جون ایلیا طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں

ماہی احمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 9, 2013

  1. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
    سودا بھی ایک وہم ہے اور سَر بھی کچھ نہیں
    میں اور خود کو تجھ سے چھپاؤں گا، یعنی میں
    لے دیکھ لے میاں! مِرے اندر بھی کچھ نہیں
    بس اِک غبارِ وہم ہے یک کوچہ گرد کا
    دیوارِ بُود کچھ نہیں اور دَر بھی کچھ نہیں
    یہ شہر دار و محتسب و مولوی ہی کیا
    پیرِ مغان و رِند و قلندر بھی کچھ نہیں
    شیخ! حرام لقمہ کی پرواہ ہے کیوں تمہیں
    مسجد بھی اس کی کچھ نہیں، منبر بھی کچھ نہیں
    مقدور اپنا کچھ بھی نہیں اِس دیار میں
    شاید وہ جبر ہے کہ مقدّر بھی کچھ نہیں
    جانی! میں تیرے ناف پیالے پہ ہوں
    فدا یہ اور بات ہے تِرا پیکر بھی کچھ نہیں
    یہ شب کا رقص و رنگ تو کیا سن مِری کہن
    صبحِ شتابِ کوش کا دفتر بھی کچھ نہیں
    بس اِک غبارِ طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
    یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
    ہے اب تو ایک حالِ سکونِ ہمیشگی
    پرواز کا تو ذکر ہی کیا، پَر بھی کچھ نہیں
    کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہرِ نبُود و بُود
    ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
    پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
    یعنی، وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
    نسبت میں ان کی جو ہے اذیّت وہ ہے مگر
    شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سَر بھی کچھ نہیں
    یارو! تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
    مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں
    گزرے گی جونؔ! شہر میں رِشتوں کے کس طرح
    دل میں بھی کچھ نہیں ہے، زباں پر بھی کچھ نہیں

    جونؔ ایلیا
     
    • زبردست زبردست × 9
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    ٹیگ:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    بہت خُوب، ماہی احمد صاحبہ !
    تشکّر شیئر کرنے پر
    بہت خوش رہیں :)
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 9, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,384
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    طفلانِ کوچہ گرد کے پتھر بھی کچھ نہیں
    سودا بھی ایک وہم ہے اور سَر بھی کچھ نہیں
    اہا اہا کیا خوب انتخاب ہے
    شراکت کا شکریہ
    شاد و آباد رہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    جزاک اللہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    جزاک اللہ جناب :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,889
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ۔ جون کے تو ہم یوں بھی شیدائی ہیں پر یہ غزل کمال کی ہے!

    خلاف روایت، جون کی اس غزل کا یہ شعر خصوصا بہت گہرا ہے!
    پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
    یعنی، وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
    واہ واہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,812
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    یہ غزل میں لکھ کر پہلے بھی محفل میں شئیر کر چکا ہوں۔۔۔ تجدید پر بھی لطف آیا۔۔۔ شکریہ ماہی۔۔۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. ماہی احمد

    ماہی احمد لائبریرین

    مراسلے:
    12,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    میں نے دیکھانا چاہا تھا پہلے مگر جب"تلاش" کیا تو ایسا کچھ نہ پا کر لکھ دی :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    بہت عمدہ انتخاب ماہی احمد
    خوش رہیئے
     
  11. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,812
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    اصل میں یہ غزل مجھے بہت پسند ہے۔۔۔ اور اسکا مصرعہ "لے دیکھ لے میاں مرے اندر بھی کچھ نہیں" میں نے اردو محفل میں اپنی تعارف کی لڑی کے لیے بطور عنوان بھی منتخب کیا تھا۔۔۔ :)
    خیر یہ کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں۔۔۔ اچھا کلام تو ہر بار ہی مزا دیتا ہے۔ بس منتظمین کے لیے کام بڑھ جاتا ہے۔ وہ ان لڑیوں کو عموماً ضم کر دیتے ہوتے ہیں۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,844
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    واہ واہ واہ بہت ہی خوبصورت کلام
    سب سے پہلے تو شکریہ ٹیگ کرنے کا
    اور پھر شکریہ اتنا خوبصورت کلام شیئر کرنے کا


    پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
    یعنی، وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
    نسبت میں ان کی جو ہے اذیّت وہ ہے مگر
    شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سَر بھی کچھ نہیں
    یارو! تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
    مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں
    گزرے گی جونؔ! شہر میں رِشتوں کے کس طرح
    دل میں بھی کچھ نہیں ہے، زباں پر بھی کچھ نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت شکریہ عمدہ انتخاب شیئر کرنے کے لیئے۔۔خوش رہیئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. امراؤ جان ادا

    امراؤ جان ادا محفلین

    مراسلے:
    652
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    واہ کیا کہنے ہیں، بہت عمدہ انتخاب آپی :) :) :)
     
  15. mohsin ali razvi

    mohsin ali razvi محفلین

    مراسلے:
    328
    جھنڈا:
    Iran
    موڈ:
    Chatty
    مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں
    گزرے گی جونؔ! شہر میں رِشتوں کے کس طرح
    دل میں بھی کچھ نہیں ہے، زباں پر بھی کچھ نہیں

    جونؔ ایلیا
    -----
    عامل شیرازی
    ای جان ایلیا ای شاعر کلام
    طفلان کوچه و بازار دیده ای
    آن مستکان بی درو دربار دیده ای
    بی کفش و بی لباس افسوس دیده ای
    چون او کند تلاش معاش دیده ای
    از وزن خود بسی گران برداشته سامان غم
    پشتش خمیده دیده گریان را دیده ای
    از فکر نان شب عمرش شدی کلان
    اینگونه پیری و کودکی یکسان دیده ای
    عامل کند زه خدا این شکوه را تمام
    خلقت اسیر غم رحمان تو دیده ای
    نصف خلق بودت در نازو نعم و خرام
    دیگر که شدند مسکین بی نان و کاشانهِ خام
    رحمان و رحیم مولا ای رب جمیع خلق
    مسکین چو دیده ای ؟ عامر چه دیده ای
     

اس صفحے کی تشہیر