غزل - کراہتے کیوں ہو؟ - منیبؔ احمد

چھوٹی سی تازہ غزل۔ رائے دیجیے۔
مراد وجہِ الم ہے کراہتے کیوں ہو؟
جو چاہیے ہی نہیں اُس کو چاہتے کیوں ہو؟

ملاپ قلب کا ہوتا ہے قالبوں کا نہیں
فقط بدن کو بدن سے بیاہتے کیوں ہو؟

منیبؔ ہونٹ بہت خشک ہیں لبِ راوی
اب ایسے صحرا نما سے نباہتے کیوں ہو؟​
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اچھے اشعار ہیں !! بھائی تیسرے شعر میں لبِ دریا کے بجائے لبِ راوی لکھنے کی کوئی خاص وجہ؟! اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ راوی ایک دریا کا نام ہے تو وہ تو شعر کا مطلب نہیں سمجھ پائے گا۔ مشکل میں پڑ جائے گا ۔
 
اچھے اشعار ہیں !! بھائی تیسرے شعر میں لبِ دریا کے بجائے لبِ راوی لکھنے کی کوئی خاص وجہ؟! اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ راوی ایک دریا کا نام ہے تو وہ تو شعر کا مطلب نہیں سمجھ پائے گا۔ مشکل میں پڑ جائے گا ۔
بالکل صحیح! راوی اس لیے لکھا کیونکہ میرے گھر کے پاس ہی بہتا ہے بلکہ بہنے کی کوشش کرتا ہے۔ آئندہ اس کا خیال رکھوں گا کہ قاری کی معلومات بھی شعر لکھتے وقت ملحوظ رکھوں۔ بہت شکریہ!
 
Top