میر مہدی مجروح غزل - غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا - میر مہدی مجروح

محمد وارث

لائبریرین
غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا

اک عمر کے دُکھ پائے، سوتے ہیں فراغت سے
اے غلغلۂ محشر، ہم کو نہ جگا جانا

کیا یار کی بد خوئی، کیا غیر کی بد خواہی
سرمایۂ صد آفت ہے دل ہی کا آ جانا

کچھ عرضِ تمنّا میں شکوہ نہ ستم کا تھا
میں نے تو کہا کیا تھا اور آپ نے کیا جانا

چلمن کا الٹ جانا، ظاہر کا بہانہ ہے
ان کو تو بہر صورت اک جلوہ دکھا جانا

ہے حق بطرف اسکے، چاہے سَو ستم کر لو
اس نے دلِ عاشق کو مجبورِ وفا جانا

انجام ہوا اپنا آغازِ محبّت میں
اس شغل کو جاں فرسا ایسا تو نہ تھا جانا

مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر
اے حضرتِ من، تم نے دل بھی نہ لگا جانا

(میر مہدی مجروح)
 

ظفری

لائبریرین
بہت خوب وارث بھائی کیا خوب غزل شئیر کی ہے ۔
میں‌ تو اکثر اپنے کچھ " خاص " ملنے والوں سے اسی غزل کا مطلع کہتا ہوں کہ : ;)

غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت خوب وارث بھائی کیا خوب غزل شئیر کی ہے ۔
میں‌ تو اکثر اپنے کچھ " خاص " ملنے والوں سے اسی غزل کا مطلع کہتا ہوں کہ : ;)

غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا


حضور ان "کچھ خاص ملنے والوں" میں سے کسی کو "خاص الخاص" بنا ہی لیں، یہ نہ ہو کہ مزید کچھ عرصہ بعد یہی "خاص" جن کو آپ مطلع سناتے ہیں آپ کو ہی مقطع سنانا شروع کر دیں:

مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر
اے حضرتِ من، تم نے دل بھی نہ لگا جانا ;)
 

کاشفی

محفلین
غزل
(جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ)

غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے، جانا بھی تو کیا جانا

اک عمر کے دُکھ پائے، سوتے ہیں فراغت سے
اے غلغلۂ محشر، ہم کو نہ جگا جانا

مانگوں تو سہی بوسہ پر کیا ہے علاج اس کا
یاں ہونٹ کا ہل جانا واں با ت کا پا جانا

گو عمر بسر اس کی تحقیق میں کی تو بھی
ماہیت اصلی کو اپنی نہ ذرا جانا

کیا یار کی بد خوئی، کیا غیر کی بد خواہی
سرمایۂ صد آفت ہے دل ہی کا آ جانا

کچھ عرضِ تمنّا میں شکوہ نہ ستم کا تھا
میں نے تو کہا کیا تھا اور آپ نے کیا جانا

اک شب نہ اُسے لائے ، کچھ رنگ نہ دکھلائے
اک شور قیامت ہی نالوں نے اُٹھا جانا

چلمن کا الٹ جانا، ظاہر کا بہانہ ہے
ان کو تو بہر صورت اک جلوہ دکھا جانا

ہے حق بطرف اسکے، چاہے سَو ستم کر لو
اس نے دلِ عاشق کو مجبورِ وفا جانا

انجام ہوا اپنا آغازِ محبّت میں
اس شغل کو جاں فرسا ایسا تو نہ تھا جانا

مجروح ہوئے مائل کس آفتِ دوراں پر
اے حضرتِ من، تم نے دل بھی نہ لگا جانا
 

کاشفی

محفلین
خوبصورت انتخاب شیئر کرنے کے لیئے محمد وارث صاحب آپ کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیئے۔۔
میرا بھی تھوڑا سا شکریہ کہ میں نے بھی یہ غزل شیئر کی ہے۔۔خوش رہیئے۔۔
 
Top