہرسی بات ہے اگر آپ سانپ کی دم پہ پہر رکھوتووہ کاٹےگا ضرور.ہم مسمانوں بےشک آپس میں لڑتےرہیں...لیکن جذبہ ایمانی میں ہم سب ایک ہی ہیں.
 

نایاب

لائبریرین
چوہدری صاحب نے دو مختلف بنیادوں پر اک عمارت کھڑی کر دی ۔
اور " عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " نام رکھ دیا ۔
کہاں غازی علم دین شہید کا جذبہ " عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم "
اور کہاں " بن لادن " کا انتہا پسندی کا حامل " جہاد "
جس کی زد سے خود مسلمان ہی محفوظ نہیں ۔
 

Muhammad Qader Ali

محفلین
بہت شکریہ
بہت ہی کم الفاظوں میں میں نے لکھی بات یوٹیوب والے مسئلے میں تو ایک کو ناپسند ہوا
میں نے یہ لکھا تھا۔
اللہ کو ماننے کے ساتھ اللہ کی ماننا ہے
اطیعواللہ اطیعوالرسول صلی اللہ علیہ وسلم
انڈیا میں ایک پادری نے قرآن کی بے حرمتی کی تھی پھر کیا ہونا تھا
کچھ ملباری مسلم نوجوانوں نے اس پادری کا ہاتھ اس کے جسم سے الگ کردیا
کچھ احتجاج کی ضرورت بھی نہیں پڑی ایسے ہی کام تمام ہوگیا۔ ابھی تک کیس چل رہا ہے
جب یہ ہوجائگا تو محمد بن قاسم جیسے جیالے پیدا ہونگے
پھر کسی ایک معصوم مسلم کی آواز ہوگی اور اسلام کا دروازہ کھلتا ہی چلا جائیگا۔​
مسلمانوں کو جتنا نقصان ناسجمھ مسلمانوں سے ہوا اتنا نقصان اور کسی سے نہیں ہوا
کیا ملباری مسلمانوں نے غلط کیا۔ کہ پادری کا ہاتھ کاٹ کر اس علاقے والوں کو بتادیا کہ آئندہ ایسی حرکت کے بارہ میں
سوچے بھی نہیں۔
الحمد للہ آج "کیریلا" صوبے میں امن ہے
 

پپو

محفلین
اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم آقا نامدار محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت جب دل میں نہ ہو ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا اور ہر مسلمان عمل میں کمزور ہو سکتا ہے مگر آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت میں کمزور نہیں ہو سکتا اس کی وجہ ہمیں آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت نسل در نسل تھرو جینز منتقل ہورہی ہے اور اب یہ محبت صرف ہمارے ایمان ہی کا حاصل نہیں رہی بلکہ یہ جسم وجاں کے اندر سرایت کیے ہوئے ہے اب یہ محبت اور ہم لاز م وملزوم ہوچکے ہیں اب آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت اور ہر مسلمان یک جان ہیں یہ دونوں ہرحال میں ہر مسلمان کے اندر ہوں گی یا پھر نہ مسلمان ہوگا نہ محبت یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتی کیونکہ ان کی نصف آبادی اپنے آباء کی تلاش میں سرگرداں ہے تو یہ کیا جانے محبت کیا ہے اور اس کا دلوں اور روحوں میں گھر کر جانا کیا ہے
یہ نہیں جانتے ہونگے مسلمانوں میں یہ ریت پرانی ہے جب کعب بن اشرف معلون کا سر اپنے وقت میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو نائلہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حارث بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ نے لا کر آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کے مبارک قدموں میں ڈال دیا تھا یہ تو ہمارا ورثہ ہے اور ایسا ورثہ جس پر ہمیں فخر ہے یہی راستہ ہے جو غازی علم دین شہید اور غازی ممتاز قادری تک آتا ہے اور تا ابد کھلا ہے
 

نایاب

لائبریرین
اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم آقا نامدار محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت جب دل میں نہ ہو ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا اور ہر مسلمان عمل میں کمزور ہو سکتا ہے مگر آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت میں کمزور نہیں ہو سکتا اس کی وجہ ہمیں آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت نسل در نسل تھرو جینز منتقل ہورہی ہے اور اب یہ محبت صرف ہمارے ایمان ہی کا حاصل نہیں رہی بلکہ یہ جسم وجاں کے اندر سرایت کیے ہوئے ہے اب یہ محبت اور ہم لاز م وملزوم ہوچکے ہیں اب آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت اور ہر مسلمان یک جان ہیں یہ دونوں ہرحال میں ہر مسلمان کے اندر ہوں گی یا پھر نہ مسلمان ہوگا نہ محبت یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتی کیونکہ ان کی نصف آبادی اپنے آباء کی تلاش میں سرگرداں ہے تو یہ کیا جانے محبت کیا ہے اور اس کا دلوں اور روحوں میں گھر کر جانا کیا ہے
یہ نہیں جانتے ہونگے مسلمانوں میں یہ ریت پرانی ہے جب کعب بن اشرف معلون کا سر اپنے وقت میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو نائلہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حارث بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ نے لا کر آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کے مبارک قدموں میں ڈال دیا تھا یہ تو ہمارا ورثہ ہے اور ایسا ورثہ جس پر ہمیں فخر ہے یہی راستہ ہے جو غازی علم دین شہید اور غازی ممتاز قادری تک آتا ہے اور تا ابد کھلا ہے
محترم پپو بھائی
بلا شک آپ نے سچ لکھا ۔
مگر " ممتاز قادری " کا مسلہ الگ ہے ۔
اور اسے " غازی علم دین شہید " کی صف میں کھڑا کرنا کسی طور مناسب نہیں ۔
غازی علم دین شہید " عشق رسول علیہ السلام " میں جان قربان کر گئے ۔
اور ممتاز قادری " انتہا پسندی " کا عکاس ٹھہرا ۔
 

