1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی غزل: ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے

محمد تابش صدیقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 14, 2016

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,927
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے
    یا کچھ بھی نہیں ہونے کا ادراک بہت ہے

    اک بھولی ہوئی بات ہے اِک ٹوٹا ہوا خواب
    ہم اہلِ محبت کو یہ اِملاک بہت ہے

    کچھ دربدری راس بہت آئی ہے مجھ کو
    کچھ خانہ خرابوں میں مِری دھاک بہت ہے

    پرواز کو پر کھول نہیں پاتا ہوں اپنے
    اور دیکھنے میں وسعت افلاک بہت ہے

    کیا اس سے ملاقات کا اِمکاں‌ بھی نہیں اب
    کیوں ان دنوں میلی تری پوشاک بہت ہے

    آنکھوں میں ہیں محفوظ ترے عشق کے لمحات
    دریا کو خیالِ خس و خاشاک بہت ہے

    نادم ہے بہت تو بھی جمالؔ اپنے کئے پر
    اور دیکھ لے وہ آنکھ بھی نمناک بہت ہے

    جمال احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    یا کچھ بھی نہ ہونے کا ادراک بہت ہے ۔۔۔
    بہت خوبصورت غزل
    ایک عرصہ ان اشعار کے سحر میں رہی ہوں اور آج بھی وہی لطف آیا جو عرصہ پہلے ملا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    عمدہ انتخاب تابش صاحب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,927
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت شکریہ۔
     
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,927
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    شکریہ جناب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر