عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ، محترم@ظہیراحمدظہیر
محمد خلیل الرحمٰن بھائی ، سید عاطف علی بھائی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ

آداب
آپ کی خدمت میں ایک غزل حاضر ہے۔ آپ سے اصلاح و راہنمائ کی درخواست ہے ۔ ۔


زورِ بازو، تیر نا شمشیر نا تدبیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
کرتے ہیں ہم پہروں باتیں بس تری تصویر سے

دل چرانے کی سزا دی ہم کو ہم سے چھین کر
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
دل ہے ٹوٹا زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے

اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی بے بہا تشہیر سے

خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
پر زمانہ متفق نا تھا اسی تعبیر سے

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
کیوں ڈراتے ہو ہمیں تم طوق سے، زنجیر سے

ہم کو بھی جلدی تھی جانے کی جہاں کو چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے

لب پہ جاری تھی دعا اب بھول جائیں ہم تمہیں
مستجابی کیسے ہوتی حرفِ بے تاثیر سے

داستاں سننے کو گرچہ اک زمانہ ساتھ ہے
ہم کہا کرتے ہیں دل کا حال اک تصویر سے
 

الف عین

لائبریرین
زورِ بازو، تیر نا شمشیر نا تدبیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے
... 'نا' کو غلط کہہ چکے عبد الرؤوف
اس کو یوں کہا جا سکتا ہے
زور بازو سے، تدبر سے، نہ یہ شمشیر سے
یا اس سے بہتر متبادل مصرع، ایک ترکیب فارسی 'نے' کے استعمال کی بھی ہو سکتی ہے

تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
کرتے ہیں ہم پہروں باتیں بس تری تصویر سے
... کرتے ہیں' میں کرتے کی ے اور پہروں کے' وں' کا اسقاط روانی متاثر کرتا ہے

دل چرانے کی سزا دی ہم کو ہم سے چھین کر
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے
... کس نے سزا دی؟ اسے واضح کہو

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
دل ہے ٹوٹا زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے
... 'دل ہے ٹوٹا' اچھا نہیں لگتا، کچھ اور فقرہ کہو

اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی بے بہا تشہیر سے
... بے بہا کن معانی میں؟ یہاں تو خواہ مخواہ کا محل ہے
... اس قدر تشہیر سے، کیا جا سکتا ہے

خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
پر زمانہ متفق نا تھا اسی تعبیر سے
... پھر 'نا' آ گیا، 'پر' بمعنی مگر بھی فصیح نہیں
متفق لیکن زمانہ تھا نہ اس تعبیر سے
ہو سکتا ہے لیکن مفہوم واضح نہیں ہو رہا شعر کا

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
کیوں ڈراتے ہو ہمیں تم طوق سے، زنجیر سے
... ٹھیک، لیکن روانی بہتر کی جا سکتی ہے الفاظ بدل کر

ہم کو بھی جلدی تھی جانے کی جہاں کو چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے
.. جہاں کو چھوڑ' کے بدلے' یہ دنیا چھوڑ ' کر دیں تو بہتر ہے روانی میں

لب پہ جاری تھی دعا اب بھول جائیں ہم تمہیں
مستجابی کیسے ہوتی حرفِ بے تاثیر سے
... مستجابی؟ پہلا مصرع بھی یوں کہا جائے
کر رہے تھے ہم دعائیں/دعا اب بھول جانے کی تمہیں
کس طرح مقبول ہوتیں/ہوتی.....
مراد دعا استعمال کرو تو 'ہوتی' ، جمع استعمال کرو تو 'ہوتیں'

داستاں سننے کو گرچہ اک زمانہ ساتھ ہے
ہم کہا کرتے ہیں دل کا حال اک تصویر سے
.. درست
 

صابرہ امین

لائبریرین
زورِ بازو، تیر نا شمشیر نا تدبیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے
... 'نا' کو غلط کہہ چکے عبد الرؤوف
اس کو یوں کہا جا سکتا ہے
زور بازو سے، تدبر سے، نہ یہ شمشیر سے
یا اس سے بہتر متبادل مصرع، ایک ترکیب فارسی 'نے' کے استعمال کی بھی ہو سکتی ہے
آپ کی رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل تبدیلیاں کی ہیں ۔

زورِ بازو سے نہ یہ تدبیر یا شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے
تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
کرتے ہیں ہم پہروں باتیں بس تری تصویر سے
... کرتے ہیں' میں کرتے کی ے اور پہروں کے' وں' کا اسقاط روانی متاثر کرتا ہے
تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
بس کیا کرتے ہیں باتیں ہم تری تصویر سے
دل چرانے کی سزا دی ہم کو ہم سے چھین کر
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے
... کس نے سزا دی؟ اسے واضح کہو

ہم کو ہم سے چھین کر تم نے سزا دی اس طرح
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
دل ہے ٹوٹا زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے
... 'دل ہے ٹوٹا' اچھا نہیں لگتا، کچھ اور فقرہ کہو

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
مضمحل ہیں زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے
اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی بے بہا تشہیر سے
... بے بہا کن معانی میں؟ یہاں تو خواہ مخواہ کا محل ہے
... اس قدر تشہیر سے، کیا جا سکتا ہے
اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی اس قدر تشہیر سے


خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
پر زمانہ متفق نا تھا اسی تعبیر سے
... پھر 'نا' آ گیا، 'پر' بمعنی مگر بھی فصیح نہیں
متفق لیکن زمانہ تھا نہ اس تعبیر سے
ہو سکتا ہے لیکن مفہوم واضح نہیں ہو رہا شعر کا

خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
کیوں نہ ہوں اب ہم شکستہ اس الٹ تعبیر سے

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
کیوں ڈراتے ہو ہمیں تم طوق سے، زنجیر سے
... ٹھیک، لیکن روانی بہتر کی جا سکتی ہے الفاظ بدل کر

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
تم ڈراتے ہو ہمیں کیوں طوق سے، زنجیر سے

ہم کو بھی جلدی تھی جانے کی جہاں کو چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے
.. جہاں کو چھوڑ' کے بدلے' یہ دنیا چھوڑ ' کر دیں تو بہتر ہے روانی میں

ہم کو بھی جانے کی جلدی تھی یہ دنیا چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے


لب پہ جاری تھی دعا اب بھول جائیں ہم تمہیں
مستجابی کیسے ہوتی حرفِ بے تاثیر سے
... مستجابی؟ پہلا مصرع بھی یوں کہا جائے

کر رہے تھے ہم دعائیں/دعا اب بھول جانے کی تمہیں
کس طرح مقبول ہوتیں/ہوتی.....
مراد دعا استعمال کرو تو 'ہوتی' ، جمع استعمال کرو تو 'ہوتیں'

کر رہے تھے ہم دعائیں بھول جانے کی تمہیں
کس طرح مقبول ہوتیں حرفِ بے تاثیر سے
 
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
آپ نے "نا" جو کہ "نہ" ہے اسے لکھا بھی غلط ہے اور ان کا وزن بھی غلط باندھ رکھا ہے
جی نہ کو استادِ محترم یک حرفی باندھتے کا کہتے ہیں تو اس لیے یہ نا لکھا ۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا لکھوں ۔ گڑ بڑ کا اندازہ تھا۔:D
 

الف عین

لائبریرین
اب درست ہو گئی ہے غزل ماشاء اللہ
'نا' محض حرف تاکید کے طور پر قبول ہے، سمجھ رہی ہو نا! یہاں 'نا' کا درست استعمال ہے جو شعر میں بھی کیا جا سکتا ہے، اسی کو کچھ لوگ 'ناں' بھی لکھتے ہیں، لیکن اضافی ں کی ضرورت نہیں۔ نفی کے معنوں میں صرف' نہ' درست ہے اور اسے محض 'نَ' باندھا جائے
 

صابرہ امین

لائبریرین
اب درست ہو گئی ہے غزل ماشاء اللہ
'نا' محض حرف تاکید کے طور پر قبول ہے، سمجھ رہی ہو نا! یہاں 'نا' کا درست استعمال ہے جو شعر میں بھی کیا جا سکتا ہے، اسی کو کچھ لوگ 'ناں' بھی لکھتے ہیں، لیکن اضافی ں کی ضرورت نہیں۔ نفی کے معنوں میں صرف' نہ' درست ہے اور اسے محض 'نَ' باندھا جائے
بے حد شکریہ ۔ یہ سب آپ کی توجہ اورمسلسل رہنمائی کی بدولت ممکن ہو سکا ۔ اللہ جزائے خیر دے ۔ آمین
 

صابرہ امین

لائبریرین
بصد احترام آپ سے ایک نظرِ ثانی کی درخواست ہے ۔

کب اسے جیتا ہے کوئی ناوک و شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

یا

زورِ بازو سے نہ یہ تدبیر یا شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
بس کیا کرتے ہیں باتیں ہم تری تصویر سے

