فرخ منظور

لائبریرین
عہدِ طفلی (بانگ درا سے)

تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
 

یاسر شاہ

محفلین
عہدِ طفلی (بانگ درا سے)

تھے دیارِ نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے
تھی ہر اک جنبش نشانِ لطفِ جاں میرے لیے
حرفِ بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے

درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورشِ زنجیرِ در میں لطف آتا تھا مجھے

تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر

آنکھ وقفِ دید تھی ، لب مائلِ گفتار تھا
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوقِ استفسار تھا




 

یاسر شاہ

محفلین
غلام رسول مہر اس نظم پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اس نظم میں بچپن کی کیفیت بڑے ہی دل کش انداز میں بیان کی گئی ہے۔ بچہ کبھی نچلا نہیں بیٹھتا۔ ہر وقت ہاتھ پائوں ہلاتا رہتا ہے۔ زبان سے جو کچھ کہتا ہے، اس کا مفہوم کچھ نہیں ہوتا۔ لہٰذا شاعر نے خود زبان کو ’’حرف بے مطلب‘‘ قرار دیا ہے پھر بچہ چارپائی پر لیٹا ہوا اس وجہ سے پہروں چاند کو تکتا رہتا ہے کہ وہ ایک نہایت روشن چیز ہے اور اس کی روشنی سے آنکھیں چندھیاتی نہیں۔ پھٹے ہوئے بادل سے چاند گزرتا ہے تو واقعی آہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ مائیں عموماً بچوں کو لبھانے کے لیے کہتی ہیں کہ وہ دیکھو چاند میں پہاڑ ہیں اور بیابان ہیں -بچے کچھ پوچھتے ہیں تو اُنھیں خوش کرنے کے لیے جھوٹ موٹ کی کوئی بات کہہ دیتی ہیں اور وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ بچوں کی عام کیفیت ہے۔ آخری بند میں شاعر نے بچے کا نقشہ کھینچتے ہوئے تین باتیں جمع کر دی ہیں جو معجزے سے کم نہیں۔ یعنی اُس کی آنکھ ہر شے کو دیکھنے میں لگی رہتی ہے اس کے لب بات کرنا چاہتےہیں ا ور دل میں یہ شوق رہتا ہے کہ سب کچھ پوچھ کر معلوم کر لے۔
 
Top