عورت کے ننگے سر کا وبال

مسافر چند روزہ نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 13, 2013

  1. مسافر چند روزہ

    مسافر چند روزہ محفلین

    مراسلے:
    49
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "لقط المرجان فی احکام الجان" میں بحوالہ کتاب " التذکرۃ الحمدونیۃ" حکایت نقل فرمائی ہے
    ایک شاعر کی بیوی کو جن کی مرگی ہوگئ تو اس نے وہی پڑھ کر جھاڑ پھونک کیا جو عامل حضرات کرتے ہیں پھر اس نے اس سے پوچھا
    تو مسلمان ہے یا یہودی یا عیسائی؟
    شیطان جن نے اس عورت کی زبانی اسے جواب دیا کہ میں مسلمان ہوں
    شاعر نے کہا پھر تو نے میری بیوی پر سوار ہونا کیوں کر حلال جانا؟
    اس نے جواب دیا اس لیئے کہ میں بھی تمہاری ہی طرح اسے پسند کرتا ہوں
    شاعر نے کہا تو کہاں سے آیا ہے؟
    اس نے جواب دیا جرجان سے
    شاعر نے پوچھا تو اس پر کیوں سوار ہوا؟
    اس نے جواب دیا اس لیئے کہ یہ عورت گھر میں ننگے سر چل رہی تےتھی
    شاعر نے کہا تو اتنا ہی غیرت مند تھا تو اس کے لیئے جرجان سے دوپٹہ کیوں نہیں لے کر آیا جس سے اس کا سر ڈھک جاتا اور اس کا سر نہ کھلا رہتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحوالہ جنوں کی دنیا صفحہ 219 از علامہ مفتی عطاء المصطفی اعظمی ناشر مکتبۃ برکات المدینہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر