غزل : ذکر تیرا جہاں، وہاں ٹھہرے

ذِکر تیرا جہاں، وہاں ٹھہرے
درد والے کہاں کہاں ٹھہرے!

اشک راہی ہیں اور تُو منزل
تُو ہی آئے، نہ کارواں ٹھہرے

جو بھی کرنا ہے جلد ہی کر لو
وقت کس کے لئے مِیاں ٹھہرے؟

اپنی وُسعت سے کچھ زمیں والے
آسمانوں کے آسماں ٹھہرے

شیخ بانٹے ہے نفرتیں، رِند بھی!
دل جو ٹھہرے تو اب کہاں ٹھہرے؟

بَیچ کھایا جنہوں نے کلِیوں کو
ہائے گُلشن کے پاسباں ٹھہرے!

کچھ تعلق نہیں تھا دُنیا سے
چار پَل کو مگر یہاں ٹھہرے

- ابنِ منیب

نوٹ: اپریل 2015 سے میں نے ایک مختصر قلمی نام 'ابنِ منیب' اختیار کر لیا ہے (والد 'منیب' تخلص کرتے ہیں)۔ ان شاءاللہ نئی کاوشیں اِسی نام سے پیش کرونگا۔
 
بہت خوب! آخری شعر اچھا لگا ۔ مقطع بھی ٹھیک ہے لیکن دوسرے مصرع میں " مگر " کا محل نہیں ۔ ایک مخلصانہ تجویز ہے کہ اسے "فقظ" سے بدل کر دیکھئے ۔ :)
 
Top