ابن انشا فقیر بن کر تم ان کے در پر ہزار دھو نی رما کے بیٹھو،،،،،،،،،ابن انشا

علی فاروقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 22, 2009

  1. علی فاروقی

    علی فاروقی محفلین

    مراسلے:
    268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    فقیر بن کر تم ان کے در پر ہزار دھو نی رما کے بیٹھو
    جبیں کے لکھے کو کیا کرو گے، جبیں کا لکھا مٹا کے بیٹھو

    اے ان کی محفل میں آنے والو ، اے سود و سودا بتانے والو
    جو ان کی محفل میں آ کے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیٹھو

    بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ، مگر کرو گے نباہ ہم سے؟
    ذرا ملاو نگاہ ہم سے ، ہمارے پہلو میں آ کے بیٹھو

    جنوں پرانا ہے عاشقوں کا ، جو یہ بہانا ہے عاشقوں کا
    تو اک ٹھکانہ ہے عاشقوں کا ،حضور ، جنگل میں جا کے بیٹھو

    ہمیں دکھا و نہ زرد چہرہ ، لیے یہ وحشت کی گرد چہرہ
    رہے گا تصویرِ درد چہرہ جو روگ ایسے لگا کے بیٹھو

    جنابِ انشاء یہ عاشقی ہے ،جنابِ انشاء یہ ذندگی ہے
    جنابِ انشاء جو ہے یہی ہے نہ اس سے دامن چھڑا کے بیٹھو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ، بہت خوب۔
     
  3. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,900
    بہت خوب جناب علی فاروقی صاحب زبردست انتخاب ہے
     
  4. Saraah

    Saraah محفلین

    مراسلے:
    608
    ہمممم جارحانہ انداز ہے -خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر