تبسم غزل - سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی - صوفی غلام مصطفٰی تبسم

محمد وارث

لائبریرین
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

اک لحظہ بہے آنسو، اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے اندازِ شکیبائی

اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

ہر دردِ محبّت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

چرکے وہ دیے دل کو محرومیٔ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبّت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

یہ بزمِ محبّت ہے، اس بزمِ محبّت میں
دیوانے بھی شیدائی، فرزانے بھی شیدائی

(صوفی غلام مصطفٰی تبسم)
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ وارث صاحب - صوفی صاحب کی بہت خوبصورت غزل پوسٹ کی اور شائد رونا لیلیٰ نے اسے گایا ہے -
 

فاتح

لائبریرین
واہ جناب وارث صاحب! انتہائی خوبصورت کلام ارسال کرنے پر آپ کا شکریہ!

بہت شکریہ وارث صاحب - صوفی صاحب کی بہت خوبصورت غزل پوسٹ کی اور شائد رونا لیلیٰ نے اسے گایا ہے -

رونا لیلیٰ نے بھی شاید گائی ہو گی لیکن نسیم بیگم کی آواز میں سنی ہے میں نے۔ اور کوشش کروں گا کہ اس کی ایم پی تھری ارسال کر سکوں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ فرخ صاحب اور فاتح صاحب۔

میں نے بھی یہ غزل سن رکھی ہے لیکن کس کی آواز میں تھی یاد نہیں :)

فاتح صاحب اس کی اگر آڈیو فائل مہیا ہو جائے تو کیا کہنے۔
 

فاتح

لائبریرین
لیجیے یہ رہی نسیم بیگم کی آواز میں یہ غزل۔

[ame]http://www.divshare.com/download/4417275-126[/ame]
 
غزل -سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی -صوفی غلام مصطفٰی تبسم

غزل
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی

یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی

اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی

اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیاکیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

چرکے وہ دیے دل کو محرومئ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی

جلووں کے تمنائی جلووں کو ترستے ہیں
تسکین کو روئیں گےجلووں کے تمنائی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی

دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی

اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی

افسونِ تمنا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باک کچھ عشق میں زیبائی

وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی

آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی

سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی

یہ بزمِ محبت ہے اس بزمِ محبت میں
دیوانے بھی شیدائی فرزانے بھی شیدائی

پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی

اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہء خلوت میں یہ دشت پنہائی

ان مد بھر آنکھوں میں کیا سحر تبسم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی

صوفی غلام مصطفٰی تبسم
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت شکریہ پیاسا صحرا، مکمل غزل پوسٹ کرنے کیلیے کہ مکمل غزل پڑھنے کا شرف پہلی بار مجھے بھی حاصل ہو گیا!

نوازش جناب!
 

فرخ منظور

لائبریرین
ان مد بھر آنکھوں میں کیا سحر تبسم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی


پیاسا صاحب اس شعر میں املا کی کچھ غلطیاں ہیں۔ براہِ مہربانی انہیں درست کر دیں۔

ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحرِ تبسم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
 

‫سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی

اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

ہر دردِ محبّت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبّت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی

افسونِ تمنّا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باکی کچھ عشق میں زیبائی

وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی

آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی

سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی

یہ بزمِ محبّت ہے، اس بزمِ محبّت میں
دیوانے بھی شیدائی، فرزانے بھی شیدائی

پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اُٹّھی آواز تری آئی

اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہٴ خلوت میں یہ دشت کی پنہائی

ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحر تبسّم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی

 

نظام الدین

محفلین
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
اک لحظہ بہے آنسو، اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے اندازِ شکیبائی
اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی
ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا، جب یاد تری آئی
چرکے وہ دیئے دل کو محرومیٔ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی
یہ بزم محبت ہے، اس بزم محبت میں
دیوانے بھی شیدائی، فرزانے بھی شیدائی
(صوفی غلام مصطفیٰ تبسم)
 
Top