1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

علمی و ادبی لطائف

محمد وارث نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 5, 2010

  1. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    السلام علیکم،

    محفلِ ادب کے ذیلی زمرہ 'طنز و مزاح' میں ایک نئے زمرے کا اضافہ بعنوان 'علمی و ادبی لطیفے' کیا گیا ہے۔ آپ سب سے استدعا ہے کہ اس فورم میں صرف اور صرف علمی اور ادبی لطیفے ہی شامل کریں اور میرے خیال میں اس بات کی زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ علمی اور ادبی لطیفے کون سے ہوتے ہیں :)

    عمومی لطیفے، گپ شپ' کے زمرے میں منتقل کر دیئے گئے ہیں، اور وہاں بلاتکلف پوسٹ کیے جا سکتے ہیں لیکن واضح رہے کہ محفل کی پالیسی کے مطابق ایسے تمام لطائف کو حذف کر دیا جائے گا جو مبتذل یا فخش ہوں، غیر شائستہ (یعنی گھٹیا) زبان استعمال کی گئی ہو یا وہ کسی مخصوص مذہب، ملک، نسل، لسان و قوم کے خلاف ہوں جن سے انکی دل آزاری ہوتی ہو۔

    امید ہے آپ سب اس سلسلے میں تعاون فرمائیں گے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 18
  2. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب ، شکریہ وارث صاحب،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ریڈیو کی دنیا بھی ایک عجیب دنیا ہے۔ یہاں پر ہر بات ناپ تول کر کرنی پڑتی ہے۔ ایک لفظ کے ہیر پھیر سے بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی ہے۔ کلام کو سمجھ کر گانے والے گلوکار ش، ق، زبر زیر اور اضافت کا حد درجہ خیال رکھتے ہیں ۔ ایسے ہی گلوکار گاتے وقت مطالب اور مفاہیم میں ڈوب کر گاتے ہیں اور سامعین بھی کلام کا صحیح لطف حاصل کرتے ہیں۔ بصورت دیگر بات کچھ کی کچھ ہوجاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق کراچی ریڈیو سے ایک بار ایک گلوکارہ غالب کی مشہور غزل ’’ دل ہی تو ہے ، نہ سنگ و خِشت‘‘ گارہی تھیں۔کم پڑھی لکھی تھیں، جب اِس شعر پر پہنچیں ’’قیدِ حیات و بندِ غم‘‘ تو اسے یوں گایا

    قید و حیات و بند و غم ، اصل میں دونوں ایک ہیں
    موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں

    بابائے نشریات مرحوم ذوالفقار علی بخاری گھر پر ریڈیو سُن رہے تھے۔ انہوں نے فوراً ڈیوٹی آفیسر کو فون کیا اور کہا کہ گلوکارہ سے کہو کہ یوں گائے

    قید و حیات و بند و غم، اصل میں چاروں ایک ہیں
    موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

    (ریڈیو پاکستان کراچی کی پچاس سالہ علمی و ادبی خدمات از ڈاکٹر محمد اقبال خان اسدی)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اورئنٹیل کالج کا یہ لطیفہ کہ ایک روز مرحوم پروفیسر وزیر الحسن عابدی نے چپراسی سے چاک لانے کے لئے کہا کہ وہ بلیک بورڈ پر کچھ لکھ کر سمجھانا چاہتے تھے، چپراسی بہت سے چاک جھولی میں ڈال کر لے آیا اس سے پہلے کہ عابدی صاحب چپراسی کی ’’چاک آوری‘‘ پر ناراض ہوتے، انور مسعود نے چپراسی کی جھولی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

    ’’سر! دامنِ صد چاک اِسی کو کہتے ہیں؟‘‘
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    انور مسعود جب مطالعاتی دورے پر ایران گئے ،تو ایک دعوت میں ایک خاتون نے اُن کو ماست (دہی) کا پیالہ پیش کیا، دہی نکالتے ہوئے کچھ دہی انور مسعود کے کپڑوں پر جا پڑا تو اُنہوں نے برجستہ کہا: از ماست کہ برماست۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. البرق علوی

    البرق علوی محفلین

    مراسلے:
    5
    جرات نابینا تھے۔ایک روز بیٹھے فکرِ سخن کر رہے تھے کہ انشاء آ گئے۔انہیں محو پایا تو پوچھا حضرت کس سوچ میں ہیں؟جرات نے کہا : کچھ نہیں۔بس ایک مصرع ہوا ہے۔شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔انشاء نے عرض کیا : کچھ ہمیں بھی بتا چلے۔

    جرات نے کہا: نہیں۔تم گرہ لگا کر مصرع مجھ سے چھین لو گے۔آخر بڑے اصرار کے بعد جرات نے بتایا۔مصرع تھا:

    اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی

    انشاء نے فوراً گرہ لگائی:

    اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی

    جرات لاٹھی اٹھا کر انشا کی طرف لپکے۔دیر تک انشاء آگے اور پیچھے پیچھے ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    غالب کی ظرافت

    غدر سے بڑا المیہ شاید ہی کوئی اور غالب کے سامنے گزرا ہو ۔ اس کے درمیان غالب بھی لیئر کی طرح ہیتھ پر پھٹے کپڑے شکستہ حال کھڑے ہیں اور آسمان سے تاریکی میں ، بجلی تڑپ تڑپ کر پیڑوں کو جلا کر خاک کر رہی ہے مگر ان کی فطرت میں چھپا ہوا فول اپنی اڑانے سے نہیں چوکتا ۔
    غالب کے غدر کے زمانے والے مکاتیب کو "غدر کے واقعہ ہائلہ کی مرثیہ خوانی " کہا گیا ہے ، مگر دیکھئے اس مرثیہ خوانی میں کتنی مزاح نگاری ہے ۔
    "میاں حقیقت حال اس سے زیادہ نہیں ہے کہ اب تک جیتا ہوں ۔ بھاگ نہیں گیا ۔ نکالا نہیں گیا ۔ معرض باز پرس میں نہیں آیا ۔ آئندہ دیکھئے کیا ہوتا ہے ۔"
    غالب ایک حد تک اس المیہ سے بچے ہوئے اس کا منظر ہی دیکھ رہے ہیں مگر اس کی زد میں بھی آ جاتے ہیں اور سکے لکھنے کے الزام میں
    "پنشن بھی گیا اور زیست کا نام و نشان خلعت و دربار بھی مٹا ۔"
     
    آخری تدوین: ‏مئی 28, 2021
  8. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    غالب کے خطوط میں مزاح کا رنگ اور بھی تیز ہو گیا ۔ لکھتے ہیں ۔" میں نے سکہ نہیں کہا ، اگر کہا تو اپنی جان اور حرمت بچانے کو کہا ۔ یہ گناہ نہیں ہے ۔ اور اگر گناہ بھی ہے تو کیا ایسا سنگین ہے کہ ملکہ معظمہ کا اشتہار بھی اسے مٹا نہ سکے ۔ سبحان اللہ ! گولہ انداز کا بارود بنانا اور توپیں لگانا اور بینک گھر اور میگزین لوٹنا معاف ہو جائے گا اور شاعر کے دو مصرعے معاف نہ ہوں ۔ ہاں صاحب گولہ انداز کا بہنوئی مددگار ہے اور شاعر کا سالا بھی جانبدار نہیں ۔
     
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    تکلیف دہ صورتوں کو بھی ایک آفاقی ہمدردی کی سطح پر نقش و نگار کی طرح دکھاتے ہیں۔ ناامیدی کا اس سے بہتراظہار اور کیا ہو سکتا ہے ؎
    رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
    تو کس امید پہ کہئے کہ آرزو کیا ہے
    مگر اس شعر کو جتنا پڑھتے جائیے ، اتنی ہی ناامیدی دور ہوتی جاتی ہے ۔ ایک عجیب تسکین کا عالم طاری ہو جاتا ہے ، امید اور ناامیدی آرزو سے وابستہ ہیں مگر یہ شعر ہمیں وہاں لے جاتا ہے ، جہاں آرزو ہی آفاق کے دائمی رنگ میں غائب ہوگئی ، جہاں کائنات کے چہرے پر ایک دائمی مسکراہٹ دائمی شگفتگی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
    غالب خود اپنے سامنے آئینہ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    21,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    نفسیات پر مزاح لیجئے:۔
    ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب ؔ کی آبرو کیا ہے!

    ذکاوت ، لطیف طنز ، چوٹ ، ہر چیز کی کثرت سے مثالیں ملتی چلی جائیں گی ۔ وہ غالب کی فطرت ِ ظریف ہے جو ان کے ہر شعر کو ہمارے سامنے ہر مشکل وقت پر لا کر ہماری ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے اور ہمارے اندر وہ لاپروائی پیدا کر دیتی ہے جو مزاح کی روح ہے ۔ غالب ؔ کے وہ اشعار بھی جو زندگی کی تلخیوں کے تکلیف دہ مناظر پیش کرتے ہیں ، اپنے اندر ایک لطیف مزاح مضمر رکھتے ہیں ۔ جن کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ان کو پڑھ کر دائمی مسکراہٹ کے کیف میں پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر