غمناک پرندوں سے بھرا برگد میں تھا

طاھر جاوید

محفلین
تیرا یوں مل جانا جاناں
کسی گمُ کردہ لمحے کا اچانک مِل جانا ھے
آو ھم اِس ملنے کے لمحے کو ابکے رُسوا نہ کریں
تمہارے ملنے بچھڑنے اور پھر مل جانے کے درمیاں
پھیلہ ھوا جو بےحد سا وقفہ ہے
اس وقفے میں۔۔۔
جو بیتا، جو بیت چکا اُسکو ہم
بے حد بےنوا نہ کریں
ہمارہ ماضی ہمارے حال و مُستقبل سے مُختلف ہے
ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارہ ماضی
کسی مزار کی اُس قبر کی طرح تھا
جس قبر میں ہم موجود نہیں تھے
ہم نےبچھڑنے کی اس طویل ویرانی میں
جو بھی پایا ۔۔ جو بھی کھویا
آو جاناں
اُس کی تفریق اور جمع نہ کریں
 
Top