ہم کو ہم سے چھین کر تم نے سزا دی اس طرح
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
مضمحل ہیں زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے

اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی اس قدر تشہیر سے

خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
کیوں نہ ہوں اب ہم شکستہ اس الٹ تعبیر سے

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
تم ڈراتے ہو ہمیں کیوں طوق سے، زنجیر سے

ہم کو بھی جانے کی جلدی تھی یہ دنیا چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے

کر رہے تھے ہم دعائیں بھول جانے کی تمہیں
کس طرح مقبول ہوتیں حرفِ بے تاثیر سے

داستاں سننے کو گرچہ اک زمانہ ساتھ ہے
ہم کہا کرتے ہیں دل کا حال اک تصویر سے
 
آخری تدوین:

امین شارق

محفلین
بصد احترام آپ سے ایک نظرِ ثانی کی درخواست ہے ۔

زورِ بازو سے نہ یہ تدبیر یا شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
بس کیا کرتے ہیں باتیں ہم تری تصویر سے

ہم کو ہم سے چھین کر تم نے سزا دی اس طرح
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
مضمحل ہیں زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے

ااب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی اس قدر تشہیر سے

خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
کیوں نہ ہوں اب ہم شکستہ اس الٹ تعبیر سے

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
تم ڈراتے ہو ہمیں کیوں طوق سے، زنجیر سے

ہم کو بھی جانے کی جلدی تھی یہ دنیا چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے

کر رہے تھے ہم دعائیں بھول جانے کی تمہیں
کس طرح مقبول ہوتیں حرفِ بے تاثیر سے

داستاں سننے کو گرچہ اک زمانہ ساتھ ہے
ہم کہا کرتے ہیں دل کا حال اک تصویر سے
یہ غزل اچھی کہی ہے آپ نے دل خوش ہوا
اچھے سب اشعار کہے ہیں سوچ کی جاگیر سے
 
کب اسے جیتا ہے کوئی ناوک و شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے
یا
زورِ بازو سے نہ یہ تدبیر یا شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

آپ میں شاعرانہ جوہر ہے لیکن اسے صیقل کرنے کے لئے پوری توجہ اور محنت کی ضرورت ہے آپ کو۔ فی الوقت ایک ہی شعر پر بات کرسکتا ہوں ۔ آئیے مطلع کا تجزیہ کیجئے۔
عشق کی بازی میں شمشیر اور تیر کمان کب استعمال ہوتے ہیں؟؟؟! یہ لوازمات قدیم شعرا کے ہاں ملتے ہیں ۔ آپ کی زندگی اور زمانے میں ان کا کیا مقام ۔ سچا شعر کہنے کی کوشش کیجئے ۔ یعنی شعر میں حقیقی صورتحال جھلکنا چاہئے ۔ تیر تلوار کے بجائے یہاں تدبیر اور حکمت عملی اور کوشش و سعی وغیرہ زیادہ قرینِ حقیقت ہونگے بالخصوص جب آپ دوسرے مصرع میں تقدیر سے تقابل بھی کررہی ہوں ۔ دوسری بات یہ کہ جیتی جائے ہے کچھ اچھا بیانیہ نہیں ۔ زبان بھی موجودہ دور کی استعمال کیجئے ۔ ایک دو متبادل میں بطور مثال تجویز کرتا ہوں ۔ ان کی روشنی میں اس شعر کو بہتر بنائیے ۔
کب کوئی جیتا ہے زورِ بازو و تدبیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جاتی ہے تقدیر سے
وغیرہ وغیرہ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
کب اسے جیتا ہے کوئی ناوک و شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے
یا
زورِ بازو سے نہ یہ تدبیر یا شمشیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جائے ہے تقدیر سے

آپ میں شاعرانہ جوہر ہے لیکن اسے صیقل کرنے کے لئے پوری توجہ اور محنت کی ضرورت ہے آپ کو۔ فی الوقت ایک ہی شعر پر بات کرسکتا ہوں ۔ آئیے مطلع کا تجزیہ کیجئے۔
عشق کی بازی میں شمشیر اور تیر کمان کب استعمال ہوتے ہیں؟؟؟! یہ لوازمات قدیم شعرا کے ہاں ملتے ہیں ۔ آپ کی زندگی اور زمانے میں ان کا کیا مقام ۔ سچا شعر کہنے کی کوشش کیجئے ۔ یعنی شعر میں حقیقی صورتحال جھلکنا چاہئے ۔ تیر تلوار کے بجائے یہاں تدبیر اور حکمت عملی اور کوشش و سعی وغیرہ زیادہ قرینِ حقیقت ہونگے بالخصوص جب آپ دوسرے مصرع میں تقدیر سے تقابل بھی کررہی ہوں ۔ دوسری بات یہ کہ جیتی جائے ہے کچھ اچھا بیانیہ نہیں ۔ زبان بھی موجودہ دور کی استعمال کیجئے ۔ ایک دو متبادل میں بطور مثال تجویز کرتا ہوں ۔ ان کی روشنی میں اس شعر کو بہتر بنائیے ۔
کب کوئی جیتا ہے زورِ بازو و تدبیر سے
عشق کی بازی تو جیتی جاتی ہے تقدیر سے
وغیرہ وغیرہ۔
ظہیراحمدظہیر بھائی،
میں شکر گذار ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت عنایت کیا ۔ آپ کی رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعر پر کام کرتی ہوں اور آئندہ بھی خیال رکھوں گی ۔

ملاحظہ کیجیے

عشق کی بازی نہ جیتو گے کبھی تدبیر سے
اس کو جیتا جاتا ہے بس اک بھلی تقدیر سے

یا


عشق کی بازی کو جیتا کون ہے تدبیر سے
اس کو جیتا ہے کسی نے تو بھلی تقدیر سے
 
آخری تدوین:
ظہیراحمدظہیر بھائی،
میں شکر گذار ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت عنایت کیا ۔ آپ کی رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعر پر کام کرتی ہوں اور آئندہ بھی خیال رکھوں گی ۔

ملاحظہ کیجیے

عشق کی بازی نہ جیتو گے کبھی تدبیر سے
اس کو جیتا جاتا ہے بس اک بھلی تقدیر سے

یا


عشق کی بازی کو جیتا کون ہے تدبیر سے
اس کو جیتا ہے کسی نے تو بھلی تقدیر سے

پہلا شعر ٹھیک نہیں ۔ یہ کس کو نصیحت کررہی ہیں آپ؟! نصیحت کرنے کا یہاں کیا مقام ہے؟ ! شعر کہتے وقت یہ سب باتیں سوچنے کی ہیں ۔ جب جیتنے کی بات آگئی تو تقدیر کے ساتھ بھلی لگانے کی کیا ضرورت ہے ۔ بھلی ہوگی تو جیت ہوگی نا۔
جب گاڑی اٹک جائے تو پیرایہ بدل کر دیکھنا چاہئے ۔ جیسے
کب کوئی جیتا اسےحکمت و تدبیر سے
جیت ہوتی ہے محبت میں فقط تقدیر سے
جیت ملتی ہے محبت میں ۔۔۔۔۔ وغیرہ
 

صابرہ امین

لائبریرین
پہلا شعر ٹھیک نہیں ۔ یہ کس کو نصیحت کررہی ہیں آپ؟! نصیحت کرنے کا یہاں کیا مقام ہے؟ ! شعر کہتے وقت یہ سب باتیں سوچنے کی ہیں ۔ جب جیتنے کی بات آگئی تو تقدیر کے ساتھ بھلی لگانے کی کیا ضرورت ہے ۔ بھلی ہوگی تو جیت ہوگی نا۔
جب گاڑی اٹک جائے تو پیرایہ بدل کر دیکھنا چاہئے ۔ جیسے
کب کوئی جیتا اسےحکمت و تدبیر سے
جیت ہوتی ہے محبت میں فقط تقدیر سے
جیت ملتی ہے محبت میں ۔۔۔۔۔ وغیرہ

اگر آپ سے لفظ فقط یا مصرعہ مستعار لے لیا جائے تو شائد بہتر صورت ہو ۔
ملاحظہ کیجیے ۔

کون کب جیتا تمناؤں سے یا تدبیر سے
جیت ہوتی ہے محبت میں فقط تقدیر سے


عشق کی بازی کو جیتا کون ہے تدبیر سے
اس کو جیتا ہے کسی نے تو فقط تقدیر سے
 

صابرہ امین

لائبریرین
ماشااللہ انگریزی بھی اردو بھی
مبارک ہو جی
خیر مبارک بھائی جی،
بس لاک ڈاؤن کا کمال تھا یہ سب ۔ ہمارے واسطے تو ایک لحاظ سے اچھا ثابت ہوا۔ ہمیں مشغول رہنے کے کافی بہانے مل گئے اور عجیب عجیب خبروں سے چھٹکارا نصیب ہوا ۔
 

یاسر شاہ

محفلین
تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
بس کیا کرتے ہیں باتیں ہم تری تصویر سے

ہم کو ہم سے چھین کر تم نے سزا دی اس طرح
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
مضمحل ہیں زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے

اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی اس قدر تشہیر سے

ہم کو بھی جانے کی جلدی تھی یہ دنیا چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے

داستاں سننے کو گرچہ اک زمانہ ساتھ ہے
ہم کہا کرتے ہیں دل کا حال اک تصویر سے

خوب ۔دن بدن اردو شاعری میں بھی آپ بہتری کی طرف گامزن ہیں ۔
اس شعر کی پرانی شکل ہی بہتر ہے
لب پہ جاری تھی دعا اب بھول جائیں ہم تمہیں
مستجابی کیسے ہوتی حرفِ بے تاثیر سے

مستجابی ایک اچھا لفظ ہے گو کم مستعمل ہے۔پروین شاکر کا ایک شعر ہے:

وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں
کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا
 

الف عین

لائبریرین
بھئی کوئی مصرع اگر تجویز کیا جائے تو اسے من و عن قبول کرنے میں کیا قباحت ہے؟ عزیزی ظہیراحمدظہیر نے اچھے مصرعے تجویز کیے ہین، قبول کر لو۔
میں اصلاح کے معاملے میں بہت lenient ہوں، اگر بہت بڑا سقم نہ ہو تو قبول کر لیتا ہوں، لیکن یہ ہمیشہ لکھتا آیا ہوں کہ بہتری کی گنجائش تو غالب کے کلام میں بھی ممکن ہے!
جس طرح ایک غلطی کی نشان دہی کے بعد تم بلکہ سبھی محفلی شعراء کئی کئی متبادلات سامنے لے آتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ پوسٹ کرنے سے پہلے یہ ایکسرسائز نہیں کی جاتی۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
بھئی کوئی مصرع اگر تجویز کیا جائے تو اسے من و عن قبول کرنے میں کیا قباحت ہے؟ عزیزی ظہیراحمدظہیر نے اچھے مصرعے تجویز کیے ہین، قبول کر لو۔
میں اصلاح کے معاملے میں بہت lenient ہوں، اگر بہت بڑا سقم نہ ہو تو قبول کر لیتا ہوں، لیکن یہ ہمیشہ لکھتا آیا ہوں کہ بہتری کی گنجائش تو غالب کے کلام میں بھی ممکن ہے!
جس طرح ایک غلطی کی نشان دہی کے بعد تم بلکہ سبھی محفلی شعراء کئی کئی متبادلات سامنے لے آتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ پوسٹ کرنے سے پہلے یہ ایکسرسائز نہیں کی جاتی۔
جی ایسا ہی کرتی ہوں استادِ محترم ۔ شکریہ
 

صابرہ امین

لائبریرین
اب غزل کی کچھ یہ خوبصورت شکل نکل کر سامنے آئی ہے ۔ تمام معزز اساتذہ اور محفلین کرام کا شکریہ



کب کوئی جیتا اسے ہے حکمت و تدبیر سے
جیت ہوتی ہے محبت میں فقط تقدیر سے

تجھ سے ملنا، تجھ کو پانا اب کہاں اپنا نصیب
بس کیا کرتے ہیں باتیں ہم تری تصویر سے

ہم کو ہم سے چھین کر تم نے سزا دی اس طرح
ہو گئے ہم خالی داماں ہائے اس تعزیر سے

رازِ الفت کھول کر ہم کس قدر پچھتائے ہیں
مضمحل ہیں زخمِ دل کی اس قدر تحقیر سے

اب تو خود سے بھی چھپائیں گے ہم اپنا حالِ دل
باز آئے ہم جنوں کی اس قدر تشہیر سے

خواب ہم نے تو بنے تھے چاہتوں کے، پیار کے
کیوں نہ ہوں اب ہم شکستہ اس الٹ تعبیر سے

پیار کی خوشبو کبھی کیا روک پایا ہے جہاں
تم ڈراتے ہو ہمیں کیوں طوق سے، زنجیر سے

ہم کو بھی جانے کی جلدی تھی یہ دنیا چھوڑ کر
اور وہ بھی ہم تلک پہنچے ذرا تاخیر سے

کر رہے تھے ہم دعائیں بھول جانے کی تمہیں
مستجابی کیسے ہوتی حرفِ بے تاثیر سے

داستاں سننے کو گرچہ اک زمانہ ساتھ ہے
ہم کہا کرتے ہیں دل کا حال اک تصویر سے
 
آخری تدوین:
Top