اقبال عہدِ طفلی - علّامہ محمّد اقبال

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 24, 2007

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,702
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    عہدِ طفلی (بانگ درا سے)

    تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
    وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
    تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
    حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
    درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
    شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
    تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
    وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
    پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
    اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
    آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
    دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد شیراز

    محمد شیراز محفلین

    مراسلے:
    10
    واہ !
    بہت خوب۔
     
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,702
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ شیراز صاحب، امید اور محبت اور وارث صاحب!
     
  4. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت اچھا انتخاب سخنور ۔۔۔:clapp:
     
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,702
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ سارہ خان!
     
  6. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    عہدِ طفلی (بانگ درا سے)

    تھے دیارِ نو زمین و آسماں میرے لیے
    وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے
    تھی ہر اک جنبش نشانِ لطفِ جاں میرے لیے
    حرفِ بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے

    درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
    شورشِ زنجیرِ در میں لطف آتا تھا مجھے

    تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
    وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
    پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
    اور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر

    آنکھ وقفِ دید تھی ، لب مائلِ گفتار تھا
    دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوقِ استفسار تھا




     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    فرخ صاحب خوب انتخاب ہے -
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    غلام رسول مہر اس نظم پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    اس نظم میں بچپن کی کیفیت بڑے ہی دل کش انداز میں بیان کی گئی ہے۔ بچہ کبھی نچلا نہیں بیٹھتا۔ ہر وقت ہاتھ پائوں ہلاتا رہتا ہے۔ زبان سے جو کچھ کہتا ہے، اس کا مفہوم کچھ نہیں ہوتا۔ لہٰذا شاعر نے خود زبان کو ’’حرف بے مطلب‘‘ قرار دیا ہے پھر بچہ چارپائی پر لیٹا ہوا اس وجہ سے پہروں چاند کو تکتا رہتا ہے کہ وہ ایک نہایت روشن چیز ہے اور اس کی روشنی سے آنکھیں چندھیاتی نہیں۔ پھٹے ہوئے بادل سے چاند گزرتا ہے تو واقعی آہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ مائیں عموماً بچوں کو لبھانے کے لیے کہتی ہیں کہ وہ دیکھو چاند میں پہاڑ ہیں اور بیابان ہیں -بچے کچھ پوچھتے ہیں تو اُنھیں خوش کرنے کے لیے جھوٹ موٹ کی کوئی بات کہہ دیتی ہیں اور وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ بچوں کی عام کیفیت ہے۔ آخری بند میں شاعر نے بچے کا نقشہ کھینچتے ہوئے تین باتیں جمع کر دی ہیں جو معجزے سے کم نہیں۔ یعنی اُس کی آنکھ ہر شے کو دیکھنے میں لگی رہتی ہے اس کے لب بات کرنا چاہتےہیں ا ور دل میں یہ شوق رہتا ہے کہ سب کچھ پوچھ کر معلوم کر لے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر