اقبال ضربِ کلیم سے اقتباس

سیفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 8, 2005

  1. سیفی

    سیفی محفلین

    مراسلے:
    634
    قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی
    ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے؟ خدائی

    جو فقر ہوا تلخئ دوراں کا گلہ مند
    اُس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی

    اس دَور میں بھی مردِ خدا کو ہے میّسر
    جو معجزہ پربت کو بناسکتا ہے رائی

    درمعرکہ بے سوزِ تو ذوقے نتواں یافت
    اے بندہء مومن تو کجائی توکجائی

    خورشید ذرا پردہء مشرق سے نکل کر
    پہنا مرے کہسار کو ملبوسِ حنائی
     
  2. منہاجین

    منہاجین محفلین

    مراسلے:
    672
    خودی میں ڈوب کے ضربَ کلیم پیدا کر

    ماشاء اللہ بڑا اچھا اِنتخاب ہے آپ کا۔



    نہیں مقام کی خوگر طبیعتِ آزاد
    ہوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کر

    ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پھوٹے
    خودی میں ڈوب کے
    ضربِ کلیم پیدا کر
     
  3. سیفی

    سیفی محفلین

    مراسلے:
    634
    خودی میں ڈوب کے ضربَ کلیم پیدا

    شکریہ منہاجین !!!
    آپ جیسے ماہرِ فن کی تعریف میرے لئے اعزاز کی بات ہے ۔۔
     

اس صفحے کی تشہیر