سیف غزل - آئے تھے ان کے ساتھ نظارے چلے گئے

آئے تھے ان کے ساتھ نظارے چلے گئے

وہ شب وہ چاندنی وہ ستارے چلے گئے

شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آسکیں

وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے

ہر آستاں اگرچہ ترا آستاں نہ تھا

ہر آستاں پہ تجھ کو پکارے چلے گئے

شام وصال خانہ غربت سے روٹھ کر

تم کیا گئے نصیب ہمارے چلے گئے

دیکھا تو پھر وہیں تھے چلے تھے جہاں سے ہم

کشتی کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے

جاتے ھی ان کے سیف شب غم نے آلیا

رخصت ھوا وہ چاند ستارے چلے گئے
 
Top