فیض صبح آزادی۔۔۔فیض احمد فیض

ساجداقبال نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 14, 2007

  1. ساجداقبال

    ساجداقبال محفلین

    مراسلے:
    2,018
    یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
    چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
    فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
    کہیں تو ہو گا شب ست موج کا ساحل
    کہیں تو رکے گا سفینہء غم کا دل
    جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
    چلے یار تو دامن پر کتنے ہاتھ پڑے
    دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
    پکارتی رہیں بانہیں، دن لاتے رہے
    بہت عزیز تھی لیکن سحر کی لگن
    بہت قریں تھا لیکن حسینان نور کا دامن
    سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھکن



    سنا ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور
    سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
    دل چکا ہے بہت اہل درد کا سوتر
    نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام
    جگر کہ آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
    کسی پہ چارہ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
    کہاں سے آئی نگار صبا، کدھر کو گئ



    ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
    ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں‌ آئی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
    ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
    نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں‌ آئی


    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    شکریہ ساجد اقبال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    بہت عمدہ انتخاب ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    آزادی کے موقع پر بہت اچھی پوسٹ کی ساجد اقبال ۔۔ زبردست ۔۔:)
     
  5. حجاب

    حجاب محفلین

    مراسلے:
    3,433
    صبحِ آزادی ۔۔۔

    صبح آزادی
    اگست 47ء
    یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر

    وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

    یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

    چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

    فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

    کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل

    کہیں تو جاکے رکے گا سفینۂ غمِ دل

    جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے

    چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے

    دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے

    پکارتی رہیں باہیں، بدن بلاتے رہے

    بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن

    بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن

    سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن

    سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور

    سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام

    بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور

    نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام

    جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن

    کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں

    کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی

    ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

    ابھی گرانئ شب میں کمی نہیں آئی

    نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ( فیض )

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
  6. ملائکہ

    ملائکہ محفلین

    مراسلے:
    10,592
    موڈ:
    Daring
    فیض کی کیا ہی بات ہے،بہت شکریہ:):)
     
  7. جیا راؤ

    جیا راؤ محفلین

    مراسلے:
    1,888
    بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن

    بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن

    سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن


    بہت اچھا حجاب !
     
  8. چاند بابو

    چاند بابو محفلین

    مراسلے:
    1,378
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت شکریہ حجاب صاحبہ
     
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ واہ، کیا خوبصورت نظم ہے!
     
  10. سارہ خان

    سارہ خان محفلین

    مراسلے:
    15,819
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    زبرست حجاب بہت اچھی نظم ہے ۔۔۔
     
  11. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    صبح آزادی ۔ فیض احمد فیض



    صبح آزادی ۔ فیض احمد فیض

    یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
    چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
    فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
    کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل
    کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غمِ دل
    جوان لہو کی پراسرار شاہراہوں سے
    چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
    دیارِ حسن کی بےصبر خواب گاہوں سے
    پکارتی رہیں بانہیں بدن بلاتے رہے
    بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
    بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
    سبک سبک تھی تمنا ، دبی دبی تھی تھکن
    سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
    سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
    بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
    نشاط و وصل حلال و عذاب ہجر حرام
    جگر کی آگ، نظر کی امنگ ، دل کی جلن
    کسی پر چارہ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
    کہاں سے آئی نگارِ صباح کدھر کو گئی
    ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
    ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
    نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ​
     
  12. مفتی عزیزالرحمان

    مفتی عزیزالرحمان محفلین

    مراسلے:
    8
    بہت خوب
    اچھا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ مصرع
    چلے چلو کی منزل قریب ہے
    کس شعر کا مصرع ہے
    وہ نظم یا غزل کوئی پیش کرسکتا ہے
    نوازش ہوگی ۔
    فقط
    عزیز
    آپکا۔
     
  13. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کلامِ شاعر بہ زبانِ شاعر

    صبح آزادی
    اگست 47ء
    یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
    کہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
    یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
    چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
    فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
    کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل
    کہیں تو جاکے رکے گا سفینۂ غمِ دل
    جواں لہو کی پراسرار شاہراہوں سے
    چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
    دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
    پکارتی رہیں، باہیں، بدن بلاتے رہے
    بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
    بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
    سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن
    سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
    سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
    بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
    نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
    جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
    کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
    کہاں سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
    ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
    ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
    نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
    چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

    کلام و آواز: فیض احمد فیضؔ
     

اس صفحے کی تشہیر