انشا اللہ خان انشا شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر - سید انشاءاللہ خان انشا

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 27, 2009

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر
    دوں لگ رہی ہو جیسے گرمی میں بن کے اندر

    جو چاہو تم- سو کہہ لو- چپ چاپ ہیں ہم ایسے
    گویا زباں نہیں ہے اپنے دہن کے اندر

    ق
    گل سے زیادہ نازک جو دلبرانِ رعنا
    ہیں بیکی میں شبنم کے پیراہن کے اندر

    ہے مجکو یہ تعجب سووینگے پانوں پھیلا کر
    یہ رنگ گورے گورے کیونکر کفن کے اندر!

    غم نے ترے بٹھایا - اے ماہِ مصرِ خوبی!
    یعقوب وار ہم کو بیت الحزن کے اندر

    یوں بولتا کہے ہے - سنتے ہو میر انشا!
    " ہیں طرفہ ہم مسافر اپنے وطن کے اندر"

    سید انشاءاللہ خان انشا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    لا جواب، بہت خوبصورت غزل ہے، شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,900
    بہت خوب جناب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. نوید صادق

    نوید صادق محفلین

    مراسلے:
    2,278
    خوب!!!!!!!!!!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت خوب بہت اچھی غزل ہے بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت خوب غزل ہے۔ شکریہ پیاسا صحرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر