1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی غزل ۔ جمال اب تو یہی رہ گیا پتہ اُس کا ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 9, 2011

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل

    جمال اب تو یہی رہ گیا پتہ اُس کا
    بھلی سی شکل تھی اچھا سا نام تھا ا ُس کا

    پھر ایک سایہ در و با م پر اُتر آیا
    دل ونگاہ میں پھر ذکر چھڑ گیا ا ُس کا

    کسے خبر تھی کہ یہ دن بھی دیکھنا ہوگا
    اب اعتبار بھی دل کو نہیں رہا ا ُس کا

    جو میرے ذکر پہ اب قہقہے لگاتا ہے
    بچھڑتے وقت کوئی حال دیکھتا ا ُس کا

    مجھے تباہ کیا اور سب کی نظروں میں
    وہ بے قصور رہا، یہ کمال تھا ا ُس کا

    سو کس سے کیجے ذکرِ نزاکتِ خدوخال
    کوئی ملا ہی نہیں صورت آشنا اُس کا

    جو سایہ سایہ شب و روز میرے ساتھ رہا
    گلی گلی میں پتہ پوچھتا پھرا اُس کا

    جمالؔ اُس نے تو ٹھانی تھی عمر بھر کے لئے
    یہ چار روز میں کیا حال ہو گیا اُس کا

    جمالؔ احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب ! شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔
     
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,169
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ احمد صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے۔
     
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر