جمال احسانی غزل ۔ ایک فقیر چلا جاتا ہے پکّی سڑک پر گاؤں کی ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 9, 2011

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,376
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل

    ایک فقیر چلا جاتا ہے پکّی سڑک پر گاؤں کی
    آگے راہ کا سناٹا ہے پیچھے گونج کھڑاؤں کی

    آنکھوں آنکھوں ہریالی کے خواب دکھائی دینےلگے
    ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہوئے صحراؤں کی

    اپنے عکس کو چھونے کی خواہش میں پرندہ ڈوب گیا
    پھر کبھی لوٹ کر آئی نہیں دریا پر گھڑی دعاؤں کی

    ڈار سے بچھڑا ہوا کبوتر، شاخ سے ٹوٹا ہوا گلاب
    آدھا دھوپ کا سرمایہ ہے، آدھی دولت چھاؤں کی

    اُس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
    ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی

    جمالؔ احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    عمدہ ۔ بہت خوب!
     
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,696
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ کیا منفرد زمین میں غزل کہی ہے جمال احسانی نے، لاجواب۔

    بہت شکریہ احمد صاحب شیئر کرنے کیلیے۔
     
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,376
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ کاشفی بھائی۔۔۔۔!

    بہت شکریہ وارث بھائی۔۔۔۔۔!

    واقعی منفرد زمین ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر