غزل،ترے وصال میں مٹنے کا خوف طاری ہے،احمد وصال

احمد وصال

محفلین
ترے وصال میں مٹنے کا خوف طاری ہے
بدن کے ملبے میں اپنی تلاش جاری ہے

مکیں ہوں گاؤں کا ، دیکھو کہ میری گھٹّی میں
مرے عزیز! روایت کی پاسداری ہے

بنے ہیں لوگ سب انجان ایک دوجے سے
نہی ہے کچھ بھی ، امارت کی تابکاری ہے

یقین ہے کہ محبت میں سرخرو ہوں گے
ہمارے پاس دعاؤں کی ریزگاری ہے

دکھائی آنکھیں، ذرا مسکرائی ، شرمائی
محال ہے مرا بچنا کہ وار کاری ہے

بقا کے خاص عناصر ،یہ چار، ذیل میں ہیں
وفا ، خلوص، محبت ہے، انکساری ہے

بنایا حضرتِ انساں کو کیا سے کیا اس نے
یہ بھوک دنیا کا سب سے بڑا مداری ہے

وصال روگ یہ احساس کا لگا جس کو
پھر اس نے درد میں ہی زندگی گزاری ہے


احمد وصال
 
آخری تدوین:
اچھے اشعار ہیں!
مطلع میں خود کی نہیں اپنی ہونا چاہئے ۔ دوسرے مصرع میں ایک عدد اونٹ اور بلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ۔ وصال صاحب انہیں دیکھ لیجئے۔
 
ماشاءاللہ بہت خوب وصالؔ صاحب۔
امارت کی تابکاری ہے
بڑی نادر ترکیب تراشی ہے ۔۔۔ :)
ہم نے تو تابکاری کا لفظ ہمیشہ Radiation کے معنی میں استعمال ہوتا دیکھا ہے، اس لئے یہ ترکیب کچھ عجیب لگی۔ برا نہ مانئے گا، عین ممکن ہے اس تاثر کا سبب میری کم علمی ہو۔

دعاگو،
راحلؔ
 

احمد وصال

محفلین
ماشاءاللہ بہت خوب وصالؔ صاحب۔

بڑی نادر ترکیب تراشی ہے ۔۔۔ :)
ہم نے تو تابکاری کا لفظ ہمیشہ Radiation کے معنی میں استعمال ہوتا دیکھا ہے، اس لئے یہ ترکیب کچھ عجیب لگی۔ برا نہ مانئے گا، عین ممکن ہے اس تاثر کا سبب میری کم علمی ہو۔

دعاگو،
راحلؔ
ہر چیز کا ایک منفی تاثر ہوتا ہے
اور میں نے "امارت/دولت" کے منفی تاثر کو "تابکاری" سے تشبیہ دی ہے۔۔
 
Top