قاصر غزل ۔ یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئی۔ غلام محمد قاصر

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 3, 2008

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,251
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل

    یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئی
    اک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی

    خوشبو گرفتِ عکس میں لایا اور اُس کے بعد
    میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی

    گُل کو برہنہ دیکھ کر جھونکا نسیم کا
    جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی

    میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
    اور چاندنی صلیب پر آکر لٹک گئی

    روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگِ میل سے
    مجبور ہو کہ شہر کے اندر سڑک گئی

    قاتل کو آج صاحبِ اعجاز مان کر
    دیوارِ عدل اپنی جگہ سے سرک گئی

    غلام محمد قاصر۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ کیا خوبصورت غزل ہے، شکریہ احمد صاحب شیئر کرنے کیلیئے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت کمال کی غزل ھے احمد بھائی ۔ شئیر کرنے کیلیے شکریہ۔
    احمد بھائی کیا غلام محمد قاصر صاحب نے پنجابی میں بھی شاعری کی ھے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    نہیں جناب ۔۔ آپ پٹھان تھے ۔۔اور پشتو میں چند ایک غزلیں ملتی ہیں
     
  5. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت اعلی کلام ہے احمد ۔۔ بہت شکریہ ۔۔ تم کیا فوٹو کاپی کروا لی تھی ۔۔ ؟؟ :grin:
     
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,251
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شکریہ بھیا!

    یہ غزل اُنہی دنوں پیش کی تھی جب کتاب میرے پاس تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ احمد بھیا ۔ سدا خوش رہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر