قاری صاحب کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری کرنا نہیں

x boy

محفلین
ھم تو بڑے بامروت واقع ھوئے ھیں ! کوئی صحبت کر کے تو دیکھے !

بخدا مسجد کے مین گیٹ پہ کھڑے ھو کر ایک کرم فرما کو اپنا نیا جوتا پہن کر جاتے دیکھا ، ان کی شکل کی طرف دیکھا ، سنت رسول ﷺ کے ادب نے زباں نہیں کھولنے دی کہ پبلک بہت تھی تماشہ لگ جائے گا ! ایک مسلمان کو اگرچہ وہ گنہگار ھو چند ٹکوں کی خاطر رسوا کرنا ھمیں اچھا نہیں لگا !

حج پہ ھمارا نیا خریدا ھوا " سرخ پرنا " یا غترہ ھمارے قافلے کے ھی ایک ساتھی نے اٹھا لیا ! اور مزے سے سارا رستہ اسے استعمال کرتے دیکھتے رھے مگر زباں نہ کھولی کہ مسلمان چند درھم کے عوض بے آبرو نہ ھو جائے !

مجھے معلوم ھے میری تحریروں سے جتنی تکلیف ، بے چینی ، اور افراتفری جناب محترم مفتی محمد الکوھستانی صاحب کو ھو رھی ھے ،، اتنی ھی میرے محترم کرم فرما جناب فقیر اعجاز القادری صاحب کو بھی ھو رھی ھے ! یہ دونوں الگ الگ مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے کے باوجود تصوف کا " مشترکہ درد " رکھتے ھیں !

میں دونوں کو یہ یقین دلانا چاھتا ھوں کہ مجھے ایسی تحریروں کبھی بھی کسی کی دل آزاری مقصود نہیں رھی اور نہ ھی میں یہ تفننِ طبع کے طور پر لکھتا ھوں یا اس سے حظ لیتا ھوں ! مگر جب بات حق کو واضح کرنے کی ھو تو ایک ڈاکٹر کو بے رحم ھو کر آپریشن کرنا ھی پڑتا ھے !

نہ تو میں جدی پشتی دیوبندی ھوں ،جس کی رگ رگ میں بریلویت کئے خلاف زھر بھرا گیا ھو ! اوردیوبندیت کے تعصب میں اس زھر کو اگل رھا ھوں ! بلکہ میں نہ صرف جدی پشتی بریلوی ھوں بلکہ بریلویت کو اسی طرح انجوائے کیا ھے،، کہ سر سے پاؤں تک اس کے شِیرے میں لتھڑا رھا ھوں ، میرے تایا دیوبندی بنے تھے تو سوچا تھا کہ ان کا جنازہ نہیں پڑھوں گا اور ساری برادری ان کو بدمذھب سمجھتی تھی ،، میرے بلڈ گروپ کی خصوصیت ھے کہ یہ چیز کو چھکتا نہیں ھے بلکہ پیٹ بھر کر کھاتا ھے ،، پیر پرستی میں مجھ سے بڑھ کر کوئی نہ تھا ! چلہ کشی اور عرس پر ننگے پاؤں حاضری کا شرف بھی بچپن سے حاصل رھا ،، پھر چودہ پندرہ سال کی عمر میں عرب کی سرزمین آ پہنچے یوں قرآن کی زبان سمجھتے ھی ھدایت کے چراغ جل اٹھے ! توحید کی تلاش میں دیوبند کو گلے لگایا ،، اور علم کے سمندر میں چھلانگ لگا دی !

گویا " جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ھیں " والا معاملہ بن گیا ! علمائے دیوبند کی بڑی بڑی عظیم ھستیوں کی خدمت کا موقع ملا اور حسب توفیق ان سے استفادہ بھی کیا ! مگر مولانا سلیم اللہ خاں صاحب مدظلہ العالی ، مولنا خان محمد کندھیاں شریف والے اور شہید مولانا یوسف لدھیانوی ،، صاحبان سمیت سب کے ساتھ علمی بحث مباحثہ بھی ھوا ،، مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی باق نہیں ان میں سے کوئی بھی مجھے دو باتوں کے بارے میں مطمئن نہیں کر پایا !
اول غوثوں اور قطبوں کا شجرہ اختیارات ،،کہ وہ بستیوں کے ارزاق کا بندوبست کرتے ھیں اور ان کی بلائیں دور کرتے ھیں،،اگر کسی بستی میں کوئی مسلمان نہ ھوں تو انہی غیر مسلموں میں سے کوئی قطب ھوتا ھے ،، اس کی پہچان یہ ھے کہ اھل نظر کو جس کافر کا احترام کرتے پاؤ ،تم بھی اس کا احترام کرو ،،ان اختیارات کی کوئی دلیل کتاب و سنت میں موجود نہیں ھے ، البتہ ھندو دیو مالا میں موجود ھے !

دوسری بات صرف دو صحابہ سے تصوف کا سلسلہ نسب چلانا ! اور باقی سارے صحابہ بشمول عشرہ مبشرہ کو اس سے محروم رکھنا ،حالانکہ دیوبندی علماء کا دعوی ھے کہ تصوف دین کی روح ھے ،مگر یہ روح صرف دو صحابہ یعنی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ میں تھی ،، باقی کو نبی ﷺ نے اس روح سے محروم رکھا تھا ! اسکی کوئی دلیل نہ پیش کی جا سکی ھے اور قیامت تک پیش کی جا سکے گی ،کیونکہ یہ شرک کے بعد کائنات کا سب سے بڑا مقدس جھوٹ ھے جو مقدسوں کے منہ سے نکلتا ھے !
ان دو باتوں کو الگ کر لیجئے تو تصوف یا یوگا کو فزیکل فِٹ نیس کے لئے اختیار کیا جا سکتا ھے !
قرآن و سنت کو چھوڑ کر جن مکاشفوں اور تجربات کی بنیاد پر تصوف کو ثابت کیا جاتا ھے ،،وہ ھم پر بھی گزرے ھیں،، جب میں سلسلہ چشتیہ میں سالک تھا تو خواجہ معین الدین چشتی ذکر کرایا کرتے تھے ،، جب میں نے اپنے مرشد کو ان صاحب کا حلیہ بتایا جو ذکر کراتے تھے تو انہوں نے فرمایا تھا کہ یہ خواجہ معین الدین ھیں ،، اسی طرح جنت کی سیر بھی کرائی گئ ،، یہانتک کہ وھاں کے میوؤں سے بھی کچھ چکھایا گیا ،، مگر اللہ کا شکر ھے کہ ھوش آتے ھی قرآن وائرس کو الگ کر دیتا تھا اور انگلی رکھ کر بتاتا تھا کہ !

خواب ھے جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا !
کرامات سے بھی نوازا گیا مگر قران نے اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیا ،، بچے کو اغوا کرنے کے لئے ھمیشہ کچھ نہ کچھ کھلایا جاتا ھے ،،بخدا آپ قرآن کا ھاتھ پکڑ لیں اسے امام بنا لیں اور اس کی مانیں تو آپ کبھی بھٹک نہیں سکتے !
یہ ایک وضاحت تھی ،،
 
ھم تو بڑے بامروت واقع ھوئے ھیں ! کوئی صحبت کر کے تو دیکھے !
نجانے کس مسخرے کی تحریر ہے۔۔۔ جسے شائد یہ بھی نہیں پتہ کہ صحبت اٹھانے اور صحبت کرنے میں کیا فرق ہوتا ہے۔۔۔یا پھر موصوف واقعی بہت بامروت واقع ہوئے ہیں چنانچہ ان سے صحبت کر چکنے کے بعد سب لوگ اسکا اقرار کرتے پائے جاتے ہیں۔۔۔:laugh:
 

x boy

محفلین
نجانے کس مسخرے کی تحریر ہے۔۔۔ جسے شائد یہ بھی نہیں پتہ کہ صحبت اٹھانے اور صحبت کرنے میں کیا فرق ہوتا ہے۔۔۔ یا پھر موصوف واقعی بہت بامروت واقع ہوئے ہیں چنانچہ ان سے صحبت کر چکنے کے بعد سب لوگ اسکا اقرار کرتے پائے جاتے ہیں۔۔۔ :laugh:
آپ کو مرچی کیوں لگ رہی ہے کیا کسی دکتی رگ پر پیر رکھ دیا قاری صاحب نے۔
 

x boy

محفلین
قاری صاحب کی اور باتیں،،، ابوظہبی پاکستان کونسلیٹ مسجد
بعض لوگ بڑے دور کی کوڑی لاتے ھیں تا کہ ان کے بزرگوں کا بھرم قائم رھے اور ان کا دامن ھاتھ سے نہ چھوٹے !

کہ قاری صاحب ! اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرتا ! یہ غوث و قطب جو بھی کرتے ھیں اللہ کا حکم پا کر کرتے ھیں !

میں یہ کہتا ھوں کہ اللہ سے اب براہ راست حکم پانے کا عمل انسانوں کی حد تک ختم ھو گیا ھے کیونکہ یہ حکم پانے کے لئے وحی اور نبوت ضروری ھے ،، آخری نبی ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ اختتام پذیر ھو چکا ھے، جو لوگ غوث و قطب کے اللہ سے احکامات پانے کا دعوی کرتے ھیں وہ ختمِ نبوت کے منکر ھیں ،، پھر یہ حکم شیعہ کے اماموں کو کیوں نہیں مل سکتا ؟ ان کو ختم نبوت کا منکر کس دلیل سے قرار دیتے ھو ؟

آخر اللہ کا یہ حکم اس وقت کیوں نہ آیا جب امت کے بہترین انسان ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے سلسلے میں صحابہؓ آپس میں تو تکار کر رھے تھے اور نبی ﷺ کا جسد مبارک ابھی ان کے حجرے میں چارپائی پر پڑا تھا ؟
اللہ کا یہ حکم جو آج ھرمتصوف ھندوستانی پاکستانی پر نازل ھو رھا ھے وہ اسی وقت نازل کیوں نہ ھوا جب خلیفہ راشد دامادِ رسول عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کا سر کاٹا جا رھا تھا اور حضرت نائلہ کے ھاتھ کی انگلیاں ؟ آخر یہ حکم طلحہؓ و زبیرؓ پر اس وقت نازل کیوں نہ ھوا جب حضرت علیؓ ان کو بیعت کی دعوت دے رھے تھے ؟ آخر یہ حکم اس وقت نازل کیوں نہ ھوا جب اس کی شدت سے ضرورت تھی کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور نبی ﷺ کا چچازاد داماد آمنے سامنے لشکر لیئے کھڑے تھے اور نبی ﷺ کے صحابیؓ اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ ایک دوسرے کی گردنیں مار رھے تھے ،، ؟

آخر اسی وقت کوئی غوث کیوں نہ ھوا اور اللہ کا حکم نازل کیوں نہ ھوا جب امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ اور امیر معاویہؓ کی فوجیں ایک دوسرے کو تہہ تیغ کر رھی تھیں اور ایک دن میں 30 ھزار " شہید " کر دیئے گئے ؟

کیا یہ غوث جن انڈوں سے نکلتے ھیں وہ انڈے دینے والی مرغیاں صرف ھندوستان اور ایران میں پائی جاتی ھیں ؟

انکم لتقولوں قولاً عظیماً !
 
کیسے کیسے جاہل لوگ مسلمانوں کی امامت اور وعظ و تذکیر کے منصب پر فائز ہوگئے ہیں ۔ ۔۔۔(یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے)۔ نام نہاد قاری صاحب کے ذہن میں کئی امور باہم مختلط ہیں اور کہیں کی اینٹ کو کہیں کا روڑا ملا کر ایک عجیب و غریب بدہئیت اور بے روح مجموعہ تراش رکھا ہے اوہام و وساوس کا جسکا نام اپنے تئیں "دین" رکھا ہوا ہے۔۔۔
سمجھنے والوں کیلئے تو سورہ کہف میں موسیٰ علیہ السلام اور اس علم لدنی کے حامل اس بندے کے واقعات میں بھی ہدایت کا کافی سامان ہے (اگر دلوں پر قفل نہ پڑے ہوں تو)۔۔۔۔
مسخرے مولوی نے کیا ہوشیاری سے خلط مبحث پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ "اب اللہ کی طرف سے براہِ راست حکم پانے کا عمل ختم ہوگیا ہے"۔۔تو یہاں کون کہہ رہا ہے کہ اولیاء و صلحاء کے دل میں نورِ بصیرت کے تحت پیدا ہونے والا داعیہ اور کسی عام مسلمان کے دل میں استخارے کے نتیجے مییں پیدا ہونے والا رحجان و میلان انبیاء کے قلوب پر نازل ہونے والی وحی کے مترادف ہے۔۔۔۔
اور جہاں تک انڈوں والی بکواس کی گئی ہے اسکے لئے یہی شعر کافی ہے کہ:
حضرت کی یاوہ گوئی، کچھ مستند نہیؔں ہے
کہنے کی حد ہے لیکن، بکنے کی حد نہیں ہے
 

x boy

محفلین
چلو غزنوی بھائی
آپ کا پرابلم بھی وہی ہے جو میں سمجھ رہا ہوں بلکل وہی جو مکے کے پرانے لوگ کہاکرتے تھے۔ آپ اس سے تو باہر نکلے کہ فلاح فلاح ہے اور ایک نقطہ پر اختتام ہے
آپ تو دبئی میں ہوتے ہیں یہاں کبھی آپ کو جمعے کا خطبہ تو سننے کا موقع ملا ہوگا نا،
ان حطبوں میں ذندگی کے مسائل اور رہنے کا طریقہ قرآن الکریم اور سنت رسول اللہ سے سمجھایا جاتا ہے یہ نہیں کہ کرتے کہ ایک جگہہ بیٹھ کر چلا کاٹو سانس کو ایسے نکالو ویسے نکالو، ایک کہو ال دوسرا کہے لا اس بگاڑ والے اسلام سے یہاں پریکٹیکل اسلام میں لاتے ہیں
جیساکہ اس جمعے کے حطبے میں بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کے موضوع اور عیال و جیران کے موضوع تھا کافی حد تک کلئر کردیا کہ ذندگی میں یہ معاملے کتنے اہمیت کے حامل ہیں انہیں عرب کو آپ لوگ جاہل کہتے ہو، اور اپنی بیماریوں کو چھپاکر اور زیادہ کردیتے ہو، بجائے اس کے کہ صحیح اسلام سیکھیں جو سکھائے اس پر غلط الزامات لگاتے ہو، آپ کی عمر پکی عمر ہے سمجھ سے بالاتر کوئی کسی کو زبردستی سمجھا نہیں سکتا ۔
آخر میں سورۃ العصر پیش کرتا ہوں
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
عصر کی قسم (۱) کہ انسان نقصان میں ہے (۲) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے (۳)

میں نہ دیوبندی ہوں ، نہ بریلوی اور نہ کوئی دین کی بگڑی ہوئی شکل والوں تقلید کرتا ہوں
قرآن الکریم اللہ کی کتاب ھدایت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مسلمانوں کے لئے افضل جو کوئی اس سے مجھے سکھاتا ہے تو میں سیکھنے کی آخری حد تک کوشش کرتا ہوں، اس کے علاوہ دنیاوی علم جو میں نے حاصل کی اس سے تو اپنی اور اپنے گھر والوں کی اللہ کے فضل سے اچھی کفالت کرتا ہوں اللہ پاک نے میری ذندگی میں کوئی کمی او کسی قسم کی محرومیت نہیں رکھی،،،، الحمدللہ، ثم الحمدللہ

الحمدللہ ،،، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی آل پر اور صحابہ کرام اجمعین پر سلامتی ہو، جو مسلمان مومنین دفن ہیں ان کی قبریں بھی ٹھنڈی ہو اور قیامت تک ، اٹھائے جانے والے دن تک یہ معاملہ رہے، اور جو ذندہ ہیں ان پر بھی سلامتی ہو ، موت کے بعد بھی سلامتی ہو، آمین ، ثم آمین
 
آخری تدوین:

الشفاء

لائبریرین
قاری صاحب کی اور باتیں،،، ابوظہبی پاکستان کونسلیٹ مسجد

آخر اللہ کا یہ حکم اس وقت کیوں نہ آیا جب امت کے بہترین انسان ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے سلسلے میں صحابہؓ آپس میں تو تکار کر رھے تھے اور نبی ﷺ کا جسد مبارک ابھی ان کے حجرے میں چارپائی پر پڑا تھا ؟!

افسوس صد افسوس۔۔۔ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔۔۔

آخر یہ حکم اس وقت نازل کیوں نہ ھوا جب۔۔۔۔ نبی ﷺ کے صحابیؓ اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ ایک دوسرے کی گردنیں مار رھے تھے ،، ؟!

ہمارے آقا و مولا علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان عظمت نشان ہے ، اصحابی کاالنجوم، بایھم اقتدیتم اھتدیتم۔۔۔

کیا یہ غوث جن انڈوں سے نکلتے ھیں وہ انڈے دینے والی مرغیاں صرف ھندوستان اور ایران میں پائی جاتی ھیں ؟!

حدیث قدسی میں اللہ عزوجل کا فرمان عبرت نشان ہے ، مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ۔۔۔
۔۔۔
کیا ہو گیا سرکار غلاموں کو تمہارے
بیچاروں کے سینوں سے عداوت نہیں جاتی۔
 
آخری تدوین:

x boy

محفلین
ایک زبردست توحیدی شاعر نے ان باتوں کو اس طرح بیان کیا ہے

کرے غیر گربت کی پوجا تو کافر
جو ٹہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
کواکب میں ما نے کرشمہ تو کافر


مگر مومنوں میں کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں



نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبیوں سے بڑھائیں


مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

نہ توحید میں خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جا ئے


وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں
ہوا جلوہ حق زمیں و زماں میں


رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں
وہ بدلا گیا آکے ہندوستان میں


ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی کھوبیٹے آخر مسلماں



مولانا الطاف حسین حالی رحمہ اللہ
 

S. H. Naqvi

محفلین
لڑی کے نام سے سمجھ پڑا کہ "قادری صاحب کا مقصد کسی کی دل آزاری ہر گز نہیں" تو سوچ میں پڑھ گیا کہ کم از کم نوازشریف کی دل آزاری کے بغیر تو انقلا ب ممکن ہی نہیں۔۔۔۔۔:p سو دل آزاری تو ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ مگر لگتا ہے کافی عرصے سے کسی نے کوئی تماشہ نہیں لگایا:cool:۔۔۔ ماحول ٹھنڈا ہی رہا۔۔۔۔۔ سو گرمی بڑھ رہی ہے۔۔۔۔!;)
 

x boy

محفلین
قاری صاحب کا گرما گرم پہلی قسط ابھی ابھی لے کر آیا ہوں ملاخظہ فرمائے۔۔


اسلام سے قبل مکے والے اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ کر کے بھی مشرک کیوں کہلائے ؟

قل من یرزقکم من السماء والارض ؟ ائے نبیﷺ ان سے پوچھئے " تمہیں کون رزق دیتا ھے آسمان و زمین سے؟

ام من یملک السمع والاابصار ؟ یا سمع و بصارت کس کی ملکیت ھیں ؟

و من یخرج الحیَ من المیتِ ؟ اور کون نکالتا ھے زندہ میں سے مردہ کو ؟

ویخرج المیتَ من الحی ؟ اور کون نکالتا ھے مردہ میں سے زندہ کو ؟

و من یدبر الام۔ر ؟ اور کون کرتا ھے تدبیر تمام امور کی ؟

فسیقولونَ اللہ !!!!! تو فوراً کہیں گے " اللہ "

فقل افلا تتقون ؟ تو کہیئے پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ھو ( غوثوں " لات منات ،عزی "کو پکار کر )

ٖفذالکم اللہ ربکم الحق ! فماذا بعد الحق الا الضلال ! فانۜی تُصرفون ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ !
پس یہی اللہ ھی تو تمہارا حقیقی پالنہار ھے ،، پھر حق کے بعد اور بچتا کیا ھے سوائے گمراھی کے ؟ پھر تم کیسے ( اللہ ) سے پھیر لئے جاتے ھو ؟
( یونس ،31- 32 )
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
قل لمن الارض و من فیھا ،ان کنتم تعلمون ؟(84 )

ائے نبی ﷺ ان سے پوچھئے " کس کی ھے زمین اور جو کچھ کہ اس میں ھے ؟ اگر تم جانت ( عالم ) ھو ؟

سیقولون للہ !!

تو کہیں گے " اللہ کا ھے !

قل افلا تذکرون ؟

ان سے کہئے پھر یہ تمہیں اس وقت یاد کیوں نہیں رھتا( جب غیروں سے مانگتے ھو ) ( 85 )

قل من رب السمواتِ السبعِ ورب العرش العظیم ؟ ( 86 )

پوچھئے کون رب ھے سات آسمانوں کا اور عرشِ عظیم کا ؟

سیقولون للہ ! ( 87 )

تو جواب دیں گے " اللہ کا ھے " !

فقل افلا تتقون ؟

تو فرمائئے کہ پھر تم اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں ھو ( جب غیروں سے اس کی چیز مانگتے ھو )

قل من بیدہ ملکوت کل شئً و ھو یجیرُ ولا یجارُ علیہ ،، ان کنتم تعلمون ( 88 )

ان سے پوچھئے کہ کس کے ھاتھ میں ھے اختیار ھر چیز کا اور وہ پناہ دیتا ھے ،اس کے خلاف کسی کو پناہ نہیں دی جا سکتی اگر تم جانتے " عالم " ھو ؟

سیقولون " للہ " قل فانی تُسحرون ؟ ( 89 )

تو فوراً کہیں گے " اللہ کا ھے " تو آپ کہیئے کہ پھر اس وقت تم پر جادو کیسے کر لیا جاتا ھے ( جب غیروں یعنی غوثوں سے مانگتے ھو )

اب دیکھ لیجئے کہ سورہ المومنوں کی ان آیات میں مشرکین مکہ کے " اللہ اللہ اللہ " کے بعد اللہ نے ان کے لئے کہیں تعریفی و توصیفی کلمات نہیں کہے بلکہ ھر اللہ کے بعد طنزیہ جملہ کسا ھے ! اور آخر میں تو بات ھی ختم کر دی ھے ، فرمایا

بل اتینا ھم بالحق ،، و انھم لکاذبون ( 90 )

بلکہ ھم ان کے پاس حق لے کر آئے اور یہ لوگ ( اپنی اللہ اللہ اللہ ) میں یقیناً جھوٹے ھیں !

ما اتخذ اللہ ولداً وما کان معہ من الہٍ !

نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ ھی کوئی اس کی الوھیت میں شریک ھے !

اذاً لذھب کل الہ بما خلق و لعل بعضھم علی بعض !! سبحان اللہ عما یصفون ( 91 )

اگر اللہ کے سوا کوئی الہ ھوتا تو اس صورت میں ھر الہ اپنی اپنی مخلوق کو لے کرایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا !
( تخلیق کے بغیر کوئی الہ ھو ھی نہیں سکتا اوراس کائنات کی بقا بتاتی ھے کہ اور کوئی صاحب ِ اختیار و اقتدار ھے ھی نہیں ورنہ اب تک اس کائنات کا وجود خداؤں کی آپس کی جنگ میں ختم ھو چکا ھوتا کیونکہ ھر صاحب اختیار دوسرے کی رائے سے اختلاف کرتا ھے اور اختلاف جنگ تک لے جاتا ھے ) اللہ پاک ھے اس عیب سے جو وہ اس میں بیان کرتے ھیں ،، ( 91 )

عالم الغیبِ والشہادۃِ فتعالی عما یشرکون ( 92 )

المومنون ( 84 تا 92 )

جاری ھے
 

x boy

محفلین
دوسری قسط
ولئن سألتھم من خلق السمواتِ والارض و سخر الشمس والقمر لیقولن اللہ - فاںی یؤفکون ؟

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیئے آسمان اور زمین اور مسخر کیا سورج کو اور چاند کو ،،،

تو یقیناً کہیں گے کہ اللہ نے ! پھر جھوٹ کیسے بول لیتے ھیں ( کہ فلاں فلاں کائنات میں تصرف کرتا اور لوگوں کو دیتا ھے جبکہ وہ فلاں کی چیز ھی نہیں تو کیا وہ چوری کر کے دیتا ھے یا اللہ سے چھین کر زبردستی دیتا ھے )

اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ و یقدر لہ ، ان اللہ بکل شئ علیم !

اللہ ھی کھولتا ھے رزق اپنے بندوں میں سے جس کا وہ چاھتا ھے اور وھی اس کا رزق تنگ بھی کرتا ھے ( پیر کھارا شریف نہیں نہ کوئی زندہ پیر نہ مردہ پیر نہ گھوڑے شاہ ) یقیناً اللہ ھر شئ کے متعلق علم رکھتا ھے !

ولئن سالتھم من نزل من السماء مآءً فاحیا بہ الارض بعد موتھا ؟ لیقولن اللہ !! قل الحمد للہ بل اکثرھم لا یعقلون !

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے نازل کیا آسمان سے پانی پھر زندہ کیا اس سے زمین کو مردہ ھونے کے بعد ؟ تو وہ یقیناً کہیں گے اللہ نے ! آپ کہیے الحمد للہ ( یہ میرے رب کی عظمت ھے کہ تمہیں ان کا فاعل اس کے سوا کوئی نہ ملا ) مگر ان کی اکثریت عقل نہیں رکھتی ،،

اب غور فرمایئے کہ انہوں نے سوال کے جواب میں بالکل توحید کا جواب دیا ھے ،، اور اللہ پاک پلٹ کر انعام میں ان کو بے عقل کہہ رھا ھے !! یہ ماجرا کیا ھے ؟

ماجرا یہ ھے کہ وہ یہ مان کر پھر بھی فصل میں سے اپنی درگاھوں کا حصہ نکال کر خود اپنے عمل سے اپنے قول کی تردید کر دیتے تھے ! جس کا ذکر اس کے بعد والے مضمون " بے چارے مکی مشرک " میں آئے گا !

-------------------------------------------------------------------------------------------------------

لقمان - 25

ولئن سالتھم من نزل من السماء مآءً فاحیا بہ الارض بعد موتھا ؟ لیقولن اللہ !! قل الحمد للہ بل اکثرھم لا یعلمون !

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے نازل کیا آسمان سے پانی پھر زندہ کیا اس سے زمین کو مردہ ھونے کے بعد ؟ تو وہ یقیناً کہیں گے اللہ نے ! آپ کہیے الحمد للہ ،، مگر ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی !

یعنی ان کا اللہ کہہ دینے کے بعد بھی اللہ نے یہ " بے عمل " اللہ مسترد کر دیا ،،

اس کو یوں سمجھئے کہ ایک بدکار عورت سے کوئی شوھر سوال کرے کہ تمہیں بیاہ کر کون لایا ؟ وہ کہے آپ ،، حق مہر کس نے دیا ؟ آپ نے ! زیور کس نے ڈالا ؟ آپ نے ! تیرے 32 دانتوں سے جو نکلا وہ کس نے پورا کیا ؟ وہ کہے آپ نے ،، اس آپ آپ آپ کا جواب کیا یہی نہیں بنتا کہ پھر تم بڑی بےغیرت عورت ھو جو رات کو کہیں اور چلی جاتی ھو ،،کیا شوھر اس کی آپ آپ آپ پر دیگیں بانٹے گا یا بھنگڑے ڈالے گا ؟

ولئن سالتھم من نزل من السماء مآءً فاحیا بہ الارض بعد موتھا ؟ لیقولن اللہ !! قل الحمد للہ بل اکثرھم لا یعلمون !
 

x boy

محفلین
تیسری قسط
مکے کا ناپاک شرک بمقابلہ ھمارا پاک شرک !




1983 کی بات ھے ھماری بیٹھک میں ایک صاحب نے جو پہلے کسی اسپتال میں خون آلود پٹیاں اٹھانے کا کام کرتے تھے اور ریٹائرڈ ھو کر " ڈاکٹر " بن گئے تھے ، اپنا کلینک کھول رکھا تھا ! ویسے یہ بھی ھمارا المیہ ھے کہ ھم ریٹائرڈ ھونے کے بعد ھی کچھ بن کر دکھاتے ھیں ،،مثلاً ھر ڈکٹیٹر ریٹائرڈ ھونے کے بعد جمہوریت کا ماما بن جاتا ھے اور ٹی وی پر آ کر جمہوریت کے فوائد گنواتا ھے،، خود ایک انقلاب کی قیادت کرنے والا پنڈی کور کا کور کمانڈر جنرل عزیز ریٹائرڈ ھونے کے بعد جنرل عزیز علیہ السلام بنا پھرتا ھے اور علماء سے فتوے مانگتا ھے کہ امریکی جنگ میں شامل ھونے کا جو فیصلہ اس نے مشرف کے ساتھ مل کر کیا تھا ،نواز شریف کا اس فیصلے پہ قائم رھنا اسلامی ھے یا غیر اسلامی ؟ خیر بات لمبی ھو جائے گی ورنہ ھمارے پاس اس کی ڈھیر ساری مثالیں ھیں !



مجھے دو دن سے گلے کا سخت انفیکشن چل رھا تھا ! دس بجے کے قریب ان کے " کلینک " میں حاضر ھوا اور عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب امیپیسیلین یا کوئی اور اینٹی بائیوٹکس دوا ھے تو دے دیں ! وہ ایک خاص ادا سے اٹھے اور اپنی اس الماری کی طرف تشریف لے گئے کہ جس میں پچوں کی ٹافیاں رکھنے والے پلاسٹک کے ٹرانسپیرنٹ ڈبے رنگ برنگے کیپسولوں سے بھرے پڑے تھے ،، الماری کے ساتھ ھلکی سے ٹیک لگا کر انہوں نے فرمایا " قاری جی ذرا ایدھر آسو " میں بھی تجسس کا مارا جھٹ پٹ الماری کے پاس پہنچا کہ شاید شیشے میں میرا منہ کھلوا کر دیکھنا چاھتے ھیں ! انہوں نے رنگ برنگے کیپسولوں ڈبوں کی طرف اشارہ کیا اور ارشاد فرمایا" قاری جی رنگ پسند کرو کس رنگ کے کیپسول چاھئیں"،ویسے سب میں ایمپیسیلن ھی ھے -



تاریخ کے ڈاکٹروں نے بھی ھمارے ساتھ یہی کچھ کیا ھے ! ھماری تاریخ میں چاھے وہ ملتِ اسلامیہ کی تاریخ ھو یا پاکستان کی تاریخ ،،ھمیشہ ھمارا پسند کا رنگ ھی دکھایا گیا ھے ! مگر میرا موضوع آج یہ نہیں ھے بلکہ یہ ھے کہ ھم نے تاریخ لکھتے وقت مکے کے مشرکین کے ساتھ بھی بہت بڑی زیادتی کی ھے ! یہ زیادتی کتابوں سمیت محراب و منبر سے بھی کی گئ ھے اور کی جا رھی ھے اور اس کا مقصد صرف اپنے گناہ کو نیکی بنا کر پیش کرنا ھے

حقیقت یہ ھے کہ مکے والوں کا شرک ھمارے شرک کے آگے کچھ نہیں بیچتا ! وہ صرف چار استھانوں کو چڑھاوا دے کر مشرک تھے جبکہ ھم نے گلی گلی اور چوک چوک استھان بنا رکھے ھیں ،، 360 بت نکے والوں کے نہیں تھے ،جس قبیلے کے ساتھ مکے والوں کا معاہدہ ھوتا تھا اس قبیلے کا بت کعبے میں رکھ کر سفارتی تعلقات قائم کر لیئے جاتے تھے ، اور جس قوم کے ساتھ معاہدہ ٹوٹ جاتا ، اس قوم کا بت میقات کے باھر پھینک دیا جاتا تھا ، اور یہ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی نشانی تھا ، مکے والے 360 کے پجاری نہیں تھے ! پھر دو مغالطے مزید دیئے جاتے ھیں تا کہ اپنے شرک کو مکی شرک کے مقابلے میں متبرک ثابت کیا جائے ! لفظ عبادت سے یوں ظاھر کیا جاتا ھے گویا مکے والے ان بتوں کو سجدہ کرتے تھے ،، ایسا بالکل نہیں تھا ،پورےقرآن اور ذخیرہ احادیث میں ایسا ایک واقعہ بھی نہیں کہ فلاں بندے نے ابوجہل ،عتبہ ،ربیعہ یا ابولہب کو بتوں کو سجدہ کرتے دیکھا ،، ان کا شرک صرف بتوں کے استہانوں پر جانوروں اور اناج ، دودھ وغیرہ کے چڑھاوے چڑھانے ، ان کی منتیں ماننے اور ان کے وسیلے سے دعا مانگنے تک محدود تھا ،،اور یہ وہ کام ھیں جو آج پاک و ھند میں 80 فیصد مسلمان کرتے ھیں – مکے والے بیت اللہ کے متولی تھے حج اور عمرہ کرتے تھے ، حاجیوں کو کھانا کھلاتے تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے،سورہ الماعون میں مکے والوں کی نماز کی مذمت کی گئ ھے ،، ورنہ مکے میں منافق کوئی نہیں تھا – قرآن میں دو جگہ مکے والوں کی نماز کا ذکر کر کے اس کی مذمت کی گئ ھے ،ایک تو سورہ الماعون ھے اور دوسری سورت الانفال کی آیت 35 میں ! حضرت ابوذر غفاریؓ کا قول موجود ھے کہ میں اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی نماز پڑھتا تھا،،اسی لئے نماز کو قائم رکھو کا حکم دیا گیا تھا ،،کہ نماز کی عبادت جاری رکھو ،بتوں کی وجہ سے اسے مت ترک کرو ،، لہذا سامنے ھونے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو جاری رکھے ھوئے تھے ! جو پہلے نفل تھی معراج میں فرض کی گئ !

دوسرا مغالطہ یہ دیا جاتا ھے کہ مکے والے مردہ بتوں کو پکارتے تھے اس لئے ان کا شرک ناپاک تھا جب کہ ھم زندہ ھستیوں اور اللہ کے پیاروں کو پکارتے ھیں لہذا ھمارا شرک سات دودھوں سے دھویا ھوا ھے ! یہ بھی سرا سر غلط ھے ،مکے والے بھی زندہ ھستیوں کو پکارا کرتے تھے اور ان ھی کے نام کے بکرے دیا کرتے تھے ،،اور اعتراض پر جواب دیتے تھے کہ " ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی ( الزمر 3 ) ھم ان کی پوجا پاٹ ( اس سے مراد سجدہ نہ لیجئے گا بلکہ چڑھاوے ،نذرانے مراد ھیں ) اس لئے کرتے ھیں کہ یہ ھمیں اللہ کے قریب کر دیں کیونکہ یہ خود اللہ کے پیارے ھیں " یہی بات آپ کو داتا کے دربار پر کھڑا ھر زائر کہے گا کہ ھم تو ان کو اللہ کا پیارا سمجھ کر ان کے وا سطے سے مانگتے ھیں ،خدا تھوڑا ھی مانتے ھیں،، یہ خدا سے لے کر دیتے ھیں،،یہ ھمارے سفارشی ھیں،، اور یہی عقیدہ مکے والوں کا قرآن میں بار بار آیا ھے ! ھؤلاء شفعاءنا عنداللہ !

اب آیئے دلائل کی طرف !

چڑھاوے اور شرک !

لات ،منات عزی اور ھبل بمقابلہ خواجہ غریب نواز ،داتا صاحب ،بابا شادی شہید اور گمگھول شریف !

و جعلوا للہ مما ذرأ من الحرث والانعام نصیباً فقالوا ھذا للہ بزعمھم و ھذا لشرکائنا !

اور ٹھہراتے ھیں حصہ اس کھیتی اور جانوروں میں جنہیں اللہ نے پیدا کیا تو کہتے ھیں کہ یہ تو اللہ کا حصہ ھے ان کے زعم کے مطابق اور یہ ھمارے شریکوں کا حصہ ھے !( الانعام 137 ) اس سے زیادہ شرک مشرکین مکہ سے ثابت نہیں ھے ،، اور یہ شرک آج گلی گلی ھو رھا ھے ! بلکہ لوگ نہ صرف مزاروں کو سجدے کر رھے ھیں جو مکے والوں نے کبھی نہیں کیئے تھے بلکہ بعض زندہ شخصیات کو سجدے کرنے کے کلپ بھی موجود ھیں ،،

مکے والے زندہ ھستیوں کو رب کا مقرب سمجھ کر ان سے سفارش ڈلوانے کے لئے فصلانے اور جانور چڑھاوہ چڑھاتے تھے ! ان کے بتوں کے پیچھے اسی طرح ھستیاں موجود تھیں جس طرح ھمارے مزراوں کے پیچھے ھستیاں موجود ھیں !

و یوم نحشرھم جمیعاً ثمہ نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم و شرکائکم ، فزیلنا بینھم و قال شرکاءھم ما کنتم ایانا تعبدون ه فکفی باللہ شہیداً بیننا و بینکم ان کنا عن عبادتکم لغافلین ( یونس 28،29 )

اور جس دن ھم اکٹھا کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے مشرکوں سے کہ کھڑے ھو جاؤ اپنی جگہ پہ تم بھی اور تمہارے شریک بھی ،پھر ان کے درمیان پھوٹ ڈلوا دیں گے ( اپنے سوال کی وجہ سے ) اور کہیں گے شریک ان کے کہ تم ھماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے ،پس اللہ کافی ھے گواہ ھمارے اور تمہارے درمیان کہ ھم تمہاری عبادت سے یقیناً بے خبر تھے !

سورہ فاطر مین فرمایا !

ان تدعوھم لا یسمعوا دعاءکم ،ولوا سمعوا ماستجابوا لکم ویوم القیامۃِ یکفرونَ بشرککم ، ولا ینبئک مثلُ خبیر ( فاطر 14 )

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے ( گویا مردے سنا نہیں کرتے ) اگر سن بھی لیتے تو تمہاری دعا پوری نہیں کر سکتے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے ،، اور باخبر ھستی جیسی خبر کوئی دوسرا نہیں دے سکتا !

سورہ الاحقاف میں ارشاد فرمایا !

و من اضل ممن یدعو ا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیامۃ و ھم عن دعاءھم غافلون – و اذا حشر الناس کانوا لھم اعداءً وکانوا بعبادتھم کافرین – ( الاحقاف 5،6 )

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ھو سکتا جو اللہ کے سوا ان ھستیوں کو پکارے جو اس کی دعا قیامت تک پوری نہیں کر سکتے اور وہ ان کی دعاؤں سے بے خبر ھیں – اور جب لوگ حشر میں اکٹھے کیئے جائیں گے تو وہ معبود ھستیاں ان کی دشمن بن جائیں گی ( کیونکہ ان کی وجہ سے ان ھستیوں کو بھی حشر مین مقدمے کے فیصلے تک رکنا پڑ گیا ) اور وہ ان کی عبادت یعنی دعا کا انکار کر دیں گے ۔۔ ان دو آیات میں ھی دو باتیں ثابت ھو گئیں،،مکے والے سجدے نہیں کرتے تھے بلکہ اولیاء سے دعا کرتے تھے جس کو اللہ نے عبادت قرار دیا اور دوسرا جن سے وہ دعا کرتے تھے وہ زندہ ھستیاں اور موحدیعنی اللہ کے پیارے لوگ تھے !

میری ان تمام حضرات سے درخواست ھے جو اسلامی نظام اور خلافت کے نام پر مسلمانوں کے قتلِ عام اور مساجد کی بربادی کا اھتمام فرما رھے ھیں کہ پہلے اپنے عقیدے درست کرو ،،کلمے کی لا سے اپنے غوث اور قطب اکابر کے تصرفات و اختیارات کی نفی کرو اور توحید کا دامن تھامو ،، اللہ تمہیں خود خلافت کے لئے چن لے گا ! اور تبلیغی جماعت کے موٹو ،، اللہ سے سب کچھ ھونے کا یقین اور ماسوا اللہ کے کسی سے کچھ نہ ھونے کا یقین پر خود بھی عمل کر لو ! اب تک تو دیوبندی سے سب کچھ ھونے کا یقین اور ماسوا دیوبندی سے کچھ نہ ھونے کا یقین کی دعوت بن گئ ھے ،، جس سے دعائیں کی جا رھی ھیں اگر تو وہ دیوبندی قطب ھے تو پھر سب کچھ ممکن ھے وہ جھٹ میں بحری جہاز بھی بحیرہ عرب سے کھینچ کر بحر ھند میں لا سکتے ھیں ،، لیکن اگر وہ بزرگ بریلوی ھیں تو پھر یہ شرک ھے اور ظلمِ عظیم ھے !
 
