علی پورکاایلی (1026-1055)

جاویداقبال

محفلین
وہ توعام ساآدمی تھا۔جادوگرنہ تھا۔
’’پتہ نہیں۔کیاہواہے۔بے چاری بیمارہے۔آپ آئیں ناآج ضرورآئیں ضرور۔‘‘
’’آؤں گا۔‘‘ایلی بولا۔لیکن حیرت کی وجہ سے اس کادماغ شل ہوچکاتھا۔’’یہ کیسے ہوسکتاہے۔آخرکیوں۔نہیں نہیں۔یہ نہیں ہوسکتا۔اورپھرنورانی ۔لاحول ولاقوۃ۔‘‘
سکول سے فارغ ہوکروہ گھرپہنچا۔دروازے پرایک خط پڑاتھا۔اس نے بے خبری میں وہ خط اٹھالیااوربیٹھک کی طرف چلاگیا۔بیٹھک مقفل تھی۔
’’ہوں۔ توابھی تک دورے سے نہیں آیا۔لیکن آخربات کیاہے۔نورانی نے کیاکیاہوگا۔شایدٹوناکیاہو۔شایدتعویزلے گیاہو۔نگاہ میں اتنااثرنہیں ہوسکتا۔‘‘
اس نے بے خبری میں لفافہ چاک کیااورخط پڑھنے بغیرٹہلنے لگا۔سنکھیاکایہ اثرتونہیں ہوسکتا۔
’’نہیں نہیں‘‘وہ چلایا۔’’یہ کیسے ہوسکتاہے۔‘‘
دفعتاً اس کی نگاہ خط پرپڑی ۔صرف ایک جملہ لکھاہواتھا۔
’’میں جارہی ہوں ہمیشہ کے لئے جارہی ہوں۔مجھ سے مل جاؤ اللہ کے واسطے ۔‘‘’’شہزاد‘‘اس کی پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
نوارنی‘بنو‘بنو‘گورا‘غلام اوراس کاستارسب غروب ہوگئے۔ان کی جگہ ایک چہرہ طلوع ہوگیا۔منورچہرہ‘ماتھے پربڑاساتل‘غمناک آنکھیںاداس صورت۔
’’میں جارہی ہوں۔‘‘وہ بولی۔
’’لیکن ۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ایلی کوکچھ سمجھ میں نہ آرہاتھا۔
گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی علی پورجارہی تھی۔
بھگوڑے
علی پورپہنچتے ہی ایلی نے شورمچادیا۔کبھی وہ فرحت کوآوازیں دیتاکبھی رابعہ کوتاکہ اس کی آمدکے متعلق شہزادکوعلم ہوجائے لیکن شہزادرابعہ کے چوبارے کوچھوڑکراپنے چوبارے میں جاچکی تھی ۔اس لئے اس نے ایلی کی آوازنہ سنی۔پھروہ اندھیری گلی کے راستے فرحت کی طرف چلاگیا۔
ایلی نے بہانہ بنایا۔کہنے لگا۔’’میرے افسرنے سرکاری کام سے امرتسربھیجاتھامیں نے کہادوروزکے لئے علی پوربھی ہوآؤں۔‘‘
وہ باتیں کررہے تھے کہ ملحقہ مکان سے شوراٹھا۔کوئی چیخ کررورہاتھا۔
’’کون ہے؟‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’اے ہے۔صفدرہے۔‘‘ہاجرہ بولی۔
’’روتاکیوں ہے؟‘‘
’’کبھی روتاہے کبھی ہنستاہے کبھی سردیوارسے دے مارتاہے۔‘‘فرحت بولی۔
’’کیوں؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’اب میں تمہیں کیابتاؤں۔‘‘
’’کوئی پردے کی بات ہے کیا؟‘‘
’’ہونہہ پردے کی۔۔‘‘فرحت چلائی۔
’’توپھربتانے میں کیاحرج ہے۔‘‘
بس دیااب بجھنے ہی کوہے۔
’’کیامطلب؟‘‘
’’ڈاکٹروں نے جواب دے دیاہے۔اللہ ماری سپرٹ پی پی کرپیپھڑاجل گیاہے۔‘‘
فرحت نے کہا۔
’’بس آج نہیں توکل۔۔‘‘ہاجرہ کی ہچکی نکل گئی۔’’توکیوں روتی ہے اماں۔‘‘فرحت نے غصے سے کہا۔’’اے ہے۔‘‘وہ روتے ہوئے بولی۔’’میرے بھائی کابیٹاہے آخر۔‘‘’’اچھاتومیں چلتاہوں۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’اے ہے کھاناتوکھالے۔‘‘فرحت نے کہا۔’’میراجی نہیں چاہتا۔‘‘ایلی نے کہا۔پاؤں کی چاپ سن کرایلی نے دروازے کی طرف دیکھا۔دوروازے میں شہزادکھڑی تھی۔اس کے چہرے سے اداسی اورتفکرٹپک رہے تھے۔’’کون شہزادہے۔‘‘فرحت بولی۔‘‘پہلے توناچتی ناچتی دھماچوکڑی مچاتی آیاکرتی تھی اوراب بلی کی طرح دبے پاؤں آتی ہے۔‘‘’’وقت وقت کی بات ہے ‘‘شہزادنے جواب دیا۔’’یہ ایلی کب آیا؟‘‘
’’ابھی آیاہوں۔‘‘ایلی نے روکھے اندازسے کہا۔’’مجھے توڈرلگتاہے۔‘‘شہزادنے کہا۔
’’تجھے اورڈر۔‘‘فرحت نے کہا۔’’وہ ڈرکے زمانے گزرگئے کیا؟‘‘شہزادنے آہ بھری۔’’بیت گئے۔‘‘وہ بولی۔’’کس بات کاڈرتجھے۔‘‘ہاجرہ نے پوچھا۔
’’پڑوس سے خیرکی آوازیں نہیں اٹھ رہیں ۔‘‘وہ بولی۔’’ہاں وہ توہے نہ جانے کس وقت۔‘‘۔۔فرحت رک گئی۔’’توایلی کولے جاتواپنی طرف۔‘‘ہاجرہ نے کہاہاجرہ کی اس با ت پروہ سب چونک پڑے۔فرحت نے حیرت سے ہاجرہ کی طرف دیکھا۔
’’اورجوکسی کوپتہ چل گیاتو۔۔‘‘فرحت بولی۔’’توبھی کمال کرتی ہے اماں۔‘‘
’’ہم کسی کوبتائیں گے توپتہ چلے گانا۔‘‘ہاجرہ نے کہا۔
فرحت غصے سے لال ہوگئی۔۔۔’’واہ اماں واہ۔‘‘۔۔۔
’’ویسے بھی تواس نے جاناہی ہے نا۔‘‘ہاجرہ چلائی۔’’ان دونوں کوآج تک توکوئی روک نہ سکا۔اب فضول غصہ چڑھانے سے فائدہ۔‘‘
ایلی اٹھ بیٹھا۔’’چلو شہزاد۔‘‘وہ بولا۔‘‘میں چلوں گا۔تمہارے ساتھ۔‘‘
شہزادنے حیرت سے ایلی کی طرف دیکھااورچپ چاپ اس کے آگے آگے چل پڑی۔
اب کیاہے
جب وہ چوبارے میں پہنچے توشہزادکے تینوں بچے سورہے تھے۔اس کی تین بڑی لڑکیاں صبیحہ نفیسہ اورریحانہ توپہلے ہی گروپتن کے سکول میں داخل تھیں چونکہ علی پورمیں لڑکیوں کاہائی سکول نہ تھا۔اس لئے شہزادنے گروپتن بھیج دیاتھاجوعلی پورسے بیس میل کے فاصلے پرتھااورجہاں وہ بورڈنگ میں رہتی تھیں۔دولڑکے اورایک لڑکی اورمیں بیدی اورنازاس کے ساتھ رہتے تھے۔وہ تینوں عمرمیں بہت چھوٹے تھے۔لہٰذاشام ہی سے سوگئے تھے۔اس کی ملازمہ جانوان دنوں اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے لاہورگئی ہوئی تھی۔’’کھاناکھالو۔‘‘شہزادنے کہا۔’’میراجی نہیں چاہتا۔ایک پیالہ چائے کاپلادوالبتہ۔‘‘ایلی نے جواب دیا۔وہ چولہے پربیٹھ کرچائے بنانے لگی۔
ایلی اس کے پاس بیٹھ گیا۔دیرتک دونوں خاموش بیٹھے رہے۔’’ہاجرہ نے بڑی جرات کی ہے آج‘‘شہزادنے کہا۔’’اورتم نے بھی۔اب کیاہے۔‘‘اورپھرمدھم آوازمیں گنگنانے لگا۔
’’اب جوکچھ گزرناہے جان پرگزرجائے۔‘‘
وہ پھرخاموش ہوگئے۔
ایلی سوچ رہاتھا۔شہزادبات کیوں نہیں کرتی۔ویسے بلابھیجاہے۔لیکن خاموش ہے۔’’خط مل گیاتھا۔‘‘شہزادنے پوچھا۔’’ہاں‘‘وہ بولا۔
’’مجھ سے ملنے آئے ہو۔‘‘
’’ہاں‘‘اس نے جواب دیا۔’’مجھے پتہ تھاتم آؤگے۔‘‘وہ بولی۔
’’اچھا؟‘‘اس نے طنزاًکہا۔
’’نہ بھی آتے۔‘‘وہ بولی۔’’تومجھے گلہ نہ ہوتا۔
’’اوہ۔‘‘۔۔۔وہ پھرخاموش ہوگئے۔
’’کہاں جارہی ہو۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’معلوم نہیں۔‘‘
’’پھربھی۔‘‘
’’شایدعیسائی ہوجاؤں۔‘‘
’’اس سے کیاہوگا۔‘‘
’’مزدوری کرسکوں گی۔‘‘
’’مجھے ساتھ لے چلو‘‘ایلی نے کہا۔
’’اونہوں۔‘‘وہ بولی۔
’’کیوں۔‘‘
’’بس نہیں کہہ جودیا۔۔۔‘‘وہ خاموش ہوگئے۔
’’ایک بات پوچھوں۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’پوچھ۔‘‘
’’کیوں جارہی ہو۔‘‘
’’اب اس گھرمیں رہناناممکن ہوچکاہے۔‘‘
’’کیوں۔‘‘
’’بے عزتی کی زندگی سے بھیک مانگ لینااچھاہے۔‘‘
’’شریف آیاتھاکیا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’کب آیاتھا۔‘‘
’’جس روزتمہیں خط لکھاتھااسی روزگیاتھاوہ۔‘‘
’’کچھ کہتاتھا۔‘‘
’’کچھ کہتاتھا۔‘‘
’’بہت کچھ ۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’چھوڑاس بات کو۔۔۔‘‘وہ پھرخاموش ہوگئے۔
’’ادھرکادروازہ بندہے کیا؟‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’کدھرکا۔‘‘
’’فرحت کی طرف کا۔‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’کرآؤ۔‘‘
’’کیافرق پڑتاہے؟‘‘وہ مسکرائی۔
’’اگرفرحت آجائے تو۔‘‘
’’اگرہم کچھ کرنے لگ جائیں تو۔‘‘
’’توکیاہے۔۔۔‘‘وہ پھرخاموش ہوگئے۔
دیرتک وہ خاموش بیٹھے رہے۔شہزادنے چائے تیارکردی۔
’’میزپررکھ دوں۔‘‘وہ بولی۔
’’یہیں رہنے دوں۔‘‘وہ بولی۔
’’یہیں رہنے دو۔‘‘ایلی نے جواب دیا۔
’’بناؤں۔‘‘
’’ہاں ۔تم پیوگی۔‘‘
’’پیوں گی۔‘‘،
’’شہزاد۔‘‘وہ بولا۔’’کیاتم زندگی سے اکتاگئی ہو۔‘‘
’’نہیں تو۔‘‘وہ بولی۔’’ابھی کہاں۔‘‘
’’اب تووہ تڑپ نہیں رہی۔‘‘
’’اونہوں‘‘وہ بولی۔‘‘تڑپ توہے۔‘‘
’’توپھراداس کیوں ہو۔‘‘
’’اداس نہیں ۔‘‘وہ بولی۔
’’پھر‘‘
’’ڈری ہوئی ہوں۔‘‘
’’کس سے ۔‘‘
’’اس شرابی پڑوسی سے۔‘‘
’’صفدرسے۔‘‘
’’ہاں۔روزمیرادروازہ کھٹکھٹاتاہے کہتاہے مجھے معاف کردوتومروں گا۔ورنہ نہیں۔‘‘
’’توکردونامعاف ۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’دل نہیں مانتا۔‘‘
’’اتنی سخت گیرتونہیں تو۔‘‘
’’عورت ہوں۔‘‘وہ بولی۔
’’اوہ۔۔۔‘‘اوروہ پھرخاموش ہوگئے۔
دفعتاً شہزادبولی۔’’تووہاں کیوں کھڑی ہے یہاں آجا۔‘‘
ایلی حیران تھاکس سے بات کررہی ہے۔
فرحت مسکراتی ہوئی دروازے سے نکل کراندرآگئی۔’’میں نے کہادیکھوں توکیاکررہے ہیں۔‘‘وہ بولی۔
’’یہاں بیٹھ کردیکھونا۔‘‘شہزادبولی۔’’چھپ کردیکھنے سے کیافائدہ۔‘‘
’’میں توحیران ہوں۔‘‘فرحت بولی۔’’تم دونوں ہی عجیب ہو۔‘‘
’’کیوں ۔‘‘شہزادنے پوچھا۔
’’یوں بیٹھے ہو۔جیسے صدیوں سے ایک ہی گھرمیں اکٹھے رہتے ہو۔‘‘
’’وہ توہے۔‘‘شہزادبولی۔’’صدیوں سے اکٹھے رہتے ہیں ہم۔کیوں ایلی۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ایلی نے کہا’’صدیوں سے۔‘‘
’’اورمیں سمجھتی تھی۔‘‘فرحت ہنسی۔
’’توجوجی چاہے سمجھ تیراکیاہے۔‘‘شہزادبولی۔
اکیلی یادونوں
فرحت چندایک منٹ ٹھہری اورپھربہانہ بناکرچلی گئی۔
اس کے جانے کے بعدوہ اسی طرح چپ چاپ بیٹھے رہے۔
’’دیکھوشہزاد۔‘‘ایلی اٹھ بیٹھا۔’’اگرتم نے جاناہی ہے توچلواکٹھے چلتے ہیں۔‘‘
’’بڑی بدنامی ہوگی۔‘‘
’’پھرکیاہوا۔‘‘
’’تم برداشت نہ کرسکوگے۔‘‘
’’میری بات چھوڑو۔‘‘وہ بولا’’میں مردہوں۔سبھی کچھ برداشت کرلوں گا۔تم عورت ہو۔میری تنخواہ بہت قلیل ہے ۔تم غربت برداشت نہ کرسکوگی۔تم غربت سے واقف نہیں شہزاد‘اوراگرتم بچے چھوڑجاؤگی توتم ان کی جدائی برداشت نہ کرسکوگی۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’بولونا۔‘‘ایلی نے اسے جھنجھوڑا۔
’’میں تمہیں ساتھ لے جانے کے لئے تیارنہیں۔‘‘وہ بولی۔
’’کیایہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔‘‘
’’ہاں۔ ‘‘وہ بولی۔
’’ایک بات کہوں۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’کہو۔‘‘
’’چلواس کافیصلہ نہ تم نہ میں کرتاہوں۔‘‘
’’توپھر۔‘‘
’’دیکھیں قدرت کوکیامنظورہے۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’وہ کیسے؟‘‘
’’آؤپرچیاں ڈال لیں۔ایک پرلکھیں دونوں دوسری پراکیلی تم ایک پرچی اٹھالو۔اگراکیلی نکلاتومیں چپکے سے چلاجاؤں گااوراگردونوں نکلاتوتم چپکے سے میری ساتھ چل پڑنا۔
وہ خاموش ہوگئی۔
’’بولومنظورہے۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
وہ اسی طرح خاموش بیٹھی رہی۔
دیرکے بعداس نے آہ بھری۔چلوساری عمرجواکھیلاہے تواب کی باربھی سہی۔‘‘شہزادبولی۔
’’تومنظورہوانا۔‘‘ایلی نے کہا
’’لیکن میری ایک شرط ہوگی۔‘‘وہ بولی۔
’’کیا؟‘‘
’’وعدہ کرکہ اگراکیلی کی پرچی نکل آئی توتم شادی کرلوگے۔میرے جانے کے فوراًبعداورپھرزندگی بھرمجھ سے نہیں ملوگے۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتاہے۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’میر ی خاطرہمیشہ سب کچھ ہوتاآیاہے۔‘‘وہ بولی۔’’یہ بھی ہوگا۔جوبھی چاہوں گی ہوکے رہے گا۔‘‘وہ مسکرادی۔
’’کیامطلب؟‘‘
’’میں ابھی جیتی ہوں۔‘‘وہ بولی’’مجھے مردہ نہ سمجھو۔مجھ میں ابھی کس بل ہے۔‘‘اس کی آنکھوں میں چمک لہرائی۔
’’میری خاطرتم یہ بھی کروگے۔دیکھ لینا۔‘‘
’’اورنہ کروں تو۔‘‘
’’تومیراآخری فیصلہ تم سن ہی چکے ہو۔‘‘
’’یعنی جوانہیں کھیلوگی۔‘‘
’’اونہوں۔‘‘شہزادنے نفی میں سرہلایا۔
’’اچھا۔۔۔‘‘ایلی بولا۔’’مجھے منظورہے۔‘‘
’’وعدہ۔‘‘
’’تمہاری قسم۔‘‘
’’مجھے تم پریقین ہے۔‘‘
’’لیکن دونوں نکلاتومیری بھی ایک شرط ہوگی۔تمہیں وعدہ کرناہوگا۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’کیا؟‘‘
’’اگربچوں کوساتھ لے جاؤگی توغربت برداشت کرنی پڑے گی اوراگربچوں کوساتھ نہ لے جاؤگی توان کاغم نہ کھانا۔ورنہ تمہاری زندگی تلخ ہوجائے گی۔‘‘
’’ہوں۔‘‘وہ سوچنے لگی۔
’’میں بتاؤں۔‘‘ایلی بولا۔
’’کیا۔‘‘
’’تم لڑکیوں سے سچی بات کہہ دینااورپوچھ لینا۔انہیں یہ بھی بتادیناکہ بھوکوں مرناپڑے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘وہ بولی۔
’’توپرچیاں لکھ دو۔‘‘
وہ اٹھی۔ٹرنک سے کاپی کاورق پھاڑا۔پنسل لی اورلکھنے بیٹھ گئی۔
دفعتاً نہ جانے اسے کیاہوا۔اس کی آنکھوں میں آنسوبھرآئے اورہاتھ کانپنے لگا۔اس نے پنسل میزپررکھ دی اوردونوں ہاتھوں میں سرتھام کررونے لگی۔
’’شہزاد۔شہزاد۔‘‘ایلی نے اسے جھنجھوڑالیکن وہ جوں کی توں پتھرکی طرح بیٹھی رہی۔
میں نہیں مروں گا
۔۔عین اس وقت ملحقہ کمرے سے شورسنائی دیا۔
’’نہیں نہیں۔میں نہیں مروں گا۔نہیں مروں گا۔‘‘صفدرچلارہاتھاوہ کمرے میں ادھرسے ادھراورادھرسے ادھرپھررہاتھا۔
’’نہیں نہیں نہیں نہیں۔‘‘وہ چلائے جارہاتھا۔
شہزادنے سراٹھایااورغورسے سننے لگی۔
’’ننھی کے اباننھی کے ابا۔‘‘صفدرکی بیوی اس کی منتیں کررہی تھی۔’’خداکے لئے ان چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے ۔‘‘
’’چلی جاؤچلی جاؤ۔‘‘وہ چلانے لگا۔
’’ان بچوں پررحم کرو۔میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں۔‘‘وہ رورہی تھی۔
’’چلی جاؤ‘چلی جاؤ۔مجھ پرکسی نے رحم نہیں کیا۔میں کسی پررحم نہیں کروں گا۔‘‘
’’اپنے آپ پررحم کرو۔یہ زہرنہ پیئو۔‘‘اس کی بیوی بولی۔
’’ہٹ جاؤ‘ہٹ جاؤ۔دفعہ ہوجاؤ۔‘‘وہ چیخ رہاتھا۔
’’خداکے لئے خداکے لئے۔‘‘وہ کراہ رہی تھی۔
پھرملحقہ کمرے پرخاموشی چھاگئی۔۔۔وہ دونوں دیرتک خاموش بیٹھے رہے۔
’’شہزاد۔‘‘ایلی بولا۔’’کیاسوچ رہی ہو؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’میری طرف دیکھو۔‘‘
شہزادنے سراٹھایا۔اس کی گالوں پرآنسوڈھلک رہے تھے۔
ایلی سوچ رہاتھا۔نہ جانے صفدرکے متعلق کونسی بات تھی۔جوشہزادچھپارہی تھی۔
وہ توطبعاً بے نیازتھی۔کسی بات کودرخوراعتنانہیں سمجھتی تھی۔پھرکیابات تھی۔جس کی وجہ سے اس کے آنسونہیں رکتے تھے۔ایلی کوکچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔
’’شہزاد۔‘‘وہ بولا۔’’آخربات توہے کوئی۔‘‘
’’کچھ بھی نہیں۔‘‘وہ بولی۔
اچھاتویہ پرچیاں تولکھو۔
’’لکھتی ہوں۔‘‘وہ بولی اورویسے ہی بت بنی بیٹھی رہی۔
ملحقہ کمرے میں بالکل خاموشی تھی۔صرف لمبے لمبے سانس لینے کی آوازآرہی تھی۔
۔۔۔دیرتک وہ پھرخاموش بیٹھے رہے۔
ملحقہ کمرے سے ٹک ٹک کی آوازآرہی تھی۔کوئی دیواربجارہاتھا۔شہزادکے کان کھڑے ہوگئے۔
’’دیواربجارہاہے کیا۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’شہزادنے اثبات میں سرہلایا۔
’’کون ہے۔‘‘اس نے پوچھا۔
شہزادنے پھراثبات میں سرہلایا۔
ایلی بجھ گیا۔لیکن صفدردیوارکیوں بجارہاہے ۔یہ اسے سمجھ میں نہ آیا۔
’’مجھے معاف کردو۔مجھے معاف کردو۔‘‘صفدرکی مدھم آوازسنائی دی۔
شہزادخاموش بیٹھی رہی۔
’’وہی ہے کیا۔‘‘ایلی نے پوچھا
شہزادنے اثبات میں سرہلایا۔
’’توکہہ دومعاف کردیا۔‘‘ایلی نے کہا۔
شہزادنے براسامنہ بنایا’’دل نہیں مانتا۔‘‘وہ بولی۔
’’توجھوٹ موٹ کہہ دو۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’جب تک میں نہیں مروں گا۔‘‘صفدرباآوازبلندچیخنے لگا۔حتیٰ کہ اسے کھانسی کادورہ پڑگیااور’’کہہ کیوں نہیں دیتی۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’ساری عمرجان کنی کے عذاب میں مبتلارہے ۔‘‘شہزادبولی۔
ایلی نے حیرت سے شہزادکی طرف دیکھا۔یہ شہزادبول رہی تھی۔نہیں نہیں۔وہ تواتنی سخت دل نہ تھی۔پھرکون بول رہی تھی۔ایلی کے لئے شہزادکی شخصیت کایہ پہلونیاتھا۔جس سے وہ آج تک واقف نہ ہواتھا۔
کچھ دیرملحقہ کمرے پرخاموشی چھائی رہی۔پھردیوارپرپھرسے ٹک ٹک ہونے لگی۔
’’کہہ کیوں نہیں دیتی۔‘‘ایلی بولا۔
شہزادخاموش بیٹھی رہی۔
’’میری خاطرکہہ دو۔‘‘ایلی نے منت کی۔
’’جی نہیں مانتا۔‘‘وہ بولی۔
’’کہ دیتی ہوں۔صرف ہونٹوں سے۔‘‘
’’توکہہ دو۔‘‘
شہزادنے ٹرنک سے تالہ اٹھایااوراسے دیوارپرمارنے لگی۔ٹھک ٹھک ٹھک پھروہ رک گئی۔
صفدرنے پھردیواربجائی۔
شہزادنے پھرتالہ دیوارپرمارا۔ٹھک ٹھک ٹھک
دفعتاً صفدرچلایایہ تم ہو۔تم ہو۔بولو۔‘‘
’’ہاں‘‘وہ باآوازبلندبولی۔’’میں نے معاف کیا۔‘‘
ملحقہ کمرے سے نعروں کی آوازیں آنے لگیں۔کوئی چیخ رہاتھا‘ناچ رہاتھا۔قہقہے ماررہاتھا۔کھانسی پھرچھڑگئی۔پھروہی قے کرنے کی آوازاورپھرخاموشی چھاگئی۔
دیرتک وہ دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
’’اب پرچی لکھونا۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’ہاں پرچی۔‘‘شہزادگویاخواب سے بیدارہوئی۔
پرچیاں لکھتے وقت اس کاہاتھ کانپ رہاتھا۔آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں ۔اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کاغذکے ان دونوں پرزوں کوتہہ کیااوربولی۔’’اب اٹھاؤ۔‘‘
’’میں نہیں۔‘‘ایلی بولا۔’’تم اٹھا۔‘‘ایلی نے پرچیوں کومٹھی میں لے کرہلایا۔
شہزادنے ایک پرچی اٹھائی۔’’کھولو۔‘‘وہ بولی۔
’’نہیں تم خودکھولو۔‘‘ا س سے کہا۔
شہزادنے اسے کھولا۔’’دونوں‘‘دیکھ کروہ مسکرائی ۔لیکن اس کی آنکھوں میں آنسوتھے۔
عین اس وقت ملحقہ کمرے میں صفدرکی بیوی کے بین شروع ہوگئے۔
ایلی چونکا۔’’کیامرگیا؟‘‘وہ بولا۔
’’ہاں۔‘‘شہزادنے جواب دیا۔’’جان چھٹی۔‘‘۔۔۔لیکن اس کی آنکھوں سے ابھی تک آنسورواں تھے۔
ایلی کوسمجھ نہیں آرہاتھا۔کہ وہ آنسوغم کے تھے یاخوشی کے۔
’’تم اب جاؤ۔‘‘شہزادبولی۔’’مرگ پرسارے محلے والے اکٹھے ہوں گے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ایلی نے کہا۔’’کل میں چلاجاؤں گا۔انتظام کرنے کے لئے۔انتظام کرکے واپس آؤں گا۔تم تیاررہنا۔‘‘
شہزادنے اثبات میں سرہلایا۔’’دیرنہ لگانا۔‘‘وہ بولی۔
’’نہیں۔‘‘ایلی بولا‘جلدآؤں گا۔‘‘وہ دبے پاؤں فرحت کے گھرکی طرف چل پڑا۔
وکیل میم
لاہورپہنچ کرایلی سوچنے لگاکہ اسے کیاتیاری کرنی ہے۔اسے قانون سے چنداں واقفیت نہ تھی اورنہ ہی اسے کسی لڑکی کوبھگاکرلے جانے کاتجربہ تھا۔شہزادنے کئی باراسے بتایاتھاکہ شریف کے ساتھ اگرایسی واردات ہوجائے توقانونی طورپرکوئی اقدام نہیں کرے گا۔میدان میں آکرلڑنے کی بجائے شایدوہ خودمعدوم ہوجائے گا۔
بہرحال اگراس نے کوئی اقدام کیاتواسے معلوم ہوناچاہیئے کہ قانونی طورپروہ کس طورزدمیں آتاہے۔ایلی نے کورٹ روڈپردوچکرلگائے اوروکلاء کے بورڈپڑھنے لگا۔لیکن اس میں اس قدرہمت نہ پڑتی تھی کہ کسی وکیل کے پاس جائے۔
اپنی کوٹھی کے باغیچے میں ایک معمروکیل کوبیٹھے دیکھ کراس نے اندرداخل ہونے کی شدیدکوشش کی لیکن اس کے قدم رک گئے عین اس وقت وکیل کامنشی آگیا۔
’’کیوں مہاراج۔‘‘وہ بولا۔‘‘آپ لالہ جی سے ملیں گے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ایلی نے مشکل سے کہا۔
’’توآؤناوہ سامنے بیٹھے ہیں۔‘‘
ایلی کومجبوراًلالہ جی کے پاس جاناپڑا۔‘‘آداب عرض۔‘‘وہ بولا۔
’’نمستے۔‘‘وکیل نے جواب دیااورکتاب ایک طرف رکھ دی۔’’ہوں کیابات ہے۔‘‘
’’مجھے آپ سے مشورہ کرناہے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘وہ حقے کاکش لے کربولے۔
’’اغواکاکیس ہے۔‘‘ایلی نے بصدمشکل کہا۔پھروہ گھبراگیا۔’’میرامطلب ہے۔ایوپمنٹ کا۔یعنی۔‘‘وہ رک گیا۔اس کاگلاسوکھ گیاتھا۔
’’کیاکیس ہے۔‘‘وہ بولے۔
’’اگرایلوپمنٹ کی جائے۔تو اس میں قانونی زدکیاکیاہوسکتی ہے۔‘‘
’’یہ توکوائف پرمنحصرہے۔‘‘لالہ جی بولے۔
’’میرامطلب ہے۔‘‘ایلی بصدمشکل کہا۔’’کیاکوائف ہونے چاہیں؟‘‘
’’یعنی کیامطلب ہے؟‘‘
’’مطلب ہے یعنی۔۔۔‘‘
’’دیکھونوجوان۔‘‘لالہ جی نے بولے۔’’کیاارتکاب جرم ہوچکاہے؟‘‘
’’جی نہیں۔‘‘وہ بولا۔
لالہ جی قہقہہ مارکرہنسنے لگے۔
’’کیاتم اس کے ہیروہوگے۔‘‘لالہ جی نے پوچھا۔
’’جی۔‘‘ایلی نے اثبات میں سرہلایا۔
’’لڑکی کی عمرکیاہے؟‘‘وہ بولے۔
’’عمر۔۔۔‘‘ایلی کے گلے میں کچھ پھنس گیا۔’’معلوم نہیں۔‘‘وہ بولا۔
’پھربھی اندازاً‘‘
’’اس کے چھ بچے ہیں۔‘‘
لالہ جی کے آنکھیں ابل آئیں۔’’نوجوان وہ بولے تمہیں کسی ڈاکٹرسے ملناچاہیئے وکیل سے نہیں۔‘‘
لالہ جی کی کوٹھی سے نکل کرایلی نے اطمینان کاسانس لیا’’کچھ پروانہیں۔‘‘اس نے اپنے آپ کوتسلی دی۔’’جوہوگادیکھاجائے گا۔‘‘اورلالہ جی سے ملنے کی کوفت مٹانے کے لئے وہ سینماہال میں جاگھسا۔
سینماسے نکل کرجب وہ انارکلی میں جارہاتھاتومحمودکودیکھ کرٹھٹھکا۔’’ارے تم؟‘‘
’’میں یہیں ہوں۔‘‘محمودبولا۔
’’یہاں تبدیلی ہوگئی ہے کیا۔‘‘
’’نہیں چھٹی پرہوں۔‘‘محمود نے کہا’’لمبی چھٹی پر۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’یہاں کالج میں داخل ہوگیاہوں۔بی اے کررہاہوں۔‘‘
’’ارے ۔اورزد۔‘‘
محمودہنسا۔’’پرایادھن۔‘‘وہ بولا۔
’’کس کا؟‘‘
’’اسی کا۔‘‘
’’اسی کس کا۔‘‘
’’میری میم کا۔‘‘
’’ارے ۔کیاوہ تمہاری بن گئی ہے۔‘‘
’’شایدنہ بنتی لیکن مسٹرفلپ نے اس روزحملہ کرکے اسے اٹھاکرمیری گودمیں ڈال دیا۔‘‘
’’وہ کس طرح۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’بھئی عورت ہے۔ضدمیں آگئی۔بولی یوں ہے توچلویونہی سہی۔‘‘
’’تووہ میم کہاں ہے آج کل ۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’‘میرے پاس ہے۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’مکان کرائے پرلے رکھاہے ۔چلوگھرچلیں۔تمہیں اپناگھردکھاؤں۔‘‘
گھرجاکرایلی نے محمودکواپنی مشکل سے آگاہ کیا۔محمودسٹپٹاگیا۔’’ارے چھ بچوں کی ماں کواغواکررہے ہو۔بلکہ وہ تمہیں اغواکررہی ہے۔یاراگرخاوندنے قانونی چارہ جوئی کی تواندرہوجاؤگے۔‘‘
’’پھرکیاہے۔‘‘ایلی بولا۔’’مجھے ڈراؤنہیں۔مشورہ نہ دو۔امدادکرو۔‘‘
’’جتنی مددکہوگے کروں گا۔بشرطیکہ میں قانون کی زدمیں نہ آؤں۔‘‘محمودہنسنے لگا۔
’’چھ بچوں کی ماں ہے وہ کیا۔‘‘میم نے مسکراکرپوچھا۔
’’جی ہاں۔‘‘ایلی نے جواب دیا۔
’’تمہارارومینس ہے۔‘‘اس نے پوچھا۔
’’سولہ سال سے۔‘‘ایلی نے جوا ب دیا۔
’’سولہ سال‘‘اس کی آنکھوں میں چمک لہرائی۔
’’حرام زادی۔‘‘محمودغصے میں چلایا۔‘‘’’اس کی آنکھ کی چمک دیکھو۔‘‘
’’تم توخواہ مخواہ بگڑتے ہو۔‘‘میم نے یوں لاڈسے کہاجیسے بچی ہو۔
’’ابھی رومینس کی لت نہیں گئی کیا۔‘‘محمودنے اسے پکڑکرگرالیااوراوندھاکرکے اس کے چوتڑوں پریوں مکے مارنے لگا۔جیسے سکول کی بچی کوسرزنش کررہاہو۔
’’ہائے مری ہائے مری۔‘‘میم چلارہی تھی۔
’’میرے دوست پرللچائی نظریں ڈالتی ہے تو۔‘‘محمودغرارہاتھا۔
ایلی حیران تھا۔اس کے ذہن میں میم کاتخیل کچھ اورتھا۔یہ عجیب میم تھی اورمحمودعجیب آدمی تھا۔جومیم کامحتاج ہونے کے باوجوداسے یوں پیٹ رہاتھا۔جیسے وہ اس کی ہاؤس میڈہو۔بہرحال محمودسے کوائف طے کرنے کے بعدوہ ڈیرہ آگیا۔
تیرہ لفظ
ڈیرہ پہنچ کربھی اس کے کانوں میں محمودکامشورہ گونج رہاتھا۔محمودنے کہاتھا۔’’ایک بات یادرکھو۔اپنی ڈیوٹی پرحاضررہنا۔روپوش نہ ہوجاناورنہ مارے جاؤگے۔‘‘
ایلی نے ڈیرہ پہنچ کراس کے توسط سے ایک مکان کرایہ پرلے لیا۔تاکہ شہزادکووہاں رکھ سکے اس انتظام کے باوجودوہ سخت گھبرایاہواتھا۔
پہلے روزجب وہ غلام کے گھرگیا۔توغلام اسے دیکھ کربولا۔
’’کیوں خیریت توہے۔‘‘
’’بالکل ‘‘ایلی نے جواب دیا۔
’’معلوم نہیں ہوتی۔‘‘غلا م نے کہا۔
نہ جانے کیابات تھی۔ہرکوئی اس سے یہی سوال پوچھتاتھا۔کیاواقعی اس کے چہرے پرپریشانی اورتفکرکے آثاراس حدتک نمایاں تھے۔
’’الیاس بھائی۔‘‘غلام بولا’’اپنے آپ سے لڑوگے توبندبندچغلی کھائے گا۔‘‘
’’میں کیااپنے آپ سے لڑرہاہوں۔‘‘
’’ظاہرہے۔‘‘وہ بولاپھرغلام نے پیارسے ایلی کاہاتھ تھام لیااوربولا’’بھائی ایک بات کہتاہوں۔جوبھی کرناہے کرڈالو۔سوچونہیں ورنہ سوچ کاآراچلتاہے۔بری طرح چلتاہے۔‘‘
ایلی کئی بارچاہتاتھاکہ غلام سے ساری بات کہہ دے‘لیکن اس کی زبان گنگ ہوجاتی تھی۔
ہمت نہ پڑتی تھی۔اس روزبھی اس نے بات کرناچاہی لیکن ہمت نہ پڑی اوروہاں سے چلاآیا۔پھرجب وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں بیٹھاتھاتونورانی خلاف معمول ایلی کے کمرے میں آگیا۔
’’الیاس صاحب۔‘‘وہ بولا’’معاف کیجئے میں نے دیکھاہے کہ آپ سخت پریشان ہیں۔‘‘
ایلی نے محسوس کیاکہ اسے جھٹلانابے کارہے۔’’ہاں ہوں۔‘‘وہ بولا۔
’’میں کوئی مددکرسکتاہوںکیا؟‘‘
’’نہیں ۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’توپھر؟‘‘
’’بات یہ ہے نورانی صاحب کہ میں مستقبل کے متعلق پریشان ہوں۔‘‘ایلی نے جواب دیا۔
’’تومیں آپ کی مددکرسکتاہوں۔‘‘نورانی بولا’’ضرورکرسکتاہوں۔‘‘
’‘وہ کیسے ۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’میں علم جعفرسے واقف ہوں۔‘‘نورانی نے کہا’’کیاآپ اپناسوال مجھے بتاسکتے ہیں۔‘‘
’’نہیں ۔‘‘ایلی نے کہا’’وہ ایک رازہے۔‘‘
’’اچھا۔‘‘نورانی بولا’’توآپ نہ بتائیے۔میری ہدایات پرعمل کیجئے ۔‘‘
’’وہ کیسے ؟‘‘
’’اپناسوال تیرہ الفاظ میں لکھ دیجئے۔‘‘نورانی کہنے لگا’’شرط یہ ہے الفاظ تیرہ ہوں نہ کم نہ زیادہ مثلاً میں بی ۔اے کے امتحان میں پاس ہوجاؤں گا۔جوامسال ہوگا۔دیکھئے اس سوال میں تیرہ الفاظ ہیں اوراس کامتن معانی کے لحاظ سے مکمل ہے۔‘‘
اس کے بعدنورانی نے ایلی کوایک لمباچوڑاعمل بتایا۔ان الفاظ کوابجدکے ہندسوں میں بدلناتھااوراسی طرح تیرہ مرتبہ بدلناتھااورپھران کامجموعہ نکالناتھا۔نورانی بیٹھ گیااوراس عجیب وغریب عمل میں ایلی کی مددکرنے لگا۔جب مجموعہ نکال چکاتونورانی بولا۔’’اب ذراٹھہرئیے۔میں باہرجاکرستاروں کی پوزیشن دیکھ لوں۔‘‘
ایساہی ایک جملہ آپ لکھیں جس میں پورامفہوم موجودہو۔مجھے بے شک نہ بتائیں۔
ایلی نے تیرہ لفظوں کاجملہ لکھا۔
کیایہ اغوامیرے اورشہزادکے لئے باعث خوشی یاپریشانی ہوگا۔
نورانی باہر نکل گیااوروہاں کھڑاگویاعجیب عجیب منترپڑھتارہا۔مشتری،اسد،زہرہ،سرطان اورنہ جانے کیاکیانام لیتارہا۔
پھروہ اندرآگیا۔’’ستاروں کے لحاظ سے۔‘‘وہ بولا’’آپ اس مجموعے میں ۲۱۵جمع کرلیجئے۔‘‘
’’جی‘‘ایلی نے جمع کرکے کہا۔
’’اب آپ ازسرنوانہیں حروف میں بدل لیجئے۔‘‘
ایلی نے ایسی ہی کیااوروہ حیران رہ گیا۔اس سامنے تیرہ الفاظ کاایک مکمل جملہ بناہواتھا۔
’’یہ فعل آپ کے اورلواحقین کے لئے باعث ذلت ورسوائی ہو۔‘‘
’’کیامیں جواب دیکھ سکتاہوں۔‘‘نورانی نے کہا۔
ایلی نے وہ چٹ جس پرجواب لکھاتھا۔نورانی کی طرف بڑھادی۔اس کارنگ زردہورہاتھا۔چہرے پرہوائیاں اڑرہی تھی۔
’’مجھے افسوس ہے۔‘‘نورانی بولا۔
’’مجھے بھی ہے۔‘‘ایلی نے کہا’’لیکن میرافیصلہ بدل نہیں سکتا۔‘‘
’’الیاس صاحب۔‘‘نورانی بولا’’میں دوست ہوں ناصح نہیں البتہ اگرکبھی میری مدد کی ضرورت پڑجائے توآپ مجھ پربھروسہ کرسکتے ہیں۔‘‘یہ کہہ کرنورانی باہرنکل گیا۔
’’یہ ہوکے رہے گا۔ہوکے رہے گا۔اللہ اچھاکریں گے۔‘‘حاجی صاحب کی گردن روئی کے گالے کی طرح لرزرہی تھی۔
’’اپنے آپ سے نہ لڑو۔‘‘غلام مسکرارہاتھا۔’’جوکرناہے کرڈالو۔کرڈالو۔‘‘
’’تم قیدہوجاؤ گے۔‘‘محمودچلارہاتھا۔
’’تمہیں ڈاکٹرسے مشورہ کرناچاہئے۔‘‘لالہ جی اسے گھوررہے تھے۔
دھمکی
آٹھ روزکے بعدایلی لاہورسٹیشن پربے تابی سے ان کاانتظارکررہاتھا۔
شہزادکی لڑکیوں نے اعلان کردیاتھاکہ وہ ہرحالت میں ماں کاساتھ دیں گی۔انہیں غربت اوربھوک کی تکلیف کاتصورہی نہ تھا۔
شہزادکی تینوں بڑی لڑکیاں ہنسوڑتھیں۔وہ ہربات پرہنستی تھیں۔ہنسے چلی جاتی تھیں۔بات بات پران کی مسرت میں یوں ابال آتاتھا۔جیسے سوڈے میں نمک کی چٹکی ڈال دی ہو۔
سب سے بڑی صبیحہ تھی۔اس کاچہرہ بے حدمعصوم تھا۔طبیعت میں بلا کی سادگی تھی۔لیکن ذہنی چمک نہ تھی۔نفیسہ اس سے چھوٹی تھی اس کارنگ سانولاتھا۔وہ بے حدتیزاورذہین تھی۔لیکن بات بات پرہننے میں وہ نفیسہ کی ساتھی تھی۔تیسری جسمانی طورپربھی صبیحہ اورنفیسہ کی طرح رنگین نہ تھی۔اسے مزاح پیداکرنانہیں آتاتھا۔البتہ بہنوں کی دیکھادیکھی اس نے بھی بات بات پرہنسناسیکھ لیاتھا۔طے شدہ انتظامات کے مطابق شہزادنے علی پورسے گروپتن لڑکیوں سے ملنے جاناتھااورپھرگورپتن سے محمودنے انہیں لاہورلے آناتھا۔جہاں سے ایلی انہیں ڈیرہ لے جارہاتھا۔ڈیرہ میں ایلی نے خفیہ طورایک الگ مکان ان کی رہائش کے لئے کرایہ پرلے رکھاتھا۔
ایلی سخت گھبرایاہواتھا۔مگرجب وہ لاہورپہنچے اورایلی انہیں لے کرڈیرہ کی گاڑی میں بیٹھ گیاتوشہزادکی لڑکیوں کی مسلسل ہنسی نے اس کافکردورکردیا۔
خطرے کاذکرکیاتووہ ہنس پڑی۔وہ بولی۔ہماراکوئی کیابگاڑے گا۔جہاں جی چاہے گارہیں گے جہاں نہیں جی چاہے گانہیں رہیں گے۔اب مزیدبے عزتی برداشت نہ ہوئی توچلی آئی۔لڑکیاں اپنی مرضی سے آئی ہیں۔واپس لیناچاہے تولے لے۔‘‘
’’لیکن اگراس نے چارہ جوئی کی تو۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’پڑاکرے میں بھری کچہری میں جواب دوں گی اسے تم کیوں غم کھاتے ہو۔‘‘وہ بولی۔
انہیں ڈیرہ میں رہتے ہوئے دس روزہوگئے۔لیکن کوئی ایساواقعہ نہ ہوجوباعث فکرہوتا۔گیارہویں دن محلے کے ایک بزرگ سکول میں آگئے اورہیڈماسٹرکے کے توسط سے ایلی سے ملے۔ایلی کویہ خیال بھی پیدانہ ہواکہ وہ شہزادکے سلسلے میں آئے ہیں۔ایلی انہیں اپنے گھرلے گیا۔جب انہوں نے گھرکوغورسے دیکھناشروع کیاتوایلی کوماتھکاٹھنکا۔کچھ دیر کے بعدانہوں نے ایلی سے بات کی ۔
بولے۔’’بھئی بات یہ ہے کہ مجھے شریف سے یہاں بھیجاہے۔‘‘
’’شریف نے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘وہ بولے ۔شایدتمہیں علم ہوگاکہ شہزاداپنے تمام بچے لے کرچلی گئی ہے۔‘‘
’’چلی گئی ہے؟‘‘ایلی نے مصنوعی تعجب سے کہا۔
’’یہاں ہم صرف اس لئے آئے ہیںکہ تم سے کہیں کہ تم شہزادکی مددکرناورنہ خواہ مخواہ دقتیں بڑھ جائیں گی۔چونکہ شریف کہتاہے کہ وہ اس بارے میں سخت کاروائی کرے گا۔‘‘
وہ بزرگ ایلی کودھمکی دے کرچلے گئے۔
جب وہ شہزادکے پاس گیااوراس نے یہ قصہ بیان کیاتووہ ہنس پڑی۔’’اونہہ‘‘وہ بولی’’سخت کاروائی کرنے والے دھمکیاں نہیں دیتے کرگزرتے ہیں۔‘‘
بہرحال اس بزرگ کے آنے کایہ نتیجہ ہواکہ ایلی نے فیصلہ کرلیاکہ و ہ ڈیرہ نہیں رہیں گے اوراگلے روزہی وہ ایک ماہ کی چھٹی لے کرجملہ لوگوں کوساتھ لے کرامرتسرچلاگیا۔
طوفان
ادھرشریف چھٹی لے کرعلی پورآگیا۔جب اس نے دیکھاکہ اس کے بنے بنائے گھرمیں دھول اڑگئی ہے۔اس کی بیوی اوربچے تمام اسے چھوڑکرجاچکے ہیں۔تواس میں ایک عجیب تبدیلی واقع ہوئی۔وہ شریف جس نے کبھی محلے میں سرنہ اٹھایاتھا۔جسے کسی نے اونچی آوازسے بات کرتے ہوئے نہ سناتھا۔جس کی آوازتک کبھی محلے میں نہ گونجی تھی وہ شریف احاطے کے میدان میں آکھڑاہوا۔اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔منہ سے کف جاری تھا۔وہ چلارہاتھا۔محلے والوں کے احساس خودداری کوللکاررہاتھا۔لوگوں کوغصہ دلارہاتھا۔اپنی لٹی ہوئی دنیاکاواسطہ دے کرانہیں علی احمدکے گھرانے کے خلاف ابھاررہاتھا۔
شریف کی آوازسن کرمحلے کی عورتیں کھڑکیوں میں آگئیں انہوں نے ہاتھ چلاچلاکرشریف کی شرافت کوسراہا۔جوظلم اس پرہواتھا۔اس میں رنگ بھرکرشہزادکے قصے بیان کئے اورشریف کومزیدابھارا۔اس محلے کے مرداکٹھے ہوگئے۔
’’ان کاحقہ پانی بند کردو۔‘‘کسی نے نعرہ بلندکیا۔
’’بندکردوبندکردو۔‘‘وہ نعرہ چاروں طرف گونجا۔
عورتوں نے علی احمد کے خاندان کے جملہ لوگوں پرلعنتیں بھیجناشروع کردیں۔مردوں نے لٹھ اٹھاکرلہرائے نوجوانوں نے قسمیں کھائیں۔
’’محلے سے نکل جاؤ۔‘‘وہ چلائے ’’نکل جاؤ۔‘‘
گھرمیں ہاجرہ فرحت سیدہ سب سہمی بیٹھی تھیں۔ان کے دروازے پرپتھروں کی بارش ہورہی تھی۔ان کے خلاف آوازے بلندہورہے تھی۔لیکن علی احمداطمینان سے گھرمیں بیٹھے روزکاحساب کتاب لکھنے میں مصروف تھے۔جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔
’’میں کہتی ہوں یہ ایلی ہی کاکام ہے۔‘‘ایک بولی۔
’’جوجویہاں ہوتارہاہے اسے دیکھ کرہماری توآنکھیں پک گئی تھیں۔گندمچارکھاتھااس اللہ کی بندی نے ۔‘‘
اعلانیہ ملتے تھے وہ کیوں ماں۔‘‘
’’بالکل لیکن خاوندنے آنکھیں موندرکھیں تھیں۔ہم کس منہ سے بات کرتے۔‘‘
’’اے سچ پوچھوتوشریف کی شرافت نے جلتی پرتیل ڈالا۔ورنہ انہیں اتنی جرات نہ ہوتی کبھی۔‘‘
’’وہ کہتے ہیں ناکہ گرباکشتن روج اول۔‘‘
محلے کے اس طوفان نے خوفناک صورت اختیارکرلی۔علی احمداورہاجرہ سے متعلقہ پرانی دشمنیاں جاگ اٹھیں۔لوگ پرانے انتقام لینے پرآمادہ ہوگئے اورشریف کوخوفناک مشورے دینے لگے۔
نیتجہ یہ ہواکہ شریف نے شہزادکی بجائے نابالغ لڑکیوں کے اغواکامقدمہ دائرکردیا۔پھرنہ جانے انہیں کہاں سے خبرمل گئی کہ ایلی امرتسرمیں چھپاہواہے۔وہ سب لاٹھیاں اٹھاکرامرتسرآگئے ۔
ایلی جونہی امرتسرپہنچاتونہ جانے کیاہوا۔اس چہرے پرپھنسیاں نکل آئیں اورپھرسب پھٹ گئیں۔ان میں سے پانی رسنے لکا۔ایلی کوکسی اچھے ڈاکٹرکاپتہ نہ تھا۔چونکہ امرتسرکاوہ علامہ جس میں انہیں مکان ملاتھا۔بالکل نیاتھا۔جس سے ایلی واقف نہ تھا۔لہٰذااس نے گھرسے دورجانامناسب نہ سمجھاان کے گھرکے قریب ہی ایک جراح کے دوکان تھی وہ جراح کی پاس چلاگیا۔
’’یہ کیانکلاہے مجھے۔‘‘اس نے جراح سے کہا۔
’’یہ اگزیماہے۔‘‘جراح نے کہا’’میرے پاس کاخاص علاج ہے۔‘‘جراح نے پرانے کپڑے کابڑاساٹکڑاجلایااورجلے ہوئے کپڑے کوان سوراخوں میں بھردیا۔جوایلی کے منہ پرپھنسیوں کے پھوٹنے کی وجہ سے پیداہوگئے تھے۔ایلی نے آئینہ دیکھا۔اس کی ہنسی نکل گی۔ایسے معلوم ہوتاتھا۔جیسے سرکس کاکارٹون ہو۔
وہ دوکان سے باہر نکلنے لگاتواس نے دیکھاکہ محلے کہ سات آٹھ افرادہاتھوں میں لاٹھیاں لئے آرہے ہیں۔
ایک ساعت کے لئے وہ ٹھٹھکاپھرپتھربن کرکھڑاہوگیا۔
قریب آکروہ رک گئے پھرساتھ والے دوکان دارسے کہنے لگے’’شیخ عثمان صاحب آپ نے ہمارے محلے کاکوئی شخص تونہیں دیکھا؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘عثمان نے جواب دیا۔پھروہ آگے کی طرف چل پڑے۔
ایلی نے پہلی مرتبہ محسوس کیاکہ محلے والے اسے تلاش کررہے تھے۔اگراس کامنہ نہ پھٹایااس پرجلی ہوئی دھجیاں نہ لگی ہوتیں تونہ جانے کیاہوتا۔
ایلی گھرپہنچاتوگھرکانقشہ ہی اورتھا۔وہ سب تاش کی گڈی سامنے رکھے بیٹھے ہوئے تھے۔نفیسہ ناچ رہی تھی۔ صبیحہ اورریحانہ ہنس ہنس کردوہری ہوتی جارہی تھیں۔اویس چلاچلاکرنہ جانے کیااعلان کررہاتھا۔نازتالیاں پیٹ رہی تھی۔اوربیدی چپ چاپ کھڑادیکھ رہاتھا۔‘‘
’’اواللہ کے بندومجاہدو۔کچھ خبرہے۔محلے والوں کے جتھے امرتسر کاچپہ چپہ چھان رہے ہیں۔ہمیں تلاش کررہے ہیں۔وہ ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھائے ہوئے ہیں۔‘‘
’’کرنے دوتلاش ۔‘‘شہزادبولی۔’’ڈھونڈبھی لیاتوکریں گے کیا۔‘‘
’’مجھے ملے تھے۔ابھی۔‘‘ایلی نے کہا۔
دفعتاً ان کی نگاہ ایلی کے چہرے پرمنعطف ہوگئی وہ سب قہقہہ مارکرہنسنے لگے۔’’یہ کیاحلیہ بنایاہے چچاجان۔‘‘
’’یہ حلیہ نہ بناہوتاتووہ گھسیٹ کرلے گئے ہوتے۔‘‘ایلی بولا۔
لیکن وہ سب موقعہ کی نزاکت کوسمجھنے سے منکرتھے انہوں نے ایک اورقہقہہ بلندکیاایلی محسوس کرنے لگاجیسے وہ کسی زندہ ناچ اورگاناکمپنی کاجوکرہو۔
صحرا میں نخلستان
اگلے روزبارہ بجے کے قریب دروازہ بجا۔
’’یااللہ یہ کون ہے۔‘‘ایلی کادل ڈو ب گیا۔
’’الیاس صاحب۔‘‘کسی نے آوازدی۔
ایلی گھبراگیا۔
شہزاداٹھ بیٹھی۔’’میں دیکھتی ہوں کون ہے۔‘‘
’’نہ نہ نہ‘‘اس نے شہزادکوروکامگروہ جاچکی تھی۔کچھ دیروہ دروازے میں کھڑی باتیں کرتی رہی پھرآکرکہنے لگی’’کوئی ڈیرہ کاٹیچرہے کہاہے میرانام شیخ ہے تم سے ملنے آیاہے۔
’’لیکن اسے ہمارے گھرکاعلم کیسے ہوا۔‘‘
’’یہ نہیں مجھے معلوم۔‘‘وہ بولی۔
ایلی ڈرتاڈرتاباہرنکلا۔
’’السلام علیکم۔‘‘شیخ اسے دیکھ کرچلایا۔’’بھئی بات یہ ہے کہ میں نے کل تمہیں دیکھاتھاپہلے تومجھے یقین نہ آیاکہ یہ تم ہو۔پھرآج میں نے تمہیں پہچان لیا۔اس لئے ملنے چلاآیا۔‘‘
’’لیکن تم یہاں کہا۔‘‘ایلی نے پوچھا۔
’’بھئی یہ ساتھ والامکان میراہے۔’’میں امرتسرکارہنے والاہوں ناآٹھ روزسے چھٹی پرہوں۔‘‘
’’شیخ صاحب کیاکسی اورکو بھی علم ہے کہ میں یہاں رہتاہوں۔‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘وہ بولا۔’’گھبراؤنہیں۔میں معاملے کی اہمیت کوسمجھتاہوں۔‘‘
’’کیامطلب ؟‘‘
