جگر شرما گئے، لجا گئے، دامن چھڑا گئے - جگر مراد آبادی

شرما گئے، لجا گئے، دامن چھڑا گئے
اے عشق! مرحبا، وہ یہاں تک تو آگئے

دل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئے
یہ تم نے کیا کیا، مری دنیا میں آگئے؟

سب کچھ لٹا کے راہ محبت میں اہل دل
خوش ہیں کہ جیسے دولت کونین پا گئے

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

عقل و جنوں میں سب کی تھیں راہیں جدا جدا
ہر پھر کے لیکن ایک ہی منزل پہ آگئے

اب کیا کروں میں فطرت ناکام عشق کو
جتنے تھے حادثات، مجھے راس آگئے

جگر مراد آبادی

یہی غزل روشانا کی آواز میں سنیے
 

طارق شاہ

محفلین
سب کچھ لٹا کے راہِ محبت میں اہلِ دل
خوش ہیں کہ جیسے دولتِ کونین پا گئے

صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

اب کیا کروں میں فطرتِ ناکام عشق کو
جتنے تھے حادثات، مجھے راس آگئے

کیا کہنے صاحب!

شیئر کرنے کا شکریہ
بہت خوش رہیں
 
Top