نصیر الدین نصیر سکوں لوٹ کر پھر ستانے لگے ہیں

سکوں لوٹ کر پھر ستانے لگے ہیں
نہ جانے وہ کیوں یاد آنے لگے ہیں

گئی کم سنی ، ہوش آنے لگے ہیں
وہ ہر بات ہم سے چھپانے لگے ہیں

ہیں مخمور آنکھوں پہ زلفوں کے سائے
سرِ میکدہ اَبر چھانے لگے ہیں

ذرا صبر اےغنچہ ء ناشگفتہ
کہ وہ خیر سے مسکرانے لگے ہیں

خدارا کوئی اُن سے اتنا تو پوچھے
وہ کیوں آنکھ ہم سے چرانے لگے ہیں

انہیں تو نہ یوں بزم سےتم اٹھاتے
جنہیں بیٹھنے میں زمانے لگے ہیں

قضا نے بھی پایا نہ ان کا ٹھکانہ
تیرے ہاتھ سےجو ٹھکانے لگے ہیں

نہ جانے وہ اک لمحہء قرب کیا تھا
تعاقب میں جس کے زمانے لگے ہیں

جو ہنستے تھے کل تک میری بے بسی پر
وہ خود آج آنسو بہانے لگے ہیں

بہت بے سکوں ہے نصیر آج کوئی
تیرے اشک بھی رنگ لانے لگے ہیں
(پیر سید نصیر الدین نصیر)​
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
سکوں لوٹ کر پھر ستانے لگے ہیں
نہ جانے وہ کیوں یاد آنے لگے ہیں

گئی کم سنی ، ہوش آنے لگے ہیں
وہ ہر بات ہم سے چھپانے لگے ہیں

ہیں مخمور آنکھوں پہ زلفوں کے سائے
سرِ میکدہ اَبر چھانے لگے ہیں

ذرا صبر اےغنچہ ء ناشگفتہ
کہ وہ خیر سے مسکرانے لگے ہیں

خدارا کوئی اُن سے اتنا تو پوچھے
وہ کیوں آنکھ ہم سے چرانے لگے ہیں

انہیں تو نہ یوں بزم سےتم اٹھاتے
جنہیں بیٹھنے میں زمانے لگے ہیں

قضا نے بھی پایا نہ ان کا ٹھکانہ
تیرے ہاتھ سےجو ٹھکانے لگے ہیں

نہ جانے وہ اک لمحہء قرب کیا تھا
تعاقب میں جس کے زمانے لگے ہیں

جو ہنستے تھے کل تک میری بے بسی پر
وہ خود آج آنسو بہانے لگے ہیں

بہت بے سکوں ہے نصیر آج کوئی
تیرے اشک بھی رنگ لانے لگے ہیں

(پیر سید نصیر الدین نصیر)​
 
سکوں لوٹ کر پھر ستانے لگے ہیں
نہ جانے وہ کیوں یاد آنے لگے ہیں
گئی کم سنی ، ہوش آنے لگے ہیں
وہ ہر بات ہم سے چھپانے لگے ہیں

ہیں مخمور آنکھوں پہ زلفوں کے سائے
سرِ میکدہ اَبر چھانے لگے ہیں

ذرا صبر اےغنچہ ء ناشگفتہ
کہ وہ خیر سے مسکرانے لگے ہیں

خدارا کوئی اُن سے اتنا تو پوچھے
وہ کیوں آنکھ ہم سے چرانے لگے ہیں

انہیں تو نہ یوں بزم سےتم اٹھاتے
جنہیں بیٹھنے میں زمانے لگے ہیں

قضا نے بھی پایا نہ ان کا ٹھکانہ
تیرے ہاتھ سےجو ٹھکانے لگے ہیں

نہ جانے وہ اک لمحہء قرب کیا تھا
تعاقب میں جس کے زمانے لگے ہیں

جو ہنستے تھے کل تک میری بے بسی پر
وہ خود آج آنسو بہانے لگے ہیں

بہت بے سکوں ہے نصیر آج کوئی
تیرے اشک بھی رنگ لانے لگے ہیں

(پیر سید نصیر الدین نصیر)​
 
Top