عربی اشعار

حسن نظامی

لائبریرین
السلام علیکم

عربی انتہائی فصیح اور خوبصورت زبان ہے اس سے کسی کو مجال انکار نہیں"

عربی کے اشعار میں تشبیہات استعارات اور بلیغ اشارات ایسے ایسے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

میں چند عربی اشعار آپ لوگوں کی خدمت میں بمع ترجمہ پیش کروں گا تاکہ آپ لوگ لطف اندوز ہو سکیں۔۔



لا تنکری عطل الکریم من الغنی
فالسیل حرب لل۔۔۔۔مکان العالی


دان الی ایدی العفاۃ و شاسع عن کل ند فی الندی و ضریب
کالبدرافرط فی العلووضوءہ للعصبۃالسارین ج۔۔د قریب
 

حسن نظامی

لائبریرین
اچھا اب ان اشعار کی کچھ تشریع ہو جائے


تاکہ آپ بھی ان کے معانی سے لطف اندوز ہو سکیں

شاعر کہتا ہے

تو دولت مند آدمی کے دولت سے خالی ہونے کا انکار نہ کر
کیونکہ سیلاب بلند مقامات پرپہنچنے سے قاصر ہے


یعنی یہاں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ دولت مند آدمی کے پاس دولت نہ ہو یہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ
بلندو بالا مقامات پر پانی نہیں ٹھرتا



اور دوسرا شعر

وہ قریب ہے غرباء کے اور سخاوت میں ہر مدمقابل اور ہم مثل سے انتہائی بعید

جیسے چاند کہ وہ رفعت و عظمت میں بلند ہے مگر رات کو چلنے والوں کے لئے اس کی روشنی بہت قریب ہے


یہاں کریم کو چاند کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ اگرچہ وہ غرباء کے قریب ہے اور ان کے ساتھ ملنے جلنے والا اور ان کی غم خواری کرنے والا ہے مگر اس سے اس کے مرتبہ میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ چاند باوجود اس کے کہ وہ اعلی و بلند ہے رات کو چلنے والوں کو قریب محسوس ہوتا ہے
والسلام
 
ضعہ علی خدیک ثم علی الحشا
وعلیہ و الی الثمک المتول
" (اے عاشق) اسے اپنے رخسار پر رکھ اور اسے اپنے چہرے اور (آنکھوں پر) لگاکر (اظہارِ محبت و عقیدت کر)
واعکف علیہ عسی تفوز بیُمنہ
فالسر قد یسری الی الاشکال
"نقشِ نعلِ پاک کے ساتھ تعلق کو پختہ کر، یقینا اس کی برکت سے تجھے کامیابی حاصل ہوگی اور خوش ہو جا کہ اس کے ذریعے تیری مشکلیں آسان ہو جائیں گی"
واجعل جبینک فوقہ متبرکا
تحوی الفخار وغایۃ الامال
" اپنی جبینِ نیاز کو حصولِ برکت کے لیے نقشِ نعلینِ پاک پر جھکا دو، یہی تیرے لیے باعثِ افتخار ہے اور تمام امیدوں کا برآنا اسی میں پنہاں ہے"


یہ اشعار مصر کے فاضل علامہ شرف الدین طنوبی ٌ کے ہیں
 

jaamsadams

محفلین
مصر کے ایک فاضل ادیب علامہ شرف الدین طنوبی رحمۃ اللہ علیہ نے نقش نعلین پاک کے فوائد و برکات کا تذکرہ بڑے ہی محبت بھرے اندازکے ساتھ اپنے اشعار میں کیا ہے۔ انکا مکمل کلام ذیل میں ہے

يا عاشقاً نعل الحبيب وما رأی
تمثالها هنيت بالتمثال


’’اے عاشقِ حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے نعل حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کا نقشِ پاک مبارک ہو۔‘‘

ضعه علی خديک ثم علی الحشا
و عليه و إلی الثمک المتول


’’(اے عاشق) اسے اپنے رخسار پر رکھ پھر اسے اپنے پہلو پر رکھ اور اسے اپنے چہرے اور (آنکھوں پر) لگا کر (اظہارِ محبت و عقیدت کر)‘‘

واعکف عليه عسی تفوز بيُمنه
فالسر قد يسری إلی الأشکال


’’نقشِ نعل پاک کے ساتھ تعلق کو پختہ کر یقینا اس کی برکت سے تجھے کامیابی حاصل ہو گی اور خوش ہو جا کہ اس کے ذریعہ تیری مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔‘‘

واجعل جبينک فوقه متبرکا
تحوی الفخار و غاية الأمال


’’اپنی جبیں نیاز کو حصول برکت کے لئے نقش نعلین پاک پر جھکا دو، یہی تیرے لئے باعث افتخار ہے اور تمام امیدوں کا بر آنا اس میں پنہاں ہے۔‘‘

واذکر حبيبک إذ بدت آثاره
وکأنه بذل العلی بوصال


’’اپنے محبوب (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو یاد کر جب تو اُن کے آثار کو پائے گویا ان آثار کو پانا ہی بلند مرتبہ اور وصالِ (حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔‘‘

إن غاب عنک ولو تعاين شکلها
فاعطف علی تمثالها المتعال


’’اگر تیرے پاس نعلینِ پاک نہ ہو تو اس کے نقش کا تصور کر سکے تو (یہ تمہارے لئے بہتر ہے، لہٰذا) تو اس کے عظیم نقش سے محبت کا اظہار کر۔‘‘

أکرم بتمثال تزايد يُمنه
روت الثقات له جميل فعال


’’نعلین پاک کے نقش کے ساتھ اظہارِ محبت کر اس سے برکات میں اضافہ ہو گا اور مستند علماء نے بیان کیا ہے کہ اس کے کئی فوائد ہیں۔‘‘

إن أمسکته حامل بيمينها
رأت الخلاص به و حسن خصال


’’اگر نعلین پاک کا نقش کوئی حاملہ عورت اپنے دائیں پہلو پر رکھے تو اس سے اس کی تکلیف دور ہوجائے گی اور نیک خصلت والا بچہ پیدا ہو گا۔‘‘

أو من به داء لأصبح ناقها
من ضر أوجاع ومن أوجال


’’اسی طرح اگر کوئی خاتون کسی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کے صدقے سے اس کا درد اور بے چینی دور ہو جائے گی۔‘‘

أو کان فی جيش لأصبح ظاهرا
أو منزل لنجا من الإشعال


’’اور اس طرح اگر وہ نقش کسی لشکر کے پاس ہو تو وہ (دشمن پر) غالب آ جائے گا اور اگر یہی نقش کسی گھر میں ہو تو وہ گھر آگ لگنے سے محفوظ رہے گا۔‘‘

وبه الأمان من العدو بنظرة
والسحر والشيطان ذی الإضلال


’’اور یہی نقش دشمن، نظرِبد، جادو اور گمراہ کرنے والے شیطان سے محفوظ رہنے کا ذریعہ بنتا ہے۔‘‘

والأمن من غرق ومن باغ ومن
کيد الحسود و سارق ختال


’’اور اسی کی برکت سے انسان ڈوبنے سے، ظالم کے ظلم سے، حاسد کے حسد اور چور کے فریب سے محفوظ رہتا ہے۔‘‘

فيه تمسک بالحبيب المصطفیٰ صلی الله عليه وآله وسلم
فعسی به تنجو من الأهوال


’’ اس نقش کے ذریعے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق حبی مضبوط ہوتا ہے اور یقیناً اسی کے ذریعے خطرات سے نجات ملتی ہے۔‘‘

لا يستوی قلب المعذب فی الهوی
لواعج الأدواء و قلب الخال


’’محبت میں گرفتار دل جس کا علاج عشق کی دوا سے کیا جاتا ہے اور محبت سے خالی دل کبھی برابر نہیں ہوتے۔‘‘
 

محمد وارث

لائبریرین
قرنِ اوّل کے مشہور شاعر فرزدق کا ایک دفعہ اپنی بیوی سے جھگڑا ہو گیا، میاں بیوی دونوں نے اپنا مقدمہ اس وقت کے مکہ کے حاکم عبداللہ ابنِ زبیر کے سامنے پیش کیا، فرزدق نے عبداللہ ابنِ زبیر کے بیٹے حمزہ کو اپنا سفارشی بنایا جبکہ اسکی بیوی نے عبداللہ ابنِ زبیر کی بیوی خولہ سے سفارش کروائی، عبداللہ نے اپنی بیوی کی دلجوئی کی وجہ سے فیصلہ فرزدق کی بیوی کے حق میں کر دیا، فرزدق نے فوراً ایک شعر کہا

لیس الشفیع الذی یاتیک متزرا
مثل الشفیع الذی یاتیک عریانا

(وہ سفارشی جو تیرے پاس ازار بند پہن کر آئے اس سفارشی کے برابر نہیں ہو سکتا جو تیرے پاس عریاں آتا ہو)۔

کہتے ہیں کہ اس دن سے یہ شعر عرب میں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے۔

(تاریخِ ابنِ خلکان بحوالہ حاشیۂ منتخب التواریخ)
 
[ARABIC]اصبِر على حًسًدِ الحسُو
دِ فإن صبرَك قاتله

كالنار تأكل بعضها
إن لم تَجِد ما تأكلُه[/ARABIC]

ترجمہ : حاسد كے حسد پر صبر كرو، تمہارا صبر اس كو مار ڈالے گا ۔ بالكل اسى طرح جيسے آگ كو كھانے كو کچھ نہ ملے تو وہ خود ہی كو كھا جاتى ہے ۔
 
مصر کے مشہور شاعر ابن فارض کا جب وقت آخر قریب آیا تو ان کو سات بہشت دکھائی گئیں اور پھر ان کو ان کا مقام دکھایا گیا تو ابن فارض نے اشعار کی شکل میں یہ جواب دیا کہ اگر مجھے یہ صلہ دیا گیا ہے تو پھر میں نے عمر ضائع کی تو پھر ان پر خاص تجلی ہوئی اور اسی کیفیت میں ان کا واصل بحق ہوئے۔۔۔
کیا کوئی دوست ان اشعار کو بیان کرسکتا ہے ہم بہت کمسن تھے جب ہم نے یہ واقعہ اور وہ اشعار سنے تھے ہمیں بہت آرزو ہے کہ وہ اشعار دوبارہ سے سنیں۔
 
امر علی الدیار دیار لیلی، اقبل ذالجدار و ذالجدار
وما حب الدیار شغفن قلبی، ولکن حب من سکن الدیار

ترجمہ: میں لیلی کے کوشے سے گزرتا ہوں تو کبھی ایک دیوار کو چومتا ہوں تو کبھی دوسری کو۔
یہ کوئی دیواروں کی محبت نے مجھے فریفتہ نہیں کیا، بلکہ جو ان میں رہتے ہیں ان کی محبت کا کرشمہ ہے۔
 
امّلتھم، ثمّ تامّلتھم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فلاح لی، ان لیس فیھم فلاح
میں نے ان سے امید وابستہ کی، لیکن بعد میں جب تامّل کیا اور نظرِ ثانی کی تو مجھ پر یہ روشن ہوا کہ ان میں کوئی خیر اور فلاح کی بات نہیں ہے۔:)
 
Top