نایاب

لائبریرین
بہت خُوب۔۔۔ ۔

نایاب بھائی۔۔۔ ۔ انتہا پسندی کی وضاحت کریں گے ذرا۔۔۔
غازی علم دین شہید اور ممتاز قادری کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونے والے دونوں واقعات
اس " انتہا پسندی " کو پوری معنویت سے بیان کرتے ہیں ۔
ہر دو واقعات کے سیاق و سباق پر غور کرتے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ انتہا پسندی کیا ہے ۔
محترم بھائی غازی علم ادین شہید نے جب یہ شہادت گاہ کی جان قدم بڑھایا اس وقت کوئی ایسا قانون نہیں تھا ۔
جو کہ " راج پال " کو اس کے جرم کی سزا دے سکے ۔ غازی علم دین جیسے کمزور کے پاس یہی اک طریقہ تھا ۔
جس کو استعمال کرتے وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر زبان دراز کرنے والے کو سبق سکھا سکتا ۔
اور ان کا یہی بے بسی میں اٹھایا قدم ان کو شہید وفا قرار دے گیا ۔
جبکہ ممتاز قادری کا واقعہ سراسر جنون کا عکاس ہے ۔
 

احمد علی

محفلین
غازی علم دین شہید اور ممتاز قادری کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونے والے دونوں واقعات
اس " انتہا پسندی " کو پوری معنویت سے بیان کرتے ہیں ۔
ہر دو واقعات کے سیاق و سباق پر غور کرتے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ انتہا پسندی کیا ہے ۔
محترم بھائی غازی علم ادین شہید نے جب یہ شہادت گاہ کی جان قدم بڑھایا اس وقت کوئی ایسا قانون نہیں تھا ۔
جو کہ " راج پال " کو اس کے جرم کی سزا دے سکے ۔ غازی علم دین جیسے کمزور کے پاس یہی اک طریقہ تھا ۔
جس کو استعمال کرتے وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر زبان دراز کرنے والے کو سبق سکھا سکتا ۔
اور ان کا یہی بے بسی میں اٹھایا قدم ان کو شہید وفا قرار دے گیا ۔
جبکہ ممتاز قادری کا واقعہ سراسر جنون کا عکاس ہے ۔


آپ کہنا چاہتے ہیں کہ آج قانون موجود ہے؟
 

Muhammad Qader Ali

محفلین
کسی کو تو قدم اٹھانا پڑے گا نا۔
برصغیر کے مسلمان جدجہد نہیں کرتے ، شہادتیں پیش نہیں کرتے تو آج ہندو کے ہاتھوں ہم سب مجبور ہوتے۔
اسامہ بن لادین کے بارہ میں کون کیا جانتا ہے حالات صحیح صحیح لکھے انگریزوں اور منافقوں کی زبانی نہیں۔
ہم میں سے کوئی بھی ان کے قریب نہیں رہا نہ لین دین میں ساتھ رہا نہ سفر کیا۔ کسی کو جاننے کے لئے یہ تین باتوں کو عمل میں لانا ضروری ہے اور دلوں کے حالات کا علم صرف رب العالمین کو ہے
ہم نہ علم الدین کو جانتے ہیں نہ اسامہ کو اور نہ ممتاز قادری کو۔
البتہ انہوں نے ایک تاریخ قائم کی ہے جو ایک عرصہ تک اخباروں ، ٹی وی اور کتابوں میں تازہ رہے گی۔
ممتاز قادری کی وجہ سے کم از کم آج پاکستان میں کوئی اس طرح کم ظرفی سے بھی ڈرے گا۔
انتہی۔
 

طالوت

محفلین
"تاریخ اسلام"میں ڈاکٹر کمال عمر نے لکھتے ہیں کہ راج پال کی اس شیطانی کتاب پر پابندی کا معاملہ عدالت میں تھا اور موقف یہ تھا کہ اس پر پابندی جائز نہیں کہ یہ کتاب اسلامی کتب سے اخذ کی گئی ہے ۔
پھر آگے وہ لکھتے ہیں کہ بادشاہی مسجد کے امام سے اس کتاب پر پابندی کے حق میں دلائل دینے کی درخواست کی گئی جس پر امام موصوف نے انگریز ججوں کے سامنے قران کا نسخہ رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی پر یہ کتاب اتری ہے اور یہی ہماری کتاب ہے اگر راج پال کی یہ (بے ہودہ ) کتاب واقعی اس (قران) سے اخذ کردہ ہے تو اسے رہنے دیں ورنہ پابندی لگا دیں ۔ اور ظاہر ہے کہ اس کتاب پر پابندی لگا دی گئی۔
اس کے بعد ان "وڈے"مسلمانوں نے بادشاہی مسجد کے امام موصوف کے ساتھ کیا سلوک کیا یہ ایک الگ معاملہ ہے ۔

ڈاکٹر کمال کا لکھا یہ کتابچہ "تاریخ اسلام"جامعہ کراچی کے تعاون سے غالبا 2003-2004 میں شائع ہوا تھا۔
 
Top