جون ایلیا غزل -ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے -جون ایلیا

ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے

یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخِ جاں سے

دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے

تھا اب تک معرکہ باہر کا در پیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

خبر کیا دوں میں شہرِ رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہرِ رفتگاں سے

یہی انجام کیا تجھ کو ہوس تھا
کوئی پوچھے تو میرِ داستاں سے

جون ایلیا
 

محمد وارث

لائبریرین
کیا خوبصورت غزل ہے، لاجواب

تھا اب تک معرکہ باہر کا در پیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

خبر کیا دوں میں شہرِ رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہرِ رفتگاں سے

واہ واہ واہ

بہت شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے!
 
کیا خوبصورت غزل ہے، لاجواب

تھا اب تک معرکہ باہر کا در پیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے

فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے

خبر کیا دوں میں شہرِ رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہرِ رفتگاں سے

واہ واہ واہ

بہت شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے!

شکریہ سر جی پسندیدگی کا ۔ مجھے واقعی اس فورم سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے ۔ اور صحیح کہوں تو شاعری پڑھنے کو میں عرصہ دراز سے پڑھ رہا ہوں ۔ مگر آپ محترم حضرات کی صحبت میں واقعی شاعری کو پڑھنے کا اور سمجھنے کا ایک موقع دستیاب ہوا ہے ۔ سو سر جی ایک بار پھر شکریہ آپ کی عنایت کا ۔ اور انتخاب پر رائے کا اظہار کے لیے ۔
 
Top