شفیق خلش شفیق خلش ::::: ہجر میں اُن کی ہُوا ایسا میں بیمار کہ بس ::::: Shafiq Khalish

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 22, 2015

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزلِ
    [​IMG]
    ہجر میں اُن کی ہُوا ایسا میں بیمار کہ بس
    روزِ رحلت پہ کہَیں سب مِرے غمخوار کہ بس

    خُوگرِ غم ہُوا اِتنا، کہ بُلانے پر بھی !
    خود کہَیں مجھ سے اب اِس دہر کے آزار کہ بس

    حالِ دِل کِس کو سُناؤں، کہ شُروعات ہی میں
    کہہ اُٹھیں جو بھی بظاہر ہیں مِرے یار کہ بس

    کیا زمانہ تھا دھڑکتے تھے بیک رنگ یہ جب
    درمیاں دِل کے اُٹھی یُوں کوئی دیوار کہ بس

    بارہا، در سے اُٹھانے پہ دوبارہ تھا وہیں !
    میں رہا دِل سے خود اپنے ہی یُوں ناچار کہ بس

    اِک خوشی کی بھی نہیں بات سُنانے کو خلِش
    گُذرے ایسے ہیں مِری زیست کے ادوار کہ بس

    شفیق خلش
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,318
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت لاجواب انتخاب۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    بہت نوازش اظہارِ خیال اور پزیرائیِ انتخاب پر جناب !


    :):)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر