عہدِ رسالت کی جنگی مہمّات

ایک ویب سائیٹ پر یہ عمدہ مضمون پڑھنے کو ملا جس میں عہدِ رسالت کی تقریباّ تمام جنگی مہمات (غزوات اور سرایا) کو بہت اختصار کے ساتھ ایک ٹائم لائن کے تحت بیان کیا گیا ہے۔۔۔آپ بھی یہ مضمون پڑھئیے :

عہد رسالت کی جنگی مہمات

اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور خلفاء راشدین کی ایک ایک جنگی مہم کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانے میں جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ان جنگوں کی تفصیلات ہم سیرت ابن ہشام، مغازی ابن اسحق، طبقات ابن سعد، ابن جوزی کی کتاب تلقیح الفھوم اور صفی الرحمٰن مبارک پوری کی کتاب "الرحیق المختوم" میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

جیسا کہ سیرت کے طالب علم جانتے ہیں کہ "غزوہ" اس مہم کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود شامل تھے اور "سریہ" اس مہم کو کہتے ہیں جو آپ نے روانہ فرمائی لیکن اس میں آپ خود شامل نہ تھے۔

ہجرت سے جنگ بدر کا زمانہ

جنگ بدر سے پہلے غزوات زیادہ تر قریش کے تجارتی قافلوں کو روکنے کے لئے کیے گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی مدینہ ہجرت کے بعد قریش مسلسل انہیں تنگ کر رہے تھے۔ کبھی مدینہ پر حملہ کر کے ان کے مویشی لوٹ لیتے۔ کبھی مکہ میں موجود مسلمانوں پر ظلم و ستم کرتے۔ اپنی تجارت کے ذریعے جو مال یہ کمایا کرتے تھے، اس کا بڑا حصہ ہتھیاروں پر صرف کرتے تھے۔ ان لوگوں کی یہ سرکشی اللہ کے ایک پیغمبر کے مقابلے پر تھی جس کے جواب میں ان پر خدائی عذاب جنگ بدر میں نازل ہوا۔ بدر سے پہلے غزوات کی تفصیل یہ ہے۔

1. سریہ سیف البحر (1H / 623CE): اس سریہ کا مقصد قریش کے تجارتی قافلے سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا تھا۔ اس میں جنگ کی نوبت ہی نہیں آئی۔

2. سریہ رابغ (1H / 623CE): اس سریہ کا مقصد قریش کے تجارتی قافلے سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا تھا۔ اس میں معمولی تیر اندازی ہوئی لیکن باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

3. سریہ خرار (1H / 623CE): یہ مہم بھی معلومات اکٹھی کرنے کے لئے کی گئی۔ اس میں بھی کسی جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

4. غزوہ ابوا (1H / 623CE): یہ غزوہ قریش کے تجارتی قافلے کو روکنے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس میں میں جنگ کی نوبت ہی نہیں آئی بلکہ ابوا کے علاقے کے رہنے والے بنو ضمرہ سے صلح کا معاہدہ طے پایا۔

5. غزوہ بواط (2H / 623CE): اس غزوے میں بھی جنگ کی نوعیت نہیں آئی۔

6. غزوہ سفوان (2H / 623CE): یہ غزوہ ڈاکوؤں کے خلاف کاروائی پر مبنی تھا۔ اس میں بھی جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

7. غزوہ ذو العشیرۃ (2H / 623CE): اس غزوے کا مقصد بھی قریش کے تجارتی قافلے کو روکنا تھا۔ اس میں بھی جنگ کی نوبت نہیں آئی بلکہ دو قبائل سے امن کا معاہدہ طے پایا۔

8. سریہ عبداللہ بن جحش (2H / 624CE): یہ مہم صرف بارہ افراد پر مشتمل تھی اور اس کا مقصد معلومات حاصل کرنا تھا۔ اس سریے میں معمولی جنگ ہوئی۔ دشمن کا ایک آدمی مقتول اور دو افراد بطور قیدی گرفتار ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان دونوں قیدیوں کو بغیر کسی معاوضے کے آزاد کر دیا اور مقتول کی دیت بھی ادا فرمائی۔

9. غزوہ بدر (2H / 624CE): اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی، قریش کے ستر افراد قتل اور ستر گرفتار ہوئے۔ ان تمام افراد کو فدیہ لے کر رہا کیا گیا۔ فدیہ کی رقم ایک سے چار ہزار درہم مقرر کی گئی۔ جو لوگ فدیہ ادا نہ کر سکتے تھے، مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کو ان کا فدیہ قرار دیا گیا۔

غزوہ بدر مسلمانوں اور قریش کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔ اس جنگ میں اللہ کا عذاب قریش کے سرداروں پر نازل ہوا اور ان کی وہ پوری قیادت جو اللہ کے رسول کے مقابلے پر سرکشی سے آ کھڑی ہوئی تھی، ہلاک ہو گئی۔ ان کی قیادت میں باقی وہ افراد بچے جو بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ سرکش نہیں تھے۔ یہ لوگ بعد میں ایمان لے آئے۔ اس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے داماد ابوالعاص (رضی اللہ عنہ) بھی جنگی قیدی تھے۔ ان کا فدیہ یہ طے پایا کہ وہ آپ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو مدینہ آنے سے نہ روکیں گے۔ حضور کے اپنے چچا عباس (رضی اللہ عنہ) بھی قیدی بن کر آئے تھے۔ انصار نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کے فدیے میں کمی کی جائے لیکن آپ نے ان سے پورا فدیہ وصول کرنے کا حکم دیا۔ بعض افراد کا فدیہ معاف کر کے انہیں بطور احسان بھی چھوڑ دیا گیا۔ قریش کے سردار ابوسفیان کے بیٹے عمرو کو مسلمان قیدی سعد بن نعمان رضی اللہ عنہ کے بدلے رہا کر دیا گیا۔

ربظ
http://www.mubashirnazir.org/ER/Slavery/L0018-11-02-Slavery.htm
 
جنگ بدر سے جنگ احد تک کا زمانہ

جنگ بدر کے نتیجے میں کفار مکہ میں ایک شدید رد عمل پیدا ہوا اور انہوں نے اس کے فوراً بعد دوسری جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ ان کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو دو محاذوں پر فوجی کاروائی کرنا پڑی۔ ان میں سے ایک مدینہ کے یہودی قبائل تھے، جو درپردہ قریش سے ملے ہوئے تھے اور مدینہ کی اس نوزائیدہ حکومت پر اندر سے ضرب لگانا چاہتے تھے۔ دوسرے عرب کے دیہاتی علاقوں کے راہزن تھے جنہیں مدینہ کی اس حکومت کے قیام میں اپنی لوٹ مار کا خاتمہ ہوتا نظر آ رہا تھا۔ اس دور کی جنگی مہمات کی تفصیل یہ ہے۔

10. غزوہ بنی سلیم (2H / 624CE): قبیلہ غطفان کی شاخ بنو سلیم مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ان کی جنگی تیاریوں کو روکنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دو سو سواروں کے ساتھ اچانک حملہ کر دیا۔ بنو سلیم میں اچانک بھگدڑ مچ گئی اور وہ لوگ اپنے پانچ سو اونٹ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اس جنگ میں کوئی جنگی قیدی ہاتھ نہیں لگا۔ بنو سلیم کا ایک غلام مسلمانوں کے قبضے میں آیا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آزاد کر دیا۔

11. غزوہ بنو قینقاع (2H / 624CE): مدینہ میں یہود کے تین قبیلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ آباد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے فوراً بعد مدینہ کے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو مدینہ کی ریاست کا سربراہ تسلیم کر لیا تھا۔ کسی بھی ایک فریق پر حملے کی صورت میں دوسرے فریق کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کی مدد کرے۔

بنو قینقاع، جو یہود کا سب سے بہادر قبیلہ سمجھا جاتا تھا، نے اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی بجائے اشتعال انگیز کاروائیاں شروع کر دیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے اوس و خزرج قبائل میں جنگ کروانے کی سازش کی۔ مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور ایک خاتون کی آبرو ریزی کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی مارے گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں تنبیہ کی تو انہوں نے اعلان جنگ کر دیا۔ یہ لوگ قلعہ بند ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ پندرہ دن کے محاصرے کے بعد انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ رسول اللہ ان کے متعلق جو فیصلہ کریں گے، انہیں قبول ہو گا۔ ان کے تمام افراد کو جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ اس کے بعد ان سب کو رہا کر دیا گیا۔

12. غزوہ سویق (2H / 624CE): غزوہ بدر کے صرف دو ماہ بعد قریش مکہ کے ایک دستے نے مدینہ پر حملہ کیا اور گوریلا طرز کی ایک کاروائی میں ایک انصاری کو ان کے کھیت میں شہید کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جوابی کاروائی کے لئے ان کا تعاقب کیا تو یہ لوگ تیزی سے فرار ہو گئے۔ ان میں سے کوئی گرفتار نہ ہوا البتہ بہت سی خوراک یہ جاتے ہوئے اپنا وزن ہلکا کرنے کے لئے پھینک گئے۔

13. غزوہ ذی امر (3H / 624CE): بنو ثعلبہ اور دیگر قبائل نے مدینہ پر ایک بڑی چڑھائی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کے مقابلے پر ساڑھے چار سو افراد پر مشتمل ایک لشکر لے کر تشریف لے گئے جس سے دہشت زدہ ہو کر یہ لوگ منتشر ہو گئے۔ اس مہم میں باقاعدہ کوئی جنگ نہ ہوئی۔ دشمن کا ایک شخص گرفتار ہوا جس نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمانوں کو دشمن فوج سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔

14. غزوہ بحران (3H / 624CE): یہ غزوہ بھی دشمن کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات کے حصول کے لئے پیش آیا۔ اس میں جنگ نہیں ہوئی۔

15. سریہ زید بن حارثہ (3H / 624CE): یہ مہم قریش کے ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لئے کی گئی تھی جو معروف ساحلی راستہ چھوڑ کر نجد کے راستے جا رہا تھا۔ اس مہم میں قافلے کے سردار فرات بن حیان گرفتار ہو کر مدینہ لائے گئے۔ یہاں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

16. غزوہ احد (3H / 625CE): اس کے بعد جنگ احد کی شکل میں مسلمانوں کو ایک بڑی جنگ پیش آئی۔ غزوہ احد کے بعد بھی مدینہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے ایک دستے کی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہوا۔ اس جنگ میں کوئی فریق دوسرے فریق کے سپاہیوں کو جنگی قیدی نہ بنا سکا۔

17. غزوہ حمراء الاسد (3H / 625CE): یہ غزوہ جنگ احد کے دوسرے دن پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے بعد قریش دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ آپ نے مدینہ سے باہر پیش قدمی کی۔ قریش نے مقابلہ کرنے کی بجائے واپس جانے میں عافیت سمجھی۔ اس غزوے میں مشرکین کے دو جاسوس گرفتار ہوئے جنہیں موت کی سزا دے دی گئی۔
 
جنگ احد سے جنگ خندق تک کا زمانہ

18. سریہ ابو سلمہ (4H / 625CE): جنگ احد میں اسلامی لشکر کو نقصان پہنچنے کے باعث دیہاتی عربوں کے قبائل کے حوصلے بلند ہو گئے۔ بنو اسد نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ڈیڑھ سو سواروں کو بھیجا۔ بنو اسد حملے سے پہلے ہی منتشر ہو گئے اور ان کا جنگی ساز و سامان مسلمانوں کے حصے میں آیا۔ اس غزوے میں کوئی جنگی قیدی ہاتھ نہ آیا۔ لشکر کے امیر سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک پرانے زخم کے باعث شہید ہوئے۔

19. سریہ عبداللہ بن انیس (4H / 625CE): خالد بن سفیان ھذلی مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت ایک لشکر بھیجا۔ اس جنگ میں خالد مارا گیا لیکن کوئی شخص گرفتار نہ ہوا۔

20. رجیع کا حادثہ (4H / 625CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بنو عضل اور بنو قارہ کے کچھ لوگوں کی درخواست پر کچھ صحابہ کو ان کے قبائل میں اسلام کی تعلیم کے لئے بھیجا۔ انہوں نے عہد شکنی کرتے ہوئے ان حضرات پر حملہ کر دیا۔ سات افراد کو شہید اور تین کو قیدی بنا لیا گیا۔ ان تین قیدیوں میں سے ایک صحابی کو شہید کر دیا گیا اور دو صحابہ سیدنا خبیب اور زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو غلام بنا کر مکہ میں فروخت کر دیا۔ ان دونوں حضرات کو اہل مکہ نے شہید کر دیا۔

21. بئر معونہ کا حادثہ (4H / 625CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ستر صحابہ کو نجد کی جانب اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لئے بھیجا۔ ان لوگوں نے بھی عہد شکنی کی اور ان تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔ صرف ایک صحابی سیدنا عمرو بن امیہ الضمری رضی اللہ عنہ بچے جنہیں غلام بنا لیا گیا۔ انہیں قید کرنے والے شخص مالک کی ماں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی جسے پورا کرنے کے لئے اس نے انہیں آزاد کر دیا۔

22. غزوہ بنی نضیر (4H / 625CE): بئر معونہ کے حادثے کے فورا بعد یہودیوں کے دوسرے قبیلے بنو نضیر نے عہد شکنی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو شہید کرنے کی کاروائی کی۔ اس کے جواب میں ان کا محاصرہ کر لیا گیا۔ جنگ کی کوئی نوبت نہ آئی اور صرف چھ دن کے بعد ان لوگوں نے بھی بنو قینقاع کی طرح ہتھیار ڈال دیے۔ ان کے تمام جنگی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا اور انہیں اجازت دی گئی کہ وہ اسلحہ کے علاوہ اپنا جو کچھ مال ساتھ لے جا سکتے ہیں، لے کر جلاوطن ہو جائیں۔

23. غزوہ نجد (4H / 625CE): غزوہ بنو نضیر سے فارغ ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اطلاع ملی کہ نجد کے علاقے میں بنو غطفان کے دو لٹیرے قبائل مدینہ پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان پر حملہ کیا۔ یہ لوگ اپنا مال و اسباب چھوڑ کر تتر بتر ہو کر پہاڑوں میں پناہ گزین ہوئے۔ اس میں بھی کوئی جنگی قیدی نہ بنایا گیا۔

24. غزوہ بدر دوم (4H / 626CE): قریش نے جنگ احد سے واپسی پر مسلمانوں کو یہ چیلنج دیا تھا کہ اگلے سال بدر کے مقام پر دوبارہ جنگ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے لشکر کے ساتھ یہاں پہنچے۔ قریش بھی مقابلے کے لئے مکہ سے نکلے لیکن راستے ہی میں بددل ہو کر واپس لوٹ گئے۔

25. غزوہ دومۃ الجندل (4H / 626CE): حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اطلاع ملی کہ شمالی عرب میں دومۃ الجندل کے مقام پر لٹیرے قبائل مدینہ پر حملہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ آپ ایک ہزار سواروں کے ساتھ نہایت ہی رازداری سے وہاں پہنچے تو یہ لوگ مال مویشی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اس غزوے میں بھی جنگی قیدیوں کی کوئی نوبت نہ آئی۔

26. غزوہ بنو عبدالمصطلق (5H / 626CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ بنو عبدالمصطلق آپ سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آپ نے اس خبر کی تصدیق کرنے کے بعد دشمن پر حملہ کیا۔ بنو عبدالمصطلق کو شکست ہوئی اور ان کے بہت سے لوگ غلام بنائے گئے۔ ان میں ان کے سردار کی بیٹی جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔

انہوں نے اپنے آقا سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کر لی اور حضور کے پاس مدد کی درخواست لے کر آئیں۔ آپ نے ان کی مکاتبت کی رقم ادا کر کے انہیں آزاد کیا اور ان کی رضامندی سے ان سے نکاح کر لیا۔ جب صحابہ کو یہ خبر ملی تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سسرالی تعلق کے باعث بنو عبدالمصطلق کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں، "میں نے جویریۃ سے بڑھ کر کوئی خاتون نہیں دیکھی جو اپنی قوم کے لئے اتنی بابرکت ثابت ہوئی ہو کہ ان کے باعث ان کے رشتے دار بنو عبدالمصطلق کے سو کے قریب قیدی آزاد ہوئے۔"

27. جنگ خندق (5H / 626CE): اس کے بعد قریش نے عرب کے مختلف قبائل کو ملا دس ہزار کا لشکر تیار کیا اور مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ یہ عرب کی تاریخ کے بڑے لشکروں میں سے ہے۔ مدینہ کی کل آبادی بھی اس لشکر سے کہیں کم تھی۔ اس کے بعد بھی جنگوں کا ایک سلسلہ تھا جو جاری رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دفاعی انداز میں مدینہ کے گرد خندق کھود کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کی۔ اس غزوے میں خندق کی وجہ دو بدو لڑائی کی نوبت کم ہی آئی کیونکہ دشمن کے سپاہی جب خندق پار کرنے کی کوشش کرتے تو مسلمان ان پر تیر اندازی کر کے انہیں روکتے۔ یہود کا صرف ایک قبیلہ بنو قریظہ باقی رہ گیا تھا جو مسلمانوں کا حلیف تھا۔ انہوں نے بجائے اس کے کہ مسلمانوں کی مدد کرتے، صلح کا معاہدہ توڑ کر کفار کے لشکر کو رسد پہنچانا شروع کر دی۔ اللہ تعالی نے اپنی قدرتی طاقتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد کی۔ تیز آندھی، طوفان اور سردی کے باعث کفار کا لشکر تتر بتر ہو گیا اور ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ اب یہ لوگ کبھی مدینہ پر حملہ آور نہ ہو سکیں گے۔

28. غزوہ بنو قریظہ (5H / 626CE): بنو قریظہ نے عین اس لمحے عہد شکنی کی تھی جب مدینہ پر پورے عرب کے لشکر نے حملہ کیا ہوا تھا۔ اس وجہ سے یہ لوگ سخت ترین سزا کے مستحق تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد نے ان کے سامنے تین تجاویز پیش کیں: اسلام قبول کر لیا جائے، یا ہفتے کے دن مسلمانوں پر اچانک حملہ کیا جائے (یہودی مذہب میں ہفتے کے دن کوئی کام کرنا منع تھا) یا پھر اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے مسلمانوں پر حملہ کر کے کٹ مرا جائے۔ انہوں نے کوئی تجویز قبول نہ کی۔

بنو قریظہ میں سے چند افراد اپنی قوم کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔ ان کا تفصیلی ذکر ابن سعد نے طبقات الکبری میں کیا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو عہد شکنی کے خلاف تھے۔ ان سب کے جان و مال کو محفوظ قرار دے دیا گیا۔ ان میں ابو سعد بن وھب النضری، رفاعہ بن سموال القرظی، ثعلبہ بن سعیہ القرظی، اسید بن سعیہ القرظی، اسد بن عبید القرظی اور عمرو بن سعدی شامل تھے۔

چند ہی دن میں بنو قریظہ نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیےکہ ان کا فیصلہ قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کریں گے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تورات کے قانون کے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے تمام لڑنے والے مردوں کو قتل کیا جائے اور خواتین اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ بنو قریظہ کے جن افراد نے اسلام قبول کیا تھا یا عہد شکنی میں حصہ نہ لیا تھا، انہیں کوئی سزا نہ دی گئی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنو قریظہ کو اتنی سخت سزا کیوں دی گئی؟ اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ پورے عرب نے مسلمانوں پر حملہ کر رکھا ہے۔ حلیف ہونے کے ناتے بنو قریظہ کا یہ فرض تھا کہ وہ مسلمانوں کی مدد کرتے یا کم از کم غیر جانبدار ہی رہتے۔ انہوں نے اس نازک موقع پر اپنا عہد توڑ کر مسلمانوں پر حملے کی تیاری شروع کر دی۔ اگر قدرتی آفت کے نتیجے میں کفار کا لشکر واپس نہ ہوتا تو مسلمان دو طرف سے حملے کی لپیٹ میں آ کر تہہ تیغ ہو جاتے۔

اس عہد شکنی کی سزا انہیں ان کے اپنے مقرر کردہ جج نے انہی کے اپنے قانون کے مطابق دی تھی جس کی تائید اللہ تعالی نے خود وحی کے ذریعے کر دی تھی۔ اس سخت سزا کی بنیادی طور پر وجہ یہی تھی کہ اس قوم پر اللہ کے رسول سے عہد شکنی کے باعث ان پر اسی طرز کا عذاب مسلط کیا گیا تھا جیسا کہ اس سے پہلے قوم عاد، ثمود، مدائن، سدوم اور خود بنی اسرائیل پر مسلط کیا جاتا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن قوموں کے ساتھ ان کے معاہدات رہے ہیں، وہ خود ان پر معاہدات کی خلاف ورزی کی صورت میں یہی سزا مسلط کرتے رہے ہیں۔ ہم یہاں تورات کی متعلقہ آیات نقل کر رہے ہیں:

اگر وہ صلح کرنے سے انکار کریں اور لڑائی پر اتر آئیں تو تم اس شہر کا محاصرہ کر لینا اور جب خداوند تمہارا خدا اسے تمہارے ہاتھ میں دے دے تو اس میں سے سب مردوں کو تلوار سے قتل کر دینا لیکن عورتوں، بچوں اور مویشیوں اور اس شہر کی دوسری چیزوں کو تم مال غنیمت کے طور پر اپنے لئے لے لینا۔ (کتاب استثنا، باب 20)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس معاملے میں قرآن کے نرم قانون کی بجائے تورات کے سخت قانون پر عمل کیوں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسا اللہ تعالی کے ایک خصوصی حکم کے تحت ہوا تھا۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ دیا تھا، اس کی تائید اللہ تعالی کی طرف سے کر دی گئی تھی۔

قوموں پر عذاب سے متعلق اللہ تعالی کا یہ قانون ہے کہ وہ جس قوم کا انتخاب کر کے اس کی طرف اپنا رسول مبعوث فرما دے، اس قوم کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہو جاتی تھی۔ رسول اللہ تعالی کے خصوصی دلائل اور معجزات کے ذریعے اس قوم کے سامنے اس درجے میں اتمام حجت کر دیتا تھا کہ ان کے پاس ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوا کرتا تھا۔

رسول کی دعوت کو اگر وہ قوم قبول کر لیتی تو اسے دنیا ہی میں سرفراز کر دیا جاتا تھا۔ سیدنا موسی، یونس اور محمد علیہم الصلوۃ والسلام کی اقوام اس کی مثال ہیں۔ اگر کوئی قوم رسول کی دعوت کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتی تو انہیں آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی عذاب دے دیا جاتا تھا۔ سیدنا نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط اور شعیب علیہم الصلوۃ والسلام کی اقوام اس کی مثال ہیں۔

اس طریقے سے یہ اقوام اللہ تعالی کے جزا و سزا کے آخرت کے قانون کا ایک عملی ثبوت بن جایا کرتی تھیں۔ یہ قانون اتنا واضح کر دیا گیا ہے کہ تورات اور قرآن کا بنیادی موضوع ہی یہی قانون ہے۔ اس موضوع پر ہم نے ان اقوام کے علاقوں سے متعلق اپنے سفرنامے میں تفصیل سے بحث کی ہے۔

اگر رسول کے پیروکار کم تعداد میں ہوتے تو ایمان نہ لانے والوں پر یہ عذاب قدرتی آفات کی صورت میں آیا کرتا تھا۔ اگر ان پیروکاروں کی تعداد زیادہ ہوتی تو پھر یہ عذاب رسول کے پیروکار، جنہیں یہ اقوام نہایت حقیر سمجھتی تھیں، کی تلواروں کے ذریعے آیا کرتا تھا۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے بنی اسرائیل کی تلواروں کے ذریعے یہ عذاب موجودہ اردن، شام اور فلسطین کی اقوام پر نازل ہوا۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقابلے میں سرکشی کا رویہ اختیار کرنے والے گروہوں میں سے بنی اسماعیل کے مشرکین عرب کو موت کی سزا دی گئی۔ اگرچہ اس سزا پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی کیونکہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا جبکہ عرب اور روم کے یہود و نصاری پر یہ سزا عائد کی گئی کہ ان کی حکومت کو ختم کر دیا جائے۔

انہی یہود کا ایک گروہ بنو قریظہ تھے جس نے رسول کے مقابلے میں سرکشی کی انتہا کر دی تھی جس کی وجہ سے ان پر وہی سزا نافذ کی گئی جو اصلاً مشرکین بنی اسماعیل کے لئے تھے۔ دنیا میں جزا و سزا کا یہ قانون محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر نبوت کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ یہ ایک استثنائی قانون تھا اور اس سے اسلام کا دائمی قانون اخذ کرنا درست طرز عمل نہیں ہے۔

بنو قریظہ کے بیوی بچوں کو بھی ہمیشہ کے لئے غلام نہ بنایا گیا تھا۔ ان سب کو مکاتبت کا پورا حق حاصل تھا۔ ان میں سے ایک خاتون ریحانہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حصے میں آئی تھیں۔ آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور ان کا مہر بارہ اوقیہ چاندی مقرر فرمایا جو کہ دیگر ازواج مطہرات کا مہر بھی تھا۔ (دیکھئے طبقات ابن سعد ذکر ازواج النبی)۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام میں ان خواتین اور بچوں کو آزاد کرنے کی ترغیب پیدا ہوئی اور انہیں آہستہ آہستہ آزاد کر دیا گیا۔ بہت سے صحابہ نے ان خواتین کو آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ بنو قریظہ کی جو نسل مسلم معاشرے میں موجود تھی، ان میں عطیہ القرظی ، عبدالرحمٰن القرظی، محمد بن کعب القرظی اور رفاعہ القرظی رضی اللہ عنہم کا ذکر ملتا ہے۔ ان کا ذکر اس لئے بطور خاص ملتا ہے کہ یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حدیث کی تعلیم میں مشغول رہے ہیں۔
 
جنگ خندق سے صلح حدیبیہ تک کا زمانہ

29. سریہ عبداللہ بن عتیک (5H / 626CE): مدینہ سے جلا وطن ہوجانے والے بنو قینقاع اور بنو نضیر اب خیبر میں آباد تھے۔ ان کا ایک سردار ابورافع سلام بن ابی الحقیق مشرکین کو مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دینے میں پیش پیش تھا۔ اس کے علاوہ وہ مسلمان خواتین کے بارے میں فحش شاعری بھی کیا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک مہم خیبر کی طرف روانہ کی اور انہیں تاکید کی کہ وہ خواتین اور بچوں کو قتل نہ کریں۔ اس ٹیم نے ابو رافع کا کام تمام کر دیا۔

30. سریہ محمد بن مسلمہ (6H / 627CE): نجد کے علاقے میں بنو بکر بن کلاب مسلمانوں پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس افراد پر مشتمل ایک دستہ ان کی طرف روانہ کیا۔ ان کے حملے کے نتیجے میں دشمن کے تمام افراد اپنا مال و اسباب چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

بنو حنیفہ کے ایک سردار ثمامہ بن اثال حنفی گرفتار ہوئے۔ چونکہ مدینہ میں جیل موجود نہ تھی اس وجہ سے انہیں مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے فدیہ دے کر رہا ہونے کی پیشکش کی۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بغیر کسی فدیہ کے انہیں رہا کر دیا۔ انہوں نے باہر جا کر غسل کیا اور آ کر اسلام قبول کر لیا۔

اہل مکہ کے لئے غلے کی زیادہ تر فراہمی یمامہ سے ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد ثمامہ نے اہل مکہ کو غلہ کی سپلائی روک دی۔ اس پر قریش سخت مشکل میں پڑ گئے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتے داری کا واسطہ دے کر درخواست کی کہ آپ ثمامہ کو غلے کی فراہمی کا حکم دیں۔ آپ نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے ان کے لئے غلے کی سپلائی بحال کروا دی۔

31. غزوہ بنو لحیان (6H / 627CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حادثہ رجیع کا بدلہ لینے کے لئے ایک لشکر لے کر بنو لحیان پر چڑھائی کر دی۔ یہ لوگ پہاڑوں میں بھاگ نکلے او جنگ کی نوبت نہ آئی۔

32. سریہ غمر (6H / 627CE): سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں یہ مہم بنو اسد کے لٹیروں کی طرف بھیجی گئی۔ دشمن ان کی آمد کا سن کر فرار ہو گیا اور جنگ کی نوبت نہ آئی۔

33. سریہ ذوالقصہ (6H / 627CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دس افراد کا ایک دستہ معلومات کے حصول کے لئے بنو ثعلبہ کی طرف روانہ فرمایا۔ رات کے وقت دشمن نے ان پر حملہ کیا اور سوائے محمد بن مسلمہ کے تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔ آپ بھی زخمی حالت میں واپس آئے۔

34. سریہ ذوالقصہ دوم (6H / 627CE): اس کے ایک ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت ایک دستہ بنو ثعلبہ کی طرف بھیجا۔ دشمن نے پہاڑوں میں پناہ لی اور ان کا ایک آدمی قیدی بنا۔ یہ صاحب بعد میں مسلمان ہو گئے۔

35. سریہ جموم (6H / 627CE): حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر جموم کی طرف بھیجا۔ اس غزوے میں ایک خاتون حلیمہ جنگی قیدی بنیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان کی شادی کروا دی۔

36. سریہ عیص (6H / 627CE): یہ مہم قریش کے ایک قافلے کی طرف بھیجی گئی۔ اس قافلے کے سربراہ ابوالعاص رضی اللہ عنہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے داماد تھے۔ یہ وہاں سے بھاگ کر مدینہ پہنچے اور اپنی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی پناہ حاصل کر کے یہ درخواست کی کہ ان کے قافلے کا مال واپس کیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس معاملے میں صحابہ سے مال واپس کرنے کی درخواست کی۔ صحابہ نے کچھ زیادہ ہی مال ان کے حوالے کر دیا۔ یہ مال لے کر مکہ پہنچے اور ہر شخص کو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد مدینہ واپس آئے اور مسلمان ہو گئے۔

37. سریہ طرف (6H / 627CE): یہ مہم بھی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بنو ثعلبہ کے راہزنوں کی طرف بھیجی گئی۔ اس میں جنگ نہ ہو سکی۔

38. سریہ وادی القری (6H / 627CE): اس مہم کا مقصد دشمن کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا۔ دشمن نے گھات لگا کر صحابہ پر حملہ کر دیا اور بارہ میں سے نو افراد شہید ہو گئے۔ ٹیم کے امیر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ واپس پہنچے۔

39. سریہ سیف البحر (6H / 627CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قریش کے ایک تجارتی قافلے کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو تین سو سواروں کے ساتھ ساحل کی طرف بھیجا۔ راستے میں ان حضرات کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالی نے انہیں ایک وہیل مچھلی عطا کی جسے پورے لشکر نے کئی دن تک کھایا۔

40. سریہ بنی کلب (6H / 627CE): اس مہم کے سربراہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے حکم کے مطابق بنو کلب کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے یہ دعوت قبول کر لی جس کے بعد حضور کے حکم ہی کے مطابق انہوں نے اس قوم کے سردار کی بیٹی سے نکاح کر لیا۔ اس مہم میں جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

41. سریہ فدک (6H / 627CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو خبر ملی کہ بنو سعد اور خیبر کے یہود کے درمیان اتحاد ہوا ہے۔ آپ نے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دو سو سواروں کو روانہ کیا۔ ان کے حملے پر بنو سعد اپنے مویشی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اس مہم میں کوئی جنگی قیدی ہاتھ نہیں آیا۔

42. سریہ بنو فزارہ (6H / 627CE): بنو فزارہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے پیچھے ایک عورت ام قرفہ کا ہاتھ تھا۔ اس نے تیس شہسواروں کو خاص طور پر اسی مقصد کے لئے تیار کیا تھا۔ آپ نے ان کی جانب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا۔ انہوں نے تیس کے تیس افراد کو قتل کر دیا۔ اس جنگ میں ام قرفہ کی بیٹی گرفتار ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے رہا کرنے کے بدلے مکہ سے متعدد مسلمان قیدیوں کو رہا کروا لیا۔ (مسلم، کتاب الجہاد، حدیث 4573)

43. سریہ عرینین (6H / 627CE): عکل اور عرینہ کے کچھ افراد، جو دراصل ڈاکو تھے، نے مدینہ میں آ کر بظاہر اسلام قبول کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں مدینہ کے باہر ایک چراگاہ میں بھیج دیا۔ انہوں نے چراگاہ کے رکھوالوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دیں۔ اس کے بعد وہاں سے یہ اونٹ لے کر فرار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سیدنا کرز بن جابر فہری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بیس صحابہ کو ان کے پیچھے روانہ کیا۔ انہیں گرفتار کر کے قصاص میں ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو انہوں نے چرواہوں کے ساتھ کیا تھا۔

44. صلح حدیبیہ (6H / 628CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکہ کی طرف عمرے کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ قریش نے خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کو، جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، آپ کو روکنے کے لئے بھیجا۔ مسلمان ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے ایک طویل اور دشوار گزار راستے سے گزر کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچے۔ قریش کے دو غلام فرار ہو کر مسلمانوں سے آ ملے جنہیں آزاد کر دیا گیا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علی واٰلہ وسلم نے قریش کو صلح کی پیشکش کی جسے انہوں نے کچھ رد و قدح کے بعد قبول کر لیا۔ اسی دوران ان کے بعض پرجوش نوجوانوں نے، جن کی تعداد ستر یا اسی تھی، شب خون مارنے کی کوشش کی لیکن سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پہرے داروں کی مدد سے انہیں گرفتار کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سب کو بلامعاوضہ آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ اس واقعہ کے بعد قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا۔
 
صلح حدیبیہ سے فتح مکہ تک کا زمانہ

45. سریہ بنو جذام (7H / 628CE): قبیلہ بنو جذام کے بعض افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے قاصد سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے ان سے وہ تحائف چھین لئے، جو قیصر روم ہرقل نے آپ کے لئے بھیجے تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پانچ سو صحابہ کا لشکر ان کی طرف روانہ کیا۔ قبیلہ جذام کو شکست ہوئی اور ان کے سو کے قریب افراد جنگی قیدی بنے۔ ان کے ایک سردار زید بن رفاعہ جذامی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی رہائی کی درخواست کی جس پر ان تمام جنگی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔

46. غزوہ ذی قرد (7H / 628CE): یہ غزوہ بنو فزارہ کے کچھ ڈاکوؤں کے خلاف تھا جو مدینہ کی چراگاہوں پر اونٹ لوٹنے کے لئے حملہ آور ہوئے تھے۔ سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی شجاعت کے باعث یہ نہ صرف اونٹ چھوڑ کر بھاگے بلکہ اپنا بہت سا اسلحہ اور ساز و سامان چھوڑ گئے۔ سلمہ ان کا پیچھا کرنا چاہتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کے تعاقب سے منع فرما دیا کیونکہ یہ اپنے قبیلے میں واپس پہنچ چکے تھے۔

47. غزوہ خیبر (7H / 628CE): مدینہ سے جلاوطن ہو کر یہودی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے پاس خیبر میں آباد ہو چکے تھے۔ یہاں انہوں نے مضبوط قلعے تعمیر کر لئے تھے اور مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کرنے میں مصروف تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی یلغار کے نتیجے میں ان کے بعض قلعے بغیر جنگ کے فتح ہو گئے۔ ان لوگوں کو جنگی قیدی نہیں بنایا گیا۔

قلعہ قموص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی بہادری کے ساتھ فتح ہوا۔ یہاں کے جنگی قیدیوں کو غلام بنایا گیا۔ ان میں سے یہود کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ اس طرح سے آپ نے ان میں سسرالی رشتہ قائم فرما کر انہیں اپنے اپنے غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد وادی القری میں ایک اور جنگ ہوئی جس میں جنگی قیدی نہیں بنائے گئے۔ بعد ازاں فدک اور تیماء کے علاقے کے یہودیوں نے خود صلح کی پیشکش کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے قبول کرتے ہوئے ان کے جان و مال کو محفوظ قرار دیا۔

48. سریہ ابان بن سعید (7H / 628CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خیبر روانگی کے ساتھ ہی مدینہ کو نجد کے ڈاکوؤں سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک مہم نجد کی طرف بھی روانہ کی جس کے سربراہ سیدنا ابان بن سعید رضی اللہ عنہ تھے۔ اس مہم کی تفصیل نامعلوم ہے۔

49. غزوہ ذات الرقاع (7H / 628CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ نجد کے خانہ بدوش بدوؤں نے اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے چار یا سات سو کا ایک لشکر لے کر نجد کی طرف رخ کیا۔ اس مہم میں باقاعدہ جنگ نہ ہوئی البتہ ایک دو افراد گرفتار ضرور ہوئے جنہیں اسلام قبول کر لینے کے باعث آزاد کر دیا گیا۔ اس غزوے کے نتیجے میں خانہ بدوش ڈاکوؤں پر مسلمانوں کا رعب و دبدبہ قائم ہو گیا جس نے آئندہ ان علاقوں میں امن و امان قائم کرنے کی بنیاد ڈال دی۔

50. سریہ قدید (7H / 628CE): یہ سریہ قدید میں بنو ملوح کی جانب روانہ کیا گیا۔ انہوں نے بعض صحابہ کو قتل کر دیا تھا۔ جنگ میں دشمن کے بہت سے افراد قتل ہوئے۔ اس جنگ میں بھی جنگی قیدی نہیں بنائے گئے۔ دشمن نے مسلمانوں پر پلٹ کر حملے کی کوشش کی لیکن شدید بارش کے باعث ان کے اور مسلمانوں کے درمیان سیلاب حائل ہو گیا۔

51. سریہ تربہ (7H / 628CE): یہ مہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بنو ہوازن کی طرف روانہ کی گئی۔ اس میں جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

52. سریہ بشیر بن سعد (7H / 629CE): بنو مرہ کی طرف سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت ایک لشکر روانہ کیا گیا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کا بڑا نقصان ہوا اور سوائے امیر لشکر کے سب کے سب شہید کر دیے گئے۔

53. سریہ میفعہ (7H / 629CE): اس سریے کا مقصد بنو عوال اور بنو ثعلبہ کو مطیع بنانا تھا۔ اس جنگ میں دشمن کے سب کے سب سپاہی مارے گئے۔

54. سریہ خیبر (7H / 629CE): بنو غطفان کا ایک گروہ مدینہ پر حملہ کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کی جانب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا جس نے تمام کے تمام حملہ آوروں کو قتل کر دیا۔

55. سریہ یمن و جبار (7H / 629CE): نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تین سو صحابہ کو سیدنا بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں بنو غطفان کی طرف بھیجا جو مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ دشمن مسلمانوں کو دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ ان کے دو افراد قیدی بنائے گئے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

56. سریہ غابہ (7H / 629CE): قبیلہ جشم کا ایک شخص کچھ افراد کو لے کر غابہ کے مقام پر آیا۔ وہ بنو قیس کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار کرنا چاہتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صرف تین افراد کی ایک ٹیم ان کی طرف بھیجی جنہوں نے حکمت عملی سے ان شرپسندوں کا خاتمہ کر دیا۔

57. سریہ ابو العوجاء (7H / 629CE): یہ سیدنا ابوالعوجاء رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک دعوتی مہم تھی جو بنو سلیم کی طرف روانہ کی گئی۔ انہوں نے جواب میں جنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد قیدی بنے۔ ان کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔

58. سریہ غالب بن عبداللہ (8H / 629CE): یہ مہم فدک کی طرف روانہ کی گئی۔ اس میں دشمن کے بہت سے افراد قتل ہوئے لیکن جنگی قیدی نہیں بنائے گئے۔

59. سریہ ذات اطلح (8H / 629CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پندرہ افراد کی ایک ٹیم کو سیدنا کعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں معلومات کے حصول کے لئے بھیجا۔ ان کا سامنا دشمن سے ہوا جس نے ان تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔

60. سریہ ذات عرق (8H / 629CE): یہ مہم بنو ہوازن کی طرف روانہ کی گئی۔ اس میں جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

61. سریہ موتہ (8H / 629CE): یہ تین ہزار افراد پر مشتمل ایک بڑا لشکر تھا جو موجودہ اردن کے علاقے میں بھیجا گیا۔ اس لشکر کا سامنا قیصر روم کی ایک لاکھ فوج سے ہو گیا۔ لشکر کے تین بڑے کمانڈر سیدنا زید بن حارثہ، جعفر طیار اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔ اس کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی اور لشکر کے بڑے حصے کو بچا کر لے آئے۔ اس لشکر کشی کے نتیجے میں شمالی عرب کے مختلف قبائل پر زبردست رعب قائم ہو گیا کیونکہ مسلمانوں نے پہلی مرتبہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور قیصر روم کی افواج کو چیلنج کیا تھا۔

62. سریہ ذات السلاسل (8H / 629CE): یہ مہم شام کی سرحد پر رہنے والے قبائل کی طرف سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجی گئی۔ اس میں جنگ کی نوبت نہیں آئی البتہ بہت سے قبائل اسلامی حکومت کے مطیع ہو گئے۔

63. سریہ خضرہ (8H / 629CE): خضرہ کے علاقے میں بنو غطفان نے مسلمانوں پر حملے کے لئے ایک فوج جمع کرنا شروع کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک لشکر ان کی طرف بھیجا جس نے ان پر حملہ کر کے ان کی سرکوبی کی۔ اس جھڑپ میں بعض جنگی قیدی ہاتھ آئے جن کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔

64. غزوہ فتح مکہ (8H / 630CE): مسلمانوں اور قریش کے درمیان حدیبیہ میں دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔ قریش نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے حلیف قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کے جرم میں مکہ پر حملے کی تیاری شروع کر دی۔ جب قریش کو اس کا علم ہوا تو ان کے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ معاہدے کی تجدید کے لئے مدینہ آئے لیکن انہیں انکار کر دیا گیا۔ اس کے بعد حضور نے دس ہزار صحابہ کے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا اور بغیر جنگ کے اسے فتح کر لیا۔ مکہ کے تمام افراد کو فتح کے بعد قیدی بنانے کی بجائے انہیں بطور احسان آزاد کر دیا گیا۔
 
فتح مکہ کے بعد کی جنگیں

65. غزوہ حنین (8H / 630CE): یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے کی آخری بڑی جنگ تھی جس میں بنو ہوازن اور بنو ثقیف مل کر مسلمانوں کے مقابلے پر آئے اور ابتدائی کامیابی کے باوجود انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس جنگ میں چھ ہزار افراد کو جنگی قیدی بنایا گیا۔ ان قیدیوں کو تقسیم کیا جا چکا تھا کہ بنو ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر آ گیا۔ انہوں نے اپنے قیدیوں کو آزاد کرنے کی درخواست کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے حصے کے قیدیوں کو فوراً آزاد کر دیا اور اس موقع پر نئے مسلمان ہونے والے افراد کے پاس جا کر انہیں قائل کیا کہ وہ اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کر دیں۔ اس طرح سے 6000 جنگی قیدیوں کو آزادی نصیب ہوئی۔

66. سریہ عینیہ بن حصن الفزاری (9H / 630CE): ابھی فتح مکہ کو چند ہی ماہ گزرے تھے کہ بنو تمیم نے بغاوت کر دی۔ ان کی بغاوت کو فرو کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدنا عینیہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا۔ اس جنگ میں ساٹھ کے قریب جنگی قیدی بنائے گئے۔ بنی تمیم کے توبہ کر لینے کے بعد حضور کے حکم سے ان سب کو آزاد کر دیا گیا۔

67. سریہ قطبہ بن عامر (9H / 630CE): یہ مہم قبیلہ خثعم کی طرف روانہ کی گئی اور فریقین کے خاصے افراد اس میں زخمی ہوئے اور بعض قید ہوئے جن کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔

68. سریہ ضحاک بن سفیان الکلابی (9H / 630CE): یہ مہم بنو کلاب کی طرف بھیجی گئی اور اس جنگ میں ایک آدمی مارا گیا لیکن جنگی قیدی نہیں بنائے گئے۔

69. سریہ علقمہ بن مجرزمدلجی (9H / 630CE): حبشہ کے کچھ بحری قزاقوں نے مکہ پر حملہ آور ہونے کے ارادے سے ساحل کے قریب لشکر اکٹھا کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کی طرف سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین سو افراد کا لشکر بھیجا۔ ان کی آمد کا سن کر حبشی سمندر میں فرار ہو گئے۔ مسلمانوں نے ایک جزیرے تک ان کا تعاقب کیا لیکن سمندر کے ماہر ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بچ نکلے۔

70. سریہ بنو طے (9H / 630CE): سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں بنو طے کی طرف ایک مہم روانہ کی گئی۔ اس مہم میں بہت سے جنگی قیدی بنائے گئے جن میں مشہور عرب سخی حاتم طائی کی بیٹی بھی شامل تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سب کو آزاد کر دیا۔

71. غزوہ تبوک (9H / 630CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قیصر روم کا ایک بڑا لشکر مدینہ پر حملے کے لئے آ رہا ہے۔ آپ نے پیش قدمی کرتے ہوئے تیس ہزار صحابہ کے ساتھ شمال کی طرف کوچ کیا۔ تبوک کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ رومیوں اور ان کے حامیوں کا لشکر مقابلے پر نہیں آ رہا۔ یہاں ٹھہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تیما، دومۃ الجندل، جرباء، اذرح اور ایلہ کی طرف مہمات روانہ کیں جن میں ان علاقوں کے حکمرانوں نے آپ کی اطاعت قبول کر لی۔ اس مہم میں کوئی جنگی قیدی نہیں بنایا گیا۔ اس لشکر کشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب اور روم کے درمیان نیوٹرل علاقہ مسلمانوں کے زیر نگیں آ گیا اور ان کی سرحدیں براہ راست سلطنت روم سے جا ملیں۔

72. سریہ اسامہ بن زید (11H / 632CE): رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی آخری مہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی قیادت میں شام کی طرف روانہ کی۔ ابھی یہ لشکر مدینہ سے باہر ہی نکلا تھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وفات پا گئے جس کی وجہ سے یہ لشکر واپس آ گیا۔ اس لشکر کو دوبارہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں روانہ کیا گیا۔

عہد رسالت کے جنگی قیدیوں کا تجزیہ

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے کی تمام جنگوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ 72 جنگوں میں سے صرف 19 جنگوں میں جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ ان کے ساتھ جو معاملہ کیا گیا وہ یہ تھا۔

· دو جنگوں، غزوہ بدر اور سریہ بنو فزارہ کے جنگی قیدیوں کو "اما فداء" کے اصول کے تحت فدیہ لے کر رہا کیا گیا۔ بدر کے قیدیوں سے یا تو رقم لی گئی یا پھر کچھ خدمات جیسے بچوں کی تعلیم وغیرہ کو بطور فدیہ قبول کیا گیا جبکہ بنو فزارہ کے قیدیوں کے بدلے مسلمان قیدیوں کو آزاد کروایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اور موقع پر بنی عقیل کے مشرک قیدیوں کے بدلے آپ نے مسلم قیدیوں کا تبادلہ کروایا۔ (ابن ابی شیبہ، حدیث 33920)

· تیرہ جنگوں کے قیدیوں کو "اما منا" کے اصول کے تحت بلامعاوضہ آزاد کر دیا گیا۔ ان میں سے بڑی جنگوں میں غزوہ بنو قینقاع، بنو نضیر، حدیبیہ، اور فتح مکہ شامل ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کاروائیوں میں بالعموم "اما منا" کے اصول کے تحت قیدیوں کو بلامعاوضہ ہی رہا کیا گیا۔

· صرف چار جنگیں ایسی تھیں جن میں جنگی قیدیوں کو غلام بنایا گیا۔ ان چار جنگوں میں غزوہ بنو عبدالمصطلق، بنو قریظہ، خیبر اور حنین شامل ہیں۔ ان کی تفصیل پر بھی دوبارہ غور فرمائیے:

o بنو عبدالمصطلق: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بنو عبدالمصطلق کے سردار کی بیٹی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر کے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ ان کے قیدیوں کو آزاد کر دیں کیونکہ اب بنو عبدالمصطلق مسلمانوں کے رسول کے سسرالی رشتے دار ہو چکے ہیں چنانچہ سو کے قریب خاندانوں کو آزادی نصیب ہوئی۔

o بنو قریظہ: بنو قریظہ کے معاملے میں بھی آپ نے یہی طرز عمل اختیار کیا۔ بنو قریظہ کی خاتون سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہا جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی لونڈی بنی تھیں، آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام نے بالعموم بنو قریظہ کی خواتین کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا اور ان کے بچوں کی اپنے بچوں کی طرح پرورش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرظیوں میں بعض نہایت ہی مخلص اور صاحب علم صحابی پیدا ہوئے جن کا ذکر اسماء الرجال کی کتب میں موجود ہے۔

o خیبر: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہاں بھی یہود کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر کے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ خیبر کے قیدیوں کو آزاد کر دیں۔

o حنین: یہ وہ جنگ تھی جس میں چھ ہزار کے قریب جنگی قیدیوں کو گرفتار کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نئے مسلمان ہونے والے افراد کو ذاتی طور پر قائل کیا کہ وہ اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کر دیں۔ نہ صرف انہیں آزادی دیں بلکہ غنیمت کا مال بھی بنو ہوازن کو واپس کر دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

اس کے علاوہ متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس جنگی قیدی لائے گئے تو آپ نے خود اپنے پاس سے فدیہ ادا کر کے انہیں آزادی عطا فرما دی۔ امام بیہقی نے معرفۃ السنن و الآثار کی کتاب الجہاد میں ایسے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔
 
Top