تیسری قسط۔۔۔۔
قاری صاحب کچھ لوگوں کے ساتھ صحبت کرواکر باہر نکلے تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔۔جس شاگرد نے انکے پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری لی ہوئی تھی اسکا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔۔۔قاری صاحب نے سوچا اس کمبخت کو بھی آج ہی ناغہ کرنا تھا، پتہ بھی ہے کہ آج محکمہ اوقاف کی طرف سے تنخواہ دی جاتی ہے، اور راستےمیں ویرانہ پڑتا ہے، جیبیں گرم ہیں۔۔اللہ خیر کرے۔۔۔خیر مرتا کیا نہ کرتا کے صداق ، قاری صاحب پیدل ہی اپنے کاشانے کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک جگہ جوبالکل ہی سنسان اور ویران تھی، وہاں پہنچ کر قاری صاحب ذرا تیز تیز قدموں سے چلنے لگے کہ اچانک ایک سیاہ پوش سامنے آدھمکا۔ بڑی بڑی لال انگارہ آنکھیں اور ہاتھ میں ایک تیز دھار خنجر۔۔۔قاری صاحب کے تو پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی۔ خیر جان ہے تو جہان ہے ، چنانچہ قاری صاحب نے جھٹ تمام ریال نکال کر چور کی ہتھیلی پر رکھے۔ چور بھی کافی عجلت میں معلوم ہوتا تھا، چنانچہ اس نے اسی پر اکتفا کرتے ہوئے قاری صاحب کو جانے کی اجازت دیدی۔۔۔قاری صاحب نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ سامنے سے ایک پولیس والا یعنی شرطہ آتا ہوا نظر آیا۔ قاری صاحب کی جان میں جان آئی اور شرطے کو پکارنے ہی والے تھے کہ چور نے اچانک کان میں سرگوشی کی :
ابھی مسجد میں تو آپ یہ درس دے رہے تھے کہ مدد کیلئے غیر اللہ کو پکارنا شرک ہے حرام ہے۔۔جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں ابھی آپکے درس سے اٹھ کر ہی آرہا ہوں۔
قاری صاحب : ہاں تو پھر۔۔۔اس سے کیا ثابت ہوا؟
چور: یہ شرطہ کیا غیر اللہ نہیں ہے؟
قاری صاحب: وہ تو میں دوسرے مسلک والوں کو سنا رہا تھا، میرے مسلک میں ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ پولیس والا مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے، زندوں کو پکارنا جائز ہے بھئی۔
چور: میں آپکے لیکچرز سنتا ضرور ہوں لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ بالکل ہی گھامڑ ہوں۔۔۔سوال زندہ یا مردہ کا نہیں تھا سوال تو یہ تھا کہ غیر اللہ کو مدد کیلئے پکارنا جائز ہے یا نہیں۔ اب آپکی بات سے یہ مطلب نکل رہا ہے کہ غیر اللہ کی دو قسمیں ہیں، ایک زندہ اور ایک مردہ، زندہ غیر اللہ کو بیشک پکارو، لیکن مردہ غیر اللہ کو ہرگز نہ پکارو۔۔۔کیا یہی ہے آپکا مسلک؟
قاری صاحب : چھوڑو یار اب تم نے پیسے تو چھین ہی لئے ہیں اب دفع کرو اس بات کو اور جانے دو۔
چور : نہیں آپ کو اسکی وضاحت کرنا ہوگی، آپ نہیں جاسکتے۔
قاری صاحب: دیکھو، بات یہ ہے کہ اللہ نے اسباب پیدا کئے ہیں اور اللہ کو کارسازِ حقیقی سمجھتے ہوئے، ان اسباب کو استعمال کرلینا جائز ہے، یہ سب اسباب تو وسیلہ ہیں، اب یہ پولیس والا بھی تو وسیلہ ہی ہے جو اللہ نے لوگوں کی مدد کیلئے بنایا ہوا ہے۔ چنانچہ اس سے مدد مانگنا بالکل جائز ہے۔ میں کوئی حقیقت میں تھوڑا ہی اس شرطے کو حاجت روا سمجھ کر مدد مانگ رہا ہوں، حاجت روا تو صرف اللہ ہے۔
چور : تو آپ جن لوگوں کی دن رات مخالفت کرتے ہیں اور شرک کے ڈراوے دے دے کر اپنی تنخواہ کو حلال کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ہوسکتا ہے وہ لوگ بھی اللہ کا وسیلہ اور اسباب میں سے ایک سبب سمجھ کر ہی کسی سے مدد کی درخواست کرتے ہوں اور وہ بھی آپکی طرح اللہ ہی کو حقیقی حاجت روا سمجھتے ہوں؟
قاری صاحب: نہیں ایسا نہیں ہے میں تو ان اسباب سے تمسک کرتا ہوں جو نظر آتے ہیں، وہ تو غیبی چیزوں سے جو نظر نہیں آتیں ان سے مدد مانگتے ہیں۔ کتنا فرق ہے ان دونوں میں۔
چور : ایک منٹ۔۔۔کیا اللہ کا نظامِ اسباب صرف عالمِ شہادت (جو نظر آتا ہے) میں ہی چلتا ہے؟ کیا عالم ِغیب (جو نظر نہیں آتا) اسی کا پیدا کردہ نہیں ہے؟ کیا اس میں اللہ نے کوئی نظامَ اسباب پیدا نہیں فرمایا؟ آپ تو اس دن لیکچر میں فرما رہے تھے کہ اللہ عرش پر ہے اور اس نے بیشمار فرشتے پیدا کر رکھے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے اور انکے ذمے مختلف قسم کے کام ہیں، کوئی مخلوق کی جان نکالنے پر مامور ہے تو کوئی رزق تقسیم کرنے پر، کوئی بادلوں کو کھینچ کر لاتا ہے اور بارشیں برساتا ہے تو کوئی صرف اسی انتظار میں ہے کہ کب صور پھونکنے کا حکم ہوتا ہے تاکہ قیامت قائم ہو۔
قاری صاحب : چھوڑو یار تم تو بال کی کھال کھینچنے لگے۔ بہرحال، اسکا جواب بھی ہے میرے پاس۔ اور وہ یہ کہ ہاں عالم الغیب میں بھی اسباب کا نظام قائم ہے، لیکن مدد ہمیں اللہ ہی سے مانگنی چاہئیے۔
چور : یعنی آپکا مطلب ہے کہ عالم الشہادت اور عالم الغیب، دونوں میں اللہ نے اسباب کا نظام بنایا ہے اور دونوں ہی میں حکم اللہ ہی کا چلتا ہے، لیکن عالمِ الغیب میں جو کام شرک ہے، وہی کام عالم الشہادۃ میں شرک نہیں ہے؟۔۔۔۔
قاری صاحب: (کچھ سوچتے ہوئے اور سر کو کھجاتے ہوئے) ہاں چلو یہ ہی سمجھ لو۔۔۔
چور : لیکن قاری صاحب، ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔ غیب کسے کہتے ہیں؟ کیا وہ جو ہمیں نظر نہیں آتا یا وہ جسکا ہمیں کوئی علم نہیں؟
قاری صاحب: (اٹکتے ہوئے) ہاں آںںںں ہاں یہی سمجھ لو۔۔ دونوں ہی۔
چور : لیکن آپ تو اس دن لیکچر میں سنا رہے تھے کہ فلاں فلاں لوگوں نے فرشتوں کو دیکھا ان سے بات کی۔ اور فلاں فلاں لوگوں کو جنات نظر آئے۔۔۔
قاری صاحب : ہاں یہ تو بہت سی روایات سے ثابت ہے۔
چور : تو پھر وہ جو کچھ انکو نظر ایا، وہ انکے لئے تو عالم الغیب نہ ہوا ناں؟ وہ تو انکے لئے عالمِ شہادت ہی ہوا؟ کیونکہ انکو نظر ایا، اور آپ نے ابھی کہا ہے کہ جو نظر نہ آئے وہ غیب ہے۔
قاری صاحب: اصل میں میرے کہنے کا مطلب تھا کہ جو سمجھ میں نہ آئے وہ عالم الغیب سے ہے۔
چور: قاری صاحب کیا سب انسانوں کی سمجھ ایک جیسی ہوتی ہے؟
قاری صاحب: نہیں
چور: تو پھر ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں کی نسبت زیادہ سمجھ دی گئی ہو، یا یہ کہ انکے محسوسات ا اور نورِ بصیرت کا دائرہ کچھ دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ وسیع ہو، چنانچہ جو بات ایک کیلئے غیب ہے وہ دوسرے کیلئے غیب نہیں بلکہ محسوسات میں سے ہو؟

قاری صاحب: ہاں آںننن تو پھر اس سے کیا ثبت ہوا؟
چور: کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کو جو بات ایک کیلئے شرک ہے وہ دوسرے کیلئے شرک نہ ہو؟ کیونکہ آپ نے خود ہی کہا کہ اسباب جو نظر آتے ہیں سمجھ میں آتے ہیں ان سے تمسک کرنا شرک نہیں ہے۔۔۔
قاری صاحب : لیکن اس سے تم ثابت کیا کرنا چاہ رہے ہو۔ ہمیں عام آدمی کے لیول کی بات کرنی چاہیئے کیونکہ ہم عام لوگ ہیں۔۔
چور: اسکا مطلب ہے کچھ خاص لوگ بھی ہوتے ہیں۔۔۔لیکن خاص لوگوں کی تو عزت کرنی چاہئیے آپ انہیں عزت دینے کی بجائے بڑی حقارت سے پیش آتے ہیں اور بے ادبی کرتے ہیں۔
قاری صاحب: اب تم سے کیا چھپانا، بات یہ ہے کہ اگر ہم ا خاص بندوں کی عزت کرنا شروع کردیں تو ہوسکتا ہے کئی لوگ ہمیں بھی عام بندہ سمجھنا شروع کردیں۔۔۔ پھر ہماری تو کوئی عزت نہ ہوئی ناں۔۔۔سمجھا کرو(بائیں آنکھ دباتے ہوئے)
چور : مجھے تو یہی سمجھ میں آیا ہے کہ ہم دونوں ہی چور ہیں۔ فرق یہ ہے کہ میں لوگوں کا مال ہتھیاتا ہوں اور آپ لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے پر مامور ہیں۔۔۔ مجھے غربت نے اس راہ پر لگا دیا اور آپکو آپکی نفس پرستی نے اپنی اوقات سے بار نکال دیا۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نفس پرستی کا علاج یہ ہے کہ اس نفس کو خوب ذلیل کیا جائے
چنانچہ کافی عزت ہوگئی۔۔۔اب دفعان ہوجاؤ یہاں سے اور دور ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔۔
:D:D:D:laugh::laugh::laugh:
 
