غالب۔۔۔۔ مضطر مجاز

الف عین

لائبریرین
مرزا غالبؔ

مضطر مجازؔ

مایۂ ذوق سخن خاصۂ خاصانِ غزل
وہ تری ذات کہ ہے جس سے فزوں شانِ غزل
تیرا ہر لفظ ہے گنجینۂ معنی کا طلسم
تیرا ہر مصرعۂ تر گوہرِ تابانِ غزل
تیرے ہر نقش سے آرائشِ ایوانِ سخن
تیرے ہر شعر سے افزائشِ ایمانِ غزل
ہر عبارت میں تری بادۂ معنی کا سرور
ہر اشارت میں تری نشۂ عرفانِ غزل
تجھ سے تابندگیِ روئے تغزل کا بھرم
تجھ سے رخشندگیِ کاکلِ پیچانِ غزل
ہے شبِ تارِ زلیخائے تغزل روشن
تجھ سے اے ماہِ درخشندۂ کنعانِ غزل
شکر صد شکر کہ تو نے جو چلایا تھا کبھی
آج تک دل میں ہے پیوست وہ پیکانِ غزل
وہ تری فکرِ فلک سیر کہ ہے جس سے عیاں
حسنِ پایانِ تخیل حدِ امکانِ غزل
وہ ترے اشہبِ تخئیل کی جولانیِ فکر
کہ عیاں سے جس سے ہوئی ہمتِ مردانِ غزل
مست و مدہوش و معطر ہے مشامِ اردو
نطق سے تیرے کھل اٹھا وہ گلستانِ غزل
’’گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا‘‘
نہ بجھی تشنگیِ شوقِ فراوانِ غزل
’’نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا‘‘
تو لٹاتا ہی رہا گوہرِ نیسانِ غزل
اور بھی گرچہ تھے دنیا میں سخن ور اچھے
ختم تھی تجھ پہ ادا دانیِ جانانِ غزل
ہو گیا عرصۂ کونین بھی تنگ اس کے لیے
اللہ اللہ تری وسعتِ دامانِ غزل
رنگِ اربابِ معانی نہ جما تیرے بعد
’’ہے مکر رِ لبِ ساقی پہ صلا‘‘ تیرے بعد

تشکر: روزنامہ منصف، 13 اگست 2009
لیکن ویب پر شاعری کے علاوہ سارے مضامین ہیں:
http://www.munsifdaily.com/adab.html
 

الف عین

لائبریرین
اس پیغام کو رکھا جائے، دوسرا پیغام اسی موضوع پر حذف کر دیا جائے، میں نہیں کر پا رہا ہوں۔ ٹیگز اور لنک دینے کے لئے پوسٹ بٹن دبانے کے فوراً بعد esc دبایا اور مدون کیا، لیکن دو پیغامات ہو گئے!!۔ اور قطع و برید میں دونوں جگہ حذف کا آپشن نہیں آ رہا ہے۔ وارث سے درخواست ہے۔
 

تعمیر

محفلین
حیدرآباد کے نامور ادیب ، شاعر، محقق اور ماہر اقبالیات جناب مضطر مجاز آج 19-اکتوبر 2018، رات 9 بجے انتقال کر گئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
ان کی عمر 83 سال تھی نماز جنازہ ہفتہ 20 اکتوبر کو بعد نماز ظہر مسجد میر مومن سعید آباد میں ادا کی جائے گی ۔تدفین قبرستان احاطہ درگاہ حضرت اجالے شاہ صاحب میں عمل میں آئے گی ۔
 
Top