فارسی شاعری غزل از علامہ شبلی نعمانی مع اردو ترجمہ - من کہ در سینہ دِلے دارم و شیدا چہ کنم

محمد وارث

لائبریرین
علامہ شبلی نعمانی کی ایک خوبصورت غزل

من کہ در سینہ دِلے دارم و شیدا چہ کنم
میل با لالہ رُخاں گر نہ کنم تا چہ کنم

میں کہ سینے میں دل رکھتا ہوں اور وہ بھی شیدا سو کیا کروں؟ اگر لالہ رُخوں کے ساتھ میل جول نہ رکھوں تو پھر آخر کیا کروں۔

من نہ آنم کہ بہ ہر شیوہ دل از دست دہم
لیک با آں نگہٴ حوصلہ فرسا چہ کنم

میں وہ نہیں ہوں کہ ہر ناز و ادا اور طور طریقے پر دل دیتا رہوں، لیکن اُس حوصلہ توڑ کے رکھ دینے والی نگاہ کے سامنے کیا کروں۔

ہست چل سال کہ بیہودہ نگہ داشتمش
گر نہ بر سنگ زنم شیشہٴ تقویٰ چہ کنم

چالیس سال ہوئے کہ خواہ مخواہ ہی اسکی دیکھ بھال کرتا رہا، اب بھی اگر تقوے کے شیشے پر پتھر نہ ماروں تو کیا کروں۔

مایہٴ تقویِٰ سی سالہ فراہم شدہ است
ارمغانش بہ نگارے بدہم یا چہ کنم

تیس سالہ تقوے کا مایہ فراہم ہو گیا ہے، اِسے محبوب کو ہدیہ کر دوں یا کیا کروں؟

شاہد و بادہ و طرفِ چمن و جوشِ بہار
شبلیا خود تو بفرما کہ بہ اینہا چہ کنم

محبوب ہے، شراب ہے، چمن کا گوشہ ہے، جوشِ بہار ہے، اے شبلی تو خود ہی فرما کہ ان کے ساتھ کیا کروں؟
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہ
شاہد و بادہ و طرفِ چمن و جوشِ بہار
شبلیا خود تو بفرما کہ بہ اینہا چہ کنم
محبوب ہے، شراب ہے، چمن کا گوشہ ہے، جوشِ بہار ہے، اے شبلی تو خود ہی فرما کہ ان کے ساتھ کیا کروں؟

لطف آگیا ترجمہ پڑھ کر
بہت شکریہ بہت دعائیں محترم وارث بھائی
 
Top