قائد اعظم کی کہانی اور عمران خان کی کہانی

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
تاریخ کا خود کو دہرانا۔

62679_588224547864000_509332951_n.jpg
 
اس میں بہت سارئے نکات غلط ہیں۔ یہ دس کے دس نکات عمران خان پر فٹ ہوتے ہیں قائد اعظم پر نہیں۔ قائد اعظم لاہور کے جلسے سے بہت پہلے ہی مقبول رہنما تھے۔
 
اس میں بہت سارئے نکات غلط ہیں۔ یہ دس کے دس نکات عمران خان پر فٹ ہوتے ہیں قائد اعظم پر نہیں۔ قائد اعظم لاہور کے جلسے سے بہت پہلے ہی مقبول رہنما تھے۔

کچھ نکات میں فرق ہے مگر قائداعظم اور عمران کی زندگی میں بہت زیادہ مماثلت ہے۔

1937 کے انتخابات میں قائداعظم کی مسلم لیگ بھی بری طرح سے ناکام ہوئی تھی اور قائداعظم مقبول تھے مگر پارٹی نہیں اور یہاں پارٹی کی بات ہو رہی ہے۔

1930 میں سیاست سے الگ ہو کر لندن چلے گئے تھے اور مسلم لیگ نے قائداعظم کی قیادت میں مقبولیت لاہور میں قرار داد پاکستان کے موقع پر ہی مقبولیت حاصل کی۔

ویسے لگ رہا ہے کہ آپ کو خاصہ دھچکہ لگا ہے یہ پڑھ کر اور اب یہ حیرت انگیز مماثلت برداشت نہیں ہو رہی کیونکہ ان میں سے اکثر الزامات تو اب تک عمران پر لگ رہے ہیں۔ :LOL:
 
نواز شریف اب بھی عمران پر یہ تنقید کر رہے ہیں کہ جس شخص سے اپنی بیوی نہیں سنبھالی گئی وہ ملک کیسے سنبھالے گا۔ :LOL:

یہی دلیل میرے دوست جہانزیب اشرف بھی دیتے ہیں اور میرا جواب جہانزیب کے لیے بھی اور باقی نواز لیگ کے حمایتیوں کے لیے بھی یہ ہے کہ

کیا کریں ہم لوگ کہ ہماری قسمت میں ایسے ہی لیڈر آتے ہیں جن سے اپنی بیویاں بھی نہیں سنبھالی جاتیں، نہ بابائے قوم سے سنبھالی گئی اور نہ عمران خان سے۔ :)
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
نواز شریف اب بھی عمران پر یہ تنقید کر رہے ہیں کہ جس شخص سے اپنی بیوی نہیں سنبھالی گئی وہ ملک کیسے سنبھالے گا۔ :LOL:

یہی دلیل میرے دوست جہانزیب اشرف بھی دیتے ہیں اور میرا جواب جہانزیب کے لیے بھی اور باقی نواز لیگ کے حمایتیوں کے لیے بھی یہ ہے کہ

کیا کریں ہم لوگ کہ ہماری قسمت میں ایسے ہی لیڈر آتے ہیں جن سے اپنی بیویاں بھی نہیں سنبھالی جاتیں، نہ بابائے قوم سے سنبھالی گئی اور نہ عمران خان سے۔ :)
بھیا مجھے تو سمجھ نہیں آتا یہ سیاست دان تو لڑائی میں محلے کی عورتوں کو بھی مات دے دیتے ہیں۔ شاید ان کی ٹرینگ ہی دوسروں کی بات کا غلط مطلب نکالنا ہوتا ہے۔ :cautious:
 
بھیا مجھے تو سمجھ نہیں آتا یہ سیاست دان تو لڑائی میں محلے کی عورتوں کو بھی مات دے دیتے ہیں۔ شاید ان کی ٹرینگ ہی دوسروں کی بات کا غلط مطلب نکالنا ہوتا ہے۔ :cautious:

سیاست میں بہت تنقید ہوتی ہے مگر جب دوسرے پر تنقید کے لیے زیادہ مواد نہ ملے تو پھر ذاتی تنقید پر اتر آتے ہیں۔

اب یہیں دیکھ لو تم ، یہ دس کے دس نکات قائداعظم پر بھی پورے اترتے ہیں اور یہیں لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان میں سے اکثر غلط ہیں، کیسے صاف آنکھوں میں دھول جھونکنے کا عمل جاری و ساری ہے۔ :)
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
سیاست میں بہت تنقید ہوتی ہے مگر جب دوسرے پر تنقید کے لیے زیادہ مواد نہ ملے تو پھر ذاتی تنقید پر اتر آتے ہیں۔

اب یہیں دیکھ لو تم ، یہ دس کے دس نکات قائداعظم پر بھی پورے اترتے ہیں اور یہیں لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان میں سے اکثر غلط ہیں، کیسے صاف آنکھوں میں دھول جھونکنے کا عمل جاری و ساری ہے۔ :)
بھیا میں تو یہ کہتی ہوں کہ ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے کہ لوگ اس طرح تنقید کریں۔
لیکن جو میں کہتی ہوں وہ ہو نہیں سکتا۔ میرے خیال میں تو اگر آپ ایک اچھے سیاستدان ہو تو دوسروں کی تنقید کا بالکل برا مت مانو اور نہ دوسروں کے بارے میں لوگوں کو غلط گائیڈ کرو۔ اس کی بجائے لوگوں کو کہو کہ وہ عقل سے فیصلہ کریں اور جس کے بارے میں ان کو لگتا ہے کہ وہ ان کے ملک کو اچھی طرح چلا سکتا ہے اس کو ووٹ دیں۔ اس طرح آپ ہی کی عزت ہوگی۔
اب انتخابی نشان تو کسی کا کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن انتخابی نشان کی بناء پر عجیب عجیب باتیں کرنا یہ کہنا کہ شیر کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا ( جیسے وہ سچی مچی کے شیر ہوں ناں اور ہم جنگل میں رہتے ہوں) اور بلے سے سب کو اڑا دیں گے (بھئی بلے کو بس گیند کھیلنے کے لیے رہنے دیں ناں ضرور لڑائی کرنی ہے)۔
 
صحیح کہہ رہی ہو مگر عوامی سیاست میں لوگ حریفوں کو ہرانے والے نعرے اور ان کی مار کٹائی والی باتیں سن کر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

شیر کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات تو سچ ہے کہ اگر آپ جنگل میں رہتے ہوں تو :LOL:

بلے سے سب کو اڑا دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لیے بلے میں بڑی جان ہونی چاہیے :)
 
کوڈ:
ویسے لگ رہا ہے کہ آپ کو خاصہ دھچکہ لگا ہے یہ پڑھ کر اور اب یہ حیرت انگیز مماثلت برداشت نہیں ہو رہی کیونکہ ان میں سے اکثر الزامات تو اب تک عمران پر لگ رہے ہیں۔

ایک بات نوٹ کرلیں کہ میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک اور ضروری بات یہ کہ اگر آپ واقعی عمران خان کے حامی ہیں تو اس فورم سے فائدہ اٹھایں اور پارٹی کے منشور پر بات کریں۔ عمران خان پر یا کسی اور پر ذاتی حملوں کو اور خاصکر نجی الزامات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ باقی آپ کی مرضی
 
کوڈ:
ویسے لگ رہا ہے کہ آپ کو خاصہ دھچکہ لگا ہے یہ پڑھ کر اور اب یہ حیرت انگیز مماثلت برداشت نہیں ہو رہی کیونکہ ان میں سے اکثر الزامات تو اب تک عمران پر لگ رہے ہیں۔

ایک بات نوٹ کرلیں کہ میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک اور ضروری بات یہ کہ اگر آپ واقعی عمران خان کے حامی ہیں تو اس فورم سے فائدہ اٹھایں اور پارٹی کے منشور پر بات کریں۔ عمران خان پر یا کسی اور پر ذاتی حملوں کو اور خاصکر نجی الزامات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ باقی آپ کی مرضی

میں نے ایک پوسٹ کی جس میں آپ نے اعتراض کیا کہ اس میں بہت سی باتیں غلط ہیں تو یہ اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ صرف ایک عمومی بیان نہ دیں بلکہ ان نکات میں سے بتائیں کہ یہ نکتہ غلط ہے اور یہ بھی غلط ہے۔

صرف اس وجہ سے کہ ایک شخص آپ کو پسند نہیں تو اس سے متعلقہ تمام باتوں پر مخالفانہ رنگ چڑھانا لازمی ہے ، قطعا ضروری نہیں۔

پارٹی کے منشور اور لائحہ عمل پر کئی پوسٹس ہو چکی ہیں اور میری پوسٹ میں کسی پر بھی ذاتی حملہ نہیں تھا ، میں نے ایک مماثلت پیش کی تھی جس پر آپ نے اعتراض کیا کہ اس میں بہت سی غلط باتیں جس کا میں نے جواب دیا اور آپ نے اس کے جواب میں پیش کیے نکات کو تاریخی حقائق سے غلط ثابت کرنے کی بجائے ایک ذاتی حملہ گردانا ہے ۔
 
میں نے ایک پوسٹ کی جس میں آپ نے اعتراض کیا کہ اس میں بہت سی باتیں غلط ہیں تو یہ اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ صرف ایک عمومی بیان نہ دیں بلکہ ان نکات میں سے بتائیں کہ یہ نکتہ غلط ہے اور یہ بھی غلط ہے۔

صرف اس وجہ سے کہ ایک شخص آپ کو پسند نہیں تو اس سے متعلقہ تمام باتوں پر مخالفانہ رنگ چڑھانا لازمی ہے ، قطعا ضروری نہیں۔

پارٹی کے منشور اور لائحہ عمل پر کئی پوسٹس ہو چکی ہیں اور میری پوسٹ میں کسی پر بھی ذاتی حملہ نہیں تھا ، میں نے ایک مماثلت پیش کی تھی جس پر آپ نے اعتراض کیا کہ اس میں بہت سی غلط باتیں جس کا میں نے جواب دیا اور آپ نے اس کے جواب میں پیش کیے نکات کو تاریخی حقائق سے غلط ثابت کرنے کی بجائے ایک ذاتی حملہ گردانا ہے ۔

1۔ جس نے اپنی تعلیم انگلینڈ سے مکمل کی۔
2۔ جسے یونیورسٹی سے ہال آف فیم میں داخل کیا گیا۔
دونوں نکات یکساں ہیں۔

3۔ جسے اپنے کریئر [سیاسی] کے آغاز میں مشکلات پیش آئی۔

قائداعظم کو اپنے سیاسی کریئر میں کوئی دشواری نہیں آئی البتہ درمیان میں مسلم لیگی لیڈروں کے اختلافات کی وجہ سے وہ کچھ عرصہ کےلیے انگلینڈ چلے گے تھے۔ واپس آکر انہوں نے دوبارہ سیاست کی۔عمران خان نے 1996 میں سیاست شروع کی اور 17 سال بعد ایک مقبول لیڈر بنے۔

یہاں ایک بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ دونوں کے مقاصد علیدہ علیدہ ہیں۔ قائد اعظم کا مقصد تھا ایک علیدہ وطن کا قیام، جبکہ عمران خان پاکستان کے موجودہ کرپٹ سسٹم کو ختم کرنے کا وعدہ کررہے ہیں جسے وہ عام زبان میں نیا پاکستان کہہ رہے ہیں۔

4۔ جس نے غیر مسلم سے شادی کی۔
5- جس کی شادی ناکام ہوئی اور بیوی واپس لندن چلی گی۔
6- جس کے بچے عدالت کے فیصلے کے بعد بیوی کے پاس۔

قائداعظم نے دو شادیاں کی تھیں۔ 1892 میں انکی شادی اپنے خاندان میں یمی بائی سے ہوئی تھی اسوقت قائد اعظم کی عمر 16 سال اور یمی بائی کی عمر 14 سال تھی۔ مگر ان کا جلدہی انتقال ہوگیا جبکہ دوسری شادی ایک پارسی خاتون رتن بائی جو مسلمان ہوگی تھیں اور انکا نام تبدیل کرکے مریم جناح رکھا گیا 1918 میں ہوئی تھی۔ مریم جناح سے قائد اعظم کی واحد اولاد دینا پیدا ہوئی۔ لیکن مریم جناح کا انتقال بھی جلدہی ہوگیا۔ انتقال کے وقت وہ قائد اعظم کی بیوی تھی۔ لہذا انکی کوئی شادی ناکام نہیں ہوئی۔ اسلیے انکی اکلوتی صابزادی کا عدالت سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ قائد اعظم کی ساس نے اپنی بیٹی اورقائد اعظم کی شادی کو کبھی پسند نہیں کیا، اسلیے انہوں نے اپنی نواسی کی شادی بغیر قائد اعظم کی اجازت کے ایک پارسی سے کروادی جس کی وجہ سے قائد اعظم نے اپنی بیٹی کو عاق کردیا۔ دینا بائی جو اب دینا واڈیا ہیں امریکہ میں حیات ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں صرف دو مرتبہ پاکستان آیں ہیں۔

