غزل برائے اصلاح: عجب سی اک کشش پائی شبِ عزلت کے افسوں میں

جناب محترم الف عین صاحب، اور دیگراحباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
عجب سی اک کشش پائی شبِ عزلت کے افسوں میں
جو خلوت میں مزہ پایا کہاں محفل کی باتوں میں
یونہی / اچانک نام تیرا آ گیا میرے خیالوں میں
کسے ہے شوق ورنہ جاگنے کا سرد راتوں میں
میرے احساس کو بیدار کرتی ہیں تری نظریں
وگرنہ میں تو بیٹھا ہوں پکڑ کردل کو ہاتھوں میں
جدا ہونے سے بہتر تھا کنارہ عشق سے کرتا
نہ ہوتی ہجر کی راتیں نہ ہوتی یاس آنکھوں میں
نگاہِ شوق کو بے خود کیا تیرے ارادوں نے
خبر مجھ کو نہیں پھر کیا ہوا مدہوش لمحوں میں
دلِ مضطر کی خواہش ہے دکھا دیں وہ ابھی جلوہ
مگر ان کی تمنا ہے رہے یہ راز پردوں میں
بہت بیزار ہوں میں آج کل اپنے مشاغل سے
نہیں لگتا ہے دل میرا یہ اب بیکار باتوں میں
مطلع میں شاعر کی مراد محفل سے یہ والی محفل ہرگز نہیں :)
 

عاطف ملک

محفلین
بہت خوب عظیم بھائی!
اچھی غزل ہے۔
مزا آیا پڑھ کر۔
مفاعیلن مفاعیلن وائرس خوب پھیلا ہوا ہے ماشااللہ۔
بہت بیزار ہوں میں آج کل اپنے مشاغل سے
نہیں لگتا ہے دل میرا یہ اب بیکار باتوں میں
نہیں لگتا ہے دل میرا "یہ" اب بیکار باتوں میں
یہ اضافی ہے دوسرے مصرعے میں

اس کے علاوہ مجھے تو درست معلوم ہو رہی ہے۔
ہاں،
روانی شاید بہتر ہو سکتی ہے۔
رہی بات محفل والی،تو اب آپ کی سرگوشی نے مشکوک کر دیا ہے ہمیں،ورنہ ایسا کوئی خیال نہ تھا۔
محفل سے یاد آیا مطلع کا دوسرا مصرع بھی بہتر ہو سکتا ہے تھوڑی سی کوشش سے۔
فقط میری ذاتی رائے۔
استادِ محترم کا انتظار کرتے ہیں :)
 
آخری تدوین:
بہت خوب عظیم بھائی!
اچھی غزل ہے۔
مزا آیا پڑھ کر۔
مفاعیلن مفاعیلن وائرس خوب پھیلا ہوا ہے ماشااللہ۔

"یہ" اضافی ہے دوسرے مصرعے میں۔
اس کے علاوہ مجھے تو درست معلوم ہو رہی ہے۔
ہاں،
روانی شاید بہتر ہو سکتی ہے۔
رہی بات محفل والی،تو اب آپ کی سرگوشی نے مشکوک کر دیا ہے ہمیں،ورنہ ایسا کوئی خیال نہ تھا۔
محفل سے یاد آیا مطلع کا دوسرا مصرع بھی بہتر ہو سکتا ہے تھوڑی سی کوشش سے۔
فقط میری ذاتی رائے۔
استادِ محترم کا انتظار کرتے ہیں :)
محبت ہے آپ کی۔ آپ کی رائے پر غور کرتا ہوں آخری شعر مجھے بھی بھرتی کا ہی لگ رہا تھا لیکن ساتھ پورے کرنے کے چکر میں ڈال دیا :)
 
عاطف بھائی یہ کیسا رہے گا؟
ترے ذکرِ عنایت پر وفا کے ساز چھڑتے ہیں
بجا کرتے ہیں نغمے پھر مرے دل کی فضاؤں میں
یا
جو تیرا ذکر ہوتا ہے تو دل کے تار چھڑتے ہیں
بجا کرتے ہیں نغمے پھر محبت کے فضاؤں میں

مطلع کا دوسرا مصرع یوں بھی ہو سکتا ہے، اساتذہ کی رائے کا اتنظار کرتا ہوں کہ کون سا بہتر ہے
مزہ پایا جو خلوت میں کہاں محفل کی باتوں میں
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
پہلی بات تو یہ کہ پہلے مصرعے میں ہی قافیہ غلط ہو گیا ہے۔ افسوں میں واؤ پر حرکت وہ نہیں جو باتوں، لمحوں وغیرہ میں ہے، افسوں میں الٹا پیش ہے۔ ویسے دوسرا مصرع بعد والا بہتر ہے
دوسرے شعر میں ایک نازک سی غلطی ہے نام زبان پر آتا ہے خیالوں میں نہیں! خیالات میں تو محبوب بنفس نفیس وارد ہوتے ہیں
نئے شعر میں یہ اچھا ہے
جو تیرا ذکر ہوتا ہے تو دل کے تار چھڑتے ہیں
بجا کرتے ہیں نغمے پھر محبت کے فضاؤں میں

آخری شعر میں "اب ان" بیکار باتوں کر سکتے ہو
 

عاطف ملک

محفلین
افسوں کو چھوڑ کر بھی قوافی درست نہیں ہیں۔ بات، خیال، ہاتھ وغیرہ ہم قافیہ نہیں۔
خدارا شاعروں سے جینے کا حق نہ چھینا جائے۔۔۔۔۔۔
یہی تو فرق ہے اسلام میں اور باقی دینوں میں
وہاں مذہب کتابوں میں، یہاں قرآن سینوں میں
اس کی بابت کیا ارشاد ہے محمد ریحان قریشی بھائی؟؟؟
 
خدارا شاعروں سے جینے کا حق نہ چھینا جائے۔۔۔۔۔۔
یہی تو فرق ہے اسلام میں اور باقی دینوں میں
وہاں مذہب کتابوں میں، یہاں قرآن سینوں میں
اس کی بابت کیا ارشاد ہے محمد ریحان قریشی بھائی؟؟؟
یہ بھی تکنیکی طور پر درست نہیں ہیں کیونکہ سینہ اور دین ہم قافیہ نہیں مگر پھر بھی قابلِ قبول ہیں۔
کیونکہ مشق اصلاحِ سخن کا بنیادی مقصد ہوتی ہے اس لیے ان عیوب کی نشاندہی ضروری ہے ورنہ یہ نئے طرز کے قوافی شاعروں نے استعمال ضرور کیے ہیں۔
 

عاطف ملک

محفلین
یہ بھی تکنیکی طور پر درست نہیں ہیں کیونکہ سینہ اور دین ہم قافیہ نہیں مگر پھر بھی قابلِ قبول ہیں۔
ظہیر بھائی کے اس اقتباس سے اور مزمل بھائی کے مضمون سے جو کچھ میں سمجھ پایا ہوں،وہ یہ ہے کہ قوافی فعل ہوں تو ان کا فعلِ امر بنا کر دیکھا جائے اور اگر وہ ہم قافیہ ہوں تو درست ہوتا ہے۔
اب میرے quoted شعر اور عظیم بھائی کے مطلع کے دونوں قوافی (خیال اور رات) فعل ہی نہیں ہیں تو ان پر یہ اصول کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟؟؟
اس لیے مجھے تو ابھی بھی ٹھیک ہی لگ رہے ہیں۔
عین ممکن ہے کہ میری کم علمی کا قصور ہو۔
ذرا وضاحت کر دیجیے گا۔
کل ہی شکیب صاحب سے اس پر بات ہوئی ہے ذاتی مکالمے میں ۔ جب فعل کو قافیہ بنایا جائے تو اس کا صیغہء امر ہی اصل قافیہ ہوتا ہےیعنی مصدرِ قافیہ۔ چنانچہ نکلتا ، سنبھلتا ، مچلتا ، بدلتا ہم قافیہ ہیں ۔ ان میں مصدرِ قافیہ نکل ، سنبھل ، مچل اور بدل ہیں ۔ حرفِ روی لام ہے ۔ ت اور الف زائد حروف ہیں جنہیں اصطلاح میں بالترتیب حرفِ وصل اور حرفِ خروج کہا جاتا ہے ۔ روی کے بعد آنے والے حروف کو دراصل ردیف کا حصہ ہی سمجھنا چاہیئے کہ ان کی تکرار ہر قافیے میں بعینہ لازمی ہے ۔
روکے, سمیٹے, لے, بکھرے. رکھے, جھانکے, آئے ہم قافیہ نہیں ہیں ۔ ان میں روک، سمیٹ ،لے، بکھر، رکھ ، جھانک اور آ اصل الفاظ ہیں اور ان سب کا حرفِ روی الگ الگ ہے ۔ چنانچہ ان کا قافیہ قائم نہیں ہوسکتا ۔
 
ظہیر بھائی کے اس اقتباس سے اور مزمل بھائی کے مضمون سے جو کچھ میں سمجھ پایا ہوں،وہ یہ ہے کہ قوافی فعل ہوں تو ان کا فعلِ امر بنا کر دیکھا جائے اور اگر وہ ہم قافیہ ہوں تو درست ہوتا ہے۔
اب میرے quoted شعر اور عظیم بھائی کے مطلع کے دونوں قوافی (خیال اور رات) فعل ہی نہیں ہیں تو ان پر یہ اصول کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟؟؟
اس لیے مجھے تو ابھی بھی ٹھیک ہی لگ رہے ہیں۔
عین ممکن ہے کہ میری کم علمی کا قصور ہو۔
ذرا وضاحت کر دیجیے گا۔
حرفِ روی وہ آخری حرف ہوتا ہے جسے ہٹا دینے سے لفظ بے معنی ہو جائے۔
مثال کے طور پر باتوں میں ت اور خیالوں میں ل حرفِ روی ہے۔
اختلافِ روی کا مطلب یہ ہے کہ لفظ ہم قافیہ نہیں ہیں۔
 

عاطف ملک

محفلین
حرفِ روی وہ آخری حرف ہوتا ہے جسے ہٹا دینے سے لفظ بے معنی ہو جائے۔
مثال کے طور پر باتوں میں ت اور خیالوں میں ل حرفِ روی ہے۔
اختلافِ روی کا مطلب یہ ہے کہ لفظ ہم قافیہ نہیں ہیں۔
سمجھ گیا :)
ادھر "روی" بھائی جان کو مسئلہ ہے۔
اف اللہ۔۔۔۔کتنے امتحانات ہیں شاعری میں :p
 
پہلی بات تو یہ کہ پہلے مصرعے میں ہی قافیہ غلط ہو گیا ہے۔ افسوں میں واؤ پر حرکت وہ نہیں جو باتوں، لمحوں وغیرہ میں ہے، افسوں میں الٹا پیش ہے۔ ویسے دوسرا مصرع بعد والا بہتر ہے
افسوں کو چھوڑ کر بھی قوافی درست نہیں ہیں۔ بات، خیال، ہاتھ وغیرہ ہم قافیہ نہیں۔
جناب الف عین صاحب، محمد ریحان قریشی صاحب، سچ پوچھیے اس غزل کا مطلع پہلے دوسرا شعر لکھا تھا لیکن جس روی والی بات کی طرف آپکا اشارہ تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ’افسوں‘ والا مطلع لکھا تھا۔ میرے ناقص فہم میں اس طرح ’ں میں’ ردیف بن جاتی ہے ۔کیونکہ ’افسوں‘ مکمل لفظ ہے اس لیے، یہ فرما دیجیے کہ کیا یہ غلط ہے؟ خیر اب جان بخشی کی راہ یہ ہوسکتی ہے کہ ایک نیا مطلع سوچا جائے یا اس کو بدلا جائے جس میں ردیف ’ں میں‘ ہو جائے تو باقی اشعار بھی درست ہو جائے گے؟ یا کچھ اور؟

دوسرے شعر میں ایک نازک سی غلطی ہے نام زبان پر آتا ہے خیالوں میں نہیں! خیالات میں تو محبوب بنفس نفیس وارد ہوتے ہیں
جی اس کا تو متبادل سوچا جا سکتا ہے۔ انشاءاللہ
آخری شعر میں "اب ان" بیکار باتوں کر سکتے ہو
جی بہتر ہے۔
 
سچ پوچھیے اس غزل کا مطلع پہلے دوسرا شعر لکھا تھا لیکن جس روی والی بات کی طرف آپکا اشارہ تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ’افسوں‘ والا مطلع لکھا تھا۔
افسوں کے ساتھ جیحوں، ہاموں ، قاروں، موزوں، افزوں، واژوں، مجنوں، بیروں، خوں، مضموں وغیرہ بآسانی قافیے لائے جا سکتے ہیں۔
ں ردیف کا حصہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ افسوں کا حرفِ روی ہے۔ باتوں اور راتوں میں آپ "وں" کو دریف کا حصہ کہ سکتے ہیں۔
 
بہت شکریہ ریحان بھائی لیکن باتوں اور راتوں میں ردیف 'توں' نہیں بنتی؟
اگر 'وں' ہے تو مطلع اگر دوسرا شعر بنا دوں اور خیالوں کی جگہ باتوں کو لے آو اور ابھی والے مطلع کو بعد میں لکھ دوں تو چل جائے گا۔
 
ویسے بھائی محمد عظیم الدین صاحب کی غزلوںمیں اکثر قافیہ کا مسئلہ رہتا ہے. اساتذہ آسان سا کوئی فارمولا بتا دیں. اتنی گہری باتیں ابتدا میں الٹا مسائل پیدا کرتی نظر آ رہی ہیں.
جی درست فرمایا آپ نے کوشش کر کے بھی بار بار یہ غلطی ہوئے جار رہی ہے۔(n)
 
محمد ریحان قریشی صاحب اگر یوں شروع کروں غزل تو باقی اشعار درست قرار پائیں گے؟ ردیف ’وں میں‘ کے حوالے سے

اچانک نام تیرا آگیا باتوں ہی باتوں میں
کسے ہے شوق ورنہ جاگنے کا سرد راتوں میں
عجب سی اک کشش پائی شبِ عزلت کے افسوں میں
جو خلوت میں مزہ پایا کہاں محفل کی رنگوں میں​
 
عمدہ لاجواب۔ماشاءاللہ
بہت شکریہ جناب، یہ تو کاپی ہے اور محبوب کے ساتھ فٹ کردیا کہ میرے الفاظ اور غزل میں فٹ ہو رہا تھا۔ ورنہ اصل شعر خواجہ عزیز الحسن مجذوب کا ہے اور کیا خوب ہے
نہیں کرتے ہیں وعدہ دید کا وہ حشر سے پہلے​
دلِ بے تاب کی ضد ہے ابھی ہوتی یہیں ہوتی
پوری غزل یہاں ملاحظہ فرمائیں۔​
 
Top