غالب غالب فارسی اشعار مع ترجمہ

احمد بلال

محفلین
شعلہ چکد غم کرا، گل شگف مزد کو
شمع شبستانیم، باد سحر گاہیم
(میں گویا شمع شبستانی ہوں کہ اس میں سے شعلے جھڑتے ہیں مگر کسی کو اس کے ساتھ ہمدردی نہیں اور گویا میں باد سحر گاہی ہوں جو پھول کھلاتی ہے اس کی اجرت کوئی نہیں ادا کرتا)

دعوے اور بود دلیل بدیہی
خندہء دنداں نما بحسن گہر زد
(معشوق موتی پر اس طرح ہنسا کہ اس کے دانت نظر آنے لگے۔ پس اس کا خندہ اس بات کا دعوہ ہے کہموتی کی کچھ حقیقت میرے دانتوں کے سامنے نہیں۔ اور اس دعوے کی دلیل اس کا خندہء دنداں نما ہے۔ اس کے دانتوں کا سب پہ ظاہر ہونا یہی اس بات کی دلیل ہے کہ موتی اس کے دانتوں کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتے)

بلبل بچمن بنگر و پروانہ بہ محفل
شوق ست کہ در وصل ہم آرام ندارد
(شوق کو وصل میں بھی آرام نصیب نہیں، اسی لیے نہ بلبل کو چمن میں آرام ہے اور نہ پروانے کو شمع کی موجودگی میں قرار ہے)
محمد وارث ، الف عین ، فاتح
 

احمد بلال

محفلین
یاد از عدو نیارم و اینہم ز دور بینی ست
کاندر دلم گذشتن با دوست ہم نشینی ست
(میں جو رقیب کا خیال دل میں نہیں لاتا یہ دور بینی کی بات ہے کیوں کہ میرے دل میں ہر وقت دوست رہتا ہے، اگر رقیب کا خیال دل میں آئے گا تو گویا رقیب دوست کے ساتھ ہم نشیں ہو جائے گا)
 

تابش کفیلی

محفلین
یاد از عدو نیارم و اینہم ز دور بینی ست
کاندر دلم گذشتن با دوست ہم نشینی ست
(میں جو رقیب کا خیال دل میں نہیں لاتا یہ دور بینی کی بات ہے کیوں کہ میرے دل میں ہر وقت دوست رہتا ہے، اگر رقیب کا خیال دل میں آئے گا تو گویا رقیب دوست کے ساتھ ہم نشیں ہو جائے گا)
جناب بہت ہی عمدہ
شعر می گویم بہ از آبِ حیات
من ندانم فاعلاتن فاعلات
واہ بہت ہی اعلی کس شاعر کا ہے؟؟؟؟؟
 
Top