آخری تدوین:

x boy

محفلین
145411d1252147233-juma-khutba01.jpg


145412d1252147233-juma-khutba02.jpg

جب بھی حق کی بات کی جاتی ہے باطل کو ہی تکلیف ہوتی ہے کیونکہ اسکی دکانداری بند ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور اوپر اسکا اعتراف موجود ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے بزرگوں کی وہ تمام غلط کام کو چھوڑ نہیں سکتے چاہے انکے سامنے کتاب اللہ سے ٹھوس دلائل دی جائے۔
یہ سارے پیر فقیر مجاور آستانہ لگائے ہوئے اگر صحیح ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ثابت کریں کہ انکا کردار ایسا ہی ہے

اللہ کی اطاعت نبی کی اطاعت اور اتباع صرف نبی ۔ص۔کی

نیکی صرف اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی
اطاعت کا نام ہےصحیح بخاری میں ایک حدیث ہے کہ تین افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے ۔ انہوں نے پردے کے پیچھے سے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عبادت کے بارے میں پوچھا ، ان کی خواہش تھی کہ ہماری رات کی عبادت اس کا طریقہ اور اس کا وقت بھی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ اور وقت کے مطابق ہو ، بالکل ویسے کریں جیسے اللہ کے پیغمبر کیا کرتے تھے ۔
حدیث کے الفاظ ہیں : فلما اخبروا تقالوھا
جب انہیں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عبادت کے بارے میں بتلایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو تھوڑا سمجھا ۔ پھر خود ہی کہا کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ معاف کر دئیے ہیں اور ہم چونکہ گناہ گار ہیں لہٰذا ہمیں آپ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئیے ۔ چنانچہ تینوں نے کھڑے کھڑے عزم کر لیا ۔

ایک نے کہا میں آج کے بعد رات کو کبھی نہیں سوؤں گا بلکہ پوری رات اللہ کی عبادت کرنے میں گزاروں گا ۔
دوسرے نے کہا میں آج کے بعد ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔
تیسرے نے کہا میں آج کے بعد اپنے گھر نہیں جاؤنگا اپنے گھر بار اور اہل و عیال سے علیحدہ ہو جاؤں گا تا کہ ہمہ وقت مسجد میں رہوں ۔ چنانچہ تینوں یہ بات کہہ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ تین افراد آئے تھے اور انہوں نے یوں عزم ظاہر کیا ۔
جب امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو حدیث کے الفاظ ہیں : فاحمر وجہ النبی کانما فقع علی وجھہ حب الرمان ” نبی علیہ السلام کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا یوں لگتا تھا گویا سرخ انار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نچوڑ دیا گیا ہے اتنے غصے کا اظہار فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے یہ کیا بات کی ؟ کیا کرنے کا ارادہ کیا ؟ پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اپنا عمل بتایا کہ میں تو رات کو سوتا بھی ہوں اور جاگتا بھی ہوں ، نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میرا گھر بار ہے اور میری بیویاں ہیں ۔ میں انہیں وقت بھی دیتا ہوں اور اللہ کے گھر میں بھی آتا ہوں ۔ یہ میرا طریقہ اور سنت ہے جس نے میرے اس طریقے سے اعراض کیا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہ ہے ۔ یعنی جس نے اپنے طریقے پر چلتے ہوئے پوری پوری رات قیام کیا ۔ زمانے بھر کے روزے رکھے اور پوری عمر مسجد میں گزار دی اس کا میرے دین سے میری جماعت سے میری امت سے کوئی تعلق نہ ہو گا ۔ وہ دین اسلام سے خارج ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی محنت کا نام نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نام نیکی ہے ۔ ایک عمل اس وقت تک ” عمل صالح نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تائید اور تصدیق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا ۔ کیونکہ وہ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور منہج کے خلاف تھا ۔ یاد رہے کہ کوئی راستہ بظاہر کتنا ہی اچھا لگتا ہو اس وقت تک اس کو اپنانا جائز نہیں جب تک اس کی تصدیق و تائید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فرمادیں


شیخ الاسلام کا قول، ان پیروں کے ماننے والے اگر اللہ کو اس طرح مانے تو صحیح ہے

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فیصلہ کن قول
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں اگر کوئی شخص پہچان لے تو اس نے پورے دین کو پہچان لیا ۔ پورا دین اس کے پاس محفوظ ہوگیا ۔ ایک یہ کہ عبادت کس کی کرنی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ، کسی حجر و شجر کی نہیں ، قبے اور مزار کی نہیں اور نہ ہی کسی نبی ، ولی اور فرشتے کی ۔ دوسرا یہ کہ کس طرح کرنی ہے ؟ جیسے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ۔ پس جو شخص ان دو باتوں کو پہچان لے اس نے سارے دین کو پہچان لیا اور یہ پورے دین کی اساس و بنیاد ہے ۔ اس لئے ہمیں اپنا عقیدہ ، عمل ، منہج ، معیشت و معاشرت ، سیاست سمیت دیگر تمام امور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق بنانا ہوں گے تب اللہ رب العالمین انہیں شرف قبولیت سے نوازیں گے ۔ بصورت دیگر تمام اعمال ، عبادتیں اور ریاضتیں برباد ہو جائیں گی اور کسی عمل کا فائدہ نہ ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
ھل اتاک حدیث الغاشیۃ وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ تصلیٰ ناراً حامیۃ ( الغاشیۃ : 1-4 )
قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل و رسوا ہونگے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ عمل نہیں کرتے تھے ، محبت اور کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ عمل کرتے تھے اور بہت زیادہ کرتے تھے عمل کرتے کرتے تھک جایا کرتے تھے لیکن یہ دھکتی ہوئی جہنم کی آگ کا لقمہ بن جائیں گے ۔ بے تحاشا عمل کرنے والے محنتیں اور ریاضتیں کرنے والے ، صبح و شام سفر کرنے والے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے ۔ کیوں ! اس لئے کہ ان کا عمل اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور طریقے کے مطابق نہ تھا ۔ قرآن و حدیث کے مطابق نہ تھا ۔ اگر عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کو بلا جھجک اور بلا چوں و چراں تسلیم کر لیا جائے تو یہی کامیابی ہے اور یہی ایمان ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے ، عمل اور منہج کو کتاب و سنت کے مطابق بنا دے ۔ تا کہ ہم قرآن و حدیث کو ہی اپنا مرکز اطاعت ٹھہرا لیں ۔ ( آمین )۔

مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں اونچ نیچ ھمیشہ مسلمانوں کے انفرادی نظریات و اعمال پر اثر انداز ھوتی ھے ! اس لئے قرآن وحدیث میں اجتماعی معاملات کو درست رکھنے پر بہت زور دیا گیا ھے ،، اصلحو ذات بینکم ( الانفال ) اور آمرکم بخمسٍ " بالجماعۃِ والسمعِ والطاعۃِ والھجرۃِ والجہاد فی سبیل اللہ !

عیسائیوں پر یہود کے مظالم نے انہیں غاروں کی طرف دھکیل دیا ،، اور پھر رھبانیت کا پورا ادارہ وجود پذیر ھوا ،مگر اس میں صدیاں لگیں !

مسلمانوں میں جنگِ جمل اور جنگ صفین قسم کے واقعات نے اجتماعیت کو سخت نقصان پہنچایا ،جب وہ کسی کا بھی ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے ،،رات کو ایک کو حق پر سمجھتے تو صبح تک رائے تبدیل ھو جاتی اور شام کو پھر ڈانواڈول ھو جاتے ،، دوسری جانب آپس کے قتال سے ممانعت کی قرآنی آیات اور احادیث نے ان کے قدموں میں زنجیریں ڈال رکھی تھیں !

نتیجہ ٹھیک عیسائیت والا نکلا اور تابعین کے زمانے میں بہترین دماغ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر غاروں کے ھو کر رہ گئے ،یہ وہ دور تھا جب تصوف پہلے اسٹیج پر تھا ،جس طرح ٹی بی اور کینسر کے اسٹیج ھوتے ھیں !
پھر ان کو ملنے والی عوامی عزت و توقیر نے اس کو کھاد فراھم کی یوں یہ پودا دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے لگا ، یہ جس علاقے میں پہنچتا وھاں کے چند نظریات بھی اپنا لیتا یوں مقامی آبادی کا ایک معتد بہ حصہ بھی ان کے ساتھ لگ جاتا !

مگر یہ دلدل میں ھندوستان آ کر پھنسا جہاں یوگا کی صورت تصوف کا بھی باپ بیٹھا ھوا تھا ! ھندوستانی یوگا کی اصطلاحات کو عربی اور فارسی میں ڈب کر اپنا لیا گیا یوں ،، غوث و قطب کا چاند تارا تصوف میں جڑا گیا !
دوسری جانب محدثین کا گروہ تھا اللہ پاک انہیں بلند مقام عطا فرمائے کہ وہ مسلسل ان کے تعاقب میں رھا !
انہوں نے اصول ِ حدیث میں لکھ دیا کہ جس حدیث میں " غوث قطب ابدال کا ذکر ھو گا ،، وہ کتنے ھی قوی سند کے ساتھ بیان کی جائے وہ موضوع ھو گی کیونکہ زمانہ رسالت میں ،، غوث قطب ابدال کی اصطلاحات سے اسلام ناواقف تھا ،،یہ بعد کی تخلیق ھیں !


آئے ہم مزاق چھوڑیں اور صحیح دین کو اختیار کریں جو کسی کی میراث نہیں جو حاصل کرنا چاہے اس خزانے کو حاصل کرسکتا ہے بس اسکو مندربالا کہی ہوئی باتوں سے کرنا ہے یعنی اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا طریقہ اس کے علاوہ کچھ بھی قبول نہیں۔
 
آخری تدوین:
بھائی جان جو بھی آپ کا اصلی نام ہے۔

پیر نصیر الدین صاحب نے فرمایا تھا کہ نقل اسی چیز کی ہوتی ہے جس کی اصل بھی ہو۔ اور اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم کس طرح اس اصل تک پہنچتے ہیں۔ اگر آپ تصوف بارے کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کشف المحجوب پڑھ لیں۔ اس کتاب کا ترجمہ میاں طفیل محمد صاحب نے کیا ہے۔ اور عمر بنگش بھائی نے من و عن اسے اپنے بلاگ پر تحریر فرمایا ہے۔ ترجمے کو جھٹلانے سے پہلے یہ دیکھ لیجیے گا کہ طفیل صاحب جماعت اسلامی کے امیر بھی رہے ہیں۔ ترجمہ اقساط میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اپ پڑھ سکتے ہیں اور جو سوال آپ کے ذہن میں ہیں انکے جواب مل جائیں گے۔ کچھ بھی ارشاد فرمانے سے پہلے آپ پہ لازم ہے کہ کتاب کا مطالعہ فرمالیں اور پھر اپنے "پاک" خیالات کا اظہار فرمائیں۔

آخری بات 8 اقساط پیش کی جاچکی ہیں۔ اور یہی ہم اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ جاہل لوگوں کو دیکھ کر ہم (اہل سنت والجماعت) پہ کچھ تھوپتے ہیں تو یہ آپکا جاہل پن ہوگا۔

آخر میں جن لوگوں کے دلوں پہ مہر لگ چکی ہو وہ حضور سرور کونین ﷺ کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔
 
آخری تدوین:

x boy

محفلین
کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کسی آیت میں صوفی مذھب کی تائيد ہوتی ہے

سوال:-
کیا یہ ممکن ہے کہ آپ سورۃ النساء کی آیت نمبر ( 69 ) کی تشریح فرما دیں ؟
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں صوفی مذھب کی تائيد کی گئ ہے اور یہ آیت ہے ہی صوفیوں کے لئے ؟



الحمد للہ
جس آیت کےمتعلق آپ پوچھ رہے ہیں وہ یہ ہے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اور جو بھی اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے ، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا ، ہے جیسے انبیاء ، صدیق ، اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں } النساء ( 69 )

اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

یعنی جس نے وہ عمل کئے جس کا اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور جس سے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روکااس سے رک گئے ، تو اللہ تعالی اسے اپنی عزت و تکریم والی جگہ جنت میں جگہ عطا فرمائے گا ، اور اسے انبیاء اور ان کے بعد مرتبہ میں کم لوگ جو کہ صدیق ہیں پھر ان کے بعد ان سے کم مرتبہ والے لوگ جو کہ شھداء ہیں ان کی مرافقت عطا فرمائے گا پھر عموم مومنوں کی رفاقت ہوگی جو کہ صالح اور نیک لوگ ہیں جن کے ظاہری اور پوشیدہ سب اعمال صالح ہیں پھر اللہ تعالی نے ان لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا { ان بہت ہی اچھے رفیق ہیں}۔

اورامام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت بیان کی ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

( کوئ بھی نبی جب بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کا اختیار دیا جاتا ہے ) تو وہ بیمماری جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کی گئ آپ کو بہت سخت بخار نے آلیا تھا تو میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ( ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا ، انبیاء ، صدیق ، اور شہید اور نیک لوگوں کے ساتھ ) تو میں یہ جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے ) ۔ تفسیر ابن کثیر ۔

پھر اس کے ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی نے اس کے شان نزول کے متعلق بعض چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ :

( اور ان سب سے بڑ کر وہ بشارت ہے جو کہ کتب صحاح اور کتب مسانیدوغیرہ میں صحابہ کرام کی ایک جماعت سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کےساتھ نہیں مل سکا ؟ یعنی اعمال صالحہ کے اعتبار سے ان کے مرتبہ و منزل کو حاصل نہیں کرسکا ، تو جواب میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( وہ آدمی انہيں کے ساتھ ہے جن سے محبت کرتا ہوگا ) انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہيں کہ مسلمان اس حدیث سے بہت ہی زیادہ خوش ہوئے ۔

میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کرتا امید ہے کہ اللہ تعالی مجھے ان کے ساتھ اٹھائے گا اگرچہ میں نے ان جیسے عمل نہیں کئے ) انتھی ۔

تو جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس آیت میں نہ تو صوفیوں اوران کے مذھب کی کوئ تائید ہوتی اور نہ ہی جواز پایا جاتا ہے ۔

اور اگر صوفی سچے ہیں تو وہ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اور اس کی شریعت شریعت اسلامیہ کو کا التزام کریں _ جیسا کہ آیت میں اس بات کی وضاحت ہے - تاکہ وہ بھی کامیابی پانے والوں میں سے ہو سکیں ۔

اورکیاوہ اس بات کا دعوی نہیں کرتے کہ اولیاء کو علم غیب ہے حالانکہ علم غیب اللہ تعالی کے علاوہ کوئ نہیں جانتا ، اورکیاوہ قبروں کا طواف کرنا اور ان مردوں سے حاجات طلب کرنا عبادت قرارنہیں دیتے جو کہ حقیقتا غیر اللہ سے استغاثہ اور کفر و شرک ہے ، اوریہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالی کچھ ایسے امور ہمیں وحی کرتااور ہمارے دلوں میں ڈالتا ہے جو کہ قرآن سنت میں نہیں بلکہ اس سے زائد ہیں ، اور یہ کہ خاص لوگوں کو شریعت پر عمل کرنا ضروری نہیں یہ تو صرف عوام کے لئے ہے ۔

اور انہوں نے ایسے ذکرواذکار بنا لئے ہیں جو کہ نہ تو کتاب اللہ میں ملتے ہیں اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ میں ، پھر باوجود ان چيزوں کہ یہ چاہتےہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں جوکامیاب ہیں اور انبیاء اور صدیقوں کی رفاقت کے طلب گار ہیں یہ تو بہت دور کی بات ہے بلکہ وہ تو شیطان اورمشرکوں کے ساتھ ہیں ، ہم اللہ تعالی سے عافیت اور سلامتی کی طلبگار ہیں ۔

اللہ تعالی ہميں اور آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی محبت نصیب فرمائے اور اپنے پاس اچھی جگہ میں عطا فرمائے ، بیشک وہ مالک اور اس پر قادر ہے ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
 
Top