’’بھئی تمہارے متعلق خبراخباروں میں چھپ چکی ہے۔‘‘
’’اخباروں میں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘وہ بولا’’اورتم پرنابالغ لڑکیوں کے اغواکامقدمہ دائرہوچکاہے۔‘‘
ایلی سخت گھبراگیا۔
’’اچھاہواتم یہاں آگئے ہو۔‘‘شیخ نے کہا’’یہ میرااپنامحلہ ہے انشاء اللہ تمہیں کوئی زک نہیں پہنچے گی۔میرے سگے بھائی وکیل ہیں۔چلوان سے مشورہ کرلو۔‘‘
شیخ ریحان ڈیرہ کے مدرسے میں ایلی کے ہم کارتھے۔وہ ایک خاموش مزاج شخص تھے اورمدرسے میں اکثرایلی سے ملاکرتے تھے۔چپ چاپ ایلی کی باتیں سناکرتے تھے۔اس سے زیادہ انہیں کبھی ایک دوسرے سے سابقہ نہیں پڑاتھا۔
پہلے دوایک دن توایلی شیخ پرشکر کرتارہا۔شایدیہ شخص ہمدردبن کرہمارابھیدلے رہاہے۔
شایدشریف کاجاسوس ہوشاید۔لیکن دودن کے بعداس کے شکوک رفع ہوگئے اورشک ان کے لئے صحرامیں نخلستان بن گیا۔
شیخ کے بھائی نے ایلی کومشورہ دیاکہ شہزادکچہری میں جاکرحلفیہ بیان درج کروادے کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے آئی ہے اوراس کی بچیاں جن کی وہ جائزولی ہے اس کے ساتھ رہتی ہیں۔
کچہری کانام سن کرایلی کی روح فناہوگئی۔شہزادہنس پڑی۔’’تو اس میں کیامشکل ہے۔‘‘وہ بولی۔’’لوکھلی میںسردینے والے کیادھمکیوں سے ڈرتے ہیں۔‘‘اگلے روزہی شہزادنے شیخ کے گھرسے ایک برقعہ منگوالیااوردونوں تانگے میں بیٹھ کرچل پڑے۔وہ اپنابرقعہ نہیں پہنناچاہتی تھی تاکہ محلے والے اسے پہچان نہ لیں کچہری سے کچھ فاصلہ پرایک پرانامقبرہ تھا۔شہزادنے وہاں تانگہ روکااورایلی کواتاردیا۔بولی’’جب تک میں نہ لوٹوں یہاںسے نہ ہلنا۔‘‘اورخودکچہری کی طرف چل پڑی۔
مقبرے کے اندرایک سپاہی نے اسے للکارا’’اے ‘‘وہ بولا’’ادھرآؤ۔‘‘
’’جی۔‘‘ایلی پاس جاکربولا۔
’’بھگوڑے ہوتم۔‘‘
’’جی۔‘‘ایلی نے گھبراکرسچ کہہ دیا۔
’’تم اس عورت کوبھگاکرلائے ہوناجوابھی ٹانگے سے تمہیں اتارکرگئی ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘وہ بولا
سپاہی نے قہقہہ مارا۔بولا’’تم جھوٹ بولتے ہومعلوم ہوتاہے تم نے اسے اغوانہیں کیا۔بلکہ وہ تمہیں اغواکرکے لائی ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘ایلی نے جواب دیا۔’’ہمیشہ عورت ہی اغواکرکے لاتی ہے۔لیکن مجرم مردکوگرداناجاتاہے اورسزامردکوملتی ہے۔‘‘
سپاہی نے پھرقہقہہ لگایا’’سچ کہتے ہومیاں۔‘‘
وہ سپاہی ایلی کادوست بن گیا۔
’’وہ اکیلی کچہری گئی ہے نا۔بڑی جرات ہے اس میں۔‘‘سپاہی نے کہا۔
’’ان سب مین بڑی جرات ہوتی ہے۔‘‘وہ بولا۔
وہ دونوں بیٹھ کرباتیں کرنے لگے۔
شہزادنے کچہری میں حلفیہ بیان درج کرایا۔لیکن جب وہ باہر نکلی توآصفی محلے کے ایک جتھے نے اسے گھیرنے کی کوشش کی ۔شہزادیہ دیکھ کرپھرسے مجسٹریٹ کے کمرے میں داخل ہوگئی ۔کہنے لگی۔
’’مجھے دشمنوں سے خطرہ ہے۔میری حفاظت کاانتظام کردیجئے۔‘‘مجسٹریٹ نے دوسپاہی ساتھ کردیئے۔مقبرے پرجاکروہ تانگے سے اترگئی۔
محلے والے اس کاپیچھاکررہے تھے وہ مقبرے میں آگئے۔سپاہی نے باہرجاکران کاراستہ روک لیا۔’’کسے ڈھونڈرہے ہو۔‘‘وہ بولا۔
’’یہاں ایک عورت اتری تھی۔‘‘انہوں نے جوا ب دیا۔
’’وہ توادھرگئی ہے۔‘‘سپاہی نے سڑک کی دوسری طرف اشارہ کیااوروہ ادھرچلے گئے۔
’’آؤتمہیں گھرچھوڑآؤں۔‘‘سپاہی بولا’’یہاں بیٹھناٹھیک نہیں۔‘‘
’’ہم خودچلے جائیں گے۔‘‘شہزادنے کہا۔
’’توتوچلی جائے گی۔لیکن یہ’’سپاہی نے ایلی کی طرف اشارہ کیا۔’’جسے تو ساتھ لائی ہے۔‘‘
’’ایسوں کوہی ساتھ لایاکرتے ہیں۔‘‘وہ بولی۔
ارم پورہ
سپاہی نے قہقہہ لگایا۔’’بھئی واہ کیاجوڑی ہے ۔‘‘وہ قہقہہ مارکرہنسنے لگا۔
مہینہ بھروہ امرتسرمیں رہے۔ایلی باہر نکلتاتواس کے منہ پردھجیوں کی سیاہ راکھ تھپی ہوتی اوراس نے اپنے گردایک کمبل لپیٹاہوتا۔بازاروں میں گھومتے ہوئے کئی باراس نے محلے والوں کے گروہ دیکھے تھے اورڈرکی وجہ سے اس کادل اچھل کرگلے میں آاٹکاتھا۔چارایک باروہ کچہری بھی گئے تھے لیکن حسب دستورایلی کوشہزادنے مقبرے میں چھپادیاتھا۔
جب ایلی گھرآتاتوگویانقشہ ہی بدل جاتا۔وہ پہنچ کروہ محسوس کرتاجیسے وہ پکنک پرآئے ہوں اوران کی زندگی میں خطرے یامشکل کاسوال ہی پیدانہ ہوتاہو۔
سارادن وہ بیٹھ کرتاش کھیلتے اورجوہارتااسے چوربناتے۔اس کے لئے انوکھی سزائیں تجویزکرتے اورپھرقہقہے لگاتے۔لڑکیاں ناچ ناچ کرچلتیںبات بات پرہنستیں۔مل کرگیت گنگناتیں۔بچے تالیاں بجاتے وہ سب قطعی طورپراس خطرے سے بے نیازتھے جوان کے سرپرمنڈلارہاتھاادھرشریف کے ساتھیوں نے ساراامرتسرچھان مارا۔لیکن انہیں ایلی اورشہزادکے چھپنے کی جگہ کاعلم نہ ہوکا۔شیخ نے ہر ممکن طریق سے ان کی مددکی۔ان کے بھائی نے انہیں قانونی مشورے دیئے۔نیتجہ یہ ہواکہ شریف کاغصہ ٹھنڈاہوگیااورپھرسے اس پرقنوطیت چھاگئی جواس کی طبیعت کابنیادی جزوتھی اورایک روزوہ چپکے سے روپوش ہوگیا۔اس پرمحلے والے بگڑگئے۔انہیں یہ شکایت تھی کہ جب خودشریف میدان چھوڑکربھاگ کیاہے توہم کیوں اس کی خاطردنیابھر کی دشمنی مول لیں۔اس لئے وہ بھی میدان چھوڑکرچلے گئے۔
محلے والوں نے ڈیرہ اخباروں میں جوجو خبریں ایلی کے متعلق چھپوائی تھیں۔انہیں دیکھ کروہ بیچاراخودڈرگیاتھا۔سکول کوبدنامی سے بچانے کے لئے اس نے کوشش کرکے ایلی کاتبادلہ کرادیا۔نتیجہ یہ ہواکہ اس لمبی رخصت کے دوران ایلی ڈیرہ سے ارم پورہ تبدیل ہوگیا۔یہ تبادلہ ایلی کے لئے نعمت غیرمترقبہ تھی۔
ارم پورہ بنیادی طورپرلاہورکے قریب ایک قصبہ تھا۔لیکن لاہورشہرکے پھیلاؤکے وجہ سے اب وہ لاہورکی بستی کی حیثیت اختیارکرچکاتھا۔اگروہ ڈیرہ ہی میں مقیم رہتے توایلی اپنے مکان کوخفیہ نہ رکھ سکتاتھا۔لیکن لاہورمیں اپنے مکان کی جائے وقوع کوصیغہ رازمیں رکھناکچھ مشکل نہ تھا۔
اسی وجہ سے ایک ماہ کی رخصت کے بعدایلی نوکری پرحاضرہوگیا۔اس نے ایسی جگہ مکان کرایہ پرلیاجولاہو رکی ایک اوربستی تھی اورارم پورہ کی متضادسمت میں واقع تھی۔
اگرچہ طوفان گزرچکاتھاپھربھی لکیرابھی تازہ تھی ۔ایلی ڈرتاتھاکہ نہ جانے کب طوفان پھرسے چلنے لگے۔اس لئے وہ بے حدمحتاط تھا۔اس کی یہ اختیاط ادارک کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈرکی وجہ سے تھی۔وہ بنیادی طور پر بے حدبزدل واقع ہواتھا۔
وہ سب مقدمات جو شریف نے ان کے خلاف دائرکررکھے تھے۔عدم پیروی کی وجہ سے داخل دفترہوچکے تھے۔لیکن محکمے میں ایلی کی بے حدبدنامی ہوئی تھی۔حتیٰ کہ افسراعلیٰ معروف صاحب نے ایلی کے والدکوخط لکھ کرمتنبہ کردیاتھاکہ ان حالات کے تحت وہ ایلی کی امدادکرنے سے قاصرہیں۔
جب وہ پہلے روزارم پورہ کے مدرسے میں حاضرہواتوہیڈماسٹرنے اسے چارج دینے سے انکارکردیا۔بولے’’ہم نے آپ کاکیس ڈائرکٹربہادرکوبھیج دیاہے۔جب تک وہ کوئی فیصلہ نہ کریں ہم آپ کوچارج نہیں دے سکتے۔‘‘
چارایک روزکے بعدہیڈماسٹرنے ایلی کوبتایاکہ مسٹرمعروف نے اسے انٹرویوکے لئے بلایاہے لہٰذااسے بڑے دفترمیں جاناچاہیے۔
معروف اورراغب
مسٹرمعروف سے ایلی کاوہ دوسراانٹرویوتھا۔چندایک سال قبل جاورامیں وہ انکوائری کرنے آئے تھے اورایلی اورمسٹرمعروف کی بات چیت ہوئی تھی۔آج پھروہ مسٹرمعروف کے روبروحاضرتھا۔
مسٹرمعروف نے ایک ساعت کے لئے بڑی سنجیدگی سے اسے گھورا۔نہ جانے کیوں لیکن ایلی مسٹرمعروف کودیکھ کرمحسوس کرتاتھاجیسے اس کے روبروایک خوش مذاق رنگیلی عورت بیٹھی ہو۔اس کے دل میں ذرہ بھر خوف پیدانہیں ہوتاتھا۔
’’کیایہ سچ ہے کہ آپ کے خلاف اخباروں میں خبریں نکلی ہیں۔‘‘معروف بولے۔
’’جی مجھے نہیں علم ۔‘‘
’’کیاآپ نے گذشتہ دنوں اخبارنہیں دیکھے۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’کیوں۔‘‘
’’جی میں چھٹی پرتھا۔‘‘
’’آپ نے کس لئے چھٹی لی تھی؟‘‘
’’جی تفریح کے لئے۔‘‘
’’توآپ نے کیسے تفریح کی؟‘‘
’’گھربیٹھارہا۔منہ ہاتھ نہیں دھویا۔کوئی کام نہیں کیا۔تاش کھیلتارہا۔‘‘
’’ہوں۔‘‘وہ بولے’’تاش کاکون ساکھیل کھیلتے رہے؟‘‘
’’جی چورسپاہی۔‘‘
ان کے ہونٹوں پرایک مسکراہٹ جھلکی۔لیکن انہوں نے ضبط سے کام لیا۔
’’آپ کومعلوم ہوناچاہیے کہ آپ پراغواکاالزام ہے۔‘‘
’’جی مجھے معلوم نہیں۔‘‘وہ بولا۔
’’ہم جوآپ کوبتارہے ہیں۔‘‘وہ غصے میں بولے۔
’’کسی عدالت نے مجھے نہیں بتایا۔بہرحال۔‘‘
’’توآپ کوئی سمن نہیں ملا۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’آپ کچہری میں حاضرنہیں ہوئے۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ایلی نے کہا۔،
’’تووہ خبریں کیوں چھپیں۔‘‘
’’جی مجھے معلوم نہیں۔‘‘
’’آپ کوعلم ہوناچاہیے الیاس صاحب کہ اس خاتون کے شوہر نے مجھے سب باتیں لکھی ہیں۔‘‘
’’ممکن ہے۔‘‘وہ بولا‘‘مجھے اس کاعلم نہیں۔‘‘
’’کیاآپ نے اس کی بیوی کواغواکیاہے۔وہ غصے سے بولے۔
’’جی نہیں۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’آپ میرے روبروجھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’توپھرکوائف کیاہیں؟سچ سچ بتائیے ورنہ میں سخت کاروائی کروں گا۔‘‘
’’جی حقیت یہ ہے کہ اس کی بیوی نے مجھے اغواکیاہے۔‘‘
معروف صاحب کی ہنسی نکل گئی۔
’’آپ عجیب آدمی ہیں۔‘‘وہ بولے
’’جی نہیں۔‘‘ایلی نے کہا۔’’میں ایک عام آدمی ہوں۔
’’لیکن آپ ابھی کہہ رہے تھے۔‘‘معروف صاحب پھرسنجیدہ ہوگئے۔’’کہ آپ چھٹیوں میں تاش کھیلتے رہے ۔‘‘
’’سچ عرض کیاہے میں نے۔‘‘
’’کس سے تاش کھیلتے رہے۔‘‘
’’جی ان سے جنہوں نے مجھے اغواکیاہے۔‘‘
’’وہ کون کون ہیں۔‘‘
’’جی چھ بچے اوران کی ماں۔‘‘
’’توکیایہ سچ ہے کہ وہ چھ بچوں کی ماں ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’آپ عجیب بے وقوف ہیں۔اگراغواہی کرناتھاتوکسی لڑکی کوکرتے خواہ مخواہ آپ نے اتنے بڑی کنبے کابوجھ اٹھالیا۔‘‘
’’جی کوئی لڑکی مجھے اغواء کرنے کوتیارنہ تھی۔سوائے اس چھ بچوں کی ماں کے ۔‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘معروف نیم غصے مذاق سے بولے۔’’جاکرچارج لیجئے اوریادرکھئے۔اگرپھرآپ کی رپورٹ آئی توآپ کوسپنڈکردوں گا۔‘‘
معروف کے بعدارم پورے کے ہیڈماسٹرراغب صاحب نے اسے اپنے دفترمیں بلالیا۔راغب صاحب ایک دبلے پتلے جلے کٹے آدمی تھے۔ان کاچہرہ لمباتھامگرکتابی نہیں تھا۔آنکھیں اندرکودھنسی ہوئی تھیں ناک یوں ابھری ہوئی تھی جیسے سمندرسے مونگے کی چٹان
 

جاویداقبال

محفلین
جھانک رہی ہو۔ایلی نے ایک نظرانہیں دیکھا۔وہ معروف سے برعکس قسم کی شخصیت تھے۔
’’آصفی صاحب۔‘‘وہ بولے’’اگرچہ معروف صاحب نے آپ کواجازت دے دی ہے۔لیکن میں نہیں چاہتاکہ آپ میرے سکول میں کام کریں۔‘‘
’’معروف صاحب نے مجھے اجازت نہیں دی۔‘‘ایلی نے جواب دیا۔
’’کیامطلب ؟‘‘وہ بولے۔
’’معروف صاحب نے فرمایاہے کہ راغب صاحب کی مرضی کے بغیرہم کچھ نہیں کریں گے۔‘‘
’’لیکن۔۔۔لیکن‘‘۔وہ رک گئے۔’’اچھامجھے اس کاعلم نہ تھا۔‘‘
’’معروف صاحب نے صاف کہہ دیاتھا۔‘‘ایلی نے کہا’’میں اجازت دینے والاکون ہوں کام راغب صاحب نے لیناہے۔‘‘
’’خوب خوب۔‘‘وہ خوشی سے چلائے’’توہمارافیصلہ یہ ہے کہ آپ اس مدرسہ میں کام نہیں کریں گے۔‘‘
’’جیسے بھی آپ مناسب سمجھیں۔‘‘ایلی نے کہا۔
’’دیکھئے ناہم بدنام آدمی کواپنے سکول میں نہیں رکھ سکتے۔ہم اپناڈسپلن خراب نہیں کریں گے۔‘‘
’’جیسے آپ کی مرضی لیکن راغب صاحب بدنام آدمی ڈسپلن خراب نہیں کرسکتا۔‘‘
’’آپ کامطلب ؟‘‘
’’مطلب یہ ہے کہ شرارت وہ لوگ کرتے ہیںجن پرشبہ نہ کیاجاسکے۔یاجن کااعمال نامہ صاف ہواوران پرحرف نہ آسکے۔بدنام آدمی تواپناجائزتحفظ بھی نہیں کرسکتا۔وہ توکانچ کے گلاس کی طرح ہوتاہے۔ذراضرب لگی اورٹوٹ گیا۔‘‘
’’کیاآپ مجھے عقل سکھانے آئے ہیں۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘وہ بولا’’مجھ میں توخودعقل نہیں میں کیاعقل سکھاؤں گاکسی کو۔‘‘
’’کیامطلب۔‘‘وہ چلائے۔
’’جی عقل ہوتی توکیاچھ بچوں کی والدہ کواغواکرلاتا۔‘‘
 
Top