شاعری کے حوالہ سے کچھ سوالات

میرے کولیگز نے تنگ کیا ہوا ہے، نت نئی باتیں۔۔۔ سمجھتے ہیں کہ میرے دنیا بھر کے شاعروں سے روابط ہیں اس لیے سوالات کی طومار کیے رکھتے ہیں۔ اب ایک صاحب نے مجھے دس سوال لکھ کر دیے ہیں کہ پوچھوں اور جواب جانوں۔ ملاحظہ ہوں:

1۔ تقطیع کرتے وقت عربی الفاظ کا الف ساقط نہیں ہوتا۔ کیا یہ قاعدہ لازمی ہے یا کچھ گنجائش ہے؟ کیا اس پر تمام ماہرین فن عروض متفق ہیں؟
2۔ اسی طرح عربی الفاظ کی "ی" بھی ساقط نہیں ہوتی جیسے عاصی کی "ی"۔ کیا یہ قاعدہ لازمی ہے یا جوازی اور کیا اس پر سب متفق ہیں؟
3۔ "اسلامیہ" میں "ی" متشدد ہے یعنی پہلی "ی" ساکن اور دوسری متحرک۔ کیا اس میں اور اسی طرح دوسرے الفاظ میں پہلی "ی" جو کہ ساکن ہے، کو تقطیع میں گرایا جاسکتا یا نہیں؟
4۔ ہائے مختفی کو تقطیع میں شمار نہیں ہوتی لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہائے مختفی کو الف اور کبھی 'ی" کے قائم مقام کرکے ایک ساکن شمار کرتے ہین۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟
5۔ ہائے مختفی کی پہچان کیا ہے؟ یہ کیسے پتا چلے گا کہ یہ ہائے مختفی ہے؟
6۔ کیا ہائے مخلوط التلفظ کی تعریف کیا ہے؟ مثال کے ساتھ۔
7۔ تمہارا اور تمہی میں جو "ہ" ہے، کیا وہ مخلوط التلفظ ہے؟
8۔ یائے مخلوط التلفظ کی آسان اور جامع تعریف بیان کریں۔
9۔ کیا یائے مخلوط التلفظ کا گرانا لازم ہے یا کبھی نہیں بھی گراتے؟
10۔ "یارسول اللہ کرم کیجے خدا کے واسطے"۔ اس مصرع میں لفظ اللہ کا کھڑا زبر (جو کہ الف کے قائم مقام ہے) گرا ہے یا "ہ" گری ہے؟ ہم نے قاعدہ میں پڑھا کہ جب دو حروف ساکن ایک ساتھ آجائیں تو دوسرے کو متحرک کردیتے ہیں لیکن یہاں یہ لگ رہا ہے کہ دوسرے حرف "ہ" کو متحرک نہیں کیا گیا بلکہ دونوں میں سے ایک کو گرایا گیا ہے۔ ان قواعد کی تفصیل مع وضاحت۔

:(

آدھے سے زیادہ سوال تو میرے سر سے گزر گئے ہیں۔ آپ میں سے کسی کی سمجھ میں آئیں تو جواب سے نوازیں۔ شکریہ۔


:beating:
 
وہی تو۔۔۔ میں تو یہاں ان کی تحریر دیکھ کر اس لیے آیا کہ شاید اتنی جلدی جناب نے جوابات سے نوازا ہے۔ :)
 

الف عین

لائبریرین
وارث کہاں ہیں؟؟؟؟ اتنے ادق سوالات تو میری بھی مکمل سمجھ میں نہیں آئے۔ ہاں اگر مثالیں ہوتیں تو کچھ کہہ سکتا تھا۔ کچھ باتوں کا جواب دینے کی کوشش کر سکتا ہوں فی الحال۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ اعجاز صاحب، سبھی سوال دلچسپ ہیں اور خاص 'عروض' کی علمی مباحث سے تعلق رکھتے ہیں سو میرے 'پسندیدہ' تو ہیں ہی۔:)

عمار، میں ایک شرط پر ان سب سوالوں کا جواب دونگا، جن صاحب نے یہ سوال لکھے ہیں ان کو محفل پر بنفسِ نفیس لایئے، اور اگر انہیں بھی کسی نے لکھ کے دیئے ہیں تو انہیں بھی لائیں محفل پر، بھئی آفٹر آل یہ اردو محفل ہے کوئی 'سکتے' نکالنے والی دکان تو نہیں :)
 
وارث کہاں ہیں؟؟؟؟ اتنے ادق سوالات تو میری بھی مکمل سمجھ میں نہیں آئے۔ ہاں اگر مثالیں ہوتیں تو کچھ کہہ سکتا تھا۔ کچھ باتوں کا جواب دینے کی کوشش کر سکتا ہوں فی الحال۔
میں نے ان صاحب کو بھی یہی کہا تھا کہ ساتھ میں مثالیں بھی لکھ دیں تو سوال سمجھنے میں آسانی ہوگی لیکن کہتے ہیں، یار تم ڈرامے بازی مت کرو اور سوال لکھ دو۔۔۔ وہ خود ہی سمجھ جائیں گے۔ :cool:

شکریہ اعجاز صاحب، سبھی سوال دلچسپ ہیں اور خاص 'عروض' کی علمی مباحث سے تعلق رکھتے ہیں سو میرے 'پسندیدہ' تو ہیں ہی۔:)

عمار، میں ایک شرط پر ان سب سوالوں کا جواب دونگا، جن صاحب نے یہ سوال لکھے ہیں ان کو محفل پر بنفسِ نفیس لایئے، اور اگر انہیں بھی کسی نے لکھ کے دیئے ہیں تو انہیں بھی لائیں محفل پر، بھئی آفٹر آل یہ اردو محفل ہے کوئی 'سکتے' نکالنے والی دکان تو نہیں :)
ان صاحب کو محفل پر بنفس نفیس لانا کئی وجوہات کے باعث مشکل ہے۔ سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ انہیں کمپیوٹر کا استعمال ہی ٹھیک طرح سے نہیں آتا۔ انہیں کسی نے لکھ کر نہیں دیے بلکہ ان کی عادت ہے، ہر علم کی گہرائی میں کود جانے کی۔ بتارہے تھے کہ جب صرف و نحو کی کتب پڑھنا شروع کیں تو دارالعلوم کے اساتذہ کے پاس پہنچ کر ایسے ایسے سوال کرتے کہ اساتذہ پوچھتے، کس مدرسہ سے پڑھ کر آئے ہو؟ اور وہ کسی صورت یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے کہ کوئی شخص کسی سے پڑھے بنا بھی ایسے سوالات کرسکتا ہے۔ اب شاعری ہی کا دیکھیں، انہوں نے اتنے مشکل مشکل سوالات کیے ہیں لیکن شاعری برائے نام ہی کی ہے۔
اب سکتہ تو آپ کو نکالنا ہی پڑے گا۔ :lll: بے چارے کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
1۔ تقطیع کرتے وقت عربی الفاظ کا الف ساقط نہیں ہوتا۔ کیا یہ قاعدہ لازمی ہے یا کچھ گنجائش ہے؟ کیا اس پر تمام ماہرین فن عروض متفق ہیں؟
2۔ اسی طرح عربی الفاظ کی "ی" بھی ساقط نہیں ہوتی جیسے عاصی کی "ی"۔ کیا یہ قاعدہ لازمی ہے یا جوازی اور کیا اس پر سب متفق ہیں؟

عربی الفاظ کا 'الف' اور 'یا' گرانا 'مکروہ' ہے لیکن بعض اساتذہ نے ایسے کیا ہے (بحوالہ چراغِ سخن از مرزا یاس یگانہ چنگیزی)۔ خودساختہ اساتذہ سے استدعا ہے کہ جب تک خلقِ خدا انہیں استاد نہ مان لے، اس سے پرہیز کریں :)


3۔ "اسلامیہ" میں "ی" متشدد ہے یعنی پہلی "ی" ساکن اور دوسری متحرک۔ کیا اس میں اور اسی طرح دوسرے الفاظ میں پہلی "ی" جو کہ ساکن ہے، کو تقطیع میں گرایا جاسکتا یا نہیں؟

متشدد حرف ہمیشہ دو حروف شمار ہوتے ہیں سو اس کو تقطیع میں نہیں گرایا جا سکتا۔

موصوف نے جس سمت اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو متشدد اور غیر متشدد مستعمل ہوتے ہیں، جیسے 'اُمّید' میم کی تشدید کے ساتھ 'مفعول' کے وزن پر ہے اسے اگر کوئی 'امید' بغیر میم کی تشدید کے ساتھ 'فعول' کے وزن پر پابندھے (جو کہ صحیح ہے) تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ شاعر نے پہلی ساکن میم گرا دی ہے بلکہ صحیح توضیح یہ ہے کہ یہ لفظ ایسے بھی مستعمل ہے۔


4۔ ہائے مختفی کو تقطیع میں شمار نہیں ہوتی لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہائے مختفی کو الف اور کبھی 'ی" کے قائم مقام کرکے ایک ساکن شمار کرتے ہین۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

متحرک اور ساکن کا سارا نظام فضولِ محض ہے (بحوالہ محمد وارث ;) )، ہائے مختفی والے دو حرفی لفظ کو ہجائے بلند سمجھا جا سکتا ہے۔ اور اسی طرح دوسرے الفاظ کو۔

5۔ ہائے مختفی کی پہچان کیا ہے؟ یہ کیسے پتا چلے گا کہ یہ ہائے مختفی ہے؟

لوگوں کو اہلِ زبان کسی وجہ ہی سے کہا جاتا ہے :) اور یہ بھی انہی میں سے ہے۔ اس چیز کو صحیح سمجھنے کیلیئے آپ کو کسی لفظ کا صحیح تلفظ معلوم ہونا چاہیئے کہ اہلِ زبان کس لفظ کے آخر میں 'ہ' بولتے ہیں اور کس کے آخر میں نہیں۔ دوسرے انکی جمع سے بھی فرق معلوم ہو جاتا ہے جیسے ہائے مختفی والے حروف کی جمع میں قاعدہ بدل جاتا ہے مثلاً جن الفاظ میں ہائے غیر مختفی ہو انکی جمع 'ان' لگا کے بنائی جاتی ہے جیسے 'بادشاہ' کی جمع 'بادشاہان' لیکن جس لفظ میں ہائے مختفی ہوتی ہے اس کی جمع میں ہائے مختفی گرا کر 'گاف' کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے 'بچہ' کی جمع 'بچگان' وغیرہ وغیرہ۔


6۔ کیا ہائے مخلوط التلفظ کی تعریف کیا ہے؟ مثال کے ساتھ۔

یہ ہندی/اردو الفاظ میں ہوتی ہے، اور اسے دو چشمی ھ بھی کہتے ہیں، جیسے تمھارا، اندھیرا، دھیان، گھر، وغیرہ وغیرہ۔

7۔ تمہارا اور تمہی میں جو "ہ" ہے، کیا وہ مخلوط التلفظ ہے؟

جی ہاں مخلوط التلفظ ہے۔

8۔ یائے مخلوط التلفظ کی آسان اور جامع تعریف بیان کریں۔
یہ ہندی الفاظ میں ہوتی ہے اور بولتے وقت اتنی دب جاتی ہے کہ 'یا' کی بجائے حرفِ علت کا گمان ہوتا ہے جیسے کیوں، پیاس، اندھیرا، دھیان وغیرہ۔


9۔ کیا یائے مخلوط التلفظ کا گرانا لازم ہے یا کبھی نہیں بھی گراتے؟

ہائے مخلوط التلفظ کو یہ سمجھنا کہ اس کو گرایا جاتا ہے ایک مغالطہ ہے، گرانا صوابدید پر ہوتا ہے جب کہ مخلوط التفظ حروف میں یہ صوابدید نہیں ہے بلکہ سرے سے انکا وزن ہے ہی نہیں۔

10۔ "یارسول اللہ کرم کیجے خدا کے واسطے"۔ اس مصرع میں لفظ اللہ کا کھڑا زبر (جو کہ الف کے قائم مقام ہے) گرا ہے یا "ہ" گری ہے؟ ہم نے قاعدہ میں پڑھا کہ جب دو حروف ساکن ایک ساتھ آجائیں تو دوسرے کو متحرک کردیتے ہیں لیکن یہاں یہ لگ رہا ہے کہ دوسرے حرف "ہ" کو متحرک نہیں کیا گیا بلکہ دونوں میں سے ایک کو گرایا گیا ہے۔ ان قواعد کی تفصیل مع وضاحت۔

ایک بار پھر دہرا دوں، حرکت اور ساکن کا سارا نظام فضول اور لا یعنی ہے لہذا اس سوال میں جو حرکت اور سکون کا مسئلہ ہے وہ غیر متعلقہ ہے۔

جہاں تک لفظ 'اللہ' کی بات ہے تو اسکا صحیح تلفظ اور وزن بالتحقیق اور بالترتیب 'ال لا ہ' اور 'مفعول' ہے۔


اللہ میں جو کھڑی الف ہے اس کو گرانا ممنوع اور ناجائز ہے۔

اللہ کی 'ہ' عام گرائی جاتی ہے اور مفعول کی جگہ اس کو 'فعلن' باندھنا عام ہے، جیسے اوپر والے مصرعے میں

تقطیع

یا رسو لل - فاعلاتن
لا کرم کی - فاعلاتن
جے خدا کے - فاعلاتن
واسطے - فاعلن

(بحر رمل مثمن مخذوف)

کچھ مصنفین کا خیال ہے کہ عقیدت اور احترام کا تقاضہ یہ ہے کہ 'اللہ' کو ہمیشہ مفعول باندھا جائے لیکن بڑے بڑے فارسی اور اردو شعرائے کرام نے کبھی اسکا التزام نہیں کیا بلکہ جہاں ضرورت پڑی، بے تکلف 'اللہ' کو 'فعلن' باندھا ہے۔
 
بہت بہت شکریہ وارث بھائی، اس معلوماتی پوسٹ کے لیے۔ آپ کے ساتھ ساتھ میں بھی سرخرو ہوگیا۔ :lll:
وہ صاحب بڑے خوش ہیں اور بار بار ان جوابات کا مطالعہ کررہے ہیں۔ تعریف کررہے تھے کہ یہ واقعی میں علم جاننے والا بندہ ہے، جبھی تو اتنی جلدی جواب بھی دیدیے۔ (ویسے حقیقت میں ان کو بہت اشتیاق ہوا ہے اب کہ کسی طرح محفل میں شمولیت اختیار ہوسکیں۔)
 

محمد وارث

لائبریرین
لو یہ بھی اچھی رہی عمار، میں سمجھ رہا تھا کہ اسطرح شاید 'مدد' ہو گی لیکن اب علم ہوا کہ آپ یا موصوف امتحان لے رہے تھے جس میں ہم سرخرو ہوئے، اگر آپ پہلے بتاتے تو کبھی جواب نہ دیتا کہ 'امتحان' نہ دینے کی قسم کھائی ہوئی ہے :)

ہاں ان کو ضرور لائیے محفل پر، ہمیں بھی اشتیاق ہے کہ وہ کون سر پھرے ہیں جو عروض سے شغف رکھتے ہیں :)
 
لو یہ بھی اچھی رہی عمار، میں سمجھ رہا تھا کہ اسطرح شاید 'مدد' ہو گی لیکن اب علم ہوا کہ آپ یا موصوف امتحان لے رہے تھے جس میں ہم سرخرو ہوئے، اگر آپ پہلے بتاتے تو کبھی جواب نہ دیتا کہ 'امتحان' نہ دینے کی قسم کھائی ہوئی ہے :)

ہاں ان کو ضرور لائیے محفل پر، ہمیں بھی اشتیاق ہے کہ وہ کون سر پھرے ہیں جو عروض سے شغف رکھتے ہیں :)



آپ ہمارے جملے نہ پکڑا کریں۔۔۔۔ :( ;)
مدد تو تھی ہی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں اور کچھ نہیں کہہ رہا ورنہ پھر آپ نے بات پکڑ لینی ہے۔ :)
 
یہ تو آپ نے بالکل شرکیہ جملہ لکھ دیا- کرم کرنے والی ذات تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے-
:evil:
اب میں نے اپنی معلومات میں اضافہ پر آپ کا شکریہ ادا کیا تو کہیں آپ پھر یہ نہ لکھ دیں کہ میں نے شرکیہ جملہ لکھ دیا کہ شکر تو صرف خدا کا کرنا چاہئے۔ :grin:
معذرت :boxing:
 

عباد1

محفلین
یہ تو کامن سینس کی بات ہے-
ویسے بھی ہمارے ہاں اگلے بندے کی بات ماننے کا رواج نہیں‌ ہے آپ نے کب ماننا ہے کہ آپ نے غلط لکھا ہے- یہ بھی بات بہت عام ہے کہ کسی اور مقصد کی بات میں اپنا اصل مقصد بیان کر دیا- جہاں جو آپ تعریف پیش کر رہے تھے اس میں یہ جملہ استعمال کیے بنا بھی کام چل سکتا تھا-
 
یہ تو کامن سینس کی بات ہے-
ویسے بھی ہمارے ہاں اگلے بندے کی بات ماننے کا رواج نہیں‌ ہے آپ نے کب ماننا ہے کہ آپ نے غلط لکھا ہے- یہ بھی بات بہت عام ہے کہ کسی اور مقصد کی بات میں اپنا اصل مقصد بیان کر دیا- جہاں جو آپ تعریف پیش کر رہے تھے اس میں یہ جملہ استعمال کیے بنا بھی کام چل سکتا تھا-
اول یہ کہ سوالات میں نے مرتب نہیں کیے۔
دوم یہ کہ یہاں اس بحث کا مقام نہیں۔

اللہ ہمیں ہدایت دے اور حسنِ ظن رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
 

مغزل

محفلین
بہت بہت شکریہ ۔۔ وارث صاحب۔۔
میں توقع کررہا تھا کہ اس ضمن میں‌ الف عین صاحب زحمت کیجئے گا۔
مگر آپ نے بال ٹو بال باؤنڈری کا ریکارڈ وقائم کردیا۔

ایک بار پھر بہت بہت شکریہ۔
والسلام
 
Top