سیاست شرعیہ میں فقہی اجتہاد

ضیاءالرحمان اصلاحی
شرعی سیاست کے موضوع پر طلبہ میں اجتہادی ذوق ختم ہوچکا ہے، اس میں ان کا بھی کچھ قصور نہیں بلکہ مدت ہائے دراز سے مسلم ممالک میں حکومتیں شریعت کے اتباع سے بہت دور ہوچکی ہیں، جس کے سبب سے طلبہ کی ایک بہت بڑی جماعت کی توجہ محض ان مسائل پر مرکوز ہوکر رہ گئی جن کا تعلق عام زندگی سے ہے،یہی وجہ ہے کہ جب وہ شرعی سیاست پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ محض ان مباحث کی تردید میں ہوتی ہے جو قدیم مآخذ میں اس باب میں مدون کیے گئے ہیں اور زندگی کے بیش تر معاملات میں جو تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں وہ ان پر غور وفکر سے پہلو تہی کر جاتے ہیں۔
حالات حاضرہ کے تناظر میں شرعی سیاست کے موضوع کا انتخاب غالب حکمران کی حکمرانی کے زیر عنوان گفتگو کے لیے موزوں ہے، اگر اس موضوع پر بات کی جاتی ہے تو طلبہ بلا تامل ایسے حکمران کی حکمرانی کو جائز اور درست ٹھہرا دیتے اور اس کی مخالفت ، اس کے خلاف خروج ان کے نزدیک درست نہیں اور وہ اسے شرعی حکمران (ولی امر) کے تمام حقوق کا مستحق گردانتے ، اپنے اس نظریہ کے ثبوت میں قدما کی کتابوں سے دلیلیں بھی لاتے اور حقیقت واقعہ پر غور وفکر کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں، اس مختصر مقالہ میں میں اس موضوع پرروشنی ڈالوں گا تاکہ اس باب میں حق بات کی وضاحت ہوجائے۔
اول یہ کہ خود کواقتدرا کا خواہش مند بناکر پیش کرنا مناسب نہیں ، کیوں کہ اقتدار کا خواہش مند تعاون سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اقتدار کو اس پر ایک بوجھ بناکرلاد دیتاہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی عبد الرحمن بن سمرہ ؓ سے فرمایا: ’’ اے عبدالرحمن بن سمرہ امارت کے طالب نہ بنو، کیوں کہ اگر یہ تم کو مانگنے سے ملے گی تو تم پر بوجھ بن جائے گی اور اگر بے طلب ملے گی تو تم کو ہمہ جہت تعاون حاصل ہوگا‘‘ بخاری: حدیث نمبر۷۱۴۶، مسلم : حدیث نمبر ۱۶۵۲)، گویا امارت کا طلب گار اس کے حوالہ کردیا جاتا ہے اور جسے بے طلب اور بے خواہش مل جائے تو مستحق اعانت ہو جاتا ہے، پھر امارت پر قابض شخص تو اعانت کے سلسلہ میں طالب امارت سے بدرجہا محروم ہے، کیوں کہ وہ امارت کو طاقت سے حاصل کرتا ہے اور اس کے لیے جنگ کرتا ہے،اسی وجہ سے جنگ وجدل اور سازش سے امارت حاصل کرنے والا اعانت سے محروم ہوتا ہے اور جب وہ اعانت الٰہی سے محروم ہوگیا وہ پھر وہ تنہا پڑ جاتا ہے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غلبہ اقتدار پر قابض ہونے کا شرعی طریقہ نہیں ہے، یہ محض اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت نہیں تھی بلکہ ایک واجب العمل شرعی حکم ہے ان لوگوں کے لیے بھی جو اپنے مفاد کے لیے امارت نہیں چاہتے اور ان لوگوں کے لیے بھی جن کو امارت سونپنے کا اختیار حاصل ہے لیکن انہیں یہ اختیارنہیں کہ وہ اسے ایسے شخص کو سونپ دیں جو اس کا مطالبہ کرے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ایسا ہی کیا ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں اورمیرے دو عم زاد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا:اے اللہ کے رسول اللہ نے آپ کو جو ولایت عطا کی ہے اس میں کچھ حصہ ہمیں بھی دے دیں اور دوسرے شخص نے بھی ایسی ہی بات کہی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کی قسم ہم یہ کام کسی ایسے شخص کو نہیں سونپ سکتے جو اس کا طلب گار ہو یا اس کی خواہش رکھتا ہو‘‘ ( صحیح مسلم حدیث نمبر ۱۷۳۳)،چناں چہ کسی کے لیے اس طرح کا مطالبہ جائز نہیںاور اگر کوئی ایسا مطالبہ کرے تو صاحب اختیار کے لیے اس کا مطالبہ پورا کرنا درست نہیں، امارت پر غالب ہونا اور اس کے حصول کے لیے جنگ کرنا تو اور بھی سنگین جرم ہے۔
امارت تک پہنچے اور منصب ولایت پر متمکن ہونے کے کچھ طریقے ہیں جو شرعی نصوص سے ثابت ہیںاور اس باب میں ان کی سنت بھی مشعل راہ ہے جن کے اتباع کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: ’’تم پر میری سنت اور خلفائے مہدیین راشدین کی سنت کا اتباع لازم ہے، اسے اختیار کرو اور مضبوطی سے تھامے رکھو‘‘ الحدیث (سنن ابودائود حدیث نمبر۴۶۰۷،اسے البانی سے صحیح کہا ہے اور امام احمد،ترمذی،ابن ماجہ اور دیگر محدثین نے اسے روایت کیا ہے) ، ان کی سنت میں سے امارت پر غلبہ کی کوئی سنت نہیں ہے بلکہ اقتدارتک پہنچنے کے ان تمام طریقوں میں جو ثابت ہے وہ یہ کہ امت اس منصب کے اہل شخص کا انتخاب کرے،ان تمام طریقوںمیں جو ظاہری اختلاف ہے وہ محض انتخاب کی صورتوں اور طریقوں میں ہے۔
۱- امیر امت کے کسی شخص کے حق میں امارت کی وصیت کر دے جو کہ امت ہی کے انتخاب کا ایک طریقہ ہے، کیوں کہ یہ ایسے شخص کا انتخاب ہے جیسے امت نے منصب امارت کے لیے منتخب کیا ہے (امام سابق) اوریہ وصیت ایسے شخص کے حق میں ہونی چاہیے جو منصب کے لازمی اوصاف سے متصف اور اس کے شرطوں کے مطابق ہو، مصلحت کوشی اور اقربا پروری کوراہ نہیں دی جانی چاہیے اور انتخاب کایہ عمل بھی ارباب حل وعقد کے مشورہ سے کیا جائے گا۔
۲-امیر کا انتخاب ایسے ارباب حل وعقد کی جانب سے ہو جو عوام الناس کے نمایندہ ہوں اورایسے لوگ جنہیں اپنے علاقہ میں قبول عام حاصل ہواور یہ بھی امت کے انتخاب کا ایک طریقہ ہے، کیوں کہ ارباب حل وعقد رائے عامہ کو پیش کرنے والے اور ان کے اختیار وانتخاب کے سلسلہ میں ان کے نمایند ہوتے ہیں۔
۳- اسی طرح امت کے صالح اصحاب رائے کاایسے شخص کو منتخب کرنا جس میں منصب امارت کے مطلوبہ صفات پائے جاتے ہوںخواہ اس انتخاب کی جو بھی صورت ہو انتخاب کا شرعی طریقہ تسلیم کیا گیا ہے۔
امارت غصب کرنا ، اسے چھین لینا اوربہ زور غلبہ اس کا حصول نادرست ہے،اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے’’ وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَیہُمْ‘‘ (شوریٰ: ۳۸)اس آیت کریمہ میں اَمْرُہُمْ کا اطلاق امت کے منصب امارت اور ولایت پر ہی ہوتا ہے، کیوں یہ جمہورامت کے مصالح کی نگہ بان ہوتی ہے، اس کی دلیل خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے کہ ’’جس نے کسی شخص سے مسلمانوں کے اتفاق رائے کے برخلاف بیعت کی تو بیعت کرنے والے اور بیعت لینے والے دونوں کی بیعتیں غیر معتبر ہوں گی اور ان کا یہ عمل ان کے قتل کا موجب ہوگا‘‘ (بخاری حدیث نمبر ۶۸۳۰)۔ اوریہ خلیفۂ راشد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیںکہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ مسلمانوں کے خلیفہ منتخب ہوئے تو منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے لوگو! -اس بڑی جماعت اور اس کی اجازت کے باوجود- یہ(خلیفہ کے انتخاب کا) معاملہ تمہارا ہے ، اس منصب پر وہی متمکن ہوسکتا ہے جسے تم انتخاب کرو، کل ہم ایک معاملہ میں اختلاف رائے کرچکے ہیں، اگرتم چاہوتوتمہارے لیے میں اس منصب پر بیٹھوں گا، بصورت دیگر میں کسی پر اختیار نہیں رکھتا، تو لوگوں نے کہا: ہم نے جس بات پر آپ سے اختلاف کیا تھا آج بھی اسی پر قائم ہیں۔ (تاریخ ابن جریر طبری جلد ۴، صفحہ ۴۳۵) اس سے واضح ہوتا ہے کہ خلافت کا عہدہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اوریہ اسی شخص کو مل سکتا ہے جسے وہ انتخاب کریں، اس منصب پر خود بہ خود جابیٹھنا اور اس کے حصول کے لیے قتل وخوں ریزی کرنا لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک شخص کی یہ بات ’’عمر فوت ہوئے تو میں فلاں کی بیعت کروں گا‘‘ پہنچی تو انہوں نے کہا : ’’میں رات کو انشاء اللہ لوگوں کے پاس جاتاہوں اور ایسے لوگوں کو خبردار کرتاہوں جو لوگوں کے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ (بخاری حدیث نمبر ۶۸۳۰) چناں چہ آپ نے ایک شخص یا تھوڑے لوگوں کے اتفاق کو ولی امر کے انتخاب کے سلسلہ میں امت کی رائے عامہ کی نمایندگی کے لیے ناکافی قرار دیا کیوں کہ یہ طریقہ امت کی حق تلفی ہے جس سے احتیاط برتنے کا حکم دیا، تو پھر جو شخص اس کے حصول کے جنگ کرے اور لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے اپنی قوت اور وسائل کا بے دریغ استعمال کرے اور لوگوںسے جبراً اپنی اطاعت کرالے تو اس کی ولایت اور خلافت کس طرح جائز ہوسکتی ہے؟
اقتدار پر غلبہ ولایت کے حصول کا شرعی طریقہ نہیں ہے،بلکہ یہ امت کے ارادہ واختیار کی پامالی اور امت کے حقوق غصب کرنا ہے اور اس طریقہ کو شرعی طریقہ تسلیم کرنے کا نتیجہ مسلم معاشرہ میں انتشار اور بدامنی کی شکل میں ظاہر ہوگااور ہر وہ شخص جس کو ذرا بھی اختیار اور طاقت میسر ہے وہ ایسے اقدام کی جسارت کرے گا۔
جہاں تک غالب حکمران کے اقتدار پر غلبہ اور لوگوں کے سر تسلیم خم کر لینے کے بعد اس کی حکمرانی کو قبول کرنے کا معاملہ ہے تو یہ محض ایک ضرورت کے تحت ہے، جس طرح مردار کھانا صرف ضرورت کے تحت جائز ہے ، چناں چہ اگر کوئی چیز ضرورتاً مباح ہوتی ہے تو ضرورت کی تکمیل کے بعداس کی اباحیت بھی ختم ہوجاتی ہے، اسی طرح غالب حکمران کی ولایت کا معاملہ ہے جسے علی الاطلاق تسلیم کرلینا ہرگز درست نہیں بلکہ اس کے بھی کچھ شروط اور ضوابط ہیں۔
غالب حکمراں: وہ ہے جو منصب امارت کے خالی ہونے یا ولی امر کے فوت ہوجانے یا اس جیسی اور صورت حال میں منصب پر قابض ہوجائے یا سلطان وقت کے خلاف خروج کر کے منصب پر قبضہ پالے۔
۱- جوشخص منصب امارت کے خالی ہونے کے سبب یا امام (امیر) کی جگہ خالی ہونے کی وجہ اس پر قابض ہوجائے اور وہ اس منصب کا اہل نہ ہو یا اس کے شرطوں پر پورا نہ اترتا ہو اور اس کے منصب پر فائز رہنے کی اشد ضرورت بھی نہ ہو یا صرف اس کی اپنی اہلیت ہی نہیں بلکہ امامت کے منصب پر فائز ہونے میں دوسرے لوگوں کا تعاون بھی ہے تو امت کے نمایندہ ارباب حل وعقد سے رجوع اور ان سے مشورہ کے بغیر اس کا اقتدار پر قابض ہونااس بات کی دلیل ہے کہ وہ فساد فی الارض کے ذریعہ حصول اقتدار کا متمنی ہے۔ امام الحرمین جوینی کہتے ہیں:’’جو شخص اس سلسلہ میں بیعت اور اس کی ضرورت کے بغیر اپنے آپ کو پیش کرے تویہ عمل اس کی جسارت ، حصول اقتدار کے لیے حد سے تجاوزاور اپنی سربلندی کی تمنا کہا جائے گااور یہ فساد فی الارض کے ذریعہ زمین میں غلبہ حاصل کرناہے، اور کسی فاسق کو امامت کا عہدہ دینا جائز نہیں، اگر اس کا غلبہ ضرورت کے تحت تھا پھر وہ ضرورت باقی نہ رہی پھر بھی وہ اپنے حربوں سے ارباب حل وعقد کو اپنی بیعت پر مجبور کر کے اقتدار پر قابض رہا تو یہ بھی لوگوں کو ہراساں کرنا اور ان پر جبر کرناہے، ایسی صورت میں ارباب حل وعقد کا ایسے شخص کی بیعت کرلینا اضطرار کے حکم میں آتا ہے اور حکمراں کا یہ طرز عمل ظلم اورخلاف دیانت ہے، جب اس طرح کی صورت حال ہو تو اس کی بیعت کرنا جائز نہیں ہے‘‘ (غیاث الامم فی التیاث الظلم: ۳۲۶-۳۲۷)۔
وہ حالت جن میں منصب کے خالی ہونے کی صورت میں اس پر قابض شخص کا متمکن رہنا جائز ہے وہ یہ ہے کہ وہی یکہ وتنہا اس منصب کا اہل ہو اور کوئی دوسرا اس کی اہلیت میںاس کا معاون نہ ہو، یامنصب کے اور بھی اہل لوگ تھے لیکن حالات ایسے ہوگئے تھے جن میں تاخیر مناسب نہیں تھی اور یہی اس کے غلبہ کا سبب ہوایا یوں ہوا کہ جن کو امیر کے انتخاب کا اختیار تھا انہوں نے منصب امارت کے اہل شخص کے انتخاب میں سستی برتی، نتیجہ کے طور پر منصب زیادہ دنوں تک خالی رہا ، بدحالی کا دور دورہ ہوگیا،مملکت کے حصے بخرے ہونے لگے اور انارکی کے آثار ظاہر ہوگئے تو ایسے حالات میں ایک شخص امامت کا دعوے دار بن کر اٹھ کھڑا ہوا، بکھرتے ہوئے شیرازہ کو سمیٹنے کی جدو جہد کی، فتنہ وفساد کے اسباب کی روک تھام کی،اگر ایسا شخص تمام تر وسائل کے ساتھ سامنے آجائے تو اس کا یہ غلبہ فسق، سرکشی اور خوں ریزی میں شمار نہیں کیا جائے گا، اگر ایسا ہو جائے اور ایسے شخص کوہٹانے اور کسی دوسرے شخص کو اقتدار سونپنے سے فتنہ بھڑک اٹھنے کا احتمال ہو اور ناخوش گوار حالات پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہو تو حق یہ ہے کہ اس کی موافقت کی جائے اور اس کی اطاعت قبول کر لی جائے اور اس کے حق میں اتفاقی رائے دے دی جائے‘‘ (غیاث الامم ۳۲۵) یا یہ ہو کہ اہلیت رکھنے والے اور ارباب شوکت اس کی اطاعت اور پیروی کی بیعت کرلیں پھر اس کی برطرفی اگر فتنہ و خوں ریزی کا موجب ہوتی ہے تو اس کی مخالفت دو وجہوں سے نہیں کی جائے گی:
ا- وہی اس منصب پر فائز رہنے کااہل ہے، یعنی ولی امر کی تعیین سے جو مقصد پورا ہونا چاہیے وہ اس کے غلبہ سے بھی پورا ہورہا ہے۔
ب-اس کی مخالفت اور اس سے ٹکرائو فتنہ وفساد اور خوں ریزی کی وجہ بنے گااور اسے اس پر مجبور کرنا لوگوں پر ناقابل برداشت آزمائشیں لے آئے گا اور اس کی بحالی کی صورت میں نظم ونسق بحال رہے گااور اہل اسلام خوش حالی کی زندگی بسر کرسکیں گے تو ایسے شخص کا مقرر رہنا واجب ہے‘‘ (غیاث الامم۳۲۷)۔
۴-غلبہ کی دوسری صورت سلطان عادل اور شرعی ولی امر کے خلاف خروج ہے: سلطان عادل کے خلاف خروج کرنے والا تو فاسق، ظالم ، اپنے حدود سے تجاوز کرنے والا ہے جس کا مقابلہ کرنا اس کو روکنا بلکہ اس کے ظلم وعدوان کے خلاف اس سے جنگ کرنا واجب ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تمہارے پاس کوئی اس حال میں آئے کہ تمہارا کسی ایک شخص پر اتفاق ہو پھر وہ تمہارے اتحاد کو توڑنا چاہے اور تمہاری جماعت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اسے قتل کردو‘‘ ایک اور روایت میں ہے : ’’اس کا سر تلوار سے کاٹ دو خواہ وہ کوئی بھی ہو‘‘، یہی شریعت کا موقف ہے اور جب کوئی شخص اپنی طاقت اور حربہ کو استعمال میں لا کر منصب امارت پر غلبہ حاصل کر لے اور اقتدار پر قابض ہوجائے تو مسلمانوں کو شریعت کے اسی حکم کی تعمیل ضروری ہے، کیوں کہ سلطان عادل کے امت کے ذمہ بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جن میں اس کی مدد اور اس کے ساتھ مل کر اس کے خلاف خروج کرنے والے سے مقابلہ کرنا بھی ہے۔
پھر اگر کوشخص ولی امر کے خلاف خروج کرتا ہے تو ہر کسی پر اس کا مقابلہ کرنا اور اس کو روکنا واجب ہوجاتاہے، اگر خروج کرنے والا کسی جماعت کا سربراہ ہے تو اس کے جماعت کے لوگوں سے اس کی اطاعت ساقط ہوجائے گی اور اس کے اس فسق کے سبب سے سمع وطاعت کا عہد ختم ہوجائے گا، ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے : ’’جب امام عادل کے خلاف کوئی شخص خروج کرے تو اس کو دفع کرنا واجب ہے عمر بن عبد العزیز کی طرح‘‘ (احکام القرآن لابن العربی ۴؍۱۵۳-۱۵۴)
اگراپنے ولی امر کے خلاف خروج کرنے والا اس کے افواج پر غلبہ پالیتا اور ان کو اس طرح قابومیں کرلیتا ہے کہ وہ اس کے مقابلہ اور اس پر حاوی ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے اور عوام نے بھی اس کی اطاعت اور اپنے اوپر اس کی حکمرانی قبول کرلی ہے تو ایسے حالات میں امت کے تحفظ کے پیش نظر اہل علم کی رائے یہ ہے اس کی ولایت تسلیم کرلی جائے، لیکن یہ نظریہ جمہور امت کے مصالح پر مبنی اور درج ذیل شرطوں سے مشروط ہے:
۱- غلبہ حاصل کرنے والا امام اور اس کے افواج پر اس قدر سطوت پالے کہ ان میں اس سے دفاع اور اس کے خلاف محاذ آرائی کی استطاعت نہ ہو۔
۲- اس کی حکومت کو ایسا استحکام مل جائے کہ لوگ اس پر اتفاق رائے کرلیں ، طوعاً وکرہاً اس سے بیعت کرلیں اور اس کو امام کے لقب سے ملقب کردیں جس طرح عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان سے بیعت کی ، روایت میں ہے کہ:’’جب لوگ عبد الملک پر متفق ہوگئے‘‘ چناں چہ اس کی بیعت محض اس کی قوت اور مملکت کے بیش تر حصوں پر اس کے تسلط کی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ جب عامۃ الناس کا اس پر اتفاق ہوگیا تب اس نے بیعت لی، ابن قدامہ غلبہ کی تشریح میں کہتے ہیں: ’’وہ بزور شمشیر لوگوں پر غالب آیا حتیٰ کہ لوگوں نے اس کا اقرار کرلیا اور اس کی اطاعت اور اتباع کے لیے راضی ہوگئے‘‘۔
۳-غالب حکمراں مسلم ہو،شریعت الٰہی کی فیصلہ کن حیثیت کا اقراری ہو، اس کے نفاذ کے حتی المقدور سعی بھی کرتا ہو، کسی حاکم کو شرعی حاکم محض اس لیے تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے مسلمانوں کے نام جیسا نام اختیار کیا ہے، یہ نام اسے اپنے عمل اور اپنے انتخاب کے نتیجہ میں نہیں ملا ہے بلکہ اس کے والدین کا انتخاب کردہ ہے اور خود اس کی زبان سے شریعت کی حاکمیت کے اقرار کاکوئی جملہ کبھی ادانہیں ہوابلکہ اسلامی شعار سے اس کا عناداور لادینوں اورنصرانیوں کو مقتدر بنانے ہی کے مساعی ظہور میں آئے ہیںاور وہ اس دستور کے مواد کو جو برائے نام ہی سہی لیکن اسلامی شعار کا محافظ ہے بدلنے کی کوششیں کرتاہے، اللہ کے گھروںکو مقفل کرتا، مساجد پر پابندیاں عائد کرتا ، ناحق خوں ریزی کرتا، اسلامی چینلوں کو بند کرتا اور اسلام پسندوں کو گرفتار کر کے انہیں قید کرتا ہے تو ایسے شخص کو منصب پر متمکن رکھنے کے اتفاق کرنا کسی بھی مصلحت کے پیش نظر جائز نہیں، پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ غالب حکمراں کے غلبہ کو اسی لیے تسلیم کیا جاتاہے کہ اس کی وجہ سے ملک کو استحکام نصیب ہوتا، جانوں کو تحفظ ملتااور ان مصلحتوں کو نفاذ کی راہ ملتی ہے جو صرف ایک ولی امر کے زیر سایہ ہی ممکن ہے اور دین کی بربادی کے عوض کسی بھی مصلحت کو راہ نہیں دی جاسکتی۔
۴- غالب حکمراں کو استحکام مل جائے اس طور پر کہ لوگ اسے قبول کرلیں اور اس کے باب میں خموشی اختیار کریںاور اس سے مخالفت نہ کریں، ہاں اگر استحکام نہ ملے اور لوگ مسلسل اس کی مخالفت کر رہے ہوں اور اس کے ملک ایک وسیع علاقہ کے مسلمان اور عالمی پیمانہ پر اکثر حکومتیں اس کی تولیت کا اعتراف نہ کریںتو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو استحکام نہیں مل سکا ہے، امام احمد نے عبدوس بن مالک العطار کی روایت میں کہا ہے : ’’جو شخص لوگوں پر اپنی تلوار کے زور سے غالب آجائے یہاں تک کے خلیفہ بن بیٹھے اور امیر المومنین کہا جانے لگے تو ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہے جائز نہیں کہ وہ اسے امام تسلیم کیے بغیر ایک رات بھی بسر کرے، خواہ وہ بد ہو خواہ نیک‘‘ ۔ ابن بطال کہتے ہیں: ’’ اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ امام غالب جب تک جمعہ اور جہاد کو قائم کرتا رہے اس کی اطاعت لازم ہے اور اس کی اطاعت اس کے خلاف خروج اور بغاوت سے بہتر ہے کیوں کہ اس میں جانوں کا تحفظ اور شرانگیزی سے پناہ ہے‘‘۔ (شرح ابن بطال علی صحیح البخاری ۱۰؍۸)
ابن قدامہ کہتے ہیں: ’’اگر کوئی شخص امام کے خلاف خروج کرے پھر وہ اس پر تسلط پالے اور لوگوں کو بزور شمشیر قابومیں کرلے اور لوگ اس کااقرار کر کے اس کے اتباع اور اطاعت پر راضی ہوجائیں تو اس سے جنگ کرنا اور اس کے خلاف خروج حرام ہے، کیوں کہ عبد الملک بن مروان نے عبداللہ بن زبیرؓ کے خلاف خروج کیا اور ان کو شہید کر کے ملک اور رعایا پر تسلط پالیا یہاں تک کہ لوگوں نے طوعاً وکرہا اس کی بیعت کرلی تو وہ امام بن گیا اب اس کے خلاف خروج حرام ہوگیا، یہ اس وجہ سے بھی کہ خروج کی صورت میں مسلمانوں کا اتحاد ختم ہوگا اور ان کے جان اور مال کی بربادی لازم آئے گی‘‘ (المغنی ۹؍۵)تووہ اسی طرح کا شخص ہوگا جس کی حکمرانی اور غلبہ کے استقرار کو تسلیم کیا جائے گااور عامۃ الناس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس کی ولایت کا اقرار کریں، اس کے اتباع اور اطاعت کو لازم جانیں اور عرف عام کے مطابق اس کو امیر المؤمنین ، رئیس یا ملک کہہ کر پکاریں، لیکن اگر کوئی شخص شرعی ولی امر کے خلاف خروج کرے اور اس امیر کے افواج مسلسل اس سے برسرپیکار ہوں اور اس کو تسلیم نہ کرتے ہوںتو ایسی حالت میں اس کے غلبہ کو تسلیم نہیں کیا جائے گااور امام غالب کا نام نہیں دیا جائے گابلکہ اس پر امام کے خلاف خروج کرنے والے کا الزام ہوگا ،اس سے جنگ ناگزیرہوگی اور ضرورت کے تحت اس کو قتل کرنا بھی ، فقہا نے امام غالب کے ظلم وجبر کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی اطاعت کافیصلہ نہیں کیا بلکہ اسلام کے مصالح کی رعایت سے اسے مشروط کیا ہے جیسے جمعہ اور جہاد فی سبیل اللہ کا قیام اور عامۃ المسلمین کے مصالح کی رعایت جس میں ان کے جان او رمال کا تحفظ ہے، امام غالب کی اطاعت اور اس کی نصرت کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ شرعی ولی امر کے پیروکاروں سے جنگ کی جائے، ابن بطال کہتے ہیں:’’جب خروج کرنے والے ظلم پر اتر آئیں تو ان کے ساتھ مل کر جنگ کرنا جائز نہیں‘‘(شرح ابن بطال علی صحیح البخاری ۵؍۱۲۶) اورنہ لوگوں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ایسے شخص کی نصرت میں اپنا خون بہائیں۔

(یہ مضمون الشیخ شاکر الشریف کے عربی مقالہ کا ترجمہ ہے جو جریدہ ’’الأمہ ۴ صفر ۱۴۳۵ھ مطابق ۸ دسمبر ۲۰۱۳ء میں شایع ہوا ہے)
http://ar.islamway.net/article/19671
 
آخری تدوین:

فلک شیر

محفلین
علم اللہ بھائی، یہ موضوع انتہائی وسعت کا حامل اور بے بہا معلومات کے بعد بحث کا متقاضی ہے۔ صرف اس ایک مسئلہ کی تحقیق اور تبییض نہ ہونے کی وجہ سے شاید امت سیاسی نظام کے حوالہ سے خود کو فی زمانہ اس قدر مختلف آراء میں گھرا ہوا پاتی ہے.........................کہ بس، کیا کہیے۔
اس قدر متضاد آراء..........جن میں تطبیق کا کوئی سلسلہ نظر نہیں آتا۔
علمائے امت کا کوئی وسیع فورم شاید کبھی اس پہ بیٹھ کے کھلی بحث کرے ..............شاید
 

حسینی

محفلین
اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم۔ القرآن
اللہ اور رسول کا تو شاید سب کو علم ہے۔۔ لیکن اولی الامر کون ہے؟ آیا آج کے دور میں کوئی اس کا مصداق موجود ہے؟
اولی الامر کی اطاعت آیا اسی طرح واجب ہے جس طرح خدا اور رسول کی اطاعت واجب ہے؟ جیسا کہ سیاق آیت کا تقاضا ہے۔
اولی الامر کی اطاعت کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟
اور اس طرح کے دسیوں سوالات ہیں جن کے جوابات ڈھونڈ کر نہ صرف اس آٰیت کی عملی تعبیر کو ہم جان سکتے ہیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہو کر ہمارے آج کے تمام مسائل کا بھی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
مکتب تشیع میں تو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔۔۔ اور سب چیزیں معین ہیں۔۔ بلکہ ان کے نزدیک خود رسول خدا معین فرما گئے ہیں۔
لیکن برادران اہل تسنن کے ہاں خصوصی طور پر اس مسئلے میں بہت زیادہ ابہام اور اختلاف پایا جاتا ہے۔
 
آخری تدوین:
اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم۔ القرآن
اللہ اور رسول کا تو شاید سب کو علم ہے۔۔ لیکن اولی الامر کون ہے؟ آیا آج کے دور میں کوئی اس کا مصداق موجود ہے؟
اولی الامر کی اطاعت آیا اسی طرح واجب ہے جس طرح خدا اور رسول کی اطاعت واجب ہے؟ جیسا کہ سیاق آیت کا تقاضا ہے۔
اولی الامر کی اطاعت کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟
اور اس طرح کے دسیوں سوالات ہیں جن کے جوابات ڈھونڈ کر نہ صرف اس آٰیت کی عملی تعبیر کو ہم جان سکتے ہیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہو کر ہمارے آج کے تمام مسائل کا بھی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
مکتب تشیع میں تو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔۔۔ اور سب چیزیں معین ہیں۔۔ بلکہ ان کے نزدیک خود رسول خدا معین فرما گئے ہیں۔
لیکن برادران اہل تسنن کے ہاں خصوصی طور پر اس مسئلے میں بہت زیادہ ابہام اور اختلاف پایا جاتا ہے۔

اہل السنت والجماعت حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی میں اولی الامر کی ایک ہی تشریح ہے۔ جس کی اولین مراد آئمہ اربعہ ہیں۔ باقی انیسوی صدی کے بعد مختلف فرقوں نے اس کی تشریح بدل ڈالی ہے اس سے اختلاف نہیں، ان کا شمار اہل السنت والجماعت میں نہیں ہوتا۔ لیکن حقیقت وہی ہے جو شروع سے چلی آرہی ہے۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
اہل السنت والجماعت حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی میں اولی الامر کی ایک ہی تشریح ہے۔ جس کی اولین مراد آئمہ اربعہ ہیں۔ باقی انیسوی صدی کے بعد مختلف فرقوں نے اس کی تشریح بدل ڈالی ہے اس سے اختلاف نہیں، ان کا شمار اہل السنت والجماعت میں نہیں ہوتا۔ لیکن حقیقت وہی ہے جو شروع سے چلی آرہی ہے۔ :)

یادش بخیر، جنرل ضیا الحق کا دور یاد آ گیا جب سرکاری مفتیان اولی الامر کی تشریح "ضیا الحق" کرتے تھے :)
 
یادش بخیر، جنرل ضیا الحق کا دور یاد آ گیا جب سرکاری مفتیان اولی الامر کی تشریح "ضیا الحق" کرتے تھے :)

جس کی اولین مراد آئمہ اربعہ ہیں
میں نے صرف اولین مراد کی بات کی۔ لیکن اس سے مراد محض آئمہ اربعہ ہی نہیں۔ :) یقیناً کوئی صدر، وزیر اعظم، جیف جسٹس، بادشاہ، قاضی وغیرہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ :)
 

حسینی

محفلین
اگر مختصراََ بیان کر دیں، تو عنایت ہو گی۔
قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اطاعت کا سرچشمہ خداوند متعال کی ذات ہے۔ رسول یا ولی امر کی اطاعت در حقیقت خدا کی اطاعت کی طرف لوٹتی ہے چونکہ خدا نے خود ہمیں حکم دیا ہے کہ ان کی اطاعت کریں۔
پھر رسول کی اطاعت اس لیے کہ وہ "صرف وہی کہتا ہے جو وحی کہتی ہے" اور ہر اس حکم کی بھی اطاعت واجب ہوگی جو رسول کی طرف سے آئے۔
اب ولی امر کی اطاعت آیت سے ثابت ہے۔ یقینا ولی امر کی اطاعت تیسرے مرتبے پر ہے کہ خدا کی اور رسول کی اطاعت کے بعد کا مرحلہ ہے، اور اس کی اطاعت خدا یا رسول کے حکم سے نہ ٹکراتا ہو۔
سوال یہاں یہ ہے کہ اولی الامر کون ہیں؟
مکتب تشیع کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اولی الامر سے مراد ان کے بارہ معصوم امام ہیں جن کی اطاعت کا حکم رسول خدا اپنی حیات میں دے کر گئے ہیں اور نام لے لے کر ہر ایک کو معین فرما گئے ہیں۔ اور حدیث ثقلین میں فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قرآن اور دوسرا میرے اہل بیت۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی بھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس حاضر ہوں گے۔ اور جو بھی ان کا دامن تھام لے کبھی بھی گمراہ نہ ہوں گے ۔ (واضح رہے کہ حدیث ثقلین اسی طرح "قرآن اور اہل بیت" کے لفظ کے ساتھ صحاح ستہ میں آیا ہے (سنن نسائی حدیث 8148، 8464، 8175 سنن ترمذی حدیث 3720، 4157، 3788) جبکہ "قرآن اور میری سنت" کے لفظ کے ساتھ صحاح ستہ میں بالکل بھی نہیں ہے، لیکن برادران اہل سنت کسی کی مخالفت میں آکر اس حدیث کو اہل بیت کے لفظ کے ساتھ کبھی بھی ذکر نہیں کرتے)۔
اور آج کے دور میں اہل بیت کا اور اولی الامر کا وہ فرد حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں جن کی اطاعت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اور اسی طرح سے امام وقت اگر کچھ خصوصیات اور شرائط کے ساتھ کچھ نائب معین کرتے ہیں تو ان کی بھی اطاعت واجب ہے جیسے کہ مراجع مجتہدین کی اطاعت اسی عنوان سے ہے۔ (پس مراجع کی اطاعت اولی الامر کے نائب اور نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ہے)۔
یہاں اہل سنت کے بعض بڑے مفسرین جیسے فخر رازی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اولی الامر کو معصوم ہونا چاہے، چونکہ اگر وہ معصوم نہ ہو تو اس کے گناہ میں کیسے اطاعت کی جا سکتی ہے؟؟ اور شیعوں کے نزدیک ہر ولی امر معصوم ہے۔
حضرت رسول خدا فرمائے گئے ہیں کہ " یہ دین اس وقت تک قائم رہے گا، اور میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے اور سب کے سب قریش سے ہوں گے"
(یہ حدیث تقریبا صحاح ستہ میں سے ہر اک کتاب میں پائی جاتی ہے، لیکن شاید برادران اہل سنت نے اس اہم حدیث کی طرف کبھی کوئی خاص توجہ نہیں فرمائی ورنہ امت کی قیادت کے سارے مسئلے کا حل اس حدیث میں رسول خدا فرما گئے ہیں اور اپنے بعد کے اولی الامر کو بھی معین فرماگئے ہیں)۔
 

حسینی

محفلین
اہل السنت والجماعت حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی میں اولی الامر کی ایک ہی تشریح ہے۔ جس کی اولین مراد آئمہ اربعہ ہیں۔:)
ائمہ اربعہ کا دائرہ کار ظاہرا صرف فقہ تک محدود تھا۔۔ جبکہ فقہ دین کا صرف اک جز ہے۔۔ اور دین کل۔
لہذا ٰ آیت کے سیاق کو دیکھتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سیاق میں ہی اولی الامر کی اطاعت ہے، اولو الامر ایسا ہونا چاہے جس کی ہر حال میں اور دین کے تمام پہلووں میں اطاعت کی جا سکے۔
اور پھر اولی الامر فقہی سے زیادہ اک عقیدتی مسئلہ ہے۔ لہذا اس کو اتنا آسان لینا شاید مناسب نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
 
ائمہ اربعہ کا دائرہ کار ظاہرا صرف فقہ تک محدود تھا۔۔ جبکہ فقہ دین کا صرف اک جز ہے۔۔ اور دین کل۔
لہذا ٰ آیت کے سیاق کو دیکھتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سیاق میں ہی اولی الامر کی اطاعت ہے، اولو الامر ایسا ہونا چاہے جس کی ہر حال میں اور دین کے تمام پہلووں میں اطاعت کی جا سکے۔
اور پھر اولی الامر فقہی سے زیادہ اک عقیدتی مسئلہ ہے۔ لہذا اس کو اتنا آسان لینا شاید مناسب نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
میں یہی کہوں گا کہ
آپ یا تو فقہی مسائل سے نا آشنا ہیں یا عقیدے کی تعریف سے۔
اولو الامر ایسا ہونا چاہے جس کی ہر حال میں اور دین کے تمام پہلووں میں اطاعت کی جا سکے۔
محترم یہی تو فقہ بتلاتی ہے کہ دین کے تمام پہلؤوں پر عمل کیسے ہو۔
اور پھر اولی الامر فقہی سے زیادہ اک عقیدتی مسئلہ ہے
سنیوں کی یہاں عقائد قران پاک اور نبی پاک کا فرمان یعنی سنت اور اجماع امت سے حاصل ہوتے ہیں۔ کیونکہ سنیوں کی یہاں عقائد نہ تو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے :) اختلافات عقائد میں نہیں بلکہ مسائل میں ہوتے ہیں۔ اس میں اولی الامر کی اطاعت کی جاتی ہے اور کی جارہی ہے۔
 

حسینی

محفلین
میں یہی کہوں گا کہ
آپ یا تو فقہی مسائل سے نا آشنا ہیں یا عقیدے کی تعریف سے۔
الحمد للہ، اللہ کے فضل وکرم سے ان دونوں حوالوں سے کچھ نہ کچھ جانتا ہوں۔۔ لیکن کمال صرف خدا کو حاصل ہے۔
اتنا تو ہر کوئی جانتا ہے۔۔ کہ فقہ اور عقیدہ دو الگ چیزیں ہیں۔
عقیدے میں تقلید نہیں ہوتی۔۔۔ جبکہ فقہ میں تقلید ہوتی ہے۔ دونوں کی کتابیں الگ اور مبانی الگ، مسائل الگ۔
بہر حال بغیر کسی کشیدگی کے طرفین کو موقف بیان کرنے کا موقع ملنا چاہے۔۔ لیکن لگتا ہے آپ بحث کو شدت اور کشیدگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
مگر تفاسیر اہل تسنن کا مذکورہ آیت کی ذیل میں اک نظر مطالعہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اولی الامرکی تفسیر میں کس قدر اختلاف پایا جاتا ہے۔
لہذا مسئلے کو اتنا آسان نہیں بنایا جا سکتا۔۔ کہ کہیں ائمہ اربعہ ہیں اور بس۔۔ مسائل مستحدثہ میں کیا کریں گے پھر؟
آیا خود خدا یا رسول اولی الامر کی تعیین نہیں کر گئے تھے؟
 
الحمد للہ، اللہ کے فضل وکرم سے ان دونوں حوالوں سے کچھ نہ کچھ جانتا ہوں۔۔ لیکن کمال صرف خدا کو حاصل ہے۔
اتنا تو ہر کوئی جانتا ہے۔۔ کہ فقہ اور عقیدہ دو الگ چیزیں ہیں۔
عقیدے میں تقلید نہیں ہوتی۔۔۔ جبکہ فقہ میں تقلید ہوتی ہے۔ دونوں کی کتابیں الگ اور مبانی الگ، مسائل الگ۔
بہر حال بغیر کسی کشیدگی کے طرفین کو موقف بیان کرنے کا موقع ملنا چاہے۔۔ لیکن لگتا ہے آپ بحث کو شدت اور کشیدگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
مگر تفاسیر اہل تسنن کا مذکورہ آیت کی ذیل میں اک نظر مطالعہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اولی الامرکی تفسیر میں کس قدر اختلاف پایا جاتا ہے۔
لہذا مسئلے کو اتنا آسان نہیں بنایا جا سکتا۔۔ کہ کہیں ائمہ اربعہ ہیں اور بس۔۔ مسائل مستحدثہ میں کیا کریں گے پھر؟
آیا خود خدا یا رسول اولی الامر کی تعیین نہیں کر گئے تھے؟

بات پھر وہیں آگئی ہے۔ جیسا کہ میں نے واضح کردیا ہے کہ "سنیوں" کے یہاں اولی الامر کا وہ معنی نہیں جو اہل تشیع کا ہے۔ اب اس شیعہ سنی اختلاف کو چھیڑنے کی یہ جگہ مناسب نہیں ورنہ مزید وضاحت کرتا۔ میں پھر واضح کروں کہ اولی الامر آئمہ اربعہ ہیں، حکمران ہیں، بادشاہان ہیں، خلفاء ہیں وعلی ہذاالقیاس۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کے وہ فقہ اور مسائل کے استنباط پر مکمل دسترس رکھتے ہوں۔ اس صورت میں اگر کوئی بادشاہ دین کی اس قدر سمجھ نہ رکھتا ہو تو جو قاضی (یعنی مفتی) ہوگا وہ فیصلہ کرے گا اور اس کی اطاعت ضروری ہوگی۔
اور جیسا کہ آپ نے مسائل مستحدثہ کا ذکر کیا تو یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے لیے کسی نبی یا طے شدہ انسان آئے۔ فقہ ہے ہی اسی مقصد کے لیے۔ فقہائے احناف، مالکیہ، حنابلہ اور شوافع میں جتنے بھی فقہاء ہیں اگر ان میں سے کوئی قاضی بنتا ہے تو وہ اولی الامر ہی کا مصداق ہے۔ اور جن مسائل کا وہ فیصلہ کرے گا وہ یا تو اپنے امام کے کسی مفتی بہ غیر منصوص قول کے مطابق ہوگا، اپنے امام کے کسی بھی شاگرد، یا شاگردوں کے شاگرد کے مفتی بہ قول سے۔ اور اگر وہاں سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اپنے امام سے منسوب اصولِ فقہ کو سامنے رکھ کر مسئلے کا استنباط کرے گا۔ جس پر صواب ہو تو دو اجر اور خطا ہو تو ایک اجر کا مستحق ٹہرے گا۔ یہ مسائل مستحدثہ کا متفقہ حل ہے جو شروع سے چلا آرہا ہے۔
والسلام۔
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
محترم اصلاحی بھائی " سیاست شرعیہ " اک بحر بے کنار " موضوع جسے سمیٹنا اتنا آسان نہیں ۔
آگ کی اک چنگاری ہے یہ مضمون جسے ذرا سی خشک گھاس ملے تو ہرا بھرا جنگل راکھ کر ڈالے ۔۔۔۔۔۔۔
اس مقالے میں " امارت " اور انتخاب امیر " بارے جو اصول بیان کیئے گئے ہیں ۔
اگر ان کو ذرا وضاحت سے دیکھا جائے تو اسلام میں تفرقے کی بنیاد بہت آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے ۔
کون کب اس " امارت " پر غاصب ہوا ۔ اور کس کس نے مدد کی ۔۔اور کس کس پر ظلم ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
 
Top