مصحفی غزل - شب وہ ان آنکھوں کو شغل اشکباری دے گئے -غلام ہمدانی مصحفی

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 28, 2011

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل

    شب وہ ان آنکھوں کو شغل اشکباری دے گئے
    لے گئے خواب ان کا اور اختر شماری دے گئے

    چلتے چلتے اس ادا سے وعدہ آنے کا کیا
    دے کے ہاتھ اس دل پہ اور اک زخم کاری دے گئے

    خواب و خور صبر و سکوں یکبار سب جاتا رہا
    بے قرار اپنے کو کیسی بے قراری دے گئے
    ٴ
    یہ خبر تو نے سنی ہو گی کہ اس کوچے میں رات
    داد رونے کی ہم اے ابر بہاری دے گئے

    گر کہیں آیا نظر ان کو کوئی مٹی کا ڈھیر
    گالیاں اس کو سمجھ تربت ہماری دے گئے

    آپ تو جاتے رہے باتیں بنا اور مجھ کو آہ
    بے قراری بے خودہ بے اختیاری دے گئے

    گر ہوا عزم سفر ان کا سحر مصحفی
    وقت شام آ کر مجھے اپنی کٹاری دے گئے
    ٴ
    غلام ہمدانی مصحفی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب۔۔شکریہ بہت بہت شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. علی فاروقی

    علی فاروقی محفلین

    مراسلے:
    268
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت خوب جناب عمدہ انتخاب ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ کیا خوبصورت غزل ہے، بہت شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے۔
     

اس صفحے کی تشہیر