قومی زبان کی اہمیت

سیما علی

لائبریرین
قومی زبان کی اہمیت
قرطاسِ ادب

927566_3970896_adab1_magazine.jpg

دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں ایک بھی قوم ایسی نہیں جس نے کسی دوسری زبان میں ترقی کی ہو۔۔

دنیا کا جدید ترین ملک اسرائیل، اسرائیل میں کسی کو انگریزی نہیں آتی۔

کم مدت میں انتہائی ترقی کرنے والا ملک جرمنی ، جہاں لوگ انگریزی سے نفرت کرتے ہیں۔

دنیائے اسلام کا ترقی یافتہ ملک ترکی جہاں استاد سے لے کر آرمی چیف۔ اور سائنسدان سے لے کر چیف جسٹس تک سارا نظام ترک زبان میں ہے۔

چین میں کوئی سرکاری یا نجی عہدہ دار انگریزی زبان بولتا نظر نہیں آئے گا۔

ایران کا تمام سرکاری نظام فارسی میں ترتیب دیے گئے ہیں، یہاں ہر سال نوبل انعام کے لیے کوئی نہ کوئی نامزد ہوتا ہے۔

پتا نہیں کس نے ہمارے دماغ میں بٹھادیا کہ ہم انگریزی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتے؟

عجیب ہے کہ اردو ادب کی تاریخ ہزار سالہ پرانی ہےاور انگریزی ادب تین سو سال سے پہلے نظر نہیں آتا۔

ہمیں اپنی زبان کو اہمیت دینی ہوگی اگر دنیا میں نام بنانا ہے تو۔

ساری دنیا ترقی کر گئی اپنی زبان کی بدولت اور ہم نے آدھی عمر گنوادی انگریزی زبان سیکھتے سیکھتے...

قومی زبان کی اہمیت
 

عثمان

محفلین
سیما علی صاحبہ، تحریر کا معیار اور ساخت دیکھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ کوئی وائرل ٹوئٹ یا کسی واٹس ایپ گروپ کا بھٹکا ہوا مراسلہ ہوگا لیکن یہ تو اردو کے ایک معروف روزنامہ کا شائع کردہ اداریہ نکلا۔
اسرائیل میں کسی راہگیر سے انگریزی کے جملے سننا کیا مشکل ہوگا؟ جدید ترک زبان جو اپنے حروف تہجی ہی لاطینی طرز پر استوار کر چکی ہے وہ کب سے قومی زبان کے حق میں مثال کے طور پر پیش ہونے لگی؟
ولیم شکسپئیر اور جیفری چاسر ساڑھے چار سو سال اور سات سو سال پرانے ہیں۔ انگریزی کے تانے بانے اس سےبھی پیچھے جاتے ہیں۔
اس تحریر کے محض پہلے فقرے پر ہی تبصرہ کرتے ہوئے عرض کروں گا کہ امریکی قوم کی مثال لیجیے جنہوں نے ناصرف قومی زبان میں ترقی کا مغالطہ غلط ثابت کیا بلکہ قوم کی روایتی تعریف ہی کو ازسرنو تبدیل کر ڈالا۔ مختلف نسل، زبان، تاریخ اور اقدار کے حامل دنیا کے مختلف خطوں، ملکوں اور معاشروں سے آئے لوگوں نے ایک بلکل نئی طرز کی قوم بن کر ترقی پائی۔ وہاں اب نہ تو اینگلو سیکسن کوئی واضح اکثریت میں ہیں اور نا امریکی انگریزی وہ انگریزی رہی ہے۔
ترقی کسی زبان کی محتاج نہیں۔ انگریزی کی اور نہ ہی کسی قومی زبان کی۔ کوئی بھی خاص زبان ایک سہولت ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور کیوں نہ اٹھائیں۔ پاکستان میں انگریزی کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان کے شہری انگریزی سے ایک واضح تعلق رکھتے ہیں۔ جرمنوں، چینیوں اور ایرانیوں کو انگریزی بولنے اور اس سے تعلق جوڑنے میں دقت ہے، پاکستانیوں کو نہیں۔ اس سلسلے میں کوئی عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
روزنامہ جنگ کو چاہیے کہ اپنی قومی زبان کو اہمیت دینے کا آغاز اپنے اداریے سے کرے ۔ معلومات کی تصدیق سے بھی پہلے کم از کم بے ربط جملوں کو ایک مضمون کی طرز دینے کی کوشش کریں۔
 

زیک

تقریباً غائب
دنیا کا جدید ترین ملک اسرائیل، اسرائیل میں کسی کو انگریزی نہیں آتی۔

کم مدت میں انتہائی ترقی کرنے والا ملک جرمنی ، جہاں لوگ انگریزی سے نفرت کرتے ہیں۔
اسرائیل دنیا کا جدید ترین ملک نہیں ہے اور اکثر اسرائیلی کچھ انگریزی جانتے ہیں کہ سکول میں پڑھائی جاتی ہے۔

جرمنی کو کم مدت میں ترقی کرنے والا قرار دینا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ معلوم نہیں لوگ انگریزی سے نفرت کرتے ہیں یا نہیں (میں جتنی بار بھی گیا ان سے انگریزی ہی بولی اور نفرت محسوس نہ کی) لیکن اکثریت انگریزی جانتی ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
میں جتنی بار بھی گیا ان سے انگریزی ہی بولی اور نفرت محسوس نہ کی) لیکن اکثریت انگریزی جانتی ہے۔
ہمارا مطلب قعطناً ایسا نہ تھا بس مقصد قومی زبان کو اہمیت دینا تھی درست کہا آپ نے ۔۔۔جب دوبارہ پڑھا تو بہت ساری غلطیاں ہیں ۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
ترقی کسی زبان کی محتاج نہیں۔ انگریزی کی اور نہ ہی کسی قومی زبان کی۔ کوئی بھی خاص زبان ایک سہولت ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور کیوں نہ اٹھائیں۔ پاکستان میں انگریزی کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان کے شہری انگریزی سے ایک واضح تعلق رکھتے ہیں۔
صد فی صد درست دوبارہ پڑھنے پر بہت سی باتیں درست نہیں بس مقصد قومی زبان کو اہمیت دینا تھی کبھی کبھی ہم قومی زبان کے معاملے میں جانبدار ہو جاتے جو کسی طور صحیح نہیں ٹھنڈے دل سے جب پڑھا تو خامیاں نظر آئیں ۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
کبھی کبھی آپ پر وہ کیفیت ہوتی جب آپ کو صرف اپنی زبان کی حمایت میں آپ بہت زیادہ جانبدار ہوجاتے ہیں اور جب واقعتاً ٹھنڈے دماغ سے پڑھتے ہیں تو بالکل ٹھیک نہیں لگتا اسی لئیے بزنس کمیونیکشن میں جو آپ سوچ رہے ہوتے ہیں وہی آپ پڑھ رہے ہوتے ہیں اور لکھ بھی وہی رہے ہوتے ہیں جو سوچ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ہمیں بہت احساس ہوا کہ اس مضمون کی بہت سی باتیں درست نہیں ہماری غلطی کہ ہم نے وقتی طور پر اُس سے متاثر ہو کر شئیر کیا ۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
انگریزی کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان کے شہری انگریزی سے ایک واضح تعلق رکھتے ہیں۔
سچ بتاؤں تو اس وقت ہمارے ذہن میں انگلینڈ میں کسی کے کہے ہوئے جملے گونج رہے تھے وہ انگریزی کی حمایت میں اسقدر آگے نکل گئیے کے کہتے ہیں کون سی قومی زبان جسکو ہم خود نہیں مانتے ۔۔ اور ہمیں قائل کرنے لگے کہ آپ نے کیوں مشینری اسکول سے پڑھا اور پھر اپنے بچوں کو بھی پڑھایا کہ اسلئے کہ انگریزی اچھی بول سکیں ۔۔مگر اُس وقت بھی ہمارا جواب یہی تھا کہ سب کے باوجود قومی زبان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔
 
Top