غزل برائے اصلاح جناب الف عین سر اور جناب آسی سر اور تمام محترم اساتذہ حضرات کی خدمت میں.

محمد عسکری

محفلین
دِل میں جو درد کی تصویر نھاں ھوتی ھے.
وھی تصویر تو اشکوں سے عیاں ھوتی ھے.
میرے غم ہی میرے زخموں کی دوا بنتے ھیں.
جب کبھی روح میری گریاکناں ھوتی ھے.
جب کبھی آتا ھے دِل میں شبِ ھجراں کا خیال.
ہر شبِ غم شبِ وحشت سی گماں ھوتی ہے.
میری آھیِں ہی مجھے آکے سھارا بخشیں.
حسرتِ قلب جو آنکھوں میں دھواں ھوتی ھے.
راحتِ دِل میں مددگار ھے غربت میری.
ایسی تقدیر بھلا سبکی کھاں ھوتی ھے.
بےوفا بنتا ھے جب دھر میں اپنا کوئ.
ایسا لگتا ھے جدا جسم سے جاں ھوتی ھے.
مدتیں لگتیں ھیں انسان کو انساں بنتے.
تب کھیں قوتِ اِخلاق جواں ھوتی ھے.
یا خدا ھووے نہ عارف کو ذمانے سے غرض.
اُسکی تکلیف فقط تجھسے بیاں ھوتی ھے.
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے۔ شاید موبائل سے ٹائپ کی گئی ہے، جس کے کی بورڈ میں ’ہ‘ یا تو نہیں ہے یا اس کا استعمال معلوم نہیں۔ سویفٹ کی بورڈ میں میرے پاس بھی وقفے کا نشان ڈھونڈھنے پر ملتا ہے، ورنہ وہی انگریزی والا وقفہ یا فل سٹاپ ملتا ہے۔
کچھ مصرعوں میں گرامر یا روزمرہ کے خلاف بات کی گئی ہے۔
ہر شبِ غم شبِ وحشت سی گماں ھوتی ہے.
۔۔مراد شب وحشت کا گماں ہوتا ہے، لیکن یہ بیانیہ قبول بھی کیا جا سکتا ہے۔

میری آھیِں ہی مجھے آکے سھارا بخشیں.
۔۔یہ ’بخشتی ہیں‘ ہونا چاہئے۔

راحتِ دِل میں مددگار ھے غربت میری.
۔۔مدد گار کی جگہ ’مدد کرتی‘ کی ضرورت ہے۔ ؎

یا خدا ھووے نہ عارف کو ذمانے سے غرض.
’ھووے‘ کا کلاسیکی بیان تمنائی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں۔ یا خدا کی جگہ بھی اے خدا کہنا بہتر ہے۔
 
Top