نظر لکھنوی غزل: آلودۂ عصیاں خود کہ ہے دل، وہ مانعِ عصیاں کیا ہو گا ٭ نظر لکھنوی

آلودۂ عصیاں خود کہ ہے دل، وہ مانعِ عصیاں کیا ہو گا
جو اپنی حفاظت کر نہ سکا، وہ میرا نگہباں کیا ہو گا

ذوقِ دلِ شاہاں پیدا کر، تاجِ سرِ شاہاں کیا ہو گا
جو لُٹ نہ سکے وہ ساماں کر، لُٹ جائے جو ساماں کیا ہو گا

غم خانہ، صنم خانہ، ایواں یا خانۂ ویراں کیا ہو گا
قصہ ہے دلِ دیوانہ کا، حیراں ہوں کہ عنواں کیا ہو گا

جو سیرِ چمن کو آتا ہے وہ طالبِ گل ہی ہوتا ہے
پوچھے کوئی ان نادانوں سے، خارِ چمنستاں کیا ہو گا

کچھ شکوہ نہیں اتنا سن لے اے مستِ ستم، ناوک افگن
دل ہی نہ رہے گا جب میرا، پھر تیرا یہ پیکاں کیا ہو گا

اے ہنسنے ہنسانے والے جا، افسردگیِ دل بڑھتی ہے
جس کو ہو ازل سے نسبتِ غم، ہنسنے سے وہ خنداں کیا ہو گا

آج اپنی نظرؔ سے وہ دیکھیں یہ سلسلۂ طوفاں آ کر
کل کہتے تھے جو حیراں ہو کر ساحل پہ بھی طوفاں کیا ہو گا

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
جو اپنی حفاظت کر نہ سکا، وہ میرا نگہباں کیا ہو گا

کیا بات ہے!!!!! سبحان اللہ ، سبحان اللہ!

تابش بھائی آخری شعر میں افسردگی دل پر اضافت رہ گئی ہے ۔ ٹائپو درست کر لیجئے ۔
 
جو اپنی حفاظت کر نہ سکا، وہ میرا نگہباں کیا ہو گا

کیا بات ہے!!!!! سبحان اللہ ، سبحان اللہ!

تابش بھائی آخری شعر میں افسردگی دل پر اضافت رہ گئی ہے ۔ ٹائپو درست کر لیجئے ۔
جزاک اللہ
نشاندہی کا شکریہ۔ :)
شکریہ فرقان بھائی
 
Top