7- جو اپنے سیاسی کرئیر کے کے آغاز میں ناکام ہوگیا۔

یہ نکتہ 3 نمبر کی کاپی ہے، لہذا اسکا جواب وہی ہے جو پہلے دیا ہے۔

8- دس سال کی جہدوجہد کے بعد صرف ایک سیٹ۔

اسکا جواب بھی وہی ہے جو نکتہ 3 میں دیا ہے۔

9- جس کی پارٹی نے پہلی بار لاہور کے جلسے میں عوام کے دل جیت لیئے۔

یہ تو ٹھیک ہے کہ قرارداد پاکستان لاہور کے ایک جلسے میں کامیاب ہوئی مگر یہ کہنا مناسب نہیں کہ قائد اعظم کی مسلم لیگ لاہور کے جلسے میں عوام کے دل جیتے تھے۔ مسلم لیگ کے بےشمار جلسے پورئے ہندوستان میں ہوچکے تھے اور عوام کا دل جیت چکے تھے وہ لاہور کے جلسے میں اس وجہ سے ہی آئے تھے کہ پاکستان کی قرارداد منظور کریں۔

عمران خان اور انکی پارٹی نے واقعی لاہور کے جلسے سے مقبولیت حاصل کی ہے۔

10۔ باقی تمام سیاسی پارٹیاں انکے خلاف کھڑی ہوگیں۔

ہندوستان میں صرف دو پارٹیاں تھیں مسلم لیگ یا کانگریس، وہاں کانگریس ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتی تھی جبکہ مسلم لیگ ایک علیدہ وطن کا مطالبہ کررہی تھی۔

عمران خان اس سسٹم کے خلاف ہیں اور سابق حکمراں ٹولے بشمول مسلم لیگ نواز۔ وہ سابق حکمرانوں کےلیے خطرہ بن گے ہیں لہذا سابق حکمران انکے خلاف ہیں۔

یہاں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلم لیگ ایک علیدہ وطن کا مطالبہ کررہی تھی اور کانگریس اسکے خلاف تھی لیکن پی ٹی آئی اقتدار میں آنا چاہ رہی ہے اس لیے سب اسکے خلاف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپکے جواب کو میں نے قطی اپنے اوپر ذاتی حملہ نہیں کہا بلکہ میرا مطلب یہ تھا کہ سیاسی شخصیات کو ایک دوسرئے پرذاتی حملے نہیں کرنے چاہیں اس لیے کہ اسکا اثر عام کارکنوں پر پڑتا ہے۔ آپکے نکات کی جو تشریح میں نے کی ہے وہ نہ تو عمران خان کی مخالفت ہے اور نہ ہی حمایت بلکہ آپکی فرمائش پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔
 
1۔ جس نے اپنی تعلیم انگلینڈ سے مکمل کی۔
2۔ جسے یونیورسٹی کے ہال آف فیم میں داخل کیا گیا۔
دونوں نکات یکساں ہیں۔

دونوں مختلف ہیں ، ہر وہ شخص جس نے تعلیم انگلینڈ سے حاصل کی اس کا نام یونیورسٹی کے ہال آف فیم میں نہیں ہے۔

قائد اعظم کی بیوی نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ان کی شادی ناکام ہوئی تھی اور پھر ان کی بیوی ڈپریشن اور دیگر امراض کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوئیں۔

قائد اعظم کو صف اول کا لیڈر بننے میں وقت لگا تھا اور 1920 سے 1930 تک کا عرصہ وہ اتنے متحرک نہ تھے ، اسی وجہ سے اس زمانے میں دیگر لیڈر مسلم لیگ کی قیادت کرتے رہے۔ 1930 میں تو وہ مایوس ہو کر لندن چلے گئے تھے۔
1935 میں علامہ اقبال سے خط و کتابت کے بعد واپس آئے ، 1937 میں مسلم لیگ کو بری طرح سے شکست ہوئی ، اسی کو سیاسی ناکامی کہتے ہیں۔،
1940 میں لاہور میں انتہائی کامیاب جلسہ ہوا اور پھر قائد اعظم کو متفقہ اور مسلم کا واحد لیڈر مان لیا گیا۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top