شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے۔ (منتخب کلام)

شیزان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 21, 2014

  1. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    نیاز عاشقی کو ناز کے قابل سمجھتے ہیں
    ہم اپنے دل کو بھی اب آپ ہی کا دل سمجھتے ہیں

    عدم کی راہ میں رکھا ہی ہے پہلا قدم میں نے
    مگر احباب اس کو آخری منزل سمجھتے ہیں

    قریب آ آ کے منزل تک پلٹ جاتے ہیں منزل سے
    نہ جانے دل میں کیا آوارہء منزل سمجھتے ہیں

    الٰہی ایک دل ہے، تُو ہی اس کا فیصلہ کردے
    وہ اپنا دل سمجھتے ہیں، ہم اپنا دل سمجھتے ہیں

    جگر مراد آبادی
     
    • زبردست زبردست × 3
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    کوئی ملتا نہیں یہ بوجھ اُٹھانے کے لئے
    شام بے چین ہے سورج کو گرانے کے لئے

    میں نے تو جسم کی دیوار ہی ڈھائی ہے فقط
    قبر تک کھودتے ہیں لوگ خزانے کے لئے

    عباس تابش
     
    • زبردست زبردست × 2
  3. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    کھینچ لاتی ہے ہمیں تیری محبت ورنہ
    آخری بار کئی بار ملے ہیں تجھ سے

    عباس تابش
     
    • زبردست زبردست × 2
  4. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    یہ دورِ آسماں بدلا، کہ اب بھی وقت پر بادل !
    برستے ہیں، مگر اگلی سی برساتیں نہیں ہوتیں

    سبب کچھ اور ہے ، یا اتفاقاتِ زمانہ ہیں
    کہ اب تجھ سے بھی، پہلی سی مُلاقاتیں نہیں ہوتیں

    فراق گورکھپوری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  5. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    یوں تو اُداس غمکدہء عشق ہے، مگر
    اِس گھر میں اِک چراغ سا جلتا ہے آج تک

    ہم بیخودانِ عشق بہت شادماں سہی
    لیکن دلوں میں درد سا اٹھتا ہے آج تک

    فراق گورکھپوری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  6. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    غمِ جاں بخش کو آرام ِجاں کہنا ہی پڑتا ہے
    کِسی نا مہرباں کو مہرباں کہنا ہی پڑتا ہے

    بہار ِزندگی سے غم کا بھی گہرا تعلق ہے
    کہ کانٹوں کو بھی جزو گلستاں کہنا ہی پڑتا ہے

    تغافل ایک طبعی خاصیت ہے رسمِ الفت کی
    تغافل کو مزاجِ دوستاں کہنا ہی پڑتا ہے

    وہ لہراتے ہوئے چلتے ہیں جب صحنِ گلستاں میں
    قد رعنا کو سرو بوستاں کہنا ہی پڑتا ہے

    جوانی ایک کیفیت ہے قیدِ عمر بالا سے
    جو افسردہ نہ ہوں، اُن کو جواں کہنا ہی پڑتا ہے

    بسا اوقات دو چیزوں میں اتنا ربط ہوتا ہے
    کہ اِک کو دوسری کا ترجماں کہنا ہی پڑتا ہے

    عدم ہم حالِ دل کہنے کی رغبت تو نہیں رکھتے
    مگر جب رُک نہیں سکتے تو ہاں کہنا ہی پڑتا ہے

    عبدالحمید عدمؔ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    پھر اس کے بعد تنہائی کے دُکھ بھی جھیلنے ہوں گے
    یہی ڈر تھا رفاقت کے ہر اِک اِمکان سے پہلے

    منُاسب ہے کہ اپنے راستے تبدیل کر لیں ہم
    کسِی اُلجھن‘ کسِی تلخی‘ کسِی خلجان سے پہلے

    اعتبار ساجد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    ملے ہو تم تو بچھڑ کر اُداس مت کرنا
    کسِی جدائی کی ساعت کا پاس مت کرنا

    مَحبتیں تو خُود اپنی اساس ہوتی ہیں
    کسِی کی بات کو اپنی اساس مت کرنا

    کہ برگ برگ بکھرتا ہے پھول ہوتے ہی
    برہنگی کو تم اپنا لباس مت کرنا

    بلند ہو کے ہی ملنا جہاں تلک ملنا
    اس آسماں کو زمیں پر قیاس مت کرنا

    جو پیڑ ہو تو زمیں سے بھی کھینچنا پانی
    کہ ابر آئے گا کوئی یہ آس مت کرنا

    یہ کون لوگ ہیں کیسے یہ سربراہ ہوئے
    خدا کو چھوڑ کے ان کی سپاس مت کرنا

    عبید اللہ علیم
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 4, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    ہجر میں خُون رلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
    لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    جب بھی ملتا ہے کوئی شخص بہاروں جیسا
    مجھ کو تم کیسے بُھلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    یاد آتی ہیں اکیلے میں تمھاری نیندیں
    کِس طرح خُود کو سُلاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    مجُھ سے بچھڑے ہو تو محبوبِ نظر ہو کِس کے
    آج کل کِس کو مناتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے
    اپنے دُکھ کِس کو سُناتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    موسمِ گل میں نشہ ہجر کا بڑھ جاتا ہے
    میرے سب ہوش چراتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    سرد راتوں میں تمھیں کیسے بھُلا سکتا ہوں؟
    آگ سی دل میں لگاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    تُم تو خُوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے
    اب اگر اشک بہاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    شہر کے لوگ بھی واثق یہی کرتے ہیں سوال
    اب بھی کم نظر آتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟

    سعید واثق
     
    • زبردست زبردست × 1
  10. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    متاعِ جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری
    سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا

    ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھی
    تبھی تو لہجہِ خوشبو بھی جارحانہ تھا

    افتخار عارف
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  11. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    مری زندگی کے مالک، مِرے دل پہ ہاتھ رکھ لے
    ترے آنے کی خوشی میں مِرا دم نِکل نہ جائے

    مجھے پُھونکنے سے پہلے، مِرا دل نکِال لینا
    یہ کسِی کی ہے امانت ،مِرے ساتھ جل نہ جائے

    انور مرزا پوری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    تعبیر کی کتاب کا ہر باب خاک ہے
    یعنی ہماری آنکھ کا ہر خواب خاک ہے

    دریا میں گرد آج کل اڑتی ہے اس قدَر
    ساحل بھی کہہ رہا ہے کہ سیلاب خاک ہے

    جبار واصف
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
    تجھے اے زندگی ہم دُور سے پہچان لیتے ہیں

    مَری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں
    نِگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

    طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سُنسان راتوں میں
    ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

    خُود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا
    اُسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

    جسے صُورت بتاتے ہیں، پتا دیتی ہے سیرت کا
    عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

    تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں
    ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

    فراق اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر
    کبھی ہم جان لیتے ہیں ،کبھی پہچان لیتے ہیں

    فراق گورکھپوری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  14. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    کام آخر جذبۂ بے اِختیار آ ہی گیا
    دل کچھ اِس صُورت سے تڑپا،اُن کو پیار آ ہی گیا


    جب نِگاہیں اُٹھ گئیں، اللہ رے معراجِ شوق!
    دیکھتا کیا ہوں، وہ جان ِاِنتظار آ ہی گیا

    ہائے یہ حُسن ِتصور کا فریب ِرنگ و بُو
    میں یہ سمجھا جیسے وہ جان ِبہار آ ہی گیا

    ہاں سزا دے، اے خدائے عشق، اے توفیق ِ غم!
    پھر زبانِ بے ادب پر ذکرِ یار آ ہی گیا

    اِس طرح خوش ہوں کِسی کے وعدہء فردا پہ میں
    در حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا

    ہائے کافر دل کی یہ کافر جنُوں انگیزیاں
    تم کو پیار آئے نہ آئے، مجھ کو پیار آ ہی گیا

    درد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سے
    دفعتآ پردہ اٹھا اور پردہ دار آ ہی گیا

    دل نے اِک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ وار
    بال بِکھرائے کوئی مستانہ وار آ ہی گیا

    جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یار پر
    عُمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

    جگر مراد آبادی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  15. Qaisar54

    Qaisar54 محفلین

    مراسلے:
    3
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
    تم ہمیں زہر پلا دو تو مزہ آجائے
    میر محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
    ہمیں محفل سے اٹھا دو تو مزہ آجائے
    تم نے احسان کیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
    اب وہ احسان جتا دو تو مزہ آجائے
    اپنے یوسف کو زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
    کچھ حسینوں سے ملا دو تو مزہ آجائے
    چین پڑتا ہی نہیں ہے تمہں اب میرے بغیر
    اب جو تم مجھ کو گنوا دو تو مزہ آجائے
    جون ایلیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. Qaisar54

    Qaisar54 محفلین

    مراسلے:
    3
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تُم تو خُوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے
    اب اگر اشک بہاتے ہو، کہاں ہوتے ہو؟
     
  17. Qaisar54

    Qaisar54 محفلین

    مراسلے:
    3
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کیا کہنے
    شیزان
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    تو کیا یہ طے ہے، کہ اب عمر بھر نہیں ملنا
    تو پھر یہ عمربھی کیوں، تم سے گر نہیں ملنا

    یہ کون چپکے سے تنہائیوں میں کہتا ہے
    تِرے بغیر سکوں عمر بھر نہیں ملنا

    چلو زمانے کی خاطر یہ جبربھی سہہ لیں
    کہ اب ملے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا

    رہِ وفا کے مسافر کو کون سمجھائے
    کہ اس سفر میں کوئی ہمسفر نہیں ملنا

    جُدا تو جب بھی ہوئے، دل کو یوں لگا، جیسے
    کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا

    سرور بارہ بنکوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  19. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    کیا خبر کیسی ہے وہ، سودائے سر میں زندگی
    اک سرائے رنج میں ہے یا سفر میں زندگی

    ظلم کرتے ہیں کسی پر اور پچھتاتے ہیں پھر
    ایک پچھتاوا سا ہے اپنے نگر میں زندگی

    ہم ہیں جیسے اک گناہ دائمی کے درمیاں
    کٹ رہی ہے مستقل خاموش ڈر میں زندگی


    اِک تغیر کے عمل میں ہے جہان بحر و برَ
    کچھ نئی سی ہو رہی ہے بحر و برَ میں زندگی

    یہ بھی زندگی ہے اپنے لوگوں میں منیرؔ
    باہمی شفقت سے خالی ایک گھر میں زندگی

    منیر نیازی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  20. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    وفا کا کاغذ تو بھیگ جائے گا بدگمانی کی بارشوں میں
    خطوں کی باتیں تو خواب ہوں گی، پیام ممکن نہیں رہے گا

    میں جانتا ہوں، مجھے یقیں ہے، اگر کبھی تو مجھے بھلا دے
    تو میری آنکھوں میں روشنی کا قیام ممکن نہیں رہے گا

    منور